ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَٰفِظِينَ
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
سرقہ کے بارے میں حکم - قول باری ہے (ارجعوا الی ابیکم فقولوا یا ابانا ان ابنک سرق و ما شھدنا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین۔ تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ ” ابا جان آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) برادران یوسف نے صرف ظاہری حالت کی خبر دی۔ اس لئے کہ انہیں باطنی حالت یعنی اصل بات کا کوئی علم نہیں تھا اسی بنا پر انہوں نے کہا (وما کنا للغیب حافظین) ظاہری طور پر یہی کچھ ہوا تھا کہ شاہی پیمانہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوا تھا اس لئے بھائی ہی اس پیمانے کو چرانے والا قرار پایا، چناچہ بھائیوں نے کہا (وما شھدنا الا بما علمنا) یعنی ہمیں جو کچھ ظاہری طور پر معلوم ہوا ہم وہی بیان کر رہے ہیں۔ حقیقت حال نہیں بیان کر رہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایک چیز کے متعلق ظاہری طور پر حاصل ہونے والے معلومات پر علم کے اسم کا اطلاق جائز ہے خواہ اس چیز کی حقیقت کا علم نہ بھی ہو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (وان علمتمو من مومنات فلا ترجعوھن الی الکفار۔ اگر تم ان عورتوں کو مسلمان سمجھ لو تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ بھیجو) یہ بات تو واضح ہے کہ ہمیں ان عورتوں کے ضمائر اور ان کے دل کی باتوں کا علم نہیں ہوسکتا۔ ہمیں تو صرف ان کے ظاہری ایمان پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔ قول باری (وما کنا للغیب حافظین) کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو وہ ہے جو حسن، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس کا احساس نہیں تھا کہ تمہارا بیٹا چوری کا ارتکاب کر بیٹھے گا۔ “ دوسرا قول وہ ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں یعنی ہمیں اس چوری کے متعلق حقیقت حال کی کوئی خبر نہیں ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لئے اپنے بھائی کے سامان سے ایسی حالت میں شاہی پیمانہ برآمد کرلینا کس طرح جائز ہوگیا جو لوگوں کے نزدیک بھائی کے مہتمم ہوجانے کی موجب بن گئی حالانکہ اس کا دامن اس سے پاک تھا اور دوسری طرف اس فعل کی وجہ سے اس کے بھائی اور والد اس کے غم میں مبتلا ہوگئے ؟ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس طریق کار میں بھلائی کے کئی پہلو تھے اور یہ سب کچھ بھائی کو اپنے اعتماد میں لینے اور اسے صورت حال سے آگاہ کرنے کے بعد انہوں نے کیا تھا۔ اس اقدام کے ذریعہ انہوں نے گویا بڑے لطیف انداز میں اپنی اور اپنے بھائی کی سلامتی کا پیغام حضرت یعقوب کو پہنچا دیا تھا، نیز کسی کے لئے ان کے بھائی پر چوری کا الزام عائد کرنے کی گنجائش نہیں تھی اس لئے کہ قافلے کا معاملہ تھا جس میں یہ بات عین ممکن تھی کہ کسی نے ان کے سامان میں شاہی پیمانہ رکھ دیا ہو، جہاں تک حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے غم کا تعلق تھا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس اقدام کا حکم ہی اس لئے دیا تھا کہ دوسرے بیٹے سے محرومی کی بنا پر ان کا غم بڑھ جائے، وہ اس پر صبر کریں اور پھر دونوں بیٹوں سے محرومی کے غم پر صبر کرنے کی وجہ سے اجر عظیم کے مستحق قرار پائیں۔- حقوق برآمد کرنے پر حیلہ - اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (فلما جھزھم بجھانھم جب یوسف اپنے بھائیوں کا سامان لدوانے لگا) تاقول باری (کذلک کدنا لیوسف۔ اس طرح ہم نے یوسف کی تائید اپنی تدبیر سے کی) میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ اور بھائیوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کا جو ذکر فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ایک صباح چیز تک رسائی اور دبے ہوئے حقوق کو برآمد کرنے کے لئے حیلہ اختیار کرنا جائز ہے۔ وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تدبیر پر انہیں نہیں ٹوکا بلکہ اس کی رضامندی حضرت یوسف کے شامل حال رہی اور آخر پر فرمایا (کذلک کدنا لیوسف) اسی طرح یہ قول باری بھی ہے (وخدبیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا خشک و تر گھاس کالے لو اور اسی سے …