Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 51–60 of 111

51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍۢ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٰٔنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے

اب یہ فرستادہ واپس ہوتا ہے ، رپورٹ دیتا ہے ، لیکن قرآن کریم کی درمیانی کڑیاں انسانی تخیل پر چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقاتی مجلس کا منظر :

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا تمہارا کیا تجربہ ہے اس وقت کا جب تم نے یوسف کو رجھانے کی کوشش کی تھی ؟

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کے گھر کیا ہوتا رہا ؟ پھر عورتوں نے اپنی مجلس میں جو گفتگو کی وہ پہلے ریکارڈ ہوچکی ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کسی قوم پر خوشحالی آتی ہے تو اس کے اعلی طبقات کی عورتوں میں اس قسم کی اخلاقی گراوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ اگرچہ ان کا ماحول پسماندہ ہو زیر بحث جاہلیت تو قدیم تاریخ کی جاہلیت ہے لیکن جاہلیت جس دور میں بھی ہو ، وہ جاہلیت ہوتی ہے اور ہر جگہ اس کے خدوخال وہی ہوتے ہیں اور اس کے خوشحال طبقات فسق و فجور میں ڈوب جاتے ہیں۔

اب شاہی دربار میں منعقد ہونے والی تحقیقاتی مجلس میں ان عورتوں کے لیے مقام نہ تھا کہ وہ کوئی اور جھوٹ تصنیف کریں۔

قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوء : سب نے یک زبان ہوکر کہا " حاشا للہ " ہم نے تو اس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا۔

یہ حقیقت تھی ، اب ان کے لیے مشکل تھا۔ یہ عورتیں نہایت ہی بدکار اور بےباک تھیں مگر معاملہ اس قدر واضح تھا کہ انکار کی کوئی صورت نہ رہی تھی۔

اب وہ عورت سامنے آتی ہے جو یوسف کی محبت میں گرفتار تھی۔ جو ان سے مایوس ہوگئی تھی لیکن وہ ان کے ساتھ وابستگی کو کاٹ نہ سکی تھی۔ یہ عورت سامنے آتی ہے اور صراحت کے ساتھ اقرار جرم کرتی ہے اور یوسف کی پاکی کی بشارت دیتی ہے۔

قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : عزیز کی بیوی بول اٹھی اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی وکشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے۔

اب بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ سچائی سامنے آگئی ہے۔ میں ہی تھی جس نے اسے ورغلانے کی کوشش کی۔

انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین : وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بےشدک وہ بالکل سچا ہے۔ اس نے جس انداز میں شہادت دی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اب بھی حضرت یوسف کی ہمدردی حاصل کرنے کی امدی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یوسف کے عقائد اور نظریات اس کے دل میں گھر کر گئے ہیں اور وہ ایمان لے آئی ہو۔ اسی لیے وہ کہتی ہے ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ : یہ اس لیے کہ عزیز مصر جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ، اللہ ان کی چالوں کو کامیابی کی راہ پر نہیں ڈالتا۔

52

ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا

اس اعتراف کو سیاق کلام میں اس طرح قلم بند کیا گیا ہے کہ اس کے پس منظر میں جذبات کا ایک طوفان نظر آتا ہے ، جس طرح اس سے قبل اس نے واضح اعتراف کیا اور نہایت ہی خوبصورت انداز میں۔

انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین " وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے "۔ یہ حضرت یوسف کی پاکدامنی اور مکمل جرات کی واضح شہادت تھی۔ یہ شہادت اس نے بڑی جرات سے دی اور اس کی کوئی پروا نہیں کی کہ اس کی ذات پر اس کے کیا اثرت پڑتے ہیں۔

کیا یہ عورت بادشاہ اور اس کے درباریوں کے ساتھ صرف سچائی کی خاطر شہادت دی ؟ ہاں ایک دوسرا مقصد اور خواہش بھی اس کے دل میں ضرور ہے۔ وہ یہ کہ یہ مومن شخص جسے اس نے جسمانی مقاصد کے لیے پھسلانے کی سعی کی تھی ، اب اس شہادت اور اقرار پر اس کا احترام کرے۔ کیونکہ جب وہ جیل میں غائب تھا تو اس کے بعد وہ ایمان لے آئی ہے۔ یہ ہے مفہوم۔

ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب " یہ کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی "

اس کے بعد اس عورت کی طرف سے حالات کو درست کرنے کی مزید کوشش کی جاتی ہے کہ یہ کہتی ہے۔

و ان اللہ لایھدی کید الخائنین " اللہ خیانت کرنے والوں کی سازشوں کو کامیاب نہیں کرتا " یعنی یہ اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے جسے حضرت یوسف پسند کرتے ہیں۔

یہ ایک قدم اور آگے بڑھتی ہے :

وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: میں کچھ اپنے نفس کی برات نہیں کرتی ، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو ، بیشک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔

یہ عورت محبت کرنے والی تھی۔ یہ اس ذات کے ساتھ جاہلیت میں بھی جاہلیت میں بھی جاہلانہ محبت کرتی تھی اور اب اسلام میں بھی اس کے ساتھ محبت کرتی ہے۔ چناچہ اس کی سر توڑ کوشش ہے کہ وہ کسی طرح حضرت یوسف سے کوئی کلمہ خیر یا توجہ ، یا خوشی حاصل کرلے۔

یہ اس قصے میں انسانی جذبات کا عنصر ہے۔ یہ محض فنکاری کی وجہ سے یہاں نہیں لایا گیا۔ محض عبرت اور نصیحت کے لیے اسے یہاں لایا گیا ہے۔ اس لیے تاکہ اس کے ذریعے نظریات و عقائد کو پھیلایا جائے اور دعوت اسلامی کو وسعت دی جائے۔ اس قصے میں جہاں جہاں انسانی جذبات ، میلانات اور انسانی تخیل و وجدان کو لایا گیا وہ نہایت ہی نرم اور محبت بھرے اور خوبصورت انداز میں لایا گیا ہے۔ ایسے انداز میں کہ تمام موثرات ، تمام واقعات ، تمام کرداروں اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہو ، اور جس ماحول کی طرف اشارہ ہو وہ قدرتی نظر آئے۔

یہاں آ کر حضرت یوسف کے زمانہ اسیری کی مشکلات ختم ہوجاتی ہیں۔ اب حضرت یوسف کو عزت و اقتدار دے کر آزمایا جائے گا۔ انسان کے لیے ہر حال آزمائش۔

یہاں یہ پاراہ اختتام کو پہنچتا ہے اور مزید واقعات اگلے پارے میں دیکھیں۔

بٹ گرام 2 نومبر 1992 ء

53

۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ ۚ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

پارہ 13 ایک نظر میں

یہ پارہ سورة یوسف کے بقیہ حصے اور سورة رعد اور سورة ابراہیم پر مشتمل ہے۔ یہ دونوں سورتیں بھی مکی ہیں۔ گویا یہ پورا پارہ مکی قرآن پر مشتمل ہے اور اس میں مکی سورتوں کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔

سورة رعد اور سورة ابراہیم پر تبصرے ہم آئندہ پر اٹھائے رکھتے ہیں۔ رہی سورة یوسف تو اس کے بقیہ حصے کے مطالعہ سے قبل امید ہے کہ قارئین گذشتہ پارے میں سورة یوسف پر کئے گئے تبصرہ کو ذہن میں رکھیں گے۔

اس پارے میں سورة یوسف کا باقی حصہ ہے اور اس کے اندر جا بجا تبصرے ہیں۔ اور آخر میں اس پوری سورة پر ایک تبصرہ ہے۔ اس حصے میں ہم قصے کے مرکزی کردار حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ذاتی زندگی اور ان کی شخصیت کے بعض نئے پہلوؤں سے متعارف ہوتے ہیں یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت اب ذرا مختلف روپ میں سامنے آتی ہے ۔ اس شخصیت کے ان بنیادی عناصر ترکیبی کے ساتھ ساتھ جن کا ذکر ہم نے اس قصے کے کرداروں کے بیان کے ضمن میں کیا ہے ، یہاں اس جدید مرحلے میں ان کی شخصیت کے کچھ نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہ شخصیت آغاز سے لے کر آخر تک ایک ہی سے خدو خال رکھتی ہے لیکن اس نئے مرحلے میں اس کی کچھ نئی خوبیاں سامنے آتی ہیں اور بظاہر یہ نئی خصوصیات کئی نظر آتی ہیں۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت اپنے نشوونما اور بات اور واقعات اور ان مشکلات کی وجہ سے جو ان کو پیش آتی رہیں اب ایک مکمل شخصیت ہے۔ شخصیت کی یہ تکمیل خالص ربانی تربیت کے تحت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک بندہ صالح بن کر سامنے آتے ہیں۔ اس بندہ کی صالح کو تیار ہی اس لئے کیا جارہا ہے کہ زمین میں اس کو تمکن حاصل ہو اور مشرق وسطیٰ کے ایک ایسے ملک میں اسے اقتدار ملے جہاں سے ہر چیز ہر طرف سپلائی جاتی ہے۔

