Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 51–60 of 111

51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍۢ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٰٔنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ ۔۔ : بادشاہ نے ان تمام خواتین کو طلب کرلیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران میں وہ معاملے کی پوری تحقیق کرچکا تھا اور یوسف کی بےگناہی اور عورتوں کے فریب سے آگاہ ہوچکا تھا، اس لیے اس نے یہ نہیں کہا کہ تمہارا قصور تھا یا یوسف کا، بلکہ ان سے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ جب تم نے یوسف (علیہ السلام) کو اس کے نفس سے پھسلایا تھا، تمہارے اس معاملے کی حقیقت کیا تھی ؟ یعنی آخر اس کا کیا جرم تھا جس کی وجہ سے اسے اتنی دیر قید خانے میں رکھا گیا ؟ وہ سب بیک زبان بولیں : ” اللہ کی پناہ ہم نے اس پر کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ “ ہاتھ کاٹنے والیوں نے جب یوسف (علیہ السلام) کو کسی بھی قسم کی برائی سے پاک قرار دیا تو ہاتھ نہ کاٹنے والی عزیز مصر کی بیوی کو بھی بولنا پڑا، اس نے کہا، اب تو حق بالکل ظاہر ہوگیا، میں نے ہی اسے اس کے نفس سے پھسلایا تھا اور یقیناً وہ سچوں سے ہے۔

52

ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا

ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ ۔۔ : عزیز مصر کی بیوی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں یہ اعتراف اس لیے کر رہی ہوں کہ اس کو (میرے خاوند کو) معلوم ہوجائے کہ اس کی عدم موجودگی میں میں نے فی الواقع اس کی خیانت نہیں کی اور نہ بڑی برائی واقع ہوئی ہے، ہاں، میں نے اