Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 61–70 of 111

61

قَالُوا۟ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے

سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو عزت و احترام سے بٹھایا اور ان کو اس طرح سبق پڑھانا شروع کیا۔

ولما جھزھم ۔۔۔۔۔ من ابیکم (12 : 59) “ پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروادیا تو چلتے وقت ان سے کہا “ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے لانا ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بےتکلف ہوگئے تھے ، اس طرح انہوں نے عزیز مصر کو بتا دیا کہ وہ کون ہیں اور یہ کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہے جسے ہمارا باپ اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ نہیں آیا۔ جب ان لوگوں کا سامان تیار ہوگیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ وہ تمہارے اس بھائی سے ملنا چاہتے ہیں۔ تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں خریداروں کو ٹھیک ٹھیک حق دیتا ہوں ، اگر تمہارا بھائی آجائے تو اس کا حصہ بھی ادا کردوں گا۔ اور دوسروں کی طرح تمہاری قدرو منزلت کروں گا۔

الا ترون انی ۔۔۔۔۔۔۔ ولا تقربون (12 : 59- 60) “ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح نہ بھر کردیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں۔ اگر تم اسے نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ نہیں ہے۔ بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ”۔

ان کو تو معلوم تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے بعد یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کو ہر وقت ساتھ رکھتے تھے اس لئے انہوں نے کہہ دیا کہ اسے لانا ان کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان کے باپ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں ، بہرحال وہ کوشش کریں گے کہ وہ دوسری بار ان کے ساتھ آجائے۔

قالوا سنراودعنہ اباہ وانا لفعلون (12 : 61) “ انہوں نے کہا “ ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہوجائیں ، اور ہم ایسا ضرور کریں گے ”۔ (نرادو ) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کام کے لئے انہیں بہت ہی سعی کرنی ہوگی۔

یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ملازمین کو حکم دے دیا کہ جو در ثمن یا سامان وہ غلے کے مبادلے میں لائے تھے وہ بھی انہیں ان کے بارے میں رکھ کو لوٹا دیا جائے ، ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ نقدی ہو یا کوئی صحرا دی قیمتی غلات ہوں یا چمڑے اور دوسری چیزیں مثلاً اون وغیرہ جو شہروں میں اچھی قیمت پر بکتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ جب یہ اپنے بار کھولیں گے تو یہ اپنی چیزیں دیکھ کر حیران رہ جائیں گے اور پہچان لیں گے کہ یہ تو ان کی اشیاء ہیں۔

62

وَقَالَ لِفِتْيَٰنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں

وقال لفتینہ اجعلوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (12 : 62) “ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ “ ان لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو ”۔ یہ یوسف (علیہ السلام) نے اس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اس فیاضی پر احسان مند ہوں گے ) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں ”۔

63

فَلَمَّا رَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں

اب حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر میں رہ جاتے ہیں اور کنعان میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور برادران یوسف (علیہ السلام) منظر پر ہیں۔ ان کی واپسی کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔

آیت نمبر 63 تا 66

معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ سیدھے باپ کے سلام کو حاضر ہوئے۔ سامان کھولنے سے بھی پہلے انہوں نے باپ کو یہ بتانا ضروری خیال کیا کہ ہمارے بارے میں تو فیصلہ کردیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے چھوٹے بھائی کو عزیر مصر کے سامنے پیش نہ کریں گے ہمیں مزید کوئی غلہ نہ دیا جائے گا۔ چناچہ پہنچتے ہی انہوں نے باپ سے مطالبہ شروع کردیا کہ چھوٹے بھائی کو ساتھ بھیجیں تا کہ ایک اونٹ بار غلہ بھی مل جائے اور وہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں۔

فلما رجعوا الی ۔۔۔۔۔۔ لحفظون (12 : 63) “ جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا “ اباجان ، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے ، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تا کہ ہم غلہ لے کر آئیں ۔ اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں ”۔ اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خفیہ خدشات سامنے آجاتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بھی انہوں نے ایسا ہی پختہ عہد کیا تھا۔ چناچہ آپ اپنے درد کا اظہار کردیتے ہیں۔

64

قَالَ هَلْ ءَامَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ ۖ فَٱللَّهُ خَيْرٌ حَٰفِظًۭا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

قال ھل ۔۔۔۔۔۔ من قبل (12 : 64) “ باپ نے جواب دیا “ کیا میں اس کے معاملے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملہ کرچکا ہوں ؟ ” چھوڑو ، یہ جھوٹے وعدے اور اپنے پاس رکھو اپنی حفاظت ، میں اللہ کی حفاظت اور اللہ کی رحمت کا طالب ہوں۔ صرف وہی حفاظت کرنے والا ہے۔

