Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 91–100 of 111

91

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ ۔۔ : بھائیوں کے سامنے اپنے ظلم و ستم کا وہ سارا منظر آگیا جو ان کے ہاتھوں ہوا تھا تو انھوں نے قسم کھا کر اعتراف کیا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر، تقویٰ اور دوسری صفات حسنہ کی وجہ سے ہم پر برتری اور فوقیت عطا فرمائی ہے۔ ” وَاِنْ كُنَّا “ اصل میں ” اِنَّا کُنَّا “ تھا، جس کی دلیل ” خَاطِءِیْنَ “ پر آنے والا لام ہے۔ ” اِنَّ “ اور لام کے ساتھ تاکید بھی قسم ہی کی ایک صورت ہے کہ یقیناً ہم آپ پر ظلم کرکے جانتے بوجھتے ہوئے غلط اور گناہ کا کام کرنے والے تھے۔ ” خَاطِءِیْنَ “ اور ” مُخْطِءِیْنَ “ کے فرق کے لیے دیکھیے آیت (٢٩) کی تفسیر۔ بھائیوں کے اعتراف گناہ کے بعد یوسف (علیہ السلام) کی سینے کی وسعت اور حوصلہ مندی دیکھیے، ابھی انھوں نے صرف گناہ کا اعتراف اور عذر ہی کیا ہے، معافی مانگنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی بول اٹھے : (لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ) کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔

92

قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے

قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ :” تَثْرِيْبَ “ کے معنی ملامت، ڈانٹ ڈپٹ، گناہ یاد دلانا سبھی آتے ہیں۔ فرمایا تمہیں ہرگز کوئی ملامت نہیں کرتا، نہ ڈانٹ ڈپٹ، نہ تمہیں کوئی یہ زیادتی یاد دلائے گا۔ ” الْيَوْمَ “ کا معنی صرف آج کا دن نہیں بلکہ مطلق زمانے کے لیے ہے، یعنی اب آئندہ تم پر کوئی ملامت نہیں۔- 3 یہ ہے شان نبوت، اگر کوئی دوسرا آدمی ہوتا تو ایسے قصور واروں پر قابو پالینے کے بعد انھیں ہرگز معاف نہ کرتا۔ یہی سلوک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے بعد وہاں کے رہنے والوں سے فرمایا۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ (فتح مکہ کے دن) قریش کے سرداروں اور بڑے بڑے لوگوں نے کعبہ میں پنا لی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، بیت اللہ کا طواف کیا اور ان (٣٦٠) بتوں کے پاس سے گزرتے ہوئے انھیں کمان کے کنارے کے ساتھ ٹھوکا مارتے گئے اور یہ فرماتے گئے : (جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) [ بنی إسرائیل : ٨١ ] جب فارغ ہوئے اور نماز پڑھ لی تو آکر دروازے کی چوکھٹ کے دونوں کناروں کو پکڑا، پھر فرمایا : ” اے معشر قریش (بولو) کیا کہتے ہو ؟ “ انھوں نے کہا : ” ہم کہتے ہیں (آپ) رحیم و کریم بھتیجے اور چچا زاد (بھائی) ہیں۔ “ آپ نے پھر ان کے سامنے اپنی بات دہرائی، انھوں نے وہی جواب دیا، تو آپ نے فرمایا : ” پھر میں وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے کہا تھا : (لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۭ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ ) چناچہ وہ سب نکل کر آئے اور آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی۔ [ سنن الکبریٰ للنساءي : ٦؍٣٨٢، ٣٨٣ ح : ١١٢٩٨ ] یہ ہے اصل صلہ رحمی، عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَیْسَ الْوَاصِلُ بالْمُکَافِئِ وَلَکِنَّ الْوَاصِلُ الَّذِيْ إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُہٗ وَصَلَھَا ) [ بخاري، الأدب، باب لیس الواصل بالمکافأ : ٥٩٩١ ] ” صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو صلہ رحمی کے مقابلے میں صلہ رحمی کرتا ہے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کی رشتہ داری قطع کی جائے تو وہ اسے ملائے۔ “- يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۔۔ : یوسف (علیہ السلام) نے نہ صرف انھیں معاف فرما دیا بلکہ ان کی درخواست کے بغیر ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحم کی دعا بھی کردی۔

