Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 81–90 of 111

81

ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَٰفِظِينَ

تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے

درس نمبر 110 تشریح آیات

80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101

برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔

آیت نمبر 80 تا 82

برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک ان کے والد اجازت نہیں دیتے یا اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہیں فرماتے ، اللہ کے فیصلے کے وہ بہرحال پابند ہیں۔ وہ کیا کریں ؟ تو ان سے انہوں نے کہا کہ تم جاؤ اور باپ سے صاف صاف کہو کہ آپ کے بیٹے نے چوری کا ارتکاب کیا ہے۔ پکڑا گیا ، یہ ہے ان کا علم اور مشاہدہ۔ اگر وہ بری الذمہ اور بےگناہ ہے اور اصل حقیقت کچھ اور ہے تو اس سے وہ بیخبر ہیں۔ ان کو بالکل یہ توقع نہ تھی کہ ان کو ایسا حادثہ پیش آئے گا۔ یہ تو ہے اس معاملے کا ظاہری پہلو ، اگر اصل بات کوئی اور ہو تو وہ امر غیبی ہوگی اور ہم اس کو نہیں جانتے۔ نہ جاننے کے مکلف ہیں اور یہ بات ان کی نسبت غیب ہی تھی اور کوئی شخص غیبی واقعات کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اور یہ کہ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ ، شہر کے دوسرے لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں اور پھر مصر سے ہم جس قافلے کے ساتھ آئے ہیں ، اس سے بھی پوچھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے تو نہ تھے ، آج کل مصر کو قافلے پر قافلہ جارہا ہے اور وہاں سے لوگ غلہ لے کر آتے ہیں۔ مصر کے گرد تمام علاقے قحط کی لپیٹ میں ہیں ، سخت خشک سالی ہے۔

٭٭٭

اب وہ کس حال میں واپس آئے ، سفر کس طرح بےہوا ، یہاں ان تفصیلات کو حذف کردیا گیا ہے۔ یہ لوگ اب غم زدہ باپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے ماجرا سنا دیا۔ غم زدہ باپ کا صرف ایک مختصر جواب سیاق کلام میں نقل کردیا جاتا ہے۔ نہایت ہی اندوہناک الفاظ میں ۔ لیکن ان کے کلام میں اب بھی امید کی ایک کرن باقی ہے۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ خدا دونوں بچے ان کو واپس کر دے گا۔ بلکہ تینوں کو واپس کر دے گا۔ کیونکہ تیسرا بھی مصر میں دھرنا مار کر بیٹھ گیا ہے۔ اس بوڑھے باپ کے شکستہ دل میں اب بھی ایک عجیب امید ہے۔ یہ ہے پیغمبرانہ بصیرت !

82

وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں

درس نمبر 110 تشریح آیات

80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101

برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔

آیت نمبر 80 تا 82

برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک ان کے والد اجازت نہیں دیتے یا اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہیں فرماتے ، اللہ کے فیصلے کے وہ بہرحال پابند ہیں۔ وہ کیا کریں ؟ تو ان سے انہوں نے کہا کہ تم جاؤ اور باپ سے صاف صاف کہو کہ آپ کے بیٹے نے چوری کا ارتکاب کیا ہے۔ پکڑا گیا ، یہ ہے ان کا علم اور مشاہدہ۔ اگر وہ بری الذمہ اور بےگناہ ہے اور اصل حقیقت کچھ اور ہے تو اس سے وہ بیخبر ہیں۔ ان کو بالکل یہ توقع نہ تھی کہ ان کو ایسا حادثہ پیش آئے گا۔ یہ تو ہے اس معاملے کا ظاہری پہلو ، اگر اصل بات کوئی اور ہو تو وہ امر غیبی ہوگی اور ہم اس کو نہیں جانتے۔ نہ جاننے کے مکلف ہیں اور یہ بات ان کی نسبت غیب ہی تھی اور کوئی شخص غیبی واقعات کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اور یہ کہ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ ، شہر کے دوسرے لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں اور پھر مصر سے ہم جس قافلے کے ساتھ آئے ہیں ، اس سے بھی پوچھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے تو نہ تھے ، آج کل مصر کو قافلے پر قافلہ جارہا ہے اور وہاں سے لوگ غلہ لے کر آتے ہیں۔ مصر کے گرد تمام علاقے قحط کی لپیٹ میں ہیں ، سخت خشک سالی ہے۔

٭٭٭

اب وہ کس حال میں واپس آئے ، سفر کس طرح بےہوا ، یہاں ان تفصیلات کو حذف کردیا گیا ہے۔ یہ لوگ اب غم زدہ باپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے ماجرا سنا دیا۔ غم زدہ باپ کا صرف ایک مختصر جواب سیاق کلام میں نقل کردیا جاتا ہے۔ نہایت ہی اندوہناک الفاظ میں ۔ لیکن ان کے کلام میں اب بھی امید کی ایک کرن باقی ہے۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ خدا دونوں بچے ان کو واپس کر دے گا۔ بلکہ تینوں کو واپس کر دے گا۔ کیونکہ تیسرا بھی مصر میں دھرنا مار کر بیٹھ گیا ہے۔ اس بوڑھے باپ کے شکستہ دل میں اب بھی ایک عجیب امید ہے۔ یہ ہے پیغمبرانہ بصیرت !