فاللہ خیر حفظا وھو ارحم الرحمن (12 : 64) “ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ”۔ جانوروں کو سنبھالنے اور سفر سے سستانے کے بعد جب انہوں نے اپنے سامانوں کو کھولا تا کہ لائے ہوئے غلے کو ٹھکانے لگائیں ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا وہ پورا سامان انہیں واپس کردیا گیا ہے جو وہ غلہ خریدنے کے لئے لے گئے تھے اور ان کے غلے کے ساتھ خود ان کا اپنا سامان دے دیا گیا۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں گندم دینے کے ساتھ خود ان کا سامان بھی ان کے باروں میں رکھ دیا ، تو جب سامان کھولا تو انہوں نے اپنا سامان پایا۔ اس لئے انہوں نے کہا اے باپ ہم سے گندم روک لی گئی اور یہ اس لیے کیا گیا تا کہ وہ مجبور ہوجائیں اور بھائی کو لے کر جائیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جو سبق دینا چاہتے تھے یہ اس کا ایک حصہ تھے۔ انہوں نے اپنے سامان کی واپسی کو اس بات کے لئے بطور دلیل پیش کیا کہ وہ بھائی کو ساتھ لے جانے کے مطالبے میں زیادتی نہیں کر رہے اور نہ ظلم کر رہے ہیں۔

65

وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَٰعَهُمْ وَجَدُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى ۖ هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍۢ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌۭ يَسِيرٌۭ

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے

ولما فتحوا متاعھم۔۔۔۔۔۔۔۔ کیل یسیر ۔ (12 : 65) “ پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے “ ابان جان ، اور ہمیں کیا چاہئے ، دیکھئے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے۔ اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل عیال کے لئے رسد لے کر آئیں گے ، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بار شتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے ، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا ”۔

ان کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ صرف خاندان کا بھلا چاہتے ہیں ، جب خاندان کے لئے ہم زاد راہ کی تلاش میں جا رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ بھائی کی حفاظت کریں گے۔ بھائی کی وجہ سے ایک بار شتر غلہ اور زیادہ مل جائے گا۔ جب بھائی ساتھ ہوگا تو اس کا حصہ رسدی لازماً ملے گا۔

ان کی اس بات سے کہ ہم ایک بار شتر غلہ زیادہ لائیں گے ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہر شخص کو ایک بار شتر غلہ دیتے تھے۔ کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہ تھی کہ وہ جس قدر غلہ چاہے لے جائے۔ کیونکہ خشک سالی کے دور میں کنڑول کرنے میں حکمت تھا تا کہ سب کو تھوڑا تھوڑا غلہ ملتا رہے۔

66

قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ

(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے مجبور ہو کر ان کے اس مطالبے کو تسلیم کیا لیکن ایک شرط لگا دی اور بہت ہی کڑی شرط۔

قال لن ارسلہ۔۔۔۔۔۔ یحاط بکم (12 : 66) ان کے باپ نے کہا “ میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا۔ جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو ۔۔۔ نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم گھیر ہی لیے جاؤ ”۔

یعنی تم اللہ کی قسم اٹھا کر یہ یقین دلاؤ گے کہ تم اسے لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم سب کے سب گھیر لیے جاؤ اور تمہارے نکل آنے کی کوئی تدبیر نہ رہے اور ایسے حالات ہوں کہ تم بےبس ہوجاؤ۔

فلما اتوہ موثقھم ۔۔۔۔۔۔ وکیل (12 : 66) “ جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے ۔۔۔۔ دے دئیے تو اس نے کہا ، “ دیکھو ، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے ”۔ یعنی نہایت تاکید کے طور پر اور بات کو پختہ کرنے کے لئے اور زیادہ نصیحت اور خدا خوفی کے لئے خدا کو شاہد کردیا۔ اس تاکید مزید کے بعد اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کو زیادہ نصیحت کرتے ہیں کہ مصر کی مملکت میں داخلے کے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرو۔

67

وَقَالَ يَٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍۢ وَٰحِدٍۢ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍۢ مُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

آیت نمبر 67

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (ان الحکم الا للہ ) اس پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس بات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے تقدیری اور جبری احکام اس کائنات میں اس طرح رواں اور دواں ہیں کہ ان کے اندر کوئی انغکاک ممکن نہیں ہے۔ کوئی تخلف نہیں ہے۔ ان احکام سے کوئی مغر نہیں ہے۔ اور امنت باللہ میں والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ کا یہی مطلب ہے۔

