قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
Explained together with ayah 90
سُورَةُ يُوسُفَ
Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani
Ayahs 91–100 of 111
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
Explained together with ayah 90
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے
Explained together with ayah 90
ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًۭا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
57: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام یقینا جانتے ہوں گے کہ ان کی جدائی سے ان کے والد بزرگوار پر کیا گذر رہی ہوگی۔ اس کے باوجود اتنے لمبے عرصے تک انہوں نے کسی بھی ذریعے سے اپنی خیریت کی کوئی خبر اپنے والد کو بھیجنے کی کوشش نہیں کی۔ اوّل تو عزیز کے گھر میں رہنے کے دوران خبر بھیجنا کچھ مشکل نہ ہونا چاہئے تھا، پھر قید سے آزادی کے بعد تو ان کو ملک پر مکمل اِقتدار بھی حاصل ہوچکا تھا، وہ شروع ہی میں حضرت یعقوب علیہ السلام اور اپنے سارے گھر والوں کو مصر بلانے کا انتظام کرسکتے تھے، اور جو بات اِنہوں نے اپنے بھائیوں سے اب کہی، وہ ان کی پہلی آمد کے موقع پر بھی فرما سکتے تھے، اور اس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے رنج و غم کا زمانہ مختصر ہوسکتا تھا، لیکن اِنہوں نے ایسا کوئی اِقدام نہیں کیا۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان سارے واقعات میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کی بڑی حکمتیں پوشیدہ تھیں، اور اﷲ تعالیٰ کو اپنے محبوب بندے اور رسول حضرت یعقوب علیہ السلام کے صبر و ضبط کا امتحان لینا تھا، اس لئے اُس پورے عرصے میں حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اپنے والد سے رابطہ کریں۔ واللہ سبحانہ اعلم۔
وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ
اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے
58: حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے سب گھر والوں کو مصر لے آئیں۔ چنانچہ وہ ایک قافلے کی صورت میں مصر سے روانہ ہوئے۔ ادھر وہ مصر سے نکلے اور اُدھرکنعان میں حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو آنے لگی۔ یہ دونوں پیغمبروں کا ایک معجزہ تھا، اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے لئے بشارت کہ ان کی آزمائش کا زمانہ ختم ہونے والا ہے۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کنعان کے قریب ہی کنویں میں موجود تھے، اس وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کو ان کی خوشبو نہیں آئی۔ اس کے علاوہ مصر میں قیام کے دوران بھی اِنہیں اِس سے پہلے اس کا اِحساس نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ معجزہ کسی نبی کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اﷲ تعالیٰ جب چاہتے ہیں، اس کا مظاہرہ فرما دیتے ہیں۔
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ
وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں
59: یعنی یہ غلط فہمی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ابھی زندہ ہیں اور ان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔
فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًۭا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
60: ’’خوشخبری دینے والے‘‘ حضرت یوسف علیہ السلام کے سب سے بڑے بھائی تھے جن کا نام بعض روایات میں یہوداہ اور بعض میں روبن آیا ہے۔ اور خوشخبری دینے سے مراد یہ خوشخبری ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ابھی زندہ ہیں، اور انہوں نے سب گھر والوں کو اپنے پاس بلایا ہے۔ یہ بھی ایک معجزہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص چہرے پر ڈالنے سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آگئی۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص سے کئی اہم واقعات ظاہر ہوئے۔ اِنہی کی قمیص کو ان کے بھائی خون لگا کر لائے تھے، اور اس کو صحیح سالم دیکھ کر حضرت یعقوب علیہ السلام یہ سمجھ گئے تھے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیئے نے نہیں کھایا، اور انہی کی قمیص تھی جو زلیخا نے پیچھے سے پھاڑا اور اس سے ان کی بے گناہی ثابت ہوئی، اور اب یہی قمیص تھی جس کی خوشبو حضرت یعقوب علیہ السلام کو دُور سے محسوس ہوئی، بالآخر اسی سے ان کی بینائی واپس آئی۔
قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ
بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے
Explained together with ayah 96
قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
Explained together with ayah 96
فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ
جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا
61: حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے والدین، بھائیوں اور دوسرے گھر والوں کے استقبال کے لئے شہر سے باہر تشریف لائے تھے، اور جب والدین سے ملاقات ہوئی توانہوں نے انکا خاص اکرام کرکے انہیں اپنے پاس بٹھایا اور ابتدائی باتوں کے بعد سارے آنے والوں سے کہا کہ اب سب لوگ شہر میں اطمینان کے ساتھ چل کر رہیں، اس معاملے میں روایات مختلف ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حقیقی والدہ اس وقت زندہ تھیں یا نہیں اگر زندہ تھیں تب تو والدین سے مراد حقیقی والدین ہیں اور اگر وفات پاچکی تھیں تو سوتیلی والدہ کو بھی چونکہ ماں ہی کی طرح سمجھاجاتا ہے اس لئے ان کو بھی والدین میں شامل کرلیا گیا۔
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّوا۟ لَهُۥ سُجَّدًۭا ۖ وَقَالَ يَٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّۭا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌۭ لِّمَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
62: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے اس آیت کی جو تفسیر مروی ہے، اس کے مطابق ان سب حضرات نے یہ سجدہ یوسف علیہ السلام کے سامنے اﷲ تعالیٰ کا شکر بجالانے کے لئے کیا تھا، یعنی سجدہ اﷲ تعالیٰ ہی کو تھا، البتہ یوسف علیہ السلام کے سامنے اور ان کے مل جانے کی خوشی میں کیا تھا، اِمام رازی رحمۃ اﷲ علیہ نے اسی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے۔ البتہ دوسرے مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ عبادت کا نہیں، بلکہ تعظیم کا ویسا ہی سجدہ تھا جیسا فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو کیا تھا، اور وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی شریعت میں جائز تھا۔ تاہم آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی شریعت میں اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو تعظیمی سجدہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
63: یعنی اس خواب میں چاند سورج سے مراد حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین تھے، اور ستاروں سے مراد ان کے گیارہ بھائی
64: حضرت یوسف علیہ السلام کو مصائب وآلام کے جس طویل دور سے گذرنا پڑا تھا، اگر کوئی اور ہوتا تو والدین سے ملاقات کے بعد اپنی تکلیفوں کو دُکھڑا سناتا۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھئے کہ ان مصائب کے بارے میں ایک لفظ کہے بغیر واقعات کے صرف اچھے رُخ کا ذکر کر کے اﷲ تعالیٰ کا شکر اَدا فرمایا۔ قید خانے میں جانے کا نہیں، وہاں سے نکلنے کا ذکر فرمایا، والدین کی جدائی کا بیان کرنے کے بجائے ان کے مصر آجانے کا تذکرہ فرما کر اس پر شکر ادا کیا۔ بھائیوں نے جو ستم ڈھائے تھے، ان کو شیطان کا مچایا ہوا فساد قرار دے کر بات ختم فرما دی۔ اِس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر اِنسان کو چاہئے کہ وہ سخت سے سخت حالات میں بھی واقعات کے مثبت رخ کا تصور کر کے اﷲ تعالیٰ کا شکر گذار ہو۔
Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.