93

ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًۭا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ ۔۔ : بھائیوں کو معاف کردینے کے بعد گھر کے حالات کا تذکرہ ہوا، والد کے نابینا ہونے کی خبر پر ان کے علاج کے لیے اپنی قمیص بھیجی اور اپنے سارے گھر والوں کو اپنے پاس مصر میں لانے کا حکم دیا۔ یہ قمیص بھی عجیب تھی، کبھی یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیے کے کھا جانے کے ثبوت پر پیش کی گئی اور والد کو نابینا کرگئی اور کبھی یوسف (علیہ السلام) پر ارادۂ زنا کی تہمت لگی تو یہ ان کی صفائی بن گئی، اب اللہ کا حکم ہوا تو یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی واپس ملنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہ سب میرے مالک کی قدرت و مشیت ہے : (فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ) [ یسٓ : ٨٣ ] ” سو پاک ہے وہ کہ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی کامل بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ “ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یعنی ہر مرض کی اللہ کے ہاں دوا ہے، ایک شخص کے فراق میں یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھیں ضائع ہوگئیں، اس کے بدن کی چیز ملنے سے درست ہوگئیں، یہ یوسف (علیہ السلام) کی کرامت تھی۔ “ (موضح) اور خوشی کی شدت سے بینائی میں قوت پیدا ہوجانا طبی طور پر ثابت ہے۔ (رازی) مگر طبی طور پر اس کی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں کہ خوشی سے نابینا بینا ہوجائے، اس لیے اسے معجزہ ہی کہا جائے گا۔

94

وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے

وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ ۔۔ : اس سے انبیاء کو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کا اندازہ ہوتا ہے اور اس حقیقت کا بھی کہ خود ان کے پاس کتنا علم ہوتا ہے۔ یہی قمیص تھی، اسی راستے سے آئی تھی، چند میل دور کنویں میں پڑے ہوئے لخت جگر کا علم نہ ہوسکا، نہ اس کی خوشبو آئی اور جب اللہ تعالیٰ نے بتایا تو قافلے کے نکلتے ہی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آنا شروع ہوگئی۔ یہ واقعہ ان بیشمار دلائل میں سے ایک واضح دلیل ہے کہ انبیاء عالم الغیب نہیں ہوتے، ہاں جتنی بات انھیں وحی کے ذریعے سے بتائی جاتی ہے وہ انھیں معلوم ہوجاتی ہے اور یہی عام آدمی اور نبی کا فرق ہے کہ نبی کو وحی الٰہی ہوتی ہے، دوسرے اس نعمت سے محروم ہیں۔ اس بات کو شیخ سعدی نے کمال خوبی کے ساتھ ” گلستان “ میں نظم کیا ہے ؂- یکے پر سید ازاں گم کردہ فرزند - کہ اے روشن گہر پیر خردمند - زمصرش بوئے پیراہن شمیدی - چرا درچاہ کنعانش ندیدی - بگفت احوال ما برق جہان است - دمے پیدا و دیگردم نہان ست - گہے برطارم اعلی نشینم - گہے برپشتِ پائے خود نہ بینیم - ” یعنی کسی نے اس فرزند کو گم کردینے والے سے پوچھا کہ اے روشن نسب والے عقل مند بزرگ تو نے مصر سے اس کی قمیص کی خوشبو پا لی، تونے اسے کنعان کے کنویں میں کیوں نہ دیکھا، اس نے کہا ہمارے (انبیاء کے) احوال کوندنے والی بجلی کی طرح ہیں، ایک دم ظاہر ہوتے اور دوسرے لمحے پوشیدہ ہوجاتے ہیں، کبھی ہم اعلیٰ و بلند مقام پر بیٹھے ہوتے ہیں، کبھی ہم اپنے پاؤں کی پشت پر (لگی چیز) نہیں دیکھتے۔ “ آخری شعر کے پہلے مصرع میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معراج کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے میں جبریل (علیہ السلام) کے نماز کے دوران میں آ کر بتانے کی طرف کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جوتے پر نجاست لگی ہے۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتے نماز ہی میں اتار دیے۔- لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ : یعنی اگر یہ نہ ہو کہ تم کہو گے کہ بڑھاپے اور یوسف کی محبت کی وجہ سے میری عقل میں خلل پڑگیا ہے۔ : یعنی اگر یہ نہ ہو کہ تم کہو گے کہ بڑھاپے اور یوسف کی محبت کی وجہ سے میری عقل میں خلل پڑگیا ہے۔