اللہ کے تکوینی اور تقدیری احکام اس دنیا میں لوگوں پر نافذ ہوتے ہیں اور ان کا اجراء خود لوگوں کی مرضی اور ارادے پر موقوف نہیں ہے۔ ان جبری اور تقدیری احکام الہیہ کے ساتھ ساتھ ایسے الٰہی احکام بھی ہوتے ہیں جو انسانوں کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں۔ اور یہ شرعی احکام ہیں جو قرآن اور سنت میں امرو نہی صادر نہیں کرسکتا۔ ان احکام کا حکم بھی تقدیری اور تکوینی احکام کی طرح ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شرعی احکام میں لوگ مختار ہیں ، ان کو نافذ کریں یا نہ کریں ، اور اسی پر دنیا اور آخرت میں ان کی زندگی کے اعمال پر نتائج اور احکام مرتب ہوتے ہیں اور ہوں گے۔ اور سزا اور جزاء کا فیصلہ ہوگا۔ لیکن لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک وہ اللہ کے شرعی احکام کو بھی اپنی پوری زندگیوں میں نافذ نہ کریں۔

68

وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةًۭ فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا ۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍۢ لِّمَا عَلَّمْنَٰهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

غرض اب یہ قافلہ چلتا ہے اور وہ اپنے والد کی وصیت پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

آیت نمبر 68

ترجمہ : سوال یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو یہ وصیت کیوں فرمائی۔ اس موقعہ پر ان کے باپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ متفرق ابواب سے داخل ہونا۔

روایات اور تفاسیر نے اس سلسلے میں دور دراز کی باتیں کی ہیں جبکہ ان کی سرے سے ضرورت ہی نہ تھی۔ بعض مفسرین نے تو ایسی باتیں بھی لکھی ہیں جو سیاق قرآن کے خلاف ہیں۔ قرآن کریم اگر اس کا کوئی سبب بنانا چاہتا تو ضرور بتا دیتا لیکن قرآن مجید نے تو صرف اس قدر کہا۔

الا حاجۃ فی نفس یعقوب قضھا (12 : 68) “ یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کی انہوں نے اپنی سی کوشش کی ”۔ لہٰذ مفسرین کو چاہئے تھا کہ بس وہ اسی بات پر توقف کرتے جو قرآن کریم نے کہہ دی۔ اور اپنی رائے کو اس ماحول اور فضا تک محدود کرتے جس میں یہ وصیت کی گئی اور جس ماحول میں یہ بات ہو رہی تھی اس میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات رکھتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ متفرق دروازوں سے غیر محسوس طور پر داخل ہوگئے تو جس خطرے کے بارے میں وہ سوچتے تھے وہ شاید ٹل جاتا لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہہ دیا کہ میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا۔ حکم اس کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ صرف اسی پر بھروسہ ہونا چاہئے۔ البتہ ان کے دل میں ایک کھٹک تھی اور ان کا وجدان کسی خطرے کو محسوس کر رہا تھا اور اس کا فیصلہ انہوں نے اس وصیت کے ذریعے کیا ۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ اللہ کا ارادہ نافذ ہونے والا ہے اور یہ بات ان کو اللہ نے سمجھائی تھی اور یہ ان کے پیغمبرانہ علم میں تھی۔

ولکن اکثر الناس لا یعلمون (12 : 68) “ مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ”۔ اب اس کا حقیقی سبب کیا تھا ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ان کو حاسدوں کی آنکھوں سے بچانا چاہتے تھے یا یہ بات بھی ہو سکتی تھی کہ اگر وہ جتھے کی شکل میں جاتے تو مصر کی مملکت اپنے لئے اس کو سیکورٹی کا مسئلہ بنا لیتی۔ یا ان کو اس کی شان و شوکت سے داخل ہونے سے غیرت آجاتی۔ یا یہ کہ ان کو کوئی ڈاکو نہ سمجھے یا جو بھی ہو ، یہاں اس کی وضاحت وصراحت سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہاں ایک قاری اور مفسر کو یہ نقصان ضرور ہوتا کہ وہ اصل قرآنی موضوع اور غرض وغایت سے ذرا ہٹ کر ان اسباب پر کلام کرتا اور قال و قیل کا سلسلہ چل نکلتا۔ اس قسم کے قال و قیل پر مشتمل مباحث بسا اوقات بحث کو خالص قرآنی فضا اور موضوع سے دور لے جاتے ہیں۔

69

وَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا

مناسب یہ ہے کہ ہم اس وصیت اور اس سفر کو اسی طرح لکھیں جس طرح قرآن کریم نے اسے لیا ہے۔ اب برادران یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ اگلے منظر میں ہم یوں ملتے ہیں :

