Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 61–70 of 111

61

قَالُوا۟ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔

[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ …

62

وَقَالَ لِفِتْيَٰنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔

[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ …

63

فَلَمَّا رَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔

[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ …

64

قَالَ هَلْ ءَامَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ ۖ فَٱللَّهُ خَيْرٌ حَٰفِظًۭا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔

[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ …

65

وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَٰعَهُمْ وَجَدُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى ۖ هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍۢ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌۭ يَسِيرٌۭ

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔

[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ …

66

قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ

(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔

[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ …

67

وَقَالَ يَٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍۢ وَٰحِدٍۢ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍۢ مُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔

[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ …

68

وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةًۭ فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا ۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍۢ لِّمَا عَلَّمْنَٰهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔

[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ …

69

وَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

70

فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَٰرِقُونَ

جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.