قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ
وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے
اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)
[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔
[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔
[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …