Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 71–80 of 111

71

قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے

قالوا واقبلوا علیہم ما ذا تفقدون (12 : 71) “ انہوں نے پلٹ کر پوچھا تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ؟ ” چناچہ ان ملازمین نے ، جن کی ڈیوٹی تھی کہ وہ ان کے بار تیار کریں ، کہا چوکیداروں نے کہا جن میں سے یہ اعلان کنندہ بھی تھا۔

72

قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍۢ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌۭ

وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں

قالوا نفقد صواع الملک (12 : 72) “ سرکاری ملازمین نے کہا بادشاہ کا نہ ہم کو نہیں مل رہا ”۔ اس دوران ایک دوسرا شخص منظر پر آتا ہے اور وہ انعام ، انعام کی ایک بڑی رقم کا اعلان کرتا ہے کہ اگر کوئی رضا کارانہ طور پر واپس کر دے تو یہ قیمتی انعام دیا جائے گا۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر وانا بہ زعیم (12 : 72) “ جو شخص لا کر دے گا اس کے لئے ایک بار شتر انعام ہے اور اس کا میں ذمہ دارہوں ”۔ زعیم بمعنی ضامن کہ اسے ایک بار شتر گندم دوں گا۔

لیکن ان حضرات کو تو پورا یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں ، کیونکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی۔ اور نہ ہی وہ اس لئے آئے تھے کہ ایسی حرکتیں کریں ، جس سے باہم اعتماد تباہ ہوجائے اور مختلف ممالک کے بین الاقوامی تعلقات خراب ہوں۔ چناچہ وہ قسمیہ بیان دیتے ہیں :

قالوا تاللہ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (12 : 73) “ ان بھائیوں نے کہا خدا کی قسم ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں ”۔ تمہیں ہماری تاریخ کا بھی علم ہے ، ہمارے نسب و حسب کا بھی علم ہے اور ہماری ظاہری پوزیشن بھی نظر آتی ہیں۔

وما کنا سرقین (12 : 73) “ اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں ”۔ ہم سے یہ برا فعل ہرگز صادر نہیں ہو سکتا ، ہرگز نہیں۔ بادشاہ کے کارندوں اور چوکیداروں نے کہا۔

73

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں

قالوا نفقد صواع الملک (12 : 72) “ سرکاری ملازمین نے کہا بادشاہ کا نہ ہم کو نہیں مل رہا ”۔ اس دوران ایک دوسرا شخص منظر پر آتا ہے اور وہ انعام ، انعام کی ایک بڑی رقم کا اعلان کرتا ہے کہ اگر کوئی رضا کارانہ طور پر واپس کر دے تو یہ قیمتی انعام دیا جائے گا۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر وانا بہ زعیم (12 : 72) “ جو شخص لا کر دے گا اس کے لئے ایک بار شتر انعام ہے اور اس کا میں ذمہ دارہوں ”۔ زعیم بمعنی ضامن کہ اسے ایک بار شتر گندم دوں گا۔

لیکن ان حضرات کو تو پورا یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں ، کیونکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی۔ اور نہ ہی وہ اس لئے آئے تھے کہ ایسی حرکتیں کریں ، جس سے باہم اعتماد تباہ ہوجائے اور مختلف ممالک کے بین الاقوامی تعلقات خراب ہوں۔ چناچہ وہ قسمیہ بیان دیتے ہیں :

قالوا تاللہ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (12 : 73) “ ان بھائیوں نے کہا خدا کی قسم ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں ”۔ تمہیں ہماری تاریخ کا بھی علم ہے ، ہمارے نسب و حسب کا بھی علم ہے اور ہماری ظاہری پوزیشن بھی نظر آتی ہیں۔

وما کنا سرقین (12 : 73) “ اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں ”۔ ہم سے یہ برا فعل ہرگز صادر نہیں ہو سکتا ، ہرگز نہیں۔ بادشاہ کے کارندوں اور چوکیداروں نے کہا۔

74

قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَٰذِبِينَ

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا

قالوا فما جزؤہ ان کنتم کذبین (12 : 74) “ اچھا ، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو پھر چور کی سزا کیا ہے ؟ ” اس سے وہ حکمت معلوم ہوتی ہے جو اس تدبیر کی شکل میں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سمجھائی۔ دین یعقوب (علیہ السلام) میں قانون یہ تھا کہ چور کو چوری کے مال اور جرم کے بدلے رہن قیدی یا غلام بنا لیا جائے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) کو چونکہ اپنی گناہی کا پورا پورا یقین تھا ، تو وہ کو خوشی خوشی اس پر راضی ہوگئے کہ دین یعقوبی کے مطابق فیصلہ ہوجائے جو بھی مجرم ہو۔ یوں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے لئے جو اسکیم تیار کی وہ پایہ تکمیل کو پہنچی۔

75

قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں

قالوا جزؤہ ۔۔۔۔۔۔ الظلمین “ انہوں نے کہا اس کی سزا ؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے۔ ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے ”۔

یہ سب گفتگو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی موجودگی میں ہو رہی تھی اور وہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے ۔ اس لیے کہ انہوں نے تلاشی کا حکم دیا اور ان کی دانش مندی نے انہیں یہ سمجھایا کہ دوسرے بھائیوں کے باروں کی تلاشی پہلے لی جائے تا کہ تفتیش اور تدبیر کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو۔

76

فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ

پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے

فبدا باوعیتھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وعاء اخیہ (12 : 76) “ تب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی سے پہلے ان کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی ”۔

اس مرحلے پر قرآن اس دہشت اور پریشانی کو بیان نہیں کرتا جس سے برادران یوسف اچانک دو چار ہوگئے۔ ان کو تو سو فیصدی یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں۔ انہوں نے بیان حلفی بھی دے دیا تھا اور بیک آواز دے دیا تھا۔ قرآن کریم نے منظر کا یہ حصہ انسانی تخیل پر چھوڑ دیا کیونکہ ایسے مواقع پر ایسے تاثرات خود بخود ظاہر ہوتے ہیں۔ اس تاثر کو انسانی خیال پر چھوڑ دیا گیا اور واقعہ پر ایک تبصرہ کردیا گیا تا کہ ابنائے یعقوب جس دہشت اور شرمندگی سے دو چار تھے ، ایک قاری اس سے ذرا نکل آئے۔

کذلک کدنا لیوسف (12 : 76) “ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی تائید اپنی تدبیرت کی جو نہایت ہی گہری تدبیر تھی۔

ما کان لیاخذ اخاہ فی دین الملک (12 : 76) “ اس کو دین شاہی میں اپنے بھائی کو پکڑنے کا حق نہ تھا ”۔ یعنی اگر اس کیس کا فیصلہ شاہی قانون کے مطابق کیا جاتا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بھائی کو شخصی طور پر نہیں روک سکتے تھے۔ صرف اسے چور کی سزا دے سکتے تھے۔ لیکن بھائیوں نے یہ تجویز دی کہ ان کے اپنے دین کے مطابق چور کا فیصلہ ہونا چاہئے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے اسباب اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سمجھائے ۔ یہ ہے اللہ کی جانب سے یوسف (علیہ السلام) کے حق میں تدبیر۔ لفظ “ کید ” عربی میں خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس کا استعمال لغت میں خیر اور شر دونوں معنوں میں ہوتا ہے۔ لیکن عموماً اس کا استعمال شر میں ذرا زیادہ ہوگیا۔ بظاہر تو یہاں اس کے بھائی کے لئے بھی واقعہ شر ہی کا ہو رہا ہے ، بھائیوں کے لئے بھی یہ بظاہر شر ہے کیونکہ ان کو والد کا سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لئے بھی یہ وقتی طور پر تکلیف دہ امر ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے واقعہ کے ظاہری پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لئے “ کید ” کا لفظ استعمال کیا جو قرآن کریم کا ایک نہایت ہی لطیف اسلوب بیان ہے۔

ما کان ۔۔۔۔۔۔ یشاء اللہ (12 : 76) “ وہ بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو نہ پکڑ سکتے تھے الا یہ کہ اللہ ایسا چاہتا ”۔ جیسا کہ اللہ نے ان کے لئے زیر نظر تدبیر کی۔

اس آخری تبصرے میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے بہت ہی رفعتیں بہت ہی علم ، عطا فرما دیا تھا۔

نرفع درجت من نشاء (12 : 76) “ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ تنبیہ بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کا علم سب سے اونچا اور اعلیٰ ہے۔

وفوق کل ذی علم علیم (12 : 76) “ اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے ”۔ یہ ایک لطیف احتیاط ہے۔

یہاں قرآن مجید نے اس آیت :

کذلک کدنا۔۔۔۔۔۔۔ دین الملک (12 : 76) “ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے یوں تدبیر کی۔۔۔۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون نظام میں گرفتار نہ کرسکتے تھے ” میں لفظ “ دین ” کو ایک مخصوص مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے اور یہ نہایت ہی ٹیکنیکل اصطلاحی استعمال ہے۔ یعنی نظام اور شریعت کے مفہوم میں کیونکہ مصر کے قانونی نظام میں چور کے لئے یہ سزا نہ تھی کہ اسے جرم کے عوض رکھ ہی لیا جائے۔ یہ سزا صرف حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے شرعی اور قانونی نظام میں تھی۔ برادران یوسف اس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ کیس کا فیصلہ ان کے قانون کے مطابق کیا جائے۔ جب ۔۔۔۔ اس کے بھائی کی خرجی سے نکلا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان پر انہی کا قانون نافذ کردیا۔ یہاں قرآن کریم نے نظام اور قانون پر “ الدین ” کا اطلاق فرمایا ہے۔

دین کا یہ نہایت ہی واضح اور صریح مفہوم ہے ، اور بیسویں صدی کی جاہلیت میں سب کے ذہن سے یہ مفہوم غائب ہے۔ ان لوگوں کے ذہن سے بھی جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے ذہن سے بھی جو اس …

77

۞ قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌۭ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ

(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے

اس مختصر سبق آموز تبصرے کے بعد اب ہم برادران یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹتے ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ اس مشکل مرحلے سے دو چار ہو کر یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف ان کے دل میں چھپی ہوئی عداوت اور بغض و حسد اب اہل پڑا ہے۔ چناچہ وہ اپنے آپ کو اس جرم سے بری قرار دے کر ، اس کا ذمہ دار حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دوسری بیوی کی اولاد کو ٹھہراتے ہیں۔

قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل (12 : 77) ان بھائیوں نے کہا “ یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسف (علیہ السلام) بھی چوری کرچکا ہے ”۔ ہمارے تفاسیر کے ذخیرے میں اس الزام پر طویل تبصرے ، حکایات اور روایات بیان کی گئی ہیں ، جو سب کی سب اسرائلیات پر مشتمل ہیں۔ یہ کہ اس کی طرف سے سرقہ قابل تعجب نہیں ہے۔ اس سے قبل اس کے بھائی (یوسف (علیہ السلام) اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ گویا انہوں نے تو یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں باپ کے سامنے جھوٹ نہیں کہا تھا۔ کیا وہ اب عزیز مصر کے سامنے جھوٹ نہیں بول رہے کہ اپنے آپ کو اس شرمندگی سے نکالیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی سے قدرے علیحدہ کردیں۔ اس طرح یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے حق میں اپنے قدیمی بغض اور حسد کو ظاہر کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر یہ بالکل ناحق اور جھوٹا الزام لگایا۔

فاسرھا یوسف فی نفسہ ولم یبدھالھم (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) ان کی یہ بات سن کر پی گیا اور یہ بات ان پر نہ کھولی ”۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اس الزام کے جواب میں ، اپنی حقیقت ان پر نہ کھولی ، بات کو پی گئے اور اپنے تاثرات کا اظہار نہ کیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اور ان کے بھائی دونوں بری الذمہ ہیں۔ البتہ انہوں نے صرف اتنا کہا :

قال انتم شرمکانا (12 : 77) “ تم بہت ہی برے لوگ ہو ”۔ یعنی تم یہ جھوٹا الزام لگا رہے ہو اور جس پر تم الزام لگا رہے ہو ، اس کے مقابلے میں تم تو بہت ہی برے ہو ”۔

قال انتم شر مکاناً (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، تم بہت ہی برے ہو ”۔ یعنی تم جس پر الزام سرقہ لگا رہے ہو اس کے مقابلے میں اللہ کے نزدیک تم خود بہت ہی برے ہو ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا۔ یہ محض گالی نہ تھی بلکہ حقیقت تھی۔

واللہ اعلم بما تصفون (12 : 77) “ جو الزام تم لگا رہے ہو ، اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے ”۔ اور اس واقعہ کی حقیقت بھی اور تمہارے الزام کی حقیقت بھی۔ یوں اللہ پر چھوڑ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بات کو یہاں ہی ختم کردیا کیونکہ یہاں مطلب و موضوع کے ساتھ اس واقعہ کا تعلق نہیں ہے۔

اب یہ لوگ اس پریشان کن صورت حال پر غور کرنے لگے جس میں وہ گرفتار ہوگئے تھے۔ سوچنے لگے کہ والد نے تو پہلے ہی یہ کہا تھا کہ :

