Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 51–60 of 111

51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍۢ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٰٔنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :44

ممکن ہے کہ شاہی محل میں ان تمام خواتین کو جمع کر کے یہ شہادت لی گئی ہو ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ بادشاہ نے کسی معتمد خاص کو بھیج کر فردا فردا ان سے دریافت کرایا ہو ۔

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :45

اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان شہادتوں نے کس طرح آٹھ نو سال پہلے کے واقعات کو تازہ کر دیا ہوگا ، کس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی شخصیت زمانہ قید کی طویل گمنامی سے نکل کر یکایک پھر سطح پر آگئی ہوگی ، اور کس طرح مصر کے تمام اشراف معززین ، متوسطین اور عوام تک میں آپ کا اخلاقی وقار قائم ہوگیا ہوگا ۔ اوپر بائیبل اور تلمود کے حوالہ سے یہ بات گزر چکی ہے کہ بادشاہ نے اعلان عام کر کے تمام مملکت کے دانشمندوں اور علماء اور پیروں کو جمع کیا تھا اور وہ سب اس کے خواب کا مطلب بیان کرنے سے عاجز ہو چکے تھے ۔ اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے اس کا مطلب یہ بتایا ۔ اس واقعہ کی بنا پر پہلے ہی سے سارے ملک کی نگائیں آپ کی ذات پر مرتکز ہو چکی ہونگی ۔ پھر جب بادشاہ کی طلبی پر آپ نے باہر نکلنے سے انکار کیا ہوگا تو سارے لوگ اچنبھے میں پڑ گئے ہوں گے کہ یہ عجیب قسم کا بلند حوصلہ انسان ہے جس کو آٹھ نو برس کی قید کے بعد بادشاہ وقت مہربان ہو کر بلا رہا ہے اور پھر بھی وہ بیتاب ہو کر دوڑ نہیں پڑتا ۔ پھر جب لوگوں کو معلوم ہوا ہوگا کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی رہائی قبول کرنے اور بادشاہ وقت کی ملاقات کو آنے کے لیے کیا شرط پیش کی ہے تو سب کی نگاہیں اس تحقیقات کے نتیجے پر لگ گئی ہوں گی ۔ اور جب لوگوں نے اس کا نتیجہ سنا ہوگا تو ملک کا بچہ بچہ عش عش کرتا رہ گیا ہوگا کہ کس قدر پاکیزہ سیرت کا ہے یہ انسان جس کی طہارت نفس پر آج وہی لوگ گواہی دے رہے ہیں جنہوں نے مل جل کر کل اسے جیل میں ڈالا تھا ۔ اس صورت حال پر اگر غور کیا جائے تو اچھی طرح سمجھ میں آتا ہے کہ اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے ملاقات کے موقع پر خزائن ارض کی سپردگی کا مطالبہ کیسے بے دھڑک پیش کر دیا اور بادشاہ نے اسے کیوں بے تامل قبول کر لیا ۔ اگر بات صرف اسی قدر ہوتی کہ جیل کے ایک قیدی نے بادشاہ کے ایک خواب کی تعبیر بتا دی تھی تو ظاہر ہے کہ اس پر وہ زیادہ سے زیادہ کسی انعام کا اور خلاصی پا جانے کا مستحق ہو سکتا تھا ۔ اتنی سی بات اس کے لیے تو کافی نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ بادشاہ سے کہے” خزائن ارض میرے حوالہ کرو “ اور بادشاہ کہہ دے” لیجیے ، سب کچھ حاضر ہے“ ۔