83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

آیت نمبر 83

تمہارے نفوس نے بہت ہی بڑے گناہ کو سہل بنا دیا ہے۔ تم بھائیوں کے خلاف سازش کرتے ہو۔ میں اس پر صبر ہی کرسکتا ہوں۔ یہ الفاظ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے وقت بھی کہے تھے۔ لیکن اس بار یہاں وہ ایک امید بھی ظاہر کرتے ہیں کہ شاید اللہ ان سب کو واپس دلادے۔ بیشک اللہ ہی علیم و حکیم ہے۔ وہ میرے حالات سے بھی واقف ہے اور پسران کے بیانات کی حقیقت بھی جانتا ہے۔ واقعات و امتحانات کی حقیقت بھی وہ جانتا ہے اور جب بھی اللہ کی حکمت کا تقاضا ہوگا تمام واقعات و حقائق سامنے آجائیں گے۔

امید کی یہ کرن اس بوڑھے کے دل میں کہاں سے آئی۔ یہ خدا تعالیٰ سے امید کی کرن تھی ، ذات باری سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ اللہ اور اس کی رحمت کے وجود کا پختہ یقین تھا۔ اور یہ یقین اللہ کے برگزیدہ بندوں کے قلوب میں صاف نظر آیا کرتا ہے۔ اور ان کے نزدیک یہ یقین اس قدر حساس ہوتا ہے کہ اس کے مقابلے میں حواسہ خمسہ کا احساس کم نظر آتا ہے۔

84

وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌۭ

پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا

یہ ایک غم زدہ والد کی نہایت ہی موثر تصویر کشی ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس غم کو جھیلنے کے لئے وہ تنہا ہیں ، اس میں ان کے اہل و عیال کے دل شریک نہیں ہیں۔ نہ وہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور نہ یک جہتی کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ علیحدگی میں تنہا ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں ایک صدمہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کی صورت میں پہنچ چکا تھا ، وہ اسے بھول نہ سکے۔ اور طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس صدمے میں بھی کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اب تازہ صدمہ یوسف (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی صورت میں پیش آیا ہے ، اور اس کی وجہ سے سابقہ زخم بھی تازہ ہوگئے ہیں۔ اب ان کے صبر جمیل کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے۔

یاسفی علی یوسف (12 : 84) “ ہائے یوسف ! ” انسان اپنے غموں کو چھپاتا ہے ، برداشت کرتا ہے ، اس کے اعضاء ٹوٹ جاتے ہیں اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوجاتی ہیں اور یہ غم انہیں اندر ہی اندر میں گھلا رہا ہے۔

وابیضت ۔۔۔۔۔ کظیم (12 : 84) “ اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں اور وہ دل ہی دل میں غم کھائے جا رہا تھا ”۔

لیکن اس کے دوسرے بیٹوں کے دل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسد سے اس قدر بھرے ہوئے تھے کہ انہیں اپنے بوڑھے باپ کے حال پر بھی رحم نہ آرہا تھا ، ان کی سنگدلی کا یہ عالم تھا کہ ان کے والد کی یہ بےپناہ محبت بھی ان پر اثر انداز نہ ہو رہی تھی۔ بجائے اس کے کہ وہ تعزیت کرتے ، ان کے دل میں شمع امید روشن کرتے وہ ان کو اور مایوس کرتے اور امید کی آخری کرن کو بھی بجھانے کی سعی کرتے ہیں۔

85

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَٰلِكِينَ

بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے

آیت نمبر 85

یہ نہایت ہی مکروہ اور بغض و حسد سے زہر آلود بات ہے ، خدا کی قسم آپ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) کی یاد میں ہلاک کر رہے ہیں۔ آپ دیکھتے نہیں کہ آپ پگھل کر رہ گئے ہیں۔ آخر اس غم واندوہ اور ماتم کا اب کیا فائدہ ؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) تو اب گیا وہ لوٹ کر آنے والا نہیں ہے۔

لیکن والدان کی اس بات رد فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بس چھوڑ دو مجھے۔ میرا غم اور میرا شکوہ اللہ ہی سے ہے۔ میرا میرے رب کے ساتھ تعلق ہے اور میں اللہ کی جانب سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