اس شخصیت کے نئے خدو خال کیا ہیں ؟ سب سے پہلے یہ کہ ان کا تعلق باللہ بہت گہرا ہے اور وہ راضی برضا ہیں۔ وہ اللہ کے ہوگئے ہیں اور ان کو اللہ پر پورا پورا بھروسہ ہے۔ انہوں نے تمام دنیاوی اقدار کا لیا وہ اتار دیا ہے ، زمین کے تمام بندھنوں سے آزاد ہوگئے ہیں۔ وہ اس دنیا کے حکمرانوں سے بےنیاز ہیں۔ یہ دنیاوی قدریں اور یہ قوتیں اس شخصیت کے ہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ اس شخصیت نے اب صرف اللہ سے لو لگا لی ہے۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت میں یہ اوصاف اس وقت سامنے آتے ہیں جب بادشاہ مصر کے فرستادے قید خانے میں ان کے پاس آتے ہیں اور اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس موقع پر آپے سے باہر نہیں ہوجاتے۔ نہ وہ اس قید خانے کی تاریکیوں سے نکلنے اور بادشاہ وقت سے ملاقات کرنے کے لئے کسی بےتابی کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ایسے مواقع پر بےتابی اور جلد بازی کا اظہار ہو ہی جاتا ہے خصوصاً جبکہ ایک شخص قید خانے کی کوٹھڑی میں بند ہو۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کردار میں اس تبدیلی کو تب ہی سمجھا جاسکتا ہے جب ہم ذرا چند سال پیچھے ہٹ کر حالات کا معالعہ کریں۔ چند سال پیشتر خود انہوں نے اس شخص سے جو رہا ہونے والا تھا ، درخواست کی تھی کہ بادشاہ کے سامنے ان کے کیس کو پیش کریں۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس طرح اس شخصیت کی قدریں بدل گئی ہیں ، ایمان تو اپنی جگہ پہلے کی طرح موجود ہے ، لیکن اب ان کی شخصیت میں ایک طمانیت ہے ۔ وہ اب بھی اللہ کی تقدیر پر راضی ہیں اور تقدیر کے ساتھ چل رہے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ تقدیر اپنا کام کیسے کرتی ہے ۔ ان کو وہ اطمینان حاصل ہے جس کے طلبگار ان کے جد اعلیٰ تھے جنہوں نے خدا سے مطالبہ کیا تھا “ اے رب ، مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے ؟ “ تو رب تعالیٰ نے فرمایا : “ کیا تجھے یقین نہیں ہے ؟ “ لیکن انہوں نے کہا “ یقین تو ہے لیکن میں قلبی اطمینان چاہتا ہوں ”۔

یہ ہے وہ اطمینان جو ربانی تربیت نے اس بندۂ مختار کی دل میں انڈیل دیا ہے۔ ابتلاؤں سے گزار کر ، …

54

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌۭ

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو

قال اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم (12 : 55) یوسف (علیہ السلام) نے کہا “ ملک کے خزانے میرے پیرو کیجئے ، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں ”۔

