Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 71–80 of 111

71

قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے

Explained together with ayah 70

72

قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍۢ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌۭ

وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں

47: یہ شاہی پیمانہ تھا اور بظاہر قیمتی تھا ورنہ اس کی تلاش میں اتنی محنت نہ کی جاتی۔

73

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں

Explained together with ayah 72

74

قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَٰذِبِينَ

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا

Explained together with ayah 72

75

قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں

48: یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں یہی حکم ہے کہ جو چوری کرے، اُسے گرفتار کرکے رکھ لیا جائے۔ اس طرح اﷲ تعالیٰ نے خود ان بھائیوں سے یہ بات کہلوادی کہ چور کو یہ سزا ملنی چاہئے، چنانچہ جو سزا دی گئی، وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت کے مطابق دی گئی، ورنہ بادشاہ کے قانون میں چور کی پٹائی کی جاتی تھی، اور جرمانہ عائد کیا جاتا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بھائیوں سے یہ سوال اس لئے فرمایا کہ انہیں حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت کے خلاف فیصلہ نہ کرنا پڑے، اور بھائی کو اپنے پاس رکھنے کا موقع بھی مل جائے۔

76

فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ

پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے

49: پہلے دوسرے بھائیوں کی تلاشی اس لئے شروع فرمائی تاکہ تلاشی غیر جانب دار سمجھی جائے۔

50: یہ سارے بھائی خوشی خوشی یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم نے اپنا مقصد پالیا، لیکن اُن کو یہ علم نہیں تھا کہ چلتے چلتے کیا ہونے والا ہے؟ کوئی شخص کتنے ہی بڑے علم کا دعویٰ کرتا ہو، اﷲ تعالیٰ کا علم اُس پر یقینا فائق ہے۔

77

۞ قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌۭ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ

(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے

51: ان کا مطلب یہ تھا کہ بنیامین کے بھائی یعنی حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی ایک مرتبہ چوری کی تھی۔ یہ اِلزام اِنہوں نے کیوں لگایا؟ اِس کی وجہ قرآنِ کریم نے بیان نہیں فرمائی، لیکن بعض روایات میں اس کی وجہ یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی والدہ اُن کے بچپن ہی میں وفات پا گئی تھیں۔ اور اِن کی پھوپھی نے ان کی پرورِش کی، کیونکہ بچپن کے بالکل ابتدائی دور میں بچے کی دیکھ بھال کے لئے کسی عورت کی ضرورت تھی، لیکن جب وہ ذرا بڑے ہوئے تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اُنہیں اپنے پاس رکھنا چاہا۔ پھوپی اس عرصے میں حضرت یوسف علیہ السلام سے اتنی محبت کرنے لگی تھیں کہ ان سے ان کی جدائی برداشت نہیں ہورہی تھی، اس لئے اُنہوں نے یہ تدبیر کی کہ اپنا ایک پٹکا اُن کی کمر سے باندھ کر یہ مشہور کردیا کہ وہ چوری ہوگیا ہے۔ بعد میں جب وہ پٹکا حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس سے بر آمد ہوا تو حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت کے مطابق اُنہیں یہ حق مل گیا کہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے پاس رکھ لیں۔ چنانچہ جب تک وہ پھوپھی زندہ رہیں، اس وقت تک حضرت یوسف علیہ السلام ان کے پاس رہے۔ ان کی وفات کے بعد یعقوب علیہ السلام کے پاس آئے۔ یہ واقعہ اُن کے بھائیوں کو معلوم تھا، اور وہ جانتے تھے کہ درحقیقت پٹکا انہوں نے چوری نہیں کیا تھا، مگر چونکہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے مخالف تھے، اس لئے اُنہوں نے اس موقع پر چوری کا اِلزام بھی ان پر لگا دیا۔ (ابنِ کثیر وغیرہ) ۔ یہ واقعہ اِس صورت میں دُرست ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی والدہ کے بارے میں ان روایات کو صحیح قرار دیا جائے جن کی رُو سے اِن کا انتقال ہوچکا تھا، اور جن روایتوں میں یہ مذکورہ ہے کہ وہ زندہ تھیں، ان کے لحاظ سے چوری کے اِلزم کی یہ توجیہ ممکن نہیں ہے۔ بہر صورت یہ بات واضح ہے کہ الزام غلط تھا۔

52: یعنی اس چوری کے معاملے میں جس کا اِلزام تم مجھ پر لگا رہے ہو، تمہاری حالت کہیں زیادہ بُری ہے، کیونکہ تم نے خود مجھے میرے باپ سے چُرا کر کنویں میں ڈال دیا تھا۔

78

قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًۭا شَيْخًۭا كَبِيرًۭا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں

Explained together with ayah 77

79

قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَٰلِمُونَ

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں

Explained together with ayah 77

80

فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّۭا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

Explained together with ayah 77

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.