آیت نمبر 69

اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے حقیقی بھائی کی ملاقات جلدی سے کرا دی جاتی ہے۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کسی تمہید کے بغیر بھائی کو اطلاع دے دیتے ہیں کہ میں تمہارا بھائی یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ مشورہ بھی ان کو دیتے ہیں کہ دوسرے بھائیوں نے ان کے ساتھ اس سے قبل جو سلوک کیا اس کو بھول جائیں۔ ماضی کی پریشان کن یادیں بہرحال کسی شخص کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں اور وہ چونکہ کنعان میں اسی خاندان میں رہتے تھے جن میں یہ واقعات رونما ہوئے تھے تو لازماً یہ ان کے لئے ہر وقت پریشان کن تھے اور تکلیف دہ تھے۔

سیاق کلام نے کیوں اس بات کو پہلے بیان کردیا ؟ حالانکہ قدرتی امر یہ ہے کہ برادران کے درمیان یہ مکالمہ عین اس وقت نہ ہوا ہوگا جب یہ وفد حضرت یوسف (علیہ السلام) حاکم مصر سے ملا ہوگا ، بلکہ یہ اس وقت ہوا ہوگا جب یوسف (علیہ السلام) اور ان کے جھوٹے بھائی تنہا ہوئے ہوں گے۔ ہاں جب یہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ملے ہوں گے اور انہوں نے اس طویل جدائی کے بعد اپنے بھائی کو دیکھا ہوگا تو ان کے دل میں یہ خیال سب سے پہلے آگیا ہوگا کہ میں بھائی کو یہ اطلاع کردوں۔

یہ چونکہ پہلا خیال تھا اس لئے اس منظر میں اسے خیال یوسف (علیہ السلام) کی شکل میں دے دیا گیا اور یہ قرآن کریم کا ایک نہایت ہی لطیف اور خوبصورت اسلوب بیان ہے اور اس سے لطف اندوز وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو کلام کی فنی باریکیوں کو جانتے ہیں۔

اس منظر میں بھی بعض واقعات کے بیان کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے کاٹ دیا جاتا ہے۔ مثلاً برادران یوسف (علیہ السلام) کی مہمانداری اور اس دوران ان کے درمیان ہونے والی گفتگو ، اور برادران یوسف (علیہ السلام) کی روانگی کا منظر لے لیا جاتا ہے۔ اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو اپنے ہاں روکنے کے لئے ایک خاص تدبیر کرتے ہیں تا کہ ان کے بھائیوں کو سبق دیا جائے بلکہ بہت سے سبق دئیے جائیں جو ان کے لئے ضروری تھے اور قیامت تک آنے والے لوگ بھی اس سے عبرت لیتے ہیں۔ چناچہ اس تدبیر کو ابدی کتاب کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

70

فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَٰرِقُونَ

جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو

آیت نمبر 70 تا 78

یہ ایک نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔ اس میں متنوع حرکات ، تاثرات ، سر پر ائز شامل ہیں۔ جیسا کہ کوئی نہایت ہی موثر ، جذباتی اور زندگی سے بھر پور کوئی ڈرامائی منظر ہو سکتا ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ قرآن کریم زندہ اور حقیقی واقعات کو نہایت ہی موثر انداز میں بیان کرتا ہے۔

پس پردہ حرکت یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پیمانے یا پیالے کو ان کے سامان میں رکھوا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے یہ پیالہ بیک وقت پینے کے کام بھی آتا تھا اور غلہ ماپنے کا پیمانہ بھی تھا ۔ اس دور میں گندم کو سونے کے پیمانے میں ناپنا تعجب انگیز امر نہیں ہے کیونکہ اس قحط کے دور میں سونے کے مقابلے میں گندم کی اہمیت زیادہ تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) پس منظر میں اس پیالے کو اپنے بھائی کے بار میں رکھوا رہے ہیں تا کہ اللہ کی ہدایات کے مطابق اس تدبیر اے بھائی کو پکڑا جاسکے۔ تفصیلات ابھی آرہی ہیں۔

اب جبکہ یہ قافلہ بار لدوا کر واپس عازم کنعان ہوچکا تو ایک منادی نمودار ہوتا ہے اور وہ اعلان عام کی شکل میں آواز دیتا ہے اور یہ اعلان پورے قافلے کے لئے ہے۔

ایتھا العیر انکم لسرقون (12 : 70) “ اے قافلے والو ! تم لوگ چور ہو ”۔ برادران یوسف ڈر سے کانپ اٹھتے ہیں کیونکہ چوری کا الزام پورے قافلے پر لگ چکا ہے۔ ان کے لئے اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ وہ حضرت یعقوب علی السلام ، ابن اسحاق ابن ابراہیم (علیہم السلام) کے بیٹے ہیں۔ یہ لوگ اپنے جانور اور بار واپس کرلیتے ہیں تا کہ اس الزام کی تحقیقات کی جاسکے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.