95

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ

وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ ۔۔ : یعقوب (علیہ السلام) کے پاس اس وقت بیٹوں میں سے کوئی بھی موجود نہ تھا، پوتوں نے بھی باپوں والا رویہ اختیار کیا۔ اب ان الفاط کو ان کی طرف سے بابا کے لیے تسلی کہا جائے یا ملامت ؟ واللہ ان کا حق نہ تھا کہ دادا کو جو اللہ کے پیغمبر بھی تھے، یہ لفظ کہتے۔ ہاں ان کی طرف سے ایک عذر ہوسکتا ہے کہ بادیہ کے معاشرے میں باہمی بےتکلفی حتیٰ کہ والدین اور اولاد کے درمیان بھی بےتکلفی نے ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلوا دیے ہوں اور وہ اپنے خیال میں تسلی دے رہے ہوں کہ بابا پرانی بات بھول بھی جاؤ، مگر جو اتنے سال بھلایا نہیں جاسکا اب ایسی باتوں سے کیسے بھلایا جاسکے گا۔

96

فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًۭا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

” فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ “ اور ” فَلَمَّا جَاءَ الْبَشِیْرُ “ کے ترجمے کے فرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے اسی مترجم قرآن کے عرض مترجم میں سے فائدہ (٨) خوش خبری لانے والے نے آتے ہی چہرے پر قمیص ڈالی اور یوسف (علیہ السلام) کے زندہ ہونے کی خوش خبری دی تو اسی وقت آنکھیں دوبارہ روشن ہوگئیں۔ - مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : یوسف (علیہ السلام) کی قمیص سے آنکھیں روشن ہونے اور ان کے زندہ ہونے کی خوش خبری آنے پر فرمایا کہ میں نے تمہیں کہا نہ تھا : (اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) یعنی مجھے وحی الٰہی سے وہ باتیں معلوم ہوتی ہیں جو تم نہیں جانتے۔ مراد اپنے بچوں کو ملامت کرنا نہ تھا بلکہ تربیت کرنا تھا، تاکہ وہ نبوت کے مقام کو سمجھیں اور نبی کی بات کو محبت کے غلو پر یا عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے خرابی عقل پر محمول نہ کریں، مثلاً یہ یقین کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہے، اللہ تعالیٰ اسے ضرور ملائے گا، یا یہ بات کہ مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔

97

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ

بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ ۔۔ : یہ کہنے والے بیٹے بھی تھے اور پوتے بھی، انھوں نے صاف لفظوں میں اپنے دانستہ اور عمداً خطا وار ہونے کا اقرار کرکے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کریں، کیونکہ آپ معاف کر بھی دیں اگر اس نے نہ بخشا تو ہمارا کہاں ٹھکانا ہے۔

