Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 71–80 of 111

71

قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

72

قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍۢ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌۭ

وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

73

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

74

قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَٰذِبِينَ

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

75

قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

76

فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ

پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

77

۞ قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌۭ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ

(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

78

قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًۭا شَيْخًۭا كَبِيرًۭا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

79

قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَٰلِمُونَ

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

80

فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّۭا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

پس جب وہ ناامید ہو گئے اس سے تو الگ ہوئے وہ (اور لگے) باہم مشورہ کرنے، کہا ان کے بڑے نے ، کیا نہیں جانتے تم کہ بے شک تمھارے باپ نے لیا ہے تم سے پختہ وعدہ اللہ کا؟اور (کیا نہیں جانتے) اس سے پہلے جو کوتاہی کر چکے ہو تم یوسف کی بابت؟ پس ہرگز نہیں چھوڑوں گا میں تو اس زمین (مصر) کو یہاں تک کہ اجازت دے میرے لیے میرا باپ یا فیصلہ کردے اللہ میرے لیےاور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (80)(اے بھائیو!) تم واپس جاؤ طرف باپ اپنے کی اور کہو، اے ہمارے باپ! بے شک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور نہیں گواہی دی ہم نے مگر ساتھ اس چیز کے جس کاعلم تھا ہمیں اور نہیں تھے ہم غیب کے یاد رکھنے والے (81) اور پوچھ لیجیے اس بستی (والوں ) سے کہ تھے ہم اس میں اور اس قافلہ (والوں ) سے (بھی) کہ آئے ہیں ہم اس میں اور بے شک ہم ، البتہ سچے ہیں (82) یعقوب نے کہا، (حقیقت یہ نہیں )بلکہ بنا لی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے ایک بات، پس صبر ہی بہتر ہے امید ہے اللہ، یہ کہ لے آئے میرے پاس ان کو اکٹھا، بے شک وہی ہے خوب جاننے والا، خوب حکمت والا (83)

[80] جب یوسفu کے بھائی اس بارے میں مایوس ہو گئے کہ وہ ان کے بھائی کے معاملے میں نرمی اختیار کریں ۔ ﴿ خَلَصُوۡا نَجِيًّا﴾ ’’تو وہ علیحدگی میں اکٹھے ہوئے اور صلاح کرنے لگے۔‘‘ جہاں کوئی اور موجود نہ تھا انھوں نے سرگوشیوں میں ایک دوسرے سے مشورہ کیا۔ ﴿ قَالَ كَبِيۡرُهُمۡ اَلَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اَبَاكُمۡ قَدۡ اَخَذَ عَلَيۡكُمۡ مَّوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کے بڑے نے کہا، کیا تم نہیں جانتے کہ تمھارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لیا تھا‘‘ یعنی تم سے اس کی حفاظت کرنے اور ساتھ لے کر آنے کا عہد لیا تھا سوائے اس کے کہ تم کسی مصیبت میں گھر کر بے بس ہو جاؤ۔ ﴿ وَمِنۡ قَبۡلُ مَا فَرَّطۡتُّمۡ فِيۡ يُوۡسُفَ﴾’’اور اس سے پہلے تم یوسف کے بارے میں کوتاہی کر چکے ہو۔‘‘ پس تم میں دو امور اکٹھے ہوگئے ہیں ۔(۱)یوسفu کے بارے میں تمھاری گزشتہ کوتاہی۔(۲)اس کے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ نہ لانا… میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں جس کے ذریعے سے میں اپنے باپ کا سامنا کر سکوں ۔﴿ فَلَنۡ اَبۡرَحَ الۡاَرۡضَ ﴾ پس میں تو یہیں مقیم رہوں گا اور یہاں سے نہیں جاؤں گا ﴿ حَتّٰى يَاۡذَنَ لِيۡۤ اَبِيۡۤ اَوۡ يَحۡكُمَ اللّٰهُ لِيۡ﴾ ’’یہاں تک کہ حکم دے مجھ کو میرا باپ یا اللہ میری بابت فیصلہ کر دے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ میرے لیے اکیلے یا بھائی کے ساتھ آنا مقدر کر دے۔ ﴿ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

[81] پھر اس نے اپنے بھائیوں کو وصیت کی کہ انھیں اپنے باپ سے جا کر کیا کہنا ہے۔﴿ اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰۤى اَبِيۡكُمۡ فَقُوۡلُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَكَ سَرَقَ﴾ ’’اپنے باپ کے پاس جاؤ اور کہو، ابا جان، آپ کے بیٹے نے تو چوری کی‘‘ یعنی وہ چوری کے جرم میں دھر لیا گیا ہے اس کے باوجود کہ ہم نے اس کے بارے میں بھرپور کوشش کی مگر ہم اس کو ساتھ نہ لا سکے۔ صورت حال یہ ہے کہ ہم کسی ایسی چیز کی گواہی نہیں دیتے جو ہمارے سامنے نہ تھی ہم تو صرف اسی چیز کا مشاہدہ کر سکتے تھے جو ہمارے سامنے تھی کیونکہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ بادشاہ کا پیمانہ بنیامین کی خرجی سے برآمد ہوا۔ ﴿ وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حٰؔفِظِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو غیب کی بات کا دھیان نہ تھا‘‘ اگر ہمیں غیب کا علم ہوتا تو ہم اسے اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش کرتے نہ اس کو ساتھ لے جانے کے لیے اتنی کوشش کرتے اور نہ آپ کو کوئی عہد دیتے۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔

[82]﴿ وَسۡـَٔلِ﴾ ’’اور دریافت کرلیجیے۔‘‘ یعنی اگر آپ کو ہماری بات میں کوئی شک ہے۔ تو ﴿ الۡقَرۡيَةَ الَّتِيۡ كُنَّا فِيۡهَا وَالۡعِيۡرَ الَّتِيۡۤ اَقۡبَلۡنَا فِيۡهَا﴾ ’’اس بستی سے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے جس میں ہم آئے ہیں ‘‘ ہم نے جو آپ کو خبر …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.