آئندہ کی مہم کا خلاصہ یہ ہے کہ سات سال سرسبزی کے ہیں اور ان میں اس بات کی ضرورت ہے کہ پیداوار کے ایک ۔۔۔۔۔ بچایا جائے ، امور مملکت کو اچھے طریقے سے چلایا جائے ، مملکت کے تمام شعبوں کو درست کیا جائے اور خوشحالی کے دور میں ایسی پلاننگ کی جائے کہ بدحالی اور خشک سالی میں اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اسی لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایسی ہی صلاحیتوں کا ذکر کیا اور جو ایسے حالات کے لئے ضروری تھیں یعنی حفیظ وعلیم۔ اور مصر اور تمام علاقائی ، ممالک کے لئے یہ انتظام مفید تھا۔ اس لئے کہا انی حفیظ علیم (12 : 55) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ مطالبہ اس لئے نہ تھا کہ وہ وزارت خزانہ لے کر اپنے لئے کچھ مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ ایک صاحب رائے دانشور تھے اور انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ اس ڈیوٹی کے لئے ان سے زیادہ اور کوئی موزوں شخص نہیں ہے۔ آنے والا دور ایک عبرانی دور ہوگا کیونکہ پوری مصری قوم اور پڑوسی اقوام کے لئے غلے اور دوسری رصد کے انتظام کا عظیم مسئلہ در پیش ہوگا۔ سات اچھے سالوں میں کفایت شعاری اور سات مشکل سالوں میں سپلائی کو بحال رکھنے کا عظیم انتظام درپیش تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی ذات کے لئے کچھ طلب نہ فرماتے تھے بلکہ یہ تو وہ عظیم ذمہ داری تھی جس سے ہر ایک بھاگ رہا تھا ، کوئی شخص بھی خوشی سے غنیمت سمجھ کر اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔ ایک تو یہ کہ شاہی نظام میں گردن زدنی کا بھی خطرہ تھا ، دوسرے یہ کہ عوام الناس کو بھوک اور افلاس کی حالت میں کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب عوام بھوکے ہوں تو وہ مجنون کی طرح اہلکاروں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ یہ تمام امکانات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پیش نظر تھے۔

یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا اور مطالبہ کیا کہ “ مجھے زمین کے خزانوں پر نگراں کر دیجئے ، میں حفیظ وعلیم ہوں ”۔ کیا ان کی طرف سے یہ منصب کا مطالبہ نہیں ہے جو اسلامی نظام میں سخت معیوب ہوتا ہے ۔ جبکہ یہ تو کسی منصب پر مقرر کرنے کا صریح مطالبہ ہے ، اور حدیث میں آتا ہے (خدا کی قسم ہم اس معاملے کو اس شخص کے حوالے نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرے ) (متفق علیہ ) ۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہاں خود بتایا ہے کہ وہ حفیظ اور علیم ہیں۔ یہ ایک گونہ اعلان تزکیہ نفس ہے اور خود قرآن میں آتا ہے۔ فلا تزکوا انفسکم “ اپنی پاکی داماں کی حمایت مت کرو ”۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ انتظامی اصول حضور اکرم ﷺ کے دور میں تو نافذ ہوئے لیکن ضروری نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں بھی یہ ممنوع ہوں۔ کیونکہ تمام پیغمبروں کا اصول دین پر تو اتفاق رہا ہے لیکن انتظامی امور اور شرعی قوانین ہر ایک کے ہاں جدا تھے۔

لیکن ہم یہ سر سری جواب نہیں دیتے کیونکہ اس مسئلے کو ذرا گہرائی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے نتائج نہایت گہرے اور دور رس ہیں۔ اس کے کچھ اور پہلو اور اعتبارات ہیں ، اسے ان پہلوؤں سے وسیع تناظر میں دیکھنا ضروری ہے تا کہ ہم احکام فقیہہ کے استنباط میں اس وسیع نقطہ نظر سے مسائل کا استنباط کرسکیں اور فقہی احکام کو بھی تحریکی اندازدے سکیں۔ کیونکہ فقہی احکام ، ان کے استنباط کا طریق کار اور اصول فقہ بھی مسلمانوں کے دور جمود اور زوال میں منجمد ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کو بھی تحریکی Daynamic انداز دینا ضروری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی فقہ محض خلاء میں وجود میں نہیں آئی نہ اسے محض خلاء میں سمجھا یا نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ فقہ اسلامی کا ارتقاء ایک ارتقاء پذیر اسلامی معاشرے کے اندر ہوا ہے۔ اس معاشرے کو اپنے ارتقائی دور میں اسلامی زندگی …

55

قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌۭ

(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں

قال اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم (12 : 55) یوسف (علیہ السلام) نے کہا “ ملک کے خزانے میرے پیرو کیجئے ، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں ”۔