52

ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :46

یہ بات غالبا یوسف علیہ السلام نے اس وقت کہی ہوگی جب قید خانہ میں آپ کو تحقیقات کے نتیجے کی خبر دی گئی ہوگی ۔ بعض مفسرین ، جن میں ابن تیمیہ اور ابن کثیر جیسے فضلا بھی شامل ہیں ، اس فقرے کو حضرت یوسف کا نہیں بلکہ عزیز کی بیوی کے قول کا ایک حصہ قرار دیتے ہیں ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ فقرہ امرأة العزیز کے قول سے متصل آیا ہے اور بیچ میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ ” اِنَّہ لَمِنَ الصَّادِقِینَ“ پر امرأة العزیز کی بات ختم ہوگئی اور بعد کا کلام حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان سے ادا ہوا ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دو آدمیوں کے قول ایک دوسرے سے متصل واقع ہوں اور اس امر کی صراحت نہ ہو کہ یہ قول فلاں کا ہے اور یہ فلاں کا ، تو اس صورت میں لازما کوئی قرینہ ایسا ہونا چاہیے جس سے دونوں کے کلام میں فرق کیا جا سکے ، اور یہاں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے ۔ اس لیے یہی ماننا پڑے گا کہ الئن حصحص الحق سے لے کر ان ربی غفور رحیم تک پورا کلام امرأة العزیز کا ہی ہے ۔ لیکن مجھے تعجب ہے کہ ابن تیمیہ جیسے دقیقہ رس آدمی تک کی نگاہ سے یہ بات کیسے چوک گئی کہ شان کلام بجائے خود ایک بہت بڑا قرینہ ہے جس کے ہوتے کسی اور قرینہ کی ضرورت نہیں رہتی ۔ پہلا فقرہ تو بلا شبہہ امرأة العزیز کے منہ پر پھبتا ہے ، مگر کیا دوسرا فقرہ بھی اس کی حیثیت کے مطابق نطر آتا ہے؟ یہاں تو شان کلام صاف کہہ رہی ہے کہ اس کے قائل حضرت یوسف علیہ السلام ہیں نہ کہ عزیز مصر کی بیوی ۔ اس کلام میں جو نیک نفسی ، جو عالی ظرفی ، جو فروتنی اور جو خدا ترسی بول رہی ہے وہ خود گواہ ہے کہ یہ فقرہ اس زبان سے نکلا ہوا نہیں ہوسکتا جس سے ھَیتَ لَکَ نکلا تھا ۔ جس سے مَا جَزَآءُ مَن اَرَادَ بِاَھلِکَ سُوا نکلا تھا ، اور جس سے بھری محفل کے سامنے یہ تک نکل سکتا تھا کہ لَئِن لَّم یَفعَل مَآ اٰمُرُہُ لَیُسجَنَنَّ ۔ ایسا پاکیزہ فقرہ تو وہی زبان بول سکتی تھی جو اس سے پہلے مَعَا ذَاللہِ اِنَّہُ رَبِّیٓ اَحسَنَ مَثوَایَ ط کہہ چکی تھی ، جو رَبِّ السِّجنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَد عُو نَنِی اِلَیہِ کہہ چکی تھی ، جو اِلَّا تَصرِف عَنِّی کَیدَ ھُنَّ اَصبُ اِلَیھِنَّ کہہ چکی تھی ۔ ایسے پاکیزہ کلام کو یوسف صدیق کے بجائے امرأ العزیز کا کلام ماننا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کوئی قرینہ اس امر پر دلالت نہ کرے کہ اس مرحلے پر پہنچ کر اسے توبہ اور ایمان اور اصلاح نفس کی توفیق نصیب ہوگئی تھی ، اور افسوس ہے کہ ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے ۔

53

۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ ۚ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

Explained together with ayah 52

54

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌۭ

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :47

یہ بادشاہ کی طرف سے گویا ایک کھلا اشارہ تھا کہ آپ کو ہر ذمہ داری کا منصب سونپا جاسکتا ہے ۔

