Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 91–100 of 111

91

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے

Explained together with ayah 88

92

قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے

Explained together with ayah 88

93

ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًۭا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ

Explained together with ayah 88

94

وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے

Explained together with ayah 88

95

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ

وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں

Explained together with ayah 88

96

فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًۭا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

Explained together with ayah 88

97

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ

بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے

قول باری (یا ابانا استغفر لنا ذنوبنا) میں انہوں نے اپنے والد سے ان کے لئے بخشش کی دعا مانگنے کی درخواست کی ہے حالانکہ ان کی توبہ قبول ہوچکی تھی۔ اس درخواست کا جواز اس بنا پر ہے کہ مظلوم پر ڈھائے گئے ظلم کی معافی اس کی طرف سے ظالم کو معاف کردینے کے ساتھ معلق ہوتی ہے۔ نیز یہ کہ رب سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اس ظلم پر اس کا مواخذہ نہ کرے۔ یہاں اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے یہ درخواست کی ہو کہ وہ اپنی دعا کے ذریعے انہیں ان لوگوں کے درجے پر پہنچا دیں جنہوں نے کبھی کسی قسم کا جرم نہ کیا ہو۔

98

قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

قول باری ہے (سوف استغفر لکم ربی۔ میں اپنے رب سے تمہارے لئے معافی کی درخواست کروں گا) حضرت ابن مسعود (رض) ، ابراہیم التیمی، ابن جریج اور عمرو بن قیس سے مروی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کے لئے معافی کی درخواست کو صبح تک کے لئے موخر کردیا تھا اس لئے کہ وقت سحر اجابت دعا کے لئے موزوں ترین وقت ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کے مطابق حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جمعہ کی رات تک دعائے استغفار کو ملتوی کردیا تھا۔ ایک قول کے مطابق بیٹوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ اپنی دعائوں میں ہمیشہ ان کے لئے معافی کی دعا مانگتے رہیں۔ قول باری ہے (و خرولہ سجدا۔ اور سب اس کے آگے بےاختیار سجدے میں جھک گئے) کہا جاتا ہے کہ بادشاہوں کو سجدے میں جھک کر سلام کیا جاتا تھا ایک قول کے مطابق انہوں نے اللہ کا اس امر پر شکر بجا لانے کے لئے سجدہ کیا تھا کہ اس نے اپنی مہربانی اور فضل سے انہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ خوش کن ماحول میں یک جا کردیا تھا۔ اس سجدے کے ذریعے انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تعظیم بجا لانے کا ارادہ کیا تھا اس بنا پر مجاز کے طور پر سجدے کی نسبت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف کردی گئی۔ جس طرح مجازاً یہ کہا جاتا ہے۔ ” صلی للقبلۃ (اس نے قبلے کی طرف نماز پڑھی) یا صلی الی غیر القبلۃ (اس نے قبلے کی طرف نماز نہیں پڑھی) مراد اس سے قبلے کی جہت ہوتی ہے۔- حضرت یوسف کا قرآن کے الفاظ میں یہ قول (ھذا تاویل رویا ی من قبل۔ یہ تعبیر ہے میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا) یعنی خواب میں دیکھا تھا کہ سورج، چاند اور ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ اس طرح خواب میں دیکھا ہوا سجدہ حالت بیداری کا سجدہ بن گیا۔ اور سورج، چاند نیز ستارے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والدین اور آپ کے بھائی ثابت ہوئے۔

99

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ

جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا

Explained together with ayah 98

100

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّوا۟ لَهُۥ سُجَّدًۭا ۖ وَقَالَ يَٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّۭا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌۭ لِّمَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

قول باری (ورفع ابویہ علی العرش۔ اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور حضرت یعقوب نے ان کی بہن سے نکاح کرلیا تھا۔ سدی سے یہ تفسیر منقول ہے۔ حسن اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں۔ سلیمان اور عبید اللہ بن شداد سے منقول ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے وقوع پذیر ہونے کی درمیانی مدت چالیس برس تھی۔ حسن سے منقول ہے کہ یہ مدت اسی برس تھی۔ جبکہ ابن اسحاق کا قول ہے کہ یہ مدت اٹھارہ برس تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں تو پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اس بات کی تسلی کیوں حاصل نہیں کہ یوسف کا دیکھا ایک نہ ایک دن سچا ہوجائے گا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضرت یوسف نے بچپن میں یہ خواب دیکھا تھا ایک قول کے مطابق محبوب کی کافی عرصے تک نظروں سے دوری غم و حزن کی موجب ہوتی ہے۔ جس طرح کہ دوری آخرت میں یکجا ہونے کے یقین کے باوجود بھی غم کی موجب بن جاتی ہے۔

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.