لتاتننی بہ الا این یحاط بکم (12 : 66) “ تم ضرور اسے لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم سب گھر جاؤ ”۔ اب وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے رحم کی اپیل کرنے لگے۔ اس نوجوان بھائی کے بہت ہی بوڑھے باپ کا واسطہ دینے لگے ، یہ پیش کرنے لگے کہ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو گرفتار کرلے ۔ یہ ان کو یاد دلا رہے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) تم بہت محسن ، نیک نفس انسان ہو اور اس کے باپ ہی کی خاطر اسے رہا کردو۔

قالوا یایھا العزیز ۔۔۔۔۔ المحسنین (12 : 78) “ انہوں نے کہا “ اے سردار ذی اقتدار (عزیر) اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں ”۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) تو انہیں مزید سبق پڑھانا چاہتے تھے۔ وہ ان کو اس اچانک خوشی کے لئے تیار کررہے تھے ، جو ان کے لیے ، ان کے والد کے لئے اور سب رشتہ داروں کے لئے آرہی تھی تا کہ وہ بےحد خوش ہوں اور ان پر اس کا گہرا اثر ہو۔

78

قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًۭا شَيْخًۭا كَبِيرًۭا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں

اس مختصر سبق آموز تبصرے کے بعد اب ہم برادران یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹتے ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ اس مشکل مرحلے سے دو چار ہو کر یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف ان کے دل میں چھپی ہوئی عداوت اور بغض و حسد اب اہل پڑا ہے۔ چناچہ وہ اپنے آپ کو اس جرم سے بری قرار دے کر ، اس کا ذمہ دار حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دوسری بیوی کی اولاد کو ٹھہراتے ہیں۔

قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل (12 : 77) ان بھائیوں نے کہا “ یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسف (علیہ السلام) بھی چوری کرچکا ہے ”۔ ہمارے تفاسیر کے ذخیرے میں اس الزام پر طویل تبصرے ، حکایات اور روایات بیان کی گئی ہیں ، جو سب کی سب اسرائلیات پر مشتمل ہیں۔ یہ کہ اس کی طرف سے سرقہ قابل تعجب نہیں ہے۔ اس سے قبل اس کے بھائی (یوسف (علیہ السلام) اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ گویا انہوں نے تو یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں باپ کے سامنے جھوٹ نہیں کہا تھا۔ کیا وہ اب عزیز مصر کے سامنے جھوٹ نہیں بول رہے کہ اپنے آپ کو اس شرمندگی سے نکالیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی سے قدرے علیحدہ کردیں۔ اس طرح یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے حق میں اپنے قدیمی بغض اور حسد کو ظاہر کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر یہ بالکل ناحق اور جھوٹا الزام لگایا۔

فاسرھا یوسف فی نفسہ ولم یبدھالھم (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) ان کی یہ بات سن کر پی گیا اور یہ بات ان پر نہ کھولی ”۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اس الزام کے جواب میں ، اپنی حقیقت ان پر نہ کھولی ، بات کو پی گئے اور اپنے تاثرات کا اظہار نہ کیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اور ان کے بھائی دونوں بری الذمہ ہیں۔ البتہ انہوں نے صرف اتنا کہا :

قال انتم شرمکانا (12 : 77) “ تم بہت ہی برے لوگ ہو ”۔ یعنی تم یہ جھوٹا الزام لگا رہے ہو اور جس پر تم الزام لگا رہے ہو ، اس کے مقابلے میں تم تو بہت ہی برے ہو ”۔

قال انتم شر مکاناً (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، تم بہت ہی برے ہو ”۔ یعنی تم جس پر الزام سرقہ لگا رہے ہو اس کے مقابلے میں اللہ کے نزدیک تم خود بہت ہی برے ہو ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا۔ یہ محض گالی نہ تھی بلکہ حقیقت تھی۔

واللہ اعلم بما تصفون (12 : 77) “ جو الزام تم لگا رہے ہو ، اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے ”۔ اور اس واقعہ کی حقیقت بھی اور تمہارے الزام کی حقیقت بھی۔ یوں اللہ پر چھوڑ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بات کو یہاں ہی ختم کردیا کیونکہ یہاں مطلب و موضوع کے ساتھ اس واقعہ کا تعلق نہیں ہے۔

اب یہ لوگ اس پریشان کن صورت حال پر غور کرنے لگے جس میں وہ گرفتار ہوگئے تھے۔ سوچنے لگے کہ والد نے تو پہلے ہی یہ کہا تھا کہ :