آئندہ کی مہم کا خلاصہ یہ ہے کہ سات سال سرسبزی کے ہیں اور ان میں اس بات کی ضرورت ہے کہ پیداوار کے ایک ۔۔۔۔۔ بچایا جائے ، امور مملکت کو اچھے طریقے سے چلایا جائے ، مملکت کے تمام شعبوں کو درست کیا جائے اور خوشحالی کے دور میں ایسی پلاننگ کی جائے کہ بدحالی اور خشک سالی میں اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اسی لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایسی ہی صلاحیتوں کا ذکر کیا اور جو ایسے حالات کے لئے ضروری تھیں یعنی حفیظ وعلیم۔ اور مصر اور تمام علاقائی ، ممالک کے لئے یہ انتظام مفید تھا۔ اس لئے کہا انی حفیظ علیم (12 : 55) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ مطالبہ اس لئے نہ تھا کہ وہ وزارت خزانہ لے کر اپنے لئے کچھ مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ ایک صاحب رائے دانشور تھے اور انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ اس ڈیوٹی کے لئے ان سے زیادہ اور کوئی موزوں شخص نہیں ہے۔ آنے والا دور ایک عبرانی دور ہوگا کیونکہ پوری مصری قوم اور پڑوسی اقوام کے لئے غلے اور دوسری رصد کے انتظام کا عظیم مسئلہ در پیش ہوگا۔ سات اچھے سالوں میں کفایت شعاری اور سات مشکل سالوں میں سپلائی کو بحال رکھنے کا عظیم انتظام درپیش تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی ذات کے لئے کچھ طلب نہ فرماتے تھے بلکہ یہ تو وہ عظیم ذمہ داری تھی جس سے ہر ایک بھاگ رہا تھا ، کوئی شخص بھی خوشی سے غنیمت سمجھ کر اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔ ایک تو یہ کہ شاہی نظام میں گردن زدنی کا بھی خطرہ تھا ، دوسرے یہ کہ عوام الناس کو بھوک اور افلاس کی حالت میں کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب عوام بھوکے ہوں تو وہ مجنون کی طرح اہلکاروں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ یہ تمام امکانات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پیش نظر تھے۔

یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا اور مطالبہ کیا کہ “ مجھے زمین کے خزانوں پر نگراں کر دیجئے ، میں حفیظ وعلیم ہوں ”۔ کیا ان کی طرف سے یہ منصب کا مطالبہ نہیں ہے جو اسلامی نظام میں سخت معیوب ہوتا ہے ۔ جبکہ یہ تو کسی منصب پر مقرر کرنے کا صریح مطالبہ ہے ، اور حدیث میں آتا ہے (خدا کی قسم ہم اس معاملے کو اس شخص کے حوالے نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرے ) (متفق علیہ ) ۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہاں خود بتایا ہے کہ وہ حفیظ اور علیم ہیں۔ یہ ایک گونہ اعلان تزکیہ نفس ہے اور خود قرآن میں آتا ہے۔ فلا تزکوا انفسکم “ اپنی پاکی داماں کی حمایت مت کرو ”۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ انتظامی اصول حضور اکرم ﷺ کے دور میں تو نافذ ہوئے لیکن ضروری نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں بھی یہ ممنوع ہوں۔ کیونکہ تمام پیغمبروں کا اصول دین پر تو اتفاق رہا ہے لیکن انتظامی امور اور شرعی قوانین ہر ایک کے ہاں جدا تھے۔

لیکن ہم یہ سر سری جواب نہیں دیتے کیونکہ اس مسئلے کو ذرا گہرائی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے نتائج نہایت گہرے اور دور رس ہیں۔ اس کے کچھ اور پہلو اور اعتبارات ہیں ، اسے ان پہلوؤں سے وسیع تناظر میں دیکھنا ضروری ہے تا کہ ہم احکام فقیہہ کے استنباط میں اس وسیع نقطہ نظر سے مسائل کا استنباط کرسکیں اور فقہی احکام کو بھی تحریکی اندازدے سکیں۔ کیونکہ فقہی احکام ، ان کے استنباط کا طریق کار اور اصول فقہ بھی مسلمانوں کے دور جمود اور زوال میں منجمد ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کو بھی تحریکی Daynamic انداز دینا ضروری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی فقہ محض خلاء میں وجود میں نہیں آئی نہ اسے محض خلاء میں سمجھا یا نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ فقہ اسلامی کا ارتقاء ایک ارتقاء پذیر اسلامی معاشرے کے اندر ہوا ہے۔ اس معاشرے کو اپنے ارتقائی دور میں اسلامی زندگی …

