Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 61–70 of 111

61

قَالُوا۟ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے

Explained together with ayah 59

62

وَقَالَ لِفِتْيَٰنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں

40: حضرت یوسف علیہ السلام نے اِن بھائیوں کے ساتھ یہ احسان فرمایا کہ غلے کو خریدنے کے لئے جو قیمت انہوں نے دی تھی، وہ واپس انہی کے سامان میں رکھوا دی۔ اُس زمانے میں سونے چاندی کے سکوں کے بجائے مختلف قسم کا سامان قیمت کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کنعان سے کچھ چمڑا اور جوتے لے کر آئے تھے، وہی انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر پیش کیا، ور اُسی کو حضرت یوسف علیہ السلام نے واپس ان کے سامان میں رکھوا دیا، یہ ظاہر بات ہے کہ انہوں نے اپنی جیب سے اتنی قیمت سرکاری خزانے میں جمع کرا دی ہوگی۔

63

فَلَمَّا رَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں

41: یعنی اگر ہم بنیامین کو ساتھ لے کر نہ گئے تو ہم میں سے کسی کو غلہ نہیں مل سکے گا۔

64

قَالَ هَلْ ءَامَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ ۖ فَٱللَّهُ خَيْرٌ حَٰفِظًۭا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

Explained together with ayah 63

65

وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَٰعَهُمْ وَجَدُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى ۖ هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍۢ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌۭ يَسِيرٌۭ

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے

Explained together with ayah 63

66

قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ

(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے

Explained together with ayah 63

67

وَقَالَ يَٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍۢ وَٰحِدٍۢ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍۢ مُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

42: یہ تاکید حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس خیال سے فرمائی کہ یہ گیارہ کے گیارہ بھائی جو سب ماشا اللہ قد آور اور حسین و جمیل تھے جب ایک ساتھ شہر میں داخل ہوں گے، تو کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔

43۔ نظرِ بد سے بچنے کی تدبیر بتانے کے ساتھ ساتھ حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ اِنسان کی کسی تدبیر میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہوتا ہے اﷲ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے ہوتا ہے، وہ چاہتا ہے تو اِنسان کی تدبیر میں اثر پیدا فرما دیتا ہے، اور چاہتا ہے تو وہ بے اثر ہوجاتی ہے۔ لہٰذا ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سی تدبیر تو ضرور کرے، لیکن بھروسہ اُس تدبیر کے بجائے اﷲ تعالیٰ ہی پر رکھے۔

68

وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةًۭ فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا ۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍۢ لِّمَا عَلَّمْنَٰهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

44: یعنی بہت سے لوگ یا تو اپنی ظاہری تدبیروں کو ہی موثر حقیق سمجھ بیٹھتے ہیں، یا ان پر اتنا بھروسہ کرلیتے ہیں کہ انہیں کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ جب تک اللہ تعالیٰ ان تدبیروں میں تاثیر پیدا نہ فرمائیں ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایسے نہیں تھے۔ انہوں نے جب اپنے صاحبزادوں کو نظر بد سے بچنے کی تدبیر بتائی تو ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ یہ محض ایک تدبیر ہے لیکن نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے چنانچہ ان کی یہ تدبیر نظر بد سے حفاظت کی حد تک تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کام آئی لیکن اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے یہ بھائی ایک اور مشکل میں گرفتار ہوئے جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

69

وَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا

45: روایات میں مذکور ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک کمرے میں ٹھہرایا تھا اس طرح پانچ کمروں میں دس بھائی مقیم ہوگئے بنیامین رہ گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میرے ساتھ رہیں گے اس طرح انہیں اپنے سگے بھائی کے ساتھ تنہائی کا موقع مل گیا جس میں ان کو بتا دیا کہ میں تمہارا سگا بھائی ہوں۔ بنیامین اس موقع پر کہا کہ اب میں ان بھائیوں کے ساتھ واپس جانا نہیں چاہتا۔ اس کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وہ تدبیر اختیار کی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

70

فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَٰرِقُونَ

جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو

46: یہاں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود اپنی طرف سے پیالہ ان کے سامان میں رکھنے کے بعد اتنے و ثوق کے ساتھ ان کو چور قرار دینا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ اس کے جواب میں بعض حضرات نے تو یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے پیالہ خفیہ طور پر رکھوایا تھا، اور جب عملے کے لوگوں کو پیالہ نہ ملا تو اُنہوں نے اپنی طرف سے اِن لوگوں کو چور قرار دیا، حضرت یوسف علیہ السلام کے حکم سے نہیں۔ لیکن جس سیاق میں قرآنِ کریم نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے، اس میں یہ احتمال بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ِان کو چور قرار دینا ایک توریہ تھا، اور ان کو چور اس معنیٰ میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بچپن میں اپنے والد سے چُرا لیا تھا۔ تیسرے بعض مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ یہ تدبیر چونکہ خود اﷲ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو سکھائی تھی جیسا کہ آگے آیت 76 میں اﷲ تعالیٰ خود فرمایا کہ ’’اس طرح ہم نے یوسف کی خاطر یہ تدبیر کی‘‘ اس لئے جو کچھ ہوا وہ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ اور جس طرح سورۂ کہف میں حضرت خضر علیہ السلام نے کئی کام بظاہر شریعت کے خلاف کئے، لیکن وہ اﷲ تعالیٰ کے تکوینی حکم سے تھے، اس لئے ان کے لئے جائز تھے۔ اسی طرح یہاں حضرت یوسف علیہ السلام نے جو عمل کیا، وہ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے کیا، اس لئے ان پر کوئی اِشکال نہیں ہونا چاہئے۔

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.