سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :13
متن میں”صبر جمیل“ کے الفاظ ہیں جن کا لفظی ترجمہ ” اچھا صبر“ ہوسکتا ہے ۔ اس سے مراد ایسا صبر ہے جس میں شکایت نہ ہو ، فریاد نہ ہو ، جَزَع نزع نہ ہو ، ٹھنڈے دل سے اس مصیبت کو برداشت کیا جائے جو ایک عالی ظرف انسان پر آپڑی ہو ۔
سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :14
بائیبل اور تلمود یہاں حضرت یعقوب علیہ السلام کے تأثر کا نقشہ بھی کچھ ایسا کھینچتی ہیں جو کسی معمولی باپ کے تاثر سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے ۔ بائیبل کا بیان یہ ہے کہ ” تب یعقوب علیہ السلام نے اپنا پیراہن چاک کیا اور ٹاٹ اپنی کمر سے لپیٹا اور بہت دنوں تک اپنے بیٹے کے لیے ماتم کرتا رہا “ ۔ اور تلمود کا بیان ہے کہ ” یعقوب بیٹے کا قمیص پہچانتے ہی اوندھے منہ زمین پر گر پڑا اور دیر تک بے حس و حرکت پڑا رہا ، پھر اٹھ کر بڑے زور سے چیخا کہ ہاں یہ میرے بیٹے ہی کا قمیص ہے …………. اور وہ سالہا سال تک یوسف علیہ السلام کا ماتم کرتا رہا“ ۔ اس نقشے میں حضرت یعقوب علیہ السلام وہی کچھ کرتے نظر آتے ہیں جو ہر باپ ایسے موقع پر کرے گا ۔ لیکن قرآن جو نقشہ پیش کر رہا ہے اس سے ہمارے سامنے ایک ایسے غیر معمولی انسان کی تصویر آتی ہے جو کمال درجہ بردبار و باوقار ہے ، اتنی بڑی غم انگیز خبر سن کر بھی اپنے دماغ کا توازن نہیں کھوتا ، اپنی فراست سے معاملہ کہ ٹھیک ٹھیک نوعیت کو بھانپ جاتا ہے کہ یہ ایک بناوٹی بات ہے جو ان حاسد بیٹوں نے بنا کر پیش کی ہے ، اور پھر عالی ظرف انسانوں کی طرح صبر کرتا ہے اور خدا پر بھروسہ کرتا ہے ۔