37: جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر دی تھی، سات سال بعد پورے مصر میں سخت قحط پڑا، اور آس پاس کے علاقے بھی اسکی لپیٹ میں آگئے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے مصر کے بادشاہ کو یہ مشورہ دیا تھا کہ خوشحالی کے سات سالوں میں مسلسل غلے کا ذخیرہ کیا جائے تاکہ جب قحط کے سال آئیں تو یہ ذخیرہ لوگوں کے کام آئے، اس موقع پر آپ نہ صرف اپنے علاقے کے لوگوں کو سستے داموں غلہ فروخت کرسکیں گے بلکہ اردگرد کے دوسرے علاقوں کے لوگوں کی بھی مدد کرسکیں گے، چنانچہ اس قحط کے نتیجے میں دور دور تک غلے کی بڑی قلت ہوگئی، حضرت یعقوب (علیہ السلام) (یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد) اس پورے عرصے میں فلسطین کے علاقے کنعان ہی میں تھے جب کنعان میں بھی قحط پڑا تو انہیں اور ان کے صاحبزادوں کو پتہ چلا کہ مصر کے بادشاہ نے قحط زدہ لوگوں کے لئے راشن مقرر کر رکھا ہے اور وہاں سے مناسب قیمت پر غلہ مل سکتا ہے، اس خبر کو سن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دس باپ شریک بھائی جنہوں نے ان کو بچپن میں کنویں میں ڈالا تھا راشن لینے کیلئے مصر آئے، البتہ ان کے سگے بھائی بنیامین کو اپنے والد کے پاس چھوڑ آئے، یہاں راشن کی تقسیم کا سارا انتظام حضرت یوسف (علیہ السلام) خود کررہے تھے ؛ تاکہ سب لوگوں کو انصاف کے ساتھ راشن مل سکے، چنانچہ ان کے بھائیوں کو ان کے سامنے آنا پڑا۔
38: حضرت یوسف (علیہ السلام) توان کو اس لئے پہچان گئے کہ ان کی صورتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو توقع بھی تھی کہ وہ راشن لینے کے لئے آئیں گے، لیکن وہ بھائی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس لئے نہیں پہچان سکے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سات سال کی عمر میں دیکھا تھا اور اب وہ بہت بڑے ہوچکے تھے، اس لئے صورت میں بڑی تبدیلی آچکی تھی، اس کے علاوہ ان کہ وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ مصر کے محلات میں ہوسکتے ہیں۔