55

قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌۭ

(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں

Explained together with ayah 54

56

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :48

اس سے پہلے جو توضیحات گزر چکی ہیں ان کی روشنی میں دیکھا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ کوئی نوکری کی درخواست نہیں تھی جو کسی طالب جاہ نے وقت کے بادشاہ کی اشارہ پاتے ہی جھٹ سے پیش کر دی ہو ۔ درحقیقت یہ اس انقلاب کا دروازہ کھولنے کے لیے آخری ضرب تھی جو حضرت یوسف علیہ السلام کی اخلاقی طاقت سے پچھلے دس بارہ سال کے اندر نشونما پاکر ظہور کے لیے تیار ہوچکا تھا اور اب جس کا فتح باب صرف ایک ٹھونکے ہی کا محتاج تھا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام آزمائشوں کے ایک طویل سلسلے سے گزر کر آرہے تھے ۔ اور یہ آزمائشیں کسی گمنامی کے گوشے میں پیش نہیں آئی تھیں بلکہ بادشاہ سے لے کر عام شہریوں تک مصر کا بچہ بچہ ان سے واقف تھا ۔ ان آزمائشوں میں انہوں نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ امانت ، راستبازی ، حلم ، ضبط نفس ، عالی ظرفی ، ذہانت و فراست اور معاملہ فہمی میں کم از کم اپنے زمانہ کے لوگوں کے درمیان تو اپنا نظیر نہیں رکھتے ۔ ان کی شخصیت کے یہ اوصاف اس طرح کھل چکے تھے کہ کسی کو ان سے انکار کی مجال نہ رہی تھی ۔ زبانیں ان کی شہادت دے چکی تھیں ۔ دل ان سے مسخر ہو چکے تھے ۔ خود بادشاہ ان کے آگے ہتھیار ڈال چکا تھا ۔ ان کا ” حفیظ “ اور ”علیم “ ہونا اب محض ایک دعویٰ نہ تھا بلکہ ایک ثابت شدہ واقعہ تھا جس پر سب ایمان لاچکے تھے ۔ اب اگر کچھ کسر باقی تھی تو وہ صرف اتنی کہ حضرت یوسف علیہ السلام خود حکومت کے ان اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے پر رضامندی ظاہر کریں جن کے لیے بادشاہ اور اس کے اعیان سلطنت اپنی جگہ بخوبی جان چکے تھے کہ ان سے زیادہ موزوں آدمی اور کوئی نہیں ہے ۔ چنانچہ یہی وہ کسر تھی جو انہوں نے اپنے اس فقرے سے پوری کر دی ۔ ان کی زبان سے اس مطالبے کے نکلتے ہی بادشاہ اور اس کی کونسل نے جس طرح اسے بسروچشم قبول کیا وہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پھل اتنا پک چکا تھا کہ اب ٹوٹنے کے لیے ایک اشارے ہی کا منتظر تھا ۔ ( تلمود کا بیان ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو حکومت کے اختیارات سونپنے کا فیصلہ تنہا بادشاہ ہی نے نہیں کیا تھا بلکہ پوری شاہی کونسل نے بالاتفاق اس کے حق میں رائے دی تھی ) ۔

یہ اختیارات جو حضرت یوسف علیہ السلام نے مانگے اور ان کو سونپے گئے ان کی نوعیت کیا تھی؟ ناواقف لوگ یہاں ” خزائن ارض“ کے الفاظ اور آگے چل کر غلہ کی تقسیم کا ذکر دیکھ کر قیاس کرتے ہیں کہ شاید یہ افسر خزانہ ، یا افسر مال ، یا قحط کمشنر ، یا وزیر مالیات ، یا وزیر غذائیات کی قسم کا کوئی عہدہ ہوگا ۔ لیکن قرآن ، بائیبل ، اور تلمود کی متفقہ شہادت ہے کہ درحقیقت حضرت یوسف علیہ السلام سلطنت مصر کے مختار کل ( رومی اصطلاح میں ڈکٹیٹر ) بنائے گئے تھے اور ملک کا سیاہ و سپید سب کچھ ان کے اختیار میں دے دیا گیا تھا ۔ قرآن کہتا ہے کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام مصر پہنچے ہیں اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام تخت نشین تھے ( ورفع ابویہ علی العرش ) ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی اپنی زبان سے نکلا ہوا یہ فقرہ قرآن میں منقول ہے کہ” اے میرے رب ، تو نے مجھے بادشاہی عطا کی“ ( رَبَّ قداٰتَیتنی مِنَ الملک ) ۔ پیالے کی چوری کے موقع پر سرکاری ملازم حضرت یوسف علیہ السلام کے پیالے کو بادشاہ کا پیالہ کہتے ہیں ۔ اور اللہ تعالی مصر پر ان کے اقتدار کی کیفیت یہ بیان فرماتا ہے کہ ساری سرزمین مصر ان کی تھی ( یتبوأ مِنھا حیث یشآء ) ۔ رہی بائیبل تو وہ شہادت دیتی ہے کہ فرعون نے یوسف علیہ السلام سے کہا:

” سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا ……… اور تیرے حکم کے بغیر کوئی آدمی اس سارے ملک مصر میں اپنا ہاتھ یا پاؤں نہ ہلانے پائے گا ۔ اور فرعون نے یوسف علیہ السلام کا نام ضَفِنَات فَعِیحَ ( دنیا کا نجات …

57

وَلَأَجْرُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :49

یعنی اب ساری سرزمین مصر اس کی تھی ۔ اس کی ہر جگہ کو وہ اپنی جگہ کہہ سکتا تھا ۔ وہاں کوئی گوشہ بھی ایسا نہ رہا تھا جو اس سے روکا جا سکتا ہو ۔ یہ گویا اس کامل تسلط اور ہمہ گیر اقتدار کا بیان ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کو اس ملک پر حاصل تھا ۔ قدیم مفسرین بھی اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں ۔ چنانچہ ابن زید کے حوالہ سے علامہ ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ ” ہم نے یوسف علیہ السلام کو ان سب چیزوں کا مالک بنا دیا جو مصر میں تھیں ، دنیا کے اس حصے میں وہ جہاں جو کچھ چاہتا کر سکتا تھا ، وہ سرزمین اس کے حوالہ کر دی گئی تھی ، حتی کہ اگر وہ چاہتا کہ فرعون کو اپنا زیر دست کر لے اور خود اس سے بالا تر ہوجائے تو یہ بھی کر سکتا تھا “ ۔ دوسرا قول علامہ موصوف نے مجاہد کا نقل کیا ہے جو مشہور ائمہ تفسیر میں سےہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ بادشاہ مصر نے یوسف علیہ السلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا تھا ۔

58

وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ

اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :50

یہاں پھر سات آٹھ برس کے واقعات درمیان میں چھوڑ کر سلسلہ بیان اس جگہ سے جوڑ دیا گیا ہے ۔ جہاں سے بنی اسرائیل کے مصر منتقل ہونے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے گم شدہ صاحبزادے کا پتہ ملنے کی ابتداء ہوتی ہے ۔ بیچ میں جو واقعات چھوڑ دیے گئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ خواب والی پیش خبری کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام کی حکومت کے پہلے سات سال مصر میں انتہائی خوشحالی کے گزرے اور ان ایام میں انہوں نے آنے والے قحط کے لیے وہ تمام پیش بندیاں کرلیں جن کا مشورہ بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتاتے وقت وہ دے چکے تھے ۔ اس کے بعد قحط کا دور شروع ہوا اور یہ قحط صرف مصر ہی میں نہ تھا بلکہ آس پاس کے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تھے ۔ شام ، فلسطین ، شرق اردن ، شمالی عرب ، سب جگہ خشک سالی کا دور دورہ تھا ۔ ان حالات میں حضرت یوسف علیہ السلام کے دانشمندانہ انتظام کی بدولت صرف مصر ہی وہ ملک تھا جہاں قحط کے باوجود غلہ کی فراط تھی ۔ اس لیے ہمسایہ ممالک کے لوگ مجبور ہوئے کہ غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر کی طرف رجوع کریں ۔ یہی وہ موقع تھا جب فلسطین سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی غلہ خریدنے کے لیے مصر پہنچے ۔ غالبا حضرت یوسف علیہ السلام نے غلہ کی اس طرح ضابطہ بندی کی ہوگی کہ بیرونی ممالک میں خاص اجازت ناموں کے بغیر اور خاص مقدار سے زیادہ غلہ نہ جا سکتا ہوگا ۔ اس وجہ سے جب برادران یوسف علیہ السلام نے غیر ملک سے آکر غلہ حاصل کرنا چاہا ہوگا تو انہیں اس کے لیے خاص اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت پیش آئی ہوگی اور اس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے ان کی پیشی کی نوبت آئی ہوگی ۔