98

قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ ۔۔ : یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی طرح درخواست کے بغیر فوراً استغفار کے بجائے صرف وعدہ کیا کہ میں تمہارے لیے استغفار کروں گا جو یقیناً انھوں نے پورا کیا ہوگا۔ اہل علم نے اس کی کئی وجہیں بیان فرمائی ہیں، ایک تو یہ کہ بھائی کا حق بھائی پر اتنا نہیں ہوتا جتنا باپ کا بیٹے پر ہوتا ہے، اس لیے والد کو ناراضگی زیادہ تھی۔ دوسری یہ کہ بیشک یوسف (علیہ السلام) پر بےپناہ آزمائشیں آئیں مگر غم اور صدمے کا اثر والد پر زیادہ تھا۔ تیسری یہ کہ والد معلوم کرنا چاہتے تھے کہ یوسف نے انھیں معاف کیا ہے یا نہیں، کیونکہ مظلوم کے معاف کرنے کے بعد ہی ظالم کے لیے استغفار ہوسکتا ہے۔ بعض مفسرین نے بعض تابعین و صحابہ کے اقوال نقل فرمائے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے پچھلی رات دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا، کیونکہ وہ قبولیت کا وقت ہے، مگر انھوں نے یہ بات قرآن مجید یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے بیان نہیں کی جب کہ ہزاروں سال پہلے کی بات کا کوئی پختہ ذریعہ ان دونوں کے علاوہ ہے ہی نہیں۔ مفسر ابن جریر اور ابن کثیر ; نے ایک روایت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے جمعہ کی رات کو استغفار کا وعدہ کیا تھا، مگر اس کی سند میں تین خرابیاں ہیں، ایک ابن جریج کا اسے لفظ ” عَنْ “ سے روایت کرنا، جب کہ وہ مدلس ہیں، دوسری ولید بن مسلم قرشی حدیث مرفوع بیان کرنے کی غلطی کر جاتے ہیں اور تدلیس تسویہ کرتے ہیں، تیسری سلیمان بن عبد الرحمان میں حافظے کی بنا پر کلام ہے۔ قرآن مجید بھولنے والی حدیث بھی اسی سند کے ساتھ ہے۔ (سامی بن محمد بن عبد الرحمان محقق و محشی تفسیر ابن کثیر)

99

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ

جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ ۔۔ : یعنی یعقوب (علیہ السلام) کنعان سے سارے اہل خانہ سمیت روانہ ہو کر مصر پہنچے۔ آیت کے الفاظ ” مصر میں داخل ہوجاؤ “ سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے شہر سے باہر نکل کر عمائدین حکومت اور عوام سے مل کر اپنے والدین اور افراد خانہ کا شان و شوکت سے استقبال کیا، والدین کو خصوصاً دوسرے خیموں سے جو استقبال کے لیے لگائے گئے تھے، الگ اپنے خیمے میں رکھا اور فرمایا، اب آپ لوگ مصر میں داخل ہوجائیں۔ آپ ان شاء اللہ یہاں نہایت امن سے رہیں گے۔ قحط، غربت، دشمن، غرض کسی چیز کی فکر مت کریں۔ بعض نے لکھا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ الفاظ مصر میں داخل ہونے کے بعد کہے۔ ” اَبَوَیْهِ “ سے مراد ماں باپ ہیں، کئی مفسرین نے لکھا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی والدہ کا چھوٹے بھائی کی ولادت کے وقت انتقال ہوگیا تھا، یہ ماں یوسف (علیہ السلام) کی خالہ تھیں جن سے یعقوب (علیہ السلام) نے بعد میں نکاح کیا تھا۔ دلیل اس کی اسرائیلی روایات کے سوا کچھ نہیں، جن کی صحت کا یقین نہیں۔ البتہ بعض نے لکھا ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں اور وہی یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ مصر پہنچی تھیں۔ (معالم) ابن جریر (رض) نے اس دوسرے قول کو ترجیح دی ہے اور ابن کثیر (رض) نے اس کی تائید کی ہے اور سب سے بڑھ کر قرآن مجید کے الفاظ کا ظاہر معنی یہی ہے۔ یہاں ان مفسرین کی بات پر افسوس ہوتا ہے جو قرآن مجید کی صراحت کے بعد آزر کو باپ کے بجائے چچا اور یوسف (علیہ السلام) کی والدہ کو ان کی خالہ بتانے پر اصرار کرتے ہیں۔ صرف ان کتابوں میں پڑھ کر جن کی بات کو سچا سمجھنے سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرما دیا ہے، اگرچہ جھوٹا کہنے سے بھی منع کیا ہے، مگر ایسی ناقابل یقین بات کے ساتھ قرآن کی بات کو توڑنے مروڑنے کی کیا ضرورت ہے۔

100

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّوا۟ لَهُۥ سُجَّدًۭا ۖ وَقَالَ يَٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّۭا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌۭ لِّمَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ ۔۔ : مصر پہنچ کر جب مجلس آراستہ ہوئی تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اپنے تخت پر اونچا بٹھانے کا حکم دیا اور دوسرے تمام اہل مجلس کرسیوں یا قالینوں پر نیچے بیٹھے تھے۔ جب یوسف (علیہ السلام) مجلس میں آئے تو ساری مجلس نے جن میں ان کے والدین بھی شامل تھے، ان کی تعظیم کے لیے سجدہ کیا۔ بعض حضرات اس کا ترجمہ کرتے ہیں کہ سب لوگ جھک کر تعظیم بجا لائے، مگر ” وَخَرُّوْا “ کا لفظ اس مطلب کا ساتھ نہیں دیتا، کیونکہ ” وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا “ کا معنی ہے ” اور وہ اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گرپڑے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ پہلی امتوں میں تعظیم کے لیے سجدہ جائز تھا، جس میں مسجود کو اللہ کے کسی اختیار میں شریک نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ہاں عبادت کا سجدہ ہمیشہ غیر اللہ کے لیے حرام رہا ہے اور وہ ایسا سجدہ ہے کہ کسی کو غیبی علم اور قوت و اقتدار اور نفع نقصان کا مالک سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کے ساتھ شرک ہے، اس مقصد کے لیے قیام اور سینے پر ہاتھ باندھنا بھی شرک ہے۔ ایک سجدہ جبراً کروایا جاتا ہے، وہ نہ عبادت ہے نہ تعظیم، وہ مجبوری ہے۔ پہلی امتوں میں تعظیم کے لیے سجدہ جائز تھا، جیسا کہ فرشتوں کا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ اور بردران یوسف اور ان کے والدین کا یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ تھا۔ یہ رواج عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت تک جاری رہا۔ ہماری امت میں شرک کے ذرائع کے سدّباب کے لیے تعظیمی سجدہ بھی قیامت تک کے لیے حرام کردیا گیا اور قیام بھی، ہاں آگے بڑھ کر استقبال کرنا مسنون ہے اور وہ اس عجمی رسم میں شامل نہیں جس میں کسی کے آنے پر سب لوگ اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوجاتے ہیں، اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے۔ سجدۂ تعظیمی سے بھی صاف الفاظ میں منع فرمایا، چناچہ عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل (رض) جب شام سے آئے تو انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَا ھٰذَا یَا مُعَاُذُ ؟ قَالَ أَتَیْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِأَسَاقِفَتِھِمْْ وَبِطَارِقَتِھِمْ فَوَدِدْتُ فِيْ نَفْسِيْ أَنْ نَّفْعَلَ ذٰلِکَ بِکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَلاَ تَفْعَلُوْا، فَإِنِّيْ لَوْکُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِغَیْرِ اللّٰہِ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِھَا ) [ ابن ماجہ، النکاح، باب حق الزوج علی المرأۃ : ١٨٥٣۔ ابن حبان : ٤١٧١، و قال الألبانی حسن صحیح ] ” معاذ یہ کیا ہے ؟ “ کہا : ” میں شام گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میں نے اپنے دل میں چاہا کہ ہم آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں۔ “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم ایسا مت کرو، کیونکہ اگر میں کسی کو حکم دینے والا ہوتا کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ “ سورة حٰم السجدہ (٣٧) میں بھی اللہ کے سوا سجدہ منع کردیا گیا ہے۔ شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں : ” پہلے وقت میں سجدۂ تعظیمی تھا، فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا ہے، اس وقت اللہ نے وہ رواج موقوف کیا، فرمایا : (وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ ) [ الجن : ١٨ ] اس وقت پہلے رواج پر چلنا ویسا ہے کہ کوئی اپنی بہن سے نکاح کرے کہ آدم (علیہ السلام) کے وقت ہوا ہے۔ “ (موضح)- وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۔۔ : یوسف (علیہ السلام) نے یاد دلایا کہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو کئی سال پہلے میں نے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے سچا کردیا، محض پریشان خواب نہیں رہنے دیا۔ خواب اور اس ملاقات کے درمیان کی مدت کسی نے چالیس سال بتائی، کسی نے اسّی (٨٠) سال، ابن اسحاق نے اٹھارہ سال بتائی …

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.