لتاتننی بہ الا این یحاط بکم (12 : 66) “ تم ضرور اسے لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم سب گھر جاؤ ”۔ اب وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے رحم کی اپیل کرنے لگے۔ اس نوجوان بھائی کے بہت ہی بوڑھے باپ کا واسطہ دینے لگے ، یہ پیش کرنے لگے کہ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو گرفتار کرلے ۔ یہ ان کو یاد دلا رہے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) تم بہت محسن ، نیک نفس انسان ہو اور اس کے باپ ہی کی خاطر اسے رہا کردو۔

قالوا یایھا العزیز ۔۔۔۔۔ المحسنین (12 : 78) “ انہوں نے کہا “ اے سردار ذی اقتدار (عزیر) اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں ”۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) تو انہیں مزید سبق پڑھانا چاہتے تھے۔ وہ ان کو اس اچانک خوشی کے لئے تیار کررہے تھے ، جو ان کے لیے ، ان کے والد کے لئے اور سب رشتہ داروں کے لئے آرہی تھی تا کہ وہ بےحد خوش ہوں اور ان پر اس کا گہرا اثر ہو۔

79

قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَٰلِمُونَ

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ نہیں کہا کہ پناہ خدا کی ، کہ ہم کسی چور کے بدلے ایک بےگناہ کو پکڑ لیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بھائی چور نہیں ہے ، اس لیے انہوں نے نہایت ہی ٹیکنیکل انداز تعبیر اختیار کیا۔ اگرچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان مصری ہوگی لیکن قرآن نے ان کی جو حالت بتائی ہے ظاہر ہے وہ اصل کے مطابق ہے۔ “ جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ”۔ ان الفاظ میں بالکل سادہ حقیقت کا اظہار ہے ، نہ الزام ہے اور اس کی طرف اشارہ کہ مال رکھا کس نے۔

انا اذا لظلمون “ اگر ہم دوسرے کو گرفتار کریں تو ہم ظالم ہوں گے ”۔ بس یہ آخری بات تھی ۔ وہ سمجھ گئے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب وہ سوچنے لگے کہ والد کو کس طرح منہ دکھائیں گے۔

80

فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّۭا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

درس نمبر 110 تشریح آیات

80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101

برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔

آیت نمبر 80 تا 82

برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک ان کے والد اجازت نہیں دیتے یا اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہیں فرماتے ، اللہ کے فیصلے کے وہ بہرحال پابند ہیں۔ وہ کیا کریں ؟ تو ان سے انہوں نے کہا کہ تم جاؤ اور باپ سے صاف صاف کہو کہ آپ کے بیٹے نے چوری کا ارتکاب کیا ہے۔ پکڑا گیا ، یہ ہے ان کا علم اور مشاہدہ۔ اگر وہ بری الذمہ اور بےگناہ ہے اور اصل حقیقت کچھ اور ہے تو اس سے وہ بیخبر ہیں۔ ان کو بالکل یہ توقع نہ تھی کہ ان کو ایسا حادثہ پیش آئے گا۔ یہ تو ہے اس معاملے کا ظاہری پہلو ، اگر اصل بات کوئی اور ہو تو وہ امر غیبی ہوگی اور ہم اس کو نہیں جانتے۔ نہ جاننے کے مکلف ہیں اور یہ بات ان کی نسبت غیب ہی تھی اور کوئی شخص غیبی واقعات کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اور یہ کہ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ ، شہر کے دوسرے لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں اور پھر مصر سے ہم جس قافلے کے ساتھ آئے ہیں ، اس سے بھی پوچھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے تو نہ تھے ، آج کل مصر کو قافلے پر قافلہ جارہا ہے اور وہاں سے لوگ غلہ لے کر آتے ہیں۔ مصر کے گرد تمام علاقے قحط کی لپیٹ میں ہیں ، سخت خشک سالی ہے۔

٭٭٭

اب وہ کس حال میں واپس آئے ، سفر کس طرح بےہوا ، یہاں ان تفصیلات کو حذف کردیا گیا ہے۔ یہ لوگ اب غم زدہ باپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے ماجرا سنا دیا۔ غم زدہ باپ کا صرف ایک مختصر جواب سیاق کلام میں نقل کردیا جاتا ہے۔ نہایت ہی اندوہناک الفاظ میں ۔ لیکن ان کے کلام میں اب بھی امید کی ایک کرن باقی ہے۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ خدا دونوں بچے ان کو واپس کر دے گا۔ بلکہ تینوں کو واپس کر دے گا۔ کیونکہ تیسرا بھی مصر میں دھرنا مار کر بیٹھ گیا ہے۔ اس بوڑھے باپ کے شکستہ دل میں اب بھی ایک عجیب امید ہے۔ یہ ہے پیغمبرانہ بصیرت !

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.