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :51

برادران یوسف علیہ السلام کا آپ کو نہ پہچاننا کچھ بعید از قیاس نہیں ہے ۔ جس وقت انہوں نے آپ کو کنویں میں پھینکا تھا اس وقت آپ صرف سترہ سال کے لڑکے تھے ۔ اور اب آپ کی عمر ۳۸ سال کے لگ بھگ تھی ۔ اتنی طویل مدت آدمی کو بہت کچھ بدل دیتی ہے ۔ پھر یہ تو ان کے وہم گمان میں بھی نہ تھا کہ جس بھائی کو وہ کنویں میں پھینک گئے تھے وہ آج مصر کا مختار مطلق ہوگا ۔

59

وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍۢ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ

جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں

Explained together with ayah 58

60

فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :52

اختصار بیان کی وجہ سے شاید کسی کو یہ سمجھنے میں دقت ہو کہ حضرت یوسف علیہ السلام جب اپنی شخصیت کو ان پر ظاہر نہ کرنا چاہتے تھے تو پھر ان کے سوتیلے بھائی کا ذکر کیسے آگیا اور اس کے لانے پر اس قدر اصرار کرنے کے کیا معنی تھے ، کیونکہ اس طرح تو راز فاش ہوا جاتا تھا ۔ لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے بات صاف سمجھ میں آجاتی ہے ۔ وہاں غلے کی ضابطہ بندی تھی اور ہر شخص ایک مقرر مقدار غلہ ہی لے سکتا تھا ۔ غلہ لینے کے لیے یہ دس بھائی تھے ۔ مگر وہ اپنے والد اور اپنے گیارھویں بھائی کا حصہ بھی مانگتے ہوں گے ۔ اوپر حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا ہوگا کہ تمہارے والد کے خود نہ آنے کے لیے تو یہ عذر معقول ہوسکتا ہے کہ وہ بہت بوڑھے اور نابینا ہیں ، مگر بھائی کے نہ آنے کا کیا معقول سبب ہو سکتا ہے؟ کہیں تم ایک فرضی نام سے زائد غلہ حاصل کرنے اور پھر ناجائز تجارت کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہے ہو؟ انہوں نے جواب میں اپنے گھر کے کچھ حالات بیان کیے ہوں گے اور بتایا ہوگا کہ وہ ہمارا سوتیلا بھائی ہے اور بعض وجوہ سے ہمارے والد اس کو ہمارے ساتھ بھیجنے میں تأمل کرتے ہیں ۔ تب حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ہوگا کہ خیر ، اس وقت تو ہم تمہاری زبان کا اعتبار کر کے تم کو پورا غلہ دیے دیتے ہیں ، مگر آئندہ اگر تم اس کو ساتھ نہ لائے تو تمہارا اعتبار جاتا رہے گا اور تمہیں یہاں سے کوئی غلہ نہ مل سکے گا ۔ اس حاکمانہ دھمکی کے ساتھ آپ نے ان کو اپنےاحسان اپنی مہمان نوازی سے بھی رام کرنے کی کوشش کی ، کیونکہ دل اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھنے اور گھر کے حالات معلوم کرنے کے لیے بے تاب تھا ۔ یہ معاملہ کہ ایک سادہ سی صورت ہے جو ذرا غور کرنے سے خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے ۔ اس صورت میں بائیبل کی اس مبالغہ آمیز داستان پر اعتماد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی جو کتاب پیدائش کے باب ٤۲ ۔ ٤۳ میں بڑی رنگ آمیزی کے ساتھ پیش کی گئی ہے ۔

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.