Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 81–90 of 111

81

ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَٰفِظِينَ

تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے

اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ ۔۔ : البتہ تم واپس جا کر والد کو بتاؤ کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، اگر تم بھی واپس نہ گئے تو والد اور زیادہ پریشان ہوں گے کہ شاید تمام بیٹے ہی گرفتار ہوگئے، یا ان کا کیا بنا، اس لیے واپس جا کر انھیں حقیقت حال سے آگاہ کرو۔ - وَمَا شَهِدْنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ ہم نے بھائی کے چور ہونے کی شہادت اپنے علم ہی کے مطابق دی ہے، کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کے سامان سے پیمانہ نکلتا ہوا دیکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے عزیز مصر کو جو مسئلہ بتایا کہ چور کی یہ سزا ہے تو وہ ہم نے اپنے علم ہی کے مطابق بتایا کہ ہمارے باپ دادا کی شریعت کے مطابق اس کا یہ حکم ہے۔ - وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ : یعنی جب ہم نے آپ کو قسم کھا کر عہد دیا تھا، ہمیں غیب کا علم تو نہیں تھا کہ بھائی مصر میں جا کر چوری کرے گا، ورنہ ہم اسے اپنے ساتھ کیوں لے جاتے، یا آپ کو یہ پختہ عہد کیوں دیتے کہ اسے اپنے ساتھ ضرور واپس لائیں گے۔

82

وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں

وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا ۔۔ : اس میں انھوں نے اپنی صفائی کے لیے تین چیزیں بتائیں : 1 اس بستی (والوں) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے۔ 2 اس قافلے (والوں) سے بھی جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ 3 اور (قسم ہے کہ) بیشک ہم یقیناً سچے ہیں۔ اپنی صفائی میں اتنی شہادتیں پیش کرنے کا باعث یہ تھا کہ انھیں معلوم تھا کہ والد ہماری بات پر اعتبار نہیں کریں گے۔

83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ ۔۔ : جب بڑے بھائی کی تجویز کے مطابق باقی بھائیوں نے کنعان پہنچ کر اپنے والد یعقوب (علیہ السلام) سے یہ سب کچھ بیان کیا تو انھوں نے کہا کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اصل بات یہ نہیں بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لیے ایک کام مزین کردیا ہے، اب میرا کام صبر جمیل ہے۔ وہی لفظ منہ سے نکلا جو یوسف کو بھیڑیے کے کھائے جانے کی خبر سن کر نکلا تھا۔ اللہ اپنے بندوں خصوصاً رسولوں کو کتنا بڑا حوصلہ دیتا ہے کہ جگر ٹکڑے ٹکڑے کردینے والی خبر سن کر بھی نہ شکوہ نہ شکایت، نہ جزع فزع نہ واویلا۔ پہلے ایک بیٹے کی خبر پر بھی صبر جمیل، اب مزید دو بیٹوں کی خبر پر بھی وہی صبر جمیل۔ پہلے بھی اللہ ہی سے مدد مانگی : (وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ ) [ یوسف : ١٨ ] اب بھی اسی کے سہارے پر دل میں امید کا چراغ روشن رکھا : (عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا) امید ہے کہ اللہ ان تینوں کو میرے پاس لے آئے گا، یقیناً وہی علیم و حکیم ہے، وہ سب کچھ جانتا بھی ہے اور اس کی حکمتوں کی بھی کوئی انتہا نہیں۔ - اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹے کی سچی بات کا بھی اعتبار نہیں کیا جاتا۔ رہی یہ بات کہ یعقوب (علیہ السلام) کس طرح ان سب کی ملاقات کی امید ظاہر فرما رہے ہیں، تو ایک تو یہ کہ وہ اللہ کے نبی تھے اور دوسرے یہ کہ انھیں یوسف (علیہ السلام) کے خواب کی تعبیر سامنے آنے کا بھی یقین تھا، مگر پیارے بیٹے کی جدائی پھر لخت جگر کے حال سے بیخبر ی اور تعبیر کے ظہور کا وقت نامعلوم ہونے اور اب مزید دو بیٹوں کی گم شدگی کے پیہم صدمات اور انھیں دل ہی دل میں پی جانے کی کوشش نے یعقوب (علیہ السلام) کی طبیعت پر بہت ہی زیادہ اثر ڈالا۔