86

قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

آیت نمبر 86

ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پیغمبر کے دل میں اللہ کی حاکمیت اور اختیار مطلق کا کس قدر گہرا شعور ہوتا ہے۔ خدا رسیدہ لوگوں کو اللہ کے انعامات کا بھی احساس ہوتا ہے اور اللہ کی جلالت شان کا گہرا شعور بھی۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق جو ظاہری صورت حالات تھی وہ نہایت ہی مایوس کن تھی اور ایک طویل عرصہ بھی گزر چکا تھا۔ ان کی تو زندگی کی امید ہی قطع ہوچکی تھی چہ جائیکہ یہ امید ہو کہ وہ اپنے والد کو اپنے پاس آنے کی دعوت دیں گے اور اس مایوس کن صورت حال ہی کے نتیجے میں ان کے بیٹوں نے ان کے اس تازہ تجسس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ لیکن یہ تمام حالات اس اللہ کے بندے کی اس پختہ امید کو متاثر نہ کرسکے جو وہ اللہ سے رکھتے تھے ۔ کیونکہ ان کا اپنے رب سے گہرا رابطہ تھا اور وہ اپنے رب کے بارے میں وہ کچھ جانتے تھے جو وہ دوسرے لوگ نہ جانتے تھے کیونکہ وہ حقائق ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ خصوصاً اس واقعہ کے بارے میں۔

یہ ہے حقیقی ایمان کی قدرو قیمت اور اللہ کی حقیقی معرفت کی شان۔ جب اللہ کے بندوں کو معرفت حاصل ہوتی ہے تو ان پر تجلیات ہوتی ہیں۔ اور وہ عالم شہود میں ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی قدرت اور اللہ کی تقدیر سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اور اللہ کی نگرانی اور اس کی رحمت ان کے شامل حال ہوتی ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ اپنے صالح بندوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔

یہ الفاظ واعلم من اللہ ما لا تعلمون (12 : 86) “ اور میں اللہ کی طرف سے جو کچھ جانتا ہوں تم نہیں جانتے ” ایسے ہیں جن سے یہ حقیقت اس قدر عیاں ہے کہ ہم اس کو کسی طرح اپنے جملے میں ادا نہیں کرسکتے۔ اس بات کو وہی شخص جان سکتا ہے جس کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرح صبر کا ذوق خاص دیا گیا ہو ، ایسے ہی لوگ جان سکتے ہیں کہ ان کلمات کا مفہوم کیا ہے ؟

اور جن قلوب کے اندر اس قسم کا ذوق پیدا ہوگیا ہو ، یعنی معرفت الٰہی کا ذوق ، ان پر اگر مشکلات اور شدائد کی بارش ہوجائے تو بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، سوائے اس کے کہ ان شدائد سے ایسے قلوب کا تعلق باللہ ، ذوق معرفت اور مشاہدہ حق مزید قوی ہوجاتا ہے۔

میں اس کے سوا اور کچھ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا ، لیکن میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس کا مجھ پر بہت ہی بڑا کرم ہے۔ اس کا میرے ساتھ جو تعلق ہے اسے وہ جانتا ہے یا میں۔ وہ تو علیم وخبیر ہے۔

اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں کی تلاش کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور لڑکوں کو کہتے ہیں کہ وہ مایوس نہ ہوں اللہ کی رحمت بہت ہی وسیع ہے ، اس بات کا امکان ہے کہ وہ سب مل جائیں۔ رحمت الٰہی کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔

87

يَٰبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں

آیت نمبر 87

یہ ہے اس دل کی آواز جو اللہ تک پہنچا ہوا ہے ! !۔ “ میرے بچو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ”۔ اپنے پورے حواس کو استعمال کرو ، نہایت رقت سے ، گہری نظروں سے اور مستقل مزاجی سے تلاش کرو۔ اللہ کے فضل وکرم سے کسی بھی وقت مایوسی کا اظہار نہ کرو۔ یہاں اللہ کے کرم کے لئے (روح) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت پر گہرائی سے دلالت کرتا ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ مشکلات کے بعد اب آسانیوں کا دور آنے والا ہے۔ کیونکہ جان کن مشکلات کی بعد اب اللہ کی رحمت کی شبنم سے روح کو تراوت ملنے والی ہے۔ '

ولا تایئسو۔۔۔۔۔۔۔ الکفرون (12 : 87) “ اللہ کی رحمت سے تو صرف کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں ” ۔ رہے وہ مومن جن کے دل اللہ تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جن کی روح پر معرفت الٰہی کی شنبم گرتی ہے ، جن کے اوپر رحمت الٰہی کی روح پرور خوشگوار ہوا کے جھونکے چلتے ہیں ، وہ کبھی بھی اللہ کے فضل و کرم سے مایوس نہیں ہوتے اگرچہ مشکلات ناقابل برداشت ہوجائیں اور ان کا کلیجہ منہ کو آجائے۔ مومن ہمیشہ ایمان کی چھاؤں میں ہوتا ہے ، وہ تعلق باللہ کی وجہ سے اللہ سے مربوط ہوتا ہے۔ اپنے مولا پر اسے بھروسہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھروسہ انتہائی کرب و الم میں بھی زندہ رہتا ہے۔