56

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے

اب ہم سیاق کلام میں اصل مضمون اور قصے کی طرف واپس ہوتے ہیں۔ یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں کہا جاتا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی درخواست منظور ہوگئی ، بلکہ ان کی جانب سے درخواست بذات خود منظوری تھی۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان لوگوں کے ہاں اب حضرت یوسف (علیہ السلام) بہت ہی عظیم المرتبہ انسان تھے۔ چناچہ جواب درخواست کی جگہ اس پر ایک تبصرہ کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے منصب کا چارج بھی لے لیا ہے۔ کہا جاتا ہے :

وکذلک مکنا لیوسف ۔۔۔۔۔۔ خیر للذین امنوا وکانوا یتقون (12 : 56 ۔ 57) “ اس طرح ہم نے اس سر زمین میں یوسف کے لئے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔ ہم اپنی رحمت سے جو کو چاہتے ہیں ، نوازتے ہیں ، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا ، اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے ”۔

“ اس طرح !” یعنی اسے غلط الزام سے بری کر کے ، بادشاہ مصر کو ان کا گرویدہ کر کے اور پھر ان کو ان کے طلب کردہ عظیم منصب پر فائز کر کے ، یوں ہم نے ان کے لئے اقتدار کی راہ ہموار کی ، ان کے قدموں کو مضبوط کردیا اور انہوں نے اس سر زمین پر ایک بلند مقام حاصل کرلیا۔ اس سر زمین پر کہ مصر ان دنوں ایک عظیم اور ترقی یافتہ ملک تھا گویا وہی ملک تھا۔ یتبوا منھا حیث یشاء (12 : 56) “ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے ”۔ جہاں چاہے چلا جائے ، جہاں چاہے رہے ، جو عہدہ چاہے لے ، ذرا اس حالت کو اس حالت کے تناظر میں دیکھو کہ وہ اندھے کنوئیں میں تھے اور ہر لمحہ جان کی پڑی تھی ، پھر ذرا اس حال سے مقابلہ کرو کہ وہ قید و بند کی سختیاں جھیل رہے تھے۔

نصیب برحمتنا من نشاء (12 : 56) “ ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں ”۔ اسے مشکلات سے نکال کر آسانیوں میں لاتے ہیں پریشانیوں کے بدلے اسے خوشیاں دیتے ہیں۔ خوف کے بدلے امن دیتے ہیں ، قید کے بدلے آزادی دیتے ہیں ، لوگوں کی نظروں میں ہلکے پن کے بدلے مقام بلند دیتے ہیں۔

ولا نضیع اجر المحسنہ (12 : 56) “ اور نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا ” ۔ جو لوگ اللہ پر پختہ ایمان رکھتے ہیں ، اس پر توکل کرتے ہیں ، اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، اس کے حوالے سے اپنے طرز عمل ، اپنے معاملات اور لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو درست کرتے ہیں۔

57

وَلَأَجْرُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے

ولا جر الاخرۃ خیر للذین امنوا وکانوا یتقون (12 : 57) “ اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے ”۔ لہٰذا ان کا بنیادی اجر بھی کم نہ ہوگا اگرچہ آخرت کا اجر دنیا کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے بشرطیکہ انسان ایمان اور تقویٰ کی راہ پر گامزن ہوجائے اور اپنی سری اور ظاہری زندگی کو خدا ترسی کی راہ پر استوار کردے۔

یوں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مشکلات دور کردیں ، انہیں زمین میں بلند مرتبہ دیا۔ آخرت میں ان کو خوشخبری دی ، صبر اور احسان کرنے والوں کی یہی مناسب جزاء ہے۔