84

وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌۭ

پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا

وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰٓاَسَفٰى ۔۔ : ” يٰٓاَسَفٰى“ اصل میں یائے متکلم کے ساتھ ” یَا اَسَفِیْ “ تھا، تخفیف اور اظہار غم کے لیے یاء کو الف سے بدل دیا ہے۔ (وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ ) ” غم سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں “ یعنی آنسوؤں کے متواتر بہنے سے آنکھوں کی سیاہی پر سفیدی چھا گئی اور بینائی خراب ہوگئی۔ ” كَظِيْمٌ“ بمعنی ” مَکْظُوْمٌ“ ہے جو غم سے بھرا ہوا ہو، لیکن لوگوں سے چھپائے اور اظہار نہ کرے۔ اسی سے ہے : (وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ ) [ آل عمران : ١٣٤ ] یعنی غصے کو روک لینے والے۔ ” کَظَمَ فُلَانٌ السِّقَاءَ “ یعنی فلاں نے بھرے ہوئے مشکیزے کا منہ بند کردیا۔ یعنی یعقوب (علیہ السلام) نے جب بیٹوں کی بات سن لی اور انھیں جواب دے دیا تو ان پر غموں کا سیلاب امڈ آیا اور دل کے تمام زخم تازہ ہوگئے، چناچہ انھوں نے بیٹوں کو چھوڑا اور مجلس سے چلے گئے اور کہنے لگے : ” ہائے میرا یوسف کا غم “ اور ان کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں، مگر غم سے بھرے ہوئے ہونے کے باوجود اس کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ رہ گیا دل کا غم اور مصیبت میں رونا اور آنسو بہانا تو یہ جائز ہے اور انسان کے اختیار سے باہر ہے۔ انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا : ( إِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ إِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَ إِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا إِبْرَاہِیْمُ إِنَّا لَمَحْزُوْنُوْنَ ) [ بخاري، الجنائز، باب قول النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إنا بک لمحزونون : ١٣٠٣۔ مسلم : ٢٣١٥ ] ” بیشک آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے اور ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے جو ہمارے رب کو پسند ہو اور بیشک ہم تیری جدائی سے اے ابراہیم یقیناً غم زدہ ہیں۔ “ ہاں مصیبت کے وقت نوحہ کرنا، گریبان پھاڑنا اور منہ پر طمانچے مارنا سخت ممنوع ہے۔ - 3 اگرچہ خبر دوسرے دو بیٹوں کی آئی تھی مگر یعقوب (علیہ السلام) کے منہ سے یوسف پر غم کی شدت کے الفاظ نکلے، اس کی وجہ یہ تھی کہ زخم کے اوپر جب زخم لگے تو پہلا زخم زیادہ تکلیف دیتا ہے۔ ” وَلٰکِنْ نَکْأَ الْجُرْحِ بالْجُرْحِ أَوْجَعُ “ ” لیکن زخم کا نئے زخم سے چھل جانا زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ “

85

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَٰلِكِينَ

بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا ۔۔ : تاء قسم کے لیے ہوتی ہے، لفظ ” اللہ “ پر آتی ہے اور عموماً ایسے موقع پر قسم کے لیے آتی ہے جس میں کوئی تعجب ہو۔ ” فَتِئَ یَفْتَؤُ “ ہٹ جانا، بھول جانا۔ اس سے پہلے عموماً ” مَا “ آتا ہے اور معنی ہمیشہ رہنا، نہ بھولنا ہوتا ہے، یہاں بھی اصل ” مَا تَفْتَؤُ “ تھا ” مَا “ کو معلوم ہونے کی وجہ سے حذف کردیا ہے، یعنی تو ہمیشہ یوسف کو یاد کرتا رہے گا، اسے نہیں بھولے گا، اسے یاد کرنے سے باز نہیں آئے گا۔ بیٹوں اور پوتوں کو، باپ کی حالت زار دیکھ کر رحم آتا تھا، جب ان کا غم اس حد تک پہنچ گیا تو انھوں نے باپ سے کہا کہ اللہ کی قسم آپ یوسف کو اسی طرح ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے حتیٰ کہ گھل گھل کر مرنے کے قریب ہوجائیں گے، یا ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ گویا وہ انھیں صبر کی تلقین اور اس قدر غم پر ملامت کر رہے تھے۔

86

قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ ۔۔ :” بَثَّ یَبُثُّ “ کا لفظی معنی پھیلانا ہے، فرمایا : (وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً ) [ النساء : ١ ] ” اور ان دونوں میں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ “ ” بَثَّ الرِّیْحُ التُّرَابَ “ ” ہوا نے مٹی اڑائی۔ “ آدمی پر جب مصائب آئیں تو ان سے پیدا ہونے والے جس غم کو وہ چھپا سکے وہ حزن کہلاتا ہے اور جو چھپا نہ سکے ” بَثٌّ“ کہلاتا ہے۔ اس آیت پر شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یعنی تم کیا مجھے صبر سکھاؤ گے، بےصبر وہ ہے جو خلق کے آگے شکایت کرے خالق کی، میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھ پر آزمائش ہے، دیکھوں کس حد کو پہنچ کر بس ہو۔ “ (موضح)- حقیقت یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کے غم کا جو حال اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے وہ پڑھ اور سن کر ہی دل سخت غم زدہ ہوجاتا ہے، پھر خود ان کا کیا حال ہوگا۔ عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) کے روتے ہوئے دھاڑیں مارنے کی آواز سنی، حالانکہ میں صفوں کے آخر میں تھا، وہ یہ پڑھ رہے تھے : (اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ) [ بخاري، الأذان، باب إذا بکی - الإمام فی الصلاۃ، قبل ح : ٧١٦ ]- وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : یعنی یوسف زندہ ہیں اور ایک دن ایسا آئے گا کہ میرے اور تمہارے سجدہ کرنے کا خواب جو انھوں نے دیکھا تھا، سچا ہوگا، مجھے اس کا پورا یقین ہے اور اللہ تعالیٰ میری یہ امید بر لائے گا۔ اتنی مدت گزرنے اور اتنے غم کے باوجود جس میں یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کی امید باقی رہنا بھی ممکن نظر نہیں آتا، ان کی ملاقات کی امید رکھنا یعقوب (علیہ السلام) کے کمال ایمان کا نتیجہ ہے۔

87

يَٰبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں

يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا ۔۔ : ” بَنِیْنَ “ ” اِبْنٌ“ کی جمع ہے، یاء کی طرف مضاف ہوا تو نون گرگیا، یاء کو یائے متکلم میں ادغام کرکے آخر میں نصب دے دی۔ ” تَحَسَّسَ “ کا معنی ہے کسی چیز کو باریکی، حکمت اور صبر کے ساتھ بذریعۂ حواس تلاش کرنا۔ (الوسیط) ” من روح اللہ “ ” رَوْحٌ“ کا اصل معنی سانس لینا ہے، کہا جاتا ہے ” أَرَاحَ الإِْنْسَانُ “ ” انسان نے سانس لیا۔ “ (مفردات) مراد اللہ کی طرف سے کشادگی و رحمت ہے، گلا گھٹ جانے اور سانس بند ہونے کے بعد سانس آنے میں جو راحت ولذت ہے وہ اللہ کی رحمت کا ایک نمونہ ہے، یعنی جاؤ اور اس بھائی کے ساتھ مل کر جو وہاں رہ گیا ہے، یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کی پوری کوشش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو۔ - اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ : جو اس کی قدرت کا صحیح علم نہیں رکھتے، اس کے برعکس مومن کو خواہ کیسے ہی حوصلہ شکن اور مایوس کن حالات پیش آئیں وہ کبھی اپنے مالک کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوسی کافر کی صفت ہے، مومن کی نہیں۔ یہ نہیں کہ مایوس ہوجانے والا کافر اور مرتد ہوجاتا ہے، بلکہ جس طرح جھوٹ منافق کی ایک صفت ہے، مومن کی نہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ) [ النحل : ١٠٥ ] ” جھوٹ تو وہی لوگ باندھتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے۔ “ مگر جھوٹ سے انسان کا کفر اس کفر سے کم تر ہے جو اسے ایمان سے خارج کرکے مرتد بنا دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی رحمت سے مایوسی کافر کی ایک صفت ہے۔