88

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَٰعَةٍۢ مُّزْجَىٰةٍۢ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے

اب تیسری مرتبہ برادران یوسف (علیہ السلام) مصر کے شہر میں داخل ہوتے ہیں۔ قحط نے ان کا برا حال کر رکھا ہے۔ نقدی ختم ہے ، اب وہ ردی قسم کی مال اور روپیہ لے کر آئے ہیں اور اس کے سوا ان کے پاس کچھ بچا بھی نہیں ہے۔ یہ لوگ اس حال میں داخل ہوتے ہیں کہ ان کی شخصیت ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے ، اب وہ پرانی باتیں کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اس کے حال میں داخل ہوتے ہیں کہ ان کی شخصیت ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے ، اب وہ پرانی باتیں کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اس موقعے پر انہوں نے اپنی بدحالی کا جو شکوہ کیا اس سے ان کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے۔

آیت نمبر 88

یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ اس کے بھائی اس قدر خستہ حال ہوگئے ہیں اور ان کے اندر اس قدر انکسار آگیا ہے اور وہ رحم کی اپیلیں کر رہے ہیں تو وہ اپنے مرتبے اور مقام کا مزید مظاہرہ جاری نہ رکھ سکے۔ اب ان کے لئے ممکن ہی نہ رہا کہ اپنی شخصیت کو ان سے چھپا سکیں۔ جو سبق ان کو دینا مقصود تھا وہ دے چکے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کو وہ عظیم سر پر ائز دیا جائے جس کے لئے وہ بالکل تیار نہ تھے۔ ان کو تصور ہی نہ تھا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کے دربار میں کھڑے ہیں۔ چناچہ وہ براہ کرم ان پر اپنی حقیقت ظاہر فرماتے ہیں۔ وہ اشارہ کرتے ہیں کہ دیکھو تم نے ماضی میں وہ کیا کرتوت کیا تھا ؟ یہ تو ان کی زندگی کا راز تھے۔ اس کے بارے میں انہوں نے کسی کو بتایا ہی نہ تھا۔ صرف اللہ جانتا تھا۔

89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَٰهِلُونَ

(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا

آیت نمبر 89

اب ان کے کانوں میں ایک ایسی آواز پڑی جو انہیں مانوس نظر آئی۔ انہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے چہرے کے خدو خال اب ایسے نظر آئے کہ وہ دیکھا ہوا چہرہ ہے۔ اس سے قبل وہ اپنے آپ کو بظاہر عزیز مصر کے سامنے پاتے تھے اور یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ یہ شخص یوسف (علیہ السلام) بھی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ شاہی دربار کے رعب کے نیچے تھے لیکن اب دور ہی سے انہیں نظر آگیا کہ یہ تو بھائی کا چہرہ ہے۔

90

قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

آیت نمبر 90

اب ان کو یقین ہوگیا اور کہا کہ تم ہی یوسف (علیہ السلام) ہو۔ اگرچہ یوسف (علیہ السلام) اب ایک معمر آدمی ہیں۔ اس کے بچپن کے خدو خال صاف صاف نظر آنے لگے۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اچانک اپنے آپ کو ظاہر کیا اور اجمالاً وہ ان کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے جہالت میں اپنے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ بس وہ صرف یہی بات کہتے ہیں اور اللہ کے ان احسانات کا تذکرہ کرتے ہیں جو ان پر اور ان کے بھائی پر ہوئے۔ اور یہ احسانات اس لیے ہوئے کہ ہم نے تقویٰ اور صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور یہ سب کچھ اللہ کے نظام عدل کا نتیجہ ہے۔ وہ متقین و صابرین کو جزائے خیر دیتا ہے۔

لیکن اس اچانک انکشاف کا اثر ان بھائیوں پر کیا ہوا ؟ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ پوری گھناؤنی صورت حال مجسم ہوگئی جو وہ یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کرتے رہے تھے۔ یہ بےحد شرمندہ ہیں۔ جس کے ساتھ انہوں نے برا کیا وہ بطور محسن کھڑا ہے ، جس کے ساتھ انہوں نے سنگدلی کی وہ نہایت ہی حلیم ہے اور جس کے ساتھ انہوں نے ظلم کیا وہ کریم اور محسن ہے۔ اب اس کے سوا وہ کہہ کیا سکتے تھے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.