٭٭٭

زمانے کی گاڑی چلتی رہی۔ سر سبزی و شادابی کے سات سال گزر گئے۔ قرآن کریم نے ان سات سالوں کی تفصیلات کو حذف کردیا ہے تا کہ ان سالوں میں لوگ کیا کرتے رہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سالوں میں کیا تدابیر اختیار کیں۔ ملک کا نظم و نسق کس طرح چلایا ، کیونکہ ان امور نے تو بطریق احسن چلنا ہی تھا کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا تھا۔ انی حفیظ علیم قرآن نے ملک میں قحط آنے کا تذکرہ کرنا بھی ضروری نہ سمجھا کہ ان میں لوگوں پر کیا گزری ، کس طرح خشک سالی آئی اور کس طرح گئی۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر خواب نے یہ تفصیلات گویا بتا دی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں :

ثم یاتی من بعد ذلک سبع ۔۔۔۔ ۔ مما تحصنون (12 : 48) “ اس کے بعد سات سخت آئیں گی ، یہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے جمع کر رکھا تھا ، مگر تھوڑا سا وہ جو تم نے بچایا ”۔ سیاق کلام میں اب نہ بادشاہ سامنے آتا ہے نہ کوئی اور شاہی کارندہ۔ گویا اب یوسف (علیہ السلام) ہی سب کچھ ہیں ، جو اس خوفناک دور میں پوری ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ اب اسٹیج پر صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں ۔ ہر طرف سے روشنی کی زد میں ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے اس قصے میں فنی طور پر بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

جہاں تک خشک سالی کا تعلق ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خشک سالی سینائی سے اس طرف کنعان تک پھیل گئی ہے اس لئے یہ لوگ غلے کی تلاش میں مصر تک پہنچ گئے ہیں۔ اور علاقے میں مصری حکومت ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تدابیر کے نتیجے میں ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ تمام پڑوسی ممالک کی نظریں مصر پر ہیں ، تمام ممالک کے لئے مصر اب غلہ کا گودام ہے۔ ایسے حالات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کہانی میں اب ان کے بھائی نمودار ہوتے ہیں اور اس میں فنی خصوصیات کے ساتھ ساتھ اب دینی مقاصد بھی سامنے آتے ہیں۔

58

وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ

اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے

آیت نمبر 58 تا 62

خشک سالی اور قحط نے سر زمین کنعان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ چناچہ برادران یوسف بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ عازم مصر ہوئے تھے کیونکہ مصر نے اپنے غلے کے ذخائر دوسرے ممالک کے لئے کھول دئیے تھے۔ یہ ذخائر اس نے شادابی کے زمانے میں جمع کر رکھے تھے ۔ ہمارے سامنے اب منظر یہ ہے کہ یہ لوگ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مہمان ہیں ، ایسے حالات میں کہ اپنے فرمان کو نہیں جانتے جبکہ وہ انہیں خوب جانتے ہیں۔ کیونکہ ان کے اندر کوئی زیادہ تبدیلی نہیں ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) تبدیل ہوگئے ہیں ، پھر ان کے خیال میں یہ بات آہی نہیں سکتی کہ یوسف (علیہ السلام) یہ مقام حاصل کرسکیں گے ، ایک عبرانی لڑکا جسے انہوں نے اندھے کنویں میں ڈال دیا ہے وہ یہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔ اور اس پر تقریباً بیس سال بھی گزر گئے ہیں۔ پھر وہ ہے بھی عزیز مصر کی صورت میں خصم و خشم اور نوکر شاکر اور منصب عالیہ کا رعب داب کس طرح ان کے تخیل کو اس طرف رخ کرنے دیتا ہے ؟

ادھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنا تعارف نہیں کرایا۔ وہ مناسبت سمجھتے ہیں کہ انہیں ذرا مزید سبق پڑھایا جائے۔

وجاء اخوۃ یوسف۔۔۔۔۔۔ منکرون ۔ (12 : 58)

“ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے ۔ اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے ”۔

59

وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍۢ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ

جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں

سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو عزت و احترام سے بٹھایا اور ان کو اس طرح سبق پڑھانا شروع کیا۔

ولما جھزھم ۔۔۔۔۔ من ابیکم (12 : 59) “ پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروادیا تو چلتے وقت ان سے کہا “ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے لانا ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بےتکلف ہوگئے تھے ، اس طرح انہوں نے عزیز مصر کو بتا دیا کہ وہ کون ہیں اور یہ کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہے جسے ہمارا باپ اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ نہیں آیا۔ جب ان لوگوں کا سامان تیار ہوگیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ وہ تمہارے اس بھائی سے ملنا چاہتے ہیں۔ تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں خریداروں کو ٹھیک ٹھیک حق دیتا ہوں ، اگر تمہارا بھائی آجائے تو اس کا حصہ بھی ادا کردوں گا۔ اور دوسروں کی طرح تمہاری قدرو منزلت کروں گا۔

الا ترون انی ۔۔۔۔۔۔۔ ولا تقربون (12 : 59- 60) “ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح نہ بھر کردیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں۔ اگر تم اسے نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ نہیں ہے۔ بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ”۔

ان کو تو معلوم تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے بعد یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کو ہر وقت ساتھ رکھتے تھے اس لئے انہوں نے کہہ دیا کہ اسے لانا ان کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان کے باپ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں ، بہرحال وہ کوشش کریں گے کہ وہ دوسری بار ان کے ساتھ آجائے۔

قالوا سنراودعنہ اباہ وانا لفعلون (12 : 61) “ انہوں نے کہا “ ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہوجائیں ، اور ہم ایسا ضرور کریں گے ”۔ (نرادو ) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کام کے لئے انہیں بہت ہی سعی کرنی ہوگی۔

یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ملازمین کو حکم دے دیا کہ جو در ثمن یا سامان وہ غلے کے مبادلے میں لائے تھے وہ بھی انہیں ان کے بارے میں رکھ کو لوٹا دیا جائے ، ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ نقدی ہو یا کوئی صحرا دی قیمتی غلات ہوں یا چمڑے اور دوسری چیزیں مثلاً اون وغیرہ جو شہروں میں اچھی قیمت پر بکتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ جب یہ اپنے بار کھولیں گے تو یہ اپنی چیزیں دیکھ کر حیران رہ جائیں گے اور پہچان لیں گے کہ یہ تو ان کی اشیاء ہیں۔

60

فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے

سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو عزت و احترام سے بٹھایا اور ان کو اس طرح سبق پڑھانا شروع کیا۔

ولما جھزھم ۔۔۔۔۔ من ابیکم (12 : 59) “ پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروادیا تو چلتے وقت ان سے کہا “ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے لانا ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بےتکلف ہوگئے تھے ، اس طرح انہوں نے عزیز مصر کو بتا دیا کہ وہ کون ہیں اور یہ کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہے جسے ہمارا باپ اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ نہیں آیا۔ جب ان لوگوں کا سامان تیار ہوگیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ وہ تمہارے اس بھائی سے ملنا چاہتے ہیں۔ تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں خریداروں کو ٹھیک ٹھیک حق دیتا ہوں ، اگر تمہارا بھائی آجائے تو اس کا حصہ بھی ادا کردوں گا۔ اور دوسروں کی طرح تمہاری قدرو منزلت کروں گا۔

الا ترون انی ۔۔۔۔۔۔۔ ولا تقربون (12 : 59- 60) “ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح نہ بھر کردیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں۔ اگر تم اسے نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ نہیں ہے۔ بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ”۔

ان کو تو معلوم تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے بعد یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کو ہر وقت ساتھ رکھتے تھے اس لئے انہوں نے کہہ دیا کہ اسے لانا ان کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان کے باپ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں ، بہرحال وہ کوشش کریں گے کہ وہ دوسری بار ان کے ساتھ آجائے۔

قالوا سنراودعنہ اباہ وانا لفعلون (12 : 61) “ انہوں نے کہا “ ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہوجائیں ، اور ہم ایسا ضرور کریں گے ”۔ (نرادو ) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کام کے لئے انہیں بہت ہی سعی کرنی ہوگی۔

یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ملازمین کو حکم دے دیا کہ جو در ثمن یا سامان وہ غلے کے مبادلے میں لائے تھے وہ بھی انہیں ان کے بارے میں رکھ کو لوٹا دیا جائے ، ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ نقدی ہو یا کوئی صحرا دی قیمتی غلات ہوں یا چمڑے اور دوسری چیزیں مثلاً اون وغیرہ جو شہروں میں اچھی قیمت پر بکتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ جب یہ اپنے بار کھولیں گے تو یہ اپنی چیزیں دیکھ کر حیران رہ جائیں گے اور پہچان لیں گے کہ یہ تو ان کی اشیاء ہیں۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.