Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 81–90 of 111

81

ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَٰفِظِينَ

تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے

سرقہ کے بارے میں حکم - قول باری ہے (ارجعوا الی ابیکم فقولوا یا ابانا ان ابنک سرق و ما شھدنا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین۔ تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ ” ابا جان آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) برادران یوسف نے صرف ظاہری حالت کی خبر دی۔ اس لئے کہ انہیں باطنی حالت یعنی اصل بات کا کوئی علم نہیں تھا اسی بنا پر انہوں نے کہا (وما کنا للغیب حافظین) ظاہری طور پر یہی کچھ ہوا تھا کہ شاہی پیمانہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوا تھا اس لئے بھائی ہی اس پیمانے کو چرانے والا قرار پایا، چناچہ بھائیوں نے کہا (وما شھدنا الا بما علمنا) یعنی ہمیں جو کچھ ظاہری طور پر معلوم ہوا ہم وہی بیان کر رہے ہیں۔ حقیقت حال نہیں بیان کر رہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایک چیز کے متعلق ظاہری طور پر حاصل ہونے والے معلومات پر علم کے اسم کا اطلاق جائز ہے خواہ اس چیز کی حقیقت کا علم نہ بھی ہو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (وان علمتمو من مومنات فلا ترجعوھن الی الکفار۔ اگر تم ان عورتوں کو مسلمان سمجھ لو تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ بھیجو) یہ بات تو واضح ہے کہ ہمیں ان عورتوں کے ضمائر اور ان کے دل کی باتوں کا علم نہیں ہوسکتا۔ ہمیں تو صرف ان کے ظاہری ایمان پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔ قول باری (وما کنا للغیب حافظین) کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو وہ ہے جو حسن، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس کا احساس نہیں تھا کہ تمہارا بیٹا چوری کا ارتکاب کر بیٹھے گا۔ “ دوسرا قول وہ ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں یعنی ہمیں اس چوری کے متعلق حقیقت حال کی کوئی خبر نہیں ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لئے اپنے بھائی کے سامان سے ایسی حالت میں شاہی پیمانہ برآمد کرلینا کس طرح جائز ہوگیا جو لوگوں کے نزدیک بھائی کے مہتمم ہوجانے کی موجب بن گئی حالانکہ اس کا دامن اس سے پاک تھا اور دوسری طرف اس فعل کی وجہ سے اس کے بھائی اور والد اس کے غم میں مبتلا ہوگئے ؟ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس طریق کار میں بھلائی کے کئی پہلو تھے اور یہ سب کچھ بھائی کو اپنے اعتماد میں لینے اور اسے صورت حال سے آگاہ کرنے کے بعد انہوں نے کیا تھا۔ اس اقدام کے ذریعہ انہوں نے گویا بڑے لطیف انداز میں اپنی اور اپنے بھائی کی سلامتی کا پیغام حضرت یعقوب کو پہنچا دیا تھا، نیز کسی کے لئے ان کے بھائی پر چوری کا الزام عائد کرنے کی گنجائش نہیں تھی اس لئے کہ قافلے کا معاملہ تھا جس میں یہ بات عین ممکن تھی کہ کسی نے ان کے سامان میں شاہی پیمانہ رکھ دیا ہو، جہاں تک حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے غم کا تعلق تھا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس اقدام کا حکم ہی اس لئے دیا تھا کہ دوسرے بیٹے سے محرومی کی بنا پر ان کا غم بڑھ جائے، وہ اس پر صبر کریں اور پھر دونوں بیٹوں سے محرومی کے غم پر صبر کرنے کی وجہ سے اجر عظیم کے مستحق قرار پائیں۔- حقوق برآمد کرنے پر حیلہ - اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (فلما جھزھم بجھانھم جب یوسف اپنے بھائیوں کا سامان لدوانے لگا) تاقول باری (کذلک کدنا لیوسف۔ اس طرح ہم نے یوسف کی تائید اپنی تدبیر سے کی) میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ اور بھائیوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کا جو ذکر فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ایک صباح چیز تک رسائی اور دبے ہوئے حقوق کو برآمد کرنے کے لئے حیلہ اختیار کرنا جائز ہے۔ وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تدبیر پر انہیں نہیں ٹوکا بلکہ اس کی رضامندی حضرت یوسف کے شامل حال رہی اور آخر پر فرمایا (کذلک کدنا لیوسف) اسی طرح یہ قول باری بھی ہے (وخدبیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا خشک و تر گھاس کالے لو اور اسی سے …

82

وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں

Explained together with ayah 81

83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

Explained together with ayah 81

84

وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌۭ

پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا

Explained together with ayah 81

85

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَٰلِكِينَ

بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے

Explained together with ayah 81

86

قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

Explained together with ayah 81

87

يَٰبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں

Explained together with ayah 81

88

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَٰعَةٍۢ مُّزْجَىٰةٍۢ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے

اشیاء کا ناپ تول کر، لینا دینا - قول باری (فاوف لنا الکیل۔ آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں) اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلہ ناپنے والے کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ عائد ہوگی اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خریدار کیلئے فروخت شدہ چیز کی تعیین کرے اور ناپ یعنی کیل کے بغیر اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ (فاوف لنا الکیل) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلہ ناپنے کی ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طعام یعنی خوردنی شے کو فروخت کرنے سے اس وقت تک کے لئے منع کردیا ہے جب تک یہ شے دو پیمانوں سے گزر نہ جائے یعنی فروخت کنندہ کے پیمانے سے اور پھر خریدار کے پیمانے سے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ کیل یعنی ناپنے کی ذمہ داری خریدار پر عائد ہوتی ہے اس لئے کہ آپ کی مراد وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے فروخت کنندہ نے اپنے فروخت کنندہ سے فروخت شدہ چیز ناپ کرلی تھی اور خریدار کے پیمانے سے وہ پیمانہ مراد ہے جس کے ذریعے دوسرا خریدار اپنے فروخت کنندہ سے فروخت شدہ چیز لیتا ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول (صاع البائع) کی اس پر کوئی دلالت نہیں ہے کہ فروخت کنندہ ہی ناپ کرلینے والا ہو۔ یہ جائز ہے کہ آپ نے اس سے وہ پیمانہ مراد لیا ہو جس کے ذریعے فروخت کنندہ نے اپنے فروخت کنندہ کو ناپ کردیا ہو اور آپ نے خریدار کے پیمانے سے وہ پیمانہ مراد لیا ہو جس کے ذریعے اس کی فروخت کنندہ نے فروخت شدہ چیز اسے ناپ کردی ہو۔ اس لئے حدیث میں اس امر پر کوئی دلالت نہیں ہے کہ ناپ کرلینا خریدار کے ذمہ ہوتا ہے جب کیل یعنی ناپ کے سلسلے میں ہماری یہ بات درست ہوگئی تو اس سے یہ بات بھی واجب ہوگئی کہ ثمن یعنی قیمت میں حاصل شدہ شے کو وزن کرنے والے کی اجرت خریدار کے ذمہ ہوگی۔ اس لئے کہ خریدار کی ذمہ داری ہے کہ وہ فروخت کنندہ کے لئے ثمن کی تعیین کر دے اور ثمن کا تعین وزن کے بغیر نہیں ہوسکتا اس لئے وزن کرنے کی اجرت اس پر عائد ہوگی جو شخص کھوٹے کھرے سکوں کی پرکھ کرتا ہے اس کی اجرت کے متعلق محمد بن سماع نے امام محمد سے روایت کی ہے کہ فروخت کنندہ کی طرف سے ثمن کی وصولی سے قبل پرکھ کی اجرت خریدار پر ہوگی اس لئے کہ خریدار پر ثمن کو درست حالت میں فروخت کنندہ کے حوالے کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن اگر ثمن پر فروخت کنندہ نے قبضہ کرلیا اور پھر اسے سکوں کی پرکھ کا خیال آیا تو اس صورت میں پرکھ کی اجرت فروخت کنندہ پر ہوگی اس لئے کہ اس نے ثمن پر قبضہ کر کے اس کی ملکیت حاصل کرلی اس لئے اب یہ معلوم کرنا اس کی ذمہ داری ہے کہ آیا اس میں کوئی کھوٹا سکہ تو نہیں جسے واپس کردینا ضروری ہو۔- قول باری (وتصدق علینا) کی تفسیر میں سعید بن جبیر کا قول ہے کہ برادران یوسف (علیہ السلام) نے ان سے یہ درخواست کی تھی کہ غلہ کے بھائو میں کمی کر کے انہیں اتنی رقم کے بدلے زیادہ غلہ فروخت کردیں۔ انہوں نے حضرت یوسف سے خیرات کا سوال نہیں کیا تھا۔ سفیان بن عینیہ کا قول ہے کہ انہوں نے خیرات کا سوال کیا تھا اور وہ سب چونکہ انبیاء تھے اس لئے خیرات ان کے لئے حلال تھا۔ خیرات اور صدقہ کی حرمت صرف ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے تھی۔ مجاہد نے اسے مکروہ سمجھا ہے کہ کوئی شخص اپنی دعا میں یہالفاظ کہے ” اللھم تصدق علی (اے اللہ مجھے خیرات دے) اس لئے کہ خیرات اس شخص کی طرف سے دی جاتی ہے جو ثواب کا طلبگار ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے ماورا ہے۔ قول باری ہے (قال ھل علمتم ما فعلتم بیوسف واخیہ اذانتم جاھلون۔ اس نے کہا : تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جبکہ تم نادان تھے) اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ برادران یوسف نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جب …

89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَٰهِلُونَ

(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا

Explained together with ayah 88

90

قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

Explained together with ayah 88

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.