88

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَٰعَةٍۢ مُّزْجَىٰةٍۢ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ ۔۔ : ” مُّزْجٰىةٍ “ ” أَزْجٰی یُزْجِیْ إِزْجَاءً “ (ناقص واوی) دفع کرنا، ہٹانا، دھکیلنا، یعنی (غلے کے لیے) ایسی قیمت جسے کوئی خوشی سے قبول نہیں کرتا۔ باپ کے حکم پر تیاری کرکے بیٹے تیسری مرتبہ مصر کے لیے روانہ ہوگئے اور عزیز مصر سے ملے، جس نے ان کے بھائی کو روک رکھا تھا۔ اسے ادب کے ساتھ لقب سے مخاطب کرکے اپنی اور اپنے گھر والوں کی خستہ حالی اور بےچارگی بیان کی کہ ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر قحط، خشک سالی، بیٹوں کی جدائی سے والد کی حالت اور کئی مصیبتوں کی وجہ سے سخت تکلیف آ پڑی ہے اور غلے کے لیے ہم صحیح قیمت کا بندوبست نہیں کرسکے، محض اتنی سی پونجی لے کر آئے ہیں جو خوشی سے کوئی قبول نہیں کرتا اور وہ نہ اس قابل ہے کہ آپ اس کے بدلے ہمیں غلہ دیں، اس لیے آپ ہم پر احسان کریں کہ اس قیمت کا جتنا غلہ بنتا ہے وہ پورا دے کر اس سے زیادہ دے دیں، یا قیمت سے چشم پوشی کرکے ایک ایک اونٹ غلہ پورا ہی دے دیں، تو یہ آپ کا ہم پر صدقہ ہوگا۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” قحط میں اسباب گھر کا بک گیا، اب کی بار اون اور پنیر اور ایسی چیزیں لائے تھے اناج خریدنے کو، یہ حال سن کر یوسف (علیہ السلام) کو رحم آیا، اپنے تئیں (اپنے آپ کو) ظاہر کیا اور سارے گھر کو بلوا لیا۔ “ (موضح)

89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَٰهِلُونَ

(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ : بھائیوں کی بےبسی و درماندگی دیکھ کر اور صدقے کے سوال پر یوسف (علیہ السلام) کا دل بھر آیا اور معاملے کو مزید طول دینے کی تاب نہ رہی اور وہ وقت آگیا جس کے متعلق کنویں میں اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی تھی کہ یہ لوگ جو کچھ اب کر رہے ہیں ایک وقت ضرور آئے گا جب تم انھیں اس کی خبر دو گے اور یہ سوچتے بھی نہ ہوں گے۔ چناچہ کچھ ناراضگی کا اظہار اور زیادہ تر ان کی غلطی کا عذر خود ہی کرتے ہوئے فرمایا، کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا، جب تم نادان تھے ؟- اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ : یعنی جو کچھ تم نے کیا اس کی وجہ تمہاری نادانی اور بےوقوفی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) بھائیوں کو ان کی حرکت یاد دلاتے ہوئے کہہ سکتے تھے : ” وَاَنْتُمْ ظَالِمُوْنَ “ کہ جب تم ظلم کر رہے تھے، مگر اس خیال سے کہ وہ شرمندہ نہ ہوں خود ہی ان کے لیے معذرت کا پہلو نکال دیا۔ یہ انتہائی مروت کا مقام ہے جس کی توقع ایک نبی ہی سے ہوسکتی ہے۔

90

قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

قَالُوْٓا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ : بھائیوں کو یہ سن کر دھچکا لگا کہ برسوں پرانی بات جو ہمارے سوا کوئی نہیں جانتا، اس اجنبی سرزمین میں جاننے والا یہ کون نکل آیا ؟ پھر ان کے نقوش پر غور کرتے ہوئے فوراً نتیجے پر پہنچ گئے کہ یہ تو ہمارا وہی ستم رسیدہ بھائی یوسف ہے، پھر حیرت، تعجب اور دہشت کے ملے جملے جذبات کے ساتھ اس بات کا سوال کیا جسے تاکید کے تین طریقوں سے یقینی بھی قرار دیا ” کیا یقیناً واقعی تو ہی یوسف ہے۔ “ ” اِنَّ “ ، لام تاکید اور ” اِنَّکَ “ کے بعد پھر ” أَنْتَ “ کے ساتھ تاکید، اتنے یقین کے باوجود سوال ہے جس میں کچھ شک بھی ہوتا ہے۔ - قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَهٰذَآ اَخِيْ : فرمایا ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ ان دو لفظوں میں یوسف (علیہ السلام) نے وہ ساری داستان دو لفظوں میں دہرا دی جو ان بھائیوں کے ہاتھوں ان پر گزری تھی، جو پوری طرح بیان میں آ بھی نہیں سکتی تھی اور یوسف (علیہ السلام) کے عفو و درگزر کے مطابق نہ اس کا موقع تھا۔- قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا : کہ مصیبت سے نجات دے کر دونوں کو ملا دیا اور اس بلند مرتبہ مقام پر پہنچا دیا جسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔- اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ : یعنی حرام کام اور نافرمانی سے بچتا رہے اور اللہ کے احکام کی پابندی اور پیش آنے والی مصیبتوں اور اللہ کی تقدیر پر صبر کرے۔- فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ : شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” جس پر تکلیف پڑے اور وہ شرع سے باہر نہ ہو اور گھبرائے نہیں تو آخر بلا (تکلیف) سے زیادہ عطا ہے۔ “ (موضح)

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.