قَالُوا۟ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے
قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ ۔۔ : یعنی ہم اس کے باپ کو ہر طرح سے آمادہ کریں گے۔ ” سین “ مستقبل کا معنی دینے کے علاوہ تاکید کے لیے بھی آتا ہے، اس لیے ترجمہ ” ضرور “ کیا گیا ہے۔ ” وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ “ میں یہ کام کرنے کا وعدہ تین طرح کی تاکید سے کیا ہے، ” اِنَّ “ ، لام تاکید اور جملہ اسمیہ سے۔