قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ
وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے
Explained together with ayah 70
سُورَةُ يُوسُفَ
Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi
Ayahs 71–80 of 111
قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ
وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے
Explained together with ayah 70
قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍۢ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌۭ
وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
Explained together with ayah 70
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ
وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں
Explained together with ayah 70
قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَٰذِبِينَ
بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
Explained together with ayah 70
قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
۵۸ ۔ خیال رہے کہ یہ بھائی خاندان ابراہیمی کے افراد تھے لہذا انہوں نے چوری کے معاملہ میں جو قانون بیان کیا وہ شریعت ابراہیمی کا قانون تھا یعنی یہ کہ چور اس شخص کی غلامی میں دے دیا جائے جس کا مال اس نے چرایا ہے ۔
فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
۵۹ ۔ یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ اس پورے سلسلہ واقعات میں وہ کون سی تدبیر ہے جو حضرت یوسف کی تائید میں براہ راست خدا کی طرف سے کی گئی؟ ظاہر ہے کہ پیالہ رکھنے کی تدبیر جو حضرت یوسف نے خود کی تھی ، یہ بھی ظاہر ہے کہ سرکاری ملازموں کا چوری کے شبہ میں قافلے والوں کو روکنا بھی حسب معمول وہ کام تھا جو ایسے مواقع پر سب سرکاری ملازم کیا کرتے ہیں ، پھر وہ خاص خدائی تدبیر کون سی ہے؟ اوپر کی آیات میں تلاش کرنے سے اس کے سوا کسی دوسری چیز کو اس کا مصداق نہیں ٹھہرایا جاسکتا کہ سرکاری ملازموں نے خلاف معمول خود مشتبہ ملزموں سے چور کی سزا پوچھی اور انہوں نے وہ سزا بتائی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے چور کو دی جاتی تھی ، اس کے دو فائدے ہوئے ۔ ایک یہ کہ حضرت یوسف کو شریعت ابراہیمی پر عمل کا موقع مل گیا ، دوسرا یہ کہ بھائی کو حوالات میں بھیجنے کے بجائے اب وہ اسے اپنے پاس رکھ سکتے تھے ۔
٦۰ ۔ یعنی یہ بات حضرت یوسف کی شان پیغمبری کے شایاں نہ تھی کہ وہ اپنے ایک ذاتی معاملہ میں شاہ مصر کے قانون پر عمل کرتے ، اپنے بھائی کو روک رکھنے کے لیے انہوں نے خود جو تدبیر کی تھی اس میں یہ خلل رہ گیا تھا کہ بھائی کو روکا تو ضرور جاسکتا تھا مگر شاہ مصر کے قانون تعزیرات سے کام لینا پڑتا ، اور یہ اس پیغمبر کی شان کے مطابق نہ تھا جس نے اختیارات حکومت غیر اسلامی قوانین کی جگہ اسلامی شریعت فانذ کرنے کے لیے اپنے ہاتھ میں لیے تھے ، اگر اللہ چاہتا تو اپنے نبی کو اس بد نما غلطی میں مبتلا ہوجانے دیتا ، مگر اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ یہ دھبہ اس کے دامن پر رہ جائے ، اس لیے اس نے براہ راست اپنی تدبیر سے یہ راہ نکال دی کہ اتفاقا برادران یوسف سے چور کی سزا پوچھ لی گئی اور انہوں نے اس کے لیے شریعت ابراہیمی کا قانون بیان کردیا ، یہ چیز اس لحاظ سے بالکل بر محل تھی کہ برادران یوسف مصری رعایا نہ تھے ، ایک آزاد علاقے سے آئے ہوئے لوگ تھے ، لہذا اگر وہ خود اپنے ہاں کے دستور کے مطابق اپنے آدمی کو اس شخص کی غلامی میں دینے کے لیے تیار تھے جس کامال اس نے چرایا تھا ، تو پھر مصری قانون تعزیرات سے اس معاملہ میں مدد لینے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی ، یہی وہ چیز ہے جس کو بعد کی دو آیتوں میں اللہ تعالی نے اپنے احسان اور اپنی علمی برتری سے تعبیر فرامیا ہے ، ایک بندے کے لیے اس سے بڑھ کر بلندی درجہ اور کیا ہوسکتی ہے ، اگر وہ کبھی بشری کمزوری کی بنا پر خود کسی لغزش میں مبتلا ہورہا ہو تو اللہ تعالی غیب سے اس کو بچانے کا انتظام فرما دے ۔ ایسا بلند مرتبہ صرف انہی لوگوں کو ملا کرتا ہے جو اپنی سعی و عمل سے بڑی بڑی آزمائشوں میں اپنا محسن ہونا ثابت کرچکے ہوتے ہیں ، اور اگرچہ حضرت یوسف صاحب علم تھے خود بہت دانشمندی کے ساتھ کام کرتے تھے ، مگر پھر بھی اس موقع پر ان کے علم میں ایک کسر رہ ہی گئی اور اسے اس ہستی نے پورا کیا جو ہر صاحب علم سے بالا تر ہے ۔
یہاں چند امور اور وضاحت طلب رہ جاتے ہیں جن پر ہم مختصر کلام کریں گے:
( ۱ ) عام طور پر اس آیت کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ یوسف بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو نہ پکڑ سکتا تھا ۔ یعنی مَا كَانَ لِيَاْخُذَ کو مترجمین و مفسرین عدم قدرت کے معنی میں لیتے ہیں نہ کہ عدم صحت اور عدم مناسبت کے معنی میں ، لیکن اول تو یہ ترجمہ و تفسیر عربی محاورے اور قرآنی استعمالات دونوں کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے ، کیونکہ عربی میں عموما ما کان لہ بمعنی ما ینبغی لہ ، ما صح لہ ، ما استقام لہ وغیرہ آتا ہے اور قرآن میں بھی یہ زیادہ تر اسی معنی میں آیا ہے ۔ مثلا ( آیت ) ماکان اللہ ان یتخذ من ولد ، ماکان لنا ان نشرک باللہ من شیء ، ما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ، ماکان اللہ لیضیع ایمانکم ، فما کان اللہ لیظلمھم ، ما کان اللہ لیذر المومنین علی ما انتم …
۞ قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌۭ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
٦۱ ۔ یہ انہوں نے اپنی خفت مٹانے کے لیے کہا ، پہلے کہہ چکے تھے کہ ہم لوگ چور نہیں ہیں ، اب جو دیکھا کہ مال ہمارے بھائی کی خرجی سے برآمد ہوگیا ہے تو فورا ایک جھوٹی بات بنا کر اپنے آپ کو اس بھائی سے الگ کر لیا اور اس کے ساتھ اس پہلے بھائی کو بھی لپیٹ لیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کے پیچھے بن یمین کے ساتھ ان بھائیوں کا کیا سلوک رہا ہوگا اور کس بنا پر اس کی اور حضرت یوسف کی یہ خواہش ہوگی کہ وہ ان کے ساتھ نہ جائے ۔
قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًۭا شَيْخًۭا كَبِيرًۭا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
٦۲ ۔ یہاں لفظ عزیز حضرت یوسف کے لیے جو استعمال ہوا ہے صرف اس کی بنا پر مفسرین نے قیاس کرلیا کہ حضرت یوسف اسی منصب پر مامور ہوئے تھے جس پر اس سے پہلے زلیخا کا شوہر مامور تھا پھر اس پر مزید قیاسات کی عمارت کھڑی کرلی گئی کہ سابق عزیز مرگیا تھا ، حضرت یوسف اس کی جگہ مقرر کیے گئے ، زلیخا ازسر نو معجزے کے ذریعہ سے جوان کی گئی ، اور شاہ مصر نے اس سے حضرت یوسف کا نکاح کردیا ۔ حد یہ ہے کہ شب عروسی میں حضرت یوسف اور زلیخا کے درمیان جو باتیں ہوئیں وہ تک کسی ذریعہ سے ہمارے مفسرین کو پہنچ گئیں ۔ حالانکہ یہ سب باتیں سراسر وہم ہیں ، لفظ عزیز کے متعلق ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ مصر میں کسی خاص منصب کا نام نہ تھا بلکہ محض صاحب اقتدار کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے ۔ غالبا مصر میں بڑے لوگوں کے لیے اس طرح کا کوئی لفظ اصطلاحا رائج تھا جیسے ہمارے ملک میں لفظ سرکار بولا جاتا ہے ، اسی کا ترجمہ قرآن میں عزیز کیا گیا ہے ۔ رہا زلیخا سے حضرت یوسف کا نکاح ، تو اس افسانے کی بنیاد صڑف یہ ہے کہ بائیبل اور تلمود میں فوطیفرع کی بیٹی آسناتھ سے ان کے نکاح کی روایت بیان کی گئی ہے ۔ اور زلیخا کے شوہر کا نام فوطیفار تھا ، یہ چیزیں اسرائیلی روایات سے نقل در نقل ہوتی ہوئی مفسرین تک پہنچیں اور جیسا کہ زبانی افواہوں کا قاعدہ ہے ، فوطیفرع بآسانی فوطیفار بن گیا ، بیٹی کی جگہ بیوی کو مل گئی اور بیوی لا محالہ زلیخا ہی تھی ، لہذا اس سے حضرت یوسف کا نکاح کرنے کے لیے فوطیفار کو مار دیا گیا ، اور اس طرح یوسف زلیخا کی تصنیف مکمل ہوگئی ۔
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَٰلِمُونَ
(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں
٦۳ ۔ احتیاط ملاحظہ ہو کہ چور نہیں کہتے بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ جس کے پاس ہم نے اپنا مال مایا ہے اسی کو اصطلاح شرع میں توریہ کہتے ہیں ، یعنی حقیقت پر پردہ ڈالنا ، یا امر واقعہ کو چھپانا ، جب کسی مظلوم کو ظالم سے بچانے یا کسی بڑے مظملہ کو دفع کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہ ہو کہ کچھ خلاف واقعہ بات کہی جائے یا کوئی خلاف حقیقت حیلہ کیا جائے ، تو ایسی صورت میں ایک پرہیزگار آدمی صریح جھوٹ بولنے سے احتراز کرتے ہوئے ایسی بات کہنے یا ایسی تدبیر کرنے کی کوشش کرے گا ، جس سے حقیقت کو چھپا کر بدی کو دفع کیا جاسکے ۔ ایسا کرنا شرع و اخلاق میں جائز ہے بشرطیکہ محض کام نکالنے کے لیے ایسا نہ کیا جائے بلکہ کسی بڑی برائی کو دور کرنا ہو ، اب دیکھیے کہ اس سارے معاملہ میں حضرت یوسف نے کس طرح جائز توریہ کی شرائط پوری کی ہیں ۔ بھائی کی رضا مندی سے اس کے سامان میں پیالہ رکھ دیا مگر ملازموں سے یہ نہیں کہ کہ اس پر چوری کا الزام لگاؤ ، پھر جب سرکاری ملازم چوری کے الزام میں ان لوگوں کو پکڑ لاءےتو خاموشی کے ساتھ اٹھ کر تلاشی لے لی ، پھر اب جو ان بھائیوں نے کہا کہ بن یمین کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے ، تو اس کے جواب میں بھی بس انہی کی بات ان پر الٹ دی کہ تمہارا اپنا فتویٰ یہ تھا کہ جس کے سامان میں سے تمہارا مال نکلے وہی رکھ لیا جائے ، سو اب تمہارے سامنے بن یمین کے سامان میں سے ہمارا مال نکلا ہے اور اسی کو ہم رکھ لیتے ہیں ، دوسرے کو اس کی جگہ کیسے رکھ سکتے ہیں؟ اس قسم کے توریہ کی مثالیں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں بھی ملتی ہیں اور کسی دلیل سے بھی اس کو اخلاقا معیوب نہیں کہا جاسکتا ۔
فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّۭا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
Explained together with ayah 79
Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.