Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 71–80 of 111

71

قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے

Explained together with ayah 59

72

قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍۢ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌۭ

وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں

قول باری ہے (ولمن جاء بہ حمل بغیر وانا بہ زعیم (شاہی کارندوں کے جمعدار نے کہا) جو شخص یہ پیمانہ لا کر دے گا اس کے لئے ایک بارشتہ انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں) یحییٰ بن یمان سے مروی ہے، انہوں نے یزید بن زریع سے روایت کی ہے اور انہوں نے عطا خراسانی سے کہ زعیم کے معنی کفیل کے ہیں یعنی ذمہ اٹھانے والا، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ کسی انسان کے بارے میں کفالت تھی حالانکہ بات یہ نہیں ہے اس لئے کہ اعلان کرنے والے نے پیمانہ شاہی ڈھونڈھ نکالنے والے کے لئے ایک بارشتہ کی اجرت مقرر کی تھی اور اس امر کو اپنے اس قول سے موکد بنادیا تھا کہ میں اس کا زعیم یعنی ضامن ہوں۔ جس طرح شاعر کا یہ قول ہے۔؎ - والی زعیم ان رجعت مسلما یسیریری منہ الفرافق اندورا - اگر میں صحیح سالم واپس آگیا تو پھر ایسی تیز رفتاری سے واپس ہونے کی ضمانت دیتا ہوں جس سے شیر کی آمد کی خبر دینے والا جانور یعنی گیدڑ بھی عاجز اور درماندہ ہے۔- یعنی میں اس بات کا ضامن ہوں۔ اس قائل نے کسی انسان کی کوئی ذمہ داری نہیں اٹھائی بلکہ اس نے صرف شاہی پیمانہ کو برآمد کرنے والے کے لئے اجرت دلانے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہی چیز اس مسئلے کے جواز کے لئے اصل اور بنیاد ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے ” اس سامان کو جو شخص فلاں مقام تک لے جائے گا اسے ایک درہم ملے گا “ تو یہ کہنا جائز ہے۔ یہ اجارے کی ایک جائز صورت ہوگی اگرچہ اس میں کسی خاص شخص کو اجارہ پر حاصل کرنے کی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔- اجارہ کا حکم - امام محمد بن الحسن نے ’ سیر کبیر ‘ میں کہا ہے کہ اگر امیر شکریہ اعلان کرے : ” جو شخص ان جانوروں کو فلاں مقام تک ہانک کرلے جائے گا یا اس سامان کو فلاں جگہ پہنچا دے گا اسے اتنا دیا جائے گا، “ تو اس کا یہ اعلان جائز ہوگا اور جو شخص یہ کام سرانجام دے گا وہ اجر اور معاوضہ کا مستحق ہوجائے گا۔ آیت زیر بحث میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کا یہی مفہوم ہے۔ ہشام نے امام محمد سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ جس شخص کے قبضے میں کسی شخص کا مکان ہو جس میں اس کی رہائش ہو پھر مالک مکان اس سے کہے۔ ” اگر تم آج کے بعد اس مکان میں رہو گے تو تمہیں یومیہ دس درہم ادا کرنے پڑیں گے۔ “ مالک مکان کی یہ بات جائز ہوگی اور اگر کرایہ دار اس دن کے بعد مکان میں رہائش رکھے گا تو اسے یومیہ اتنے ہی درہم کرایہ کے طور پر ادا کرنے ہوں گے۔ کرایہ دار کا اس دن کے بعد رہائش پذیر رہنا اس کی رضامندی پر دال ہوگا اور یہ اجارے کی صورت ہوگی اگرچہ اس میں باہمی گفتگو کے ذریعے معاملہ طے نہیں ہوا، آیت کی اس پر دلالت ہو رہی ہے اس لئے آیت میں یہ ذکر ہے کہ جو شخص شاہی پیمانہ برآمد کر کے پیش کرے گا اسے معاوضہ ملے گا۔ اگرچہ اعلان کرنے والے اور برآمد کرنے والے کے درمیان کوئی عقد اجارہ نہیں ہوا تھا بلکہ برآمد کرنے والے کا فعل اجارہ قبول کرنے کی علامت تھی اسی بنا پر فقہاء کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے یہ کہے۔ میں تجھے ایک درہم کے عوض اس سامان کو فلاں مقام تک پہنچانے کے لئے اجارے پرل یتا ہوں “ اگر وہ شخص اس سامان کو مقررہ مقام تک لے جائے گا تو معاوضہ کا مستحق قرار پائے گا اگرچہ اس نے اپنی زبان سے اس اجارے کو قبول کرنے کے متعلق ایک لفظ بھی نہ کہا ہو۔ اگر کہا جائے کہ آیت میں مذکورہ صورت اجارے کی صورت نہیں بن سکتی اس لئے کہ ایک بارشتہ کے بدلے اجارہ درست نہیں ہوتا اور اگر یہ اجارے کی صورت تھی تو ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں یہ منسوخ ہوچکی تھی اس لئے کہ ہماری شریعت میں معلوم و متعین اجرت کے بغیر اجارہ درست نہیں ہوتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آیت میں مذکورہ بارشتر ایک متعین معاوضہ تھا اس لئے کہ بارشتر کیل اور وزن کے تحت آنے والی چیزوں کی ایک معلوم مقدار کا اسم تھا۔ جس طرح کا رۃ (غلہ سے بھرا ہوا جہاز) وقر (بھاری بوجھ) اور وسق (ساٹھ صاع) اہل زبان کے ہاں …

73

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں

Explained together with ayah 72

74

قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَٰذِبِينَ

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا

Explained together with ayah 72

75

قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں

قول باری ہے (قالو جزاء ہ من وجد فی رحلہ فھو جزاء ہ۔ انہوں نے کہا ” اس کی سزا ؟ جس کے سامان سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے “ ) حسن، ابو اسحاق، معمر اور سدی کا قول ہے کہ اس کے ہاں یہ دستور تھا کہ وہ چور کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اس طرح ترتیب عبارت یہ ہوگی۔ اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے سامان سے وہ چیز برآمد ہوجائے گی اسے غلام بنا کر رکھ لیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک ایسے شخص کی یہی سزا ہے جس طرح تمہارے نزدیک اس کی یہی سزا ہے “ جب وہ پیمانہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوگیا تو انہوں نے شرط کے مطابق اپنے بھائی کو چوری کی سزا میں پکڑ لیا، اس پر برادران یوسف نے کہا، ” اس کی بجائے ہم میں سے کسی کو غلام بنا کر رکھ لو۔ “ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں کسی آزاد انسان کو چوری کی سزا کے طور پر غلام بنا لینا جائز تھا۔ نیز یہ بھی جائز تھا کہ ایک انسان کسی اور کی خاطر اپنے آپ کو غلامی میں دے دے۔ اس لئے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ان میں سے کسی ایک کو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کی جگہ غلام بنال یا جائے۔ ایک غلام کے متعلق جس نے چوری کی تھی روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اس قرض کے بدلے فروخت کردیا تھا جو اس پر اس وقت عائد ہوا تھا جب وہ آزاد تھا، ہوسکتا ہے کہ یہ حکم اس وقت تک ثابت تھا اور پھر ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے اس کے نسخ کا اعلان ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے تذکرے میں بیان فرمایا کہ آپ نے قحط کے سالوں میں مصر کے اندر اشیائے خوردنی کا ذخیرہ کر کے ان کی حفاظت کی اور پھر اپنی نگرانی میں ضرورت کے مطابق لوگوں میں انہیں تقسیم کراتے رہے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کے ائمہ اور خلفاء پر یہ لازم ہے کہ جب قحط سالی کی وجہ سے لوگوں کی ہلاکت کا خطرہ ہو تو وہ یہی طریق کار اختیار کریں۔

76

فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ

پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے

Explained together with ayah 75

77

۞ قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌۭ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ

(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے

Explained together with ayah 75

78

قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًۭا شَيْخًۭا كَبِيرًۭا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں

Explained together with ayah 75

79

قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَٰلِمُونَ

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں

Explained together with ayah 75

80

فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّۭا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

Explained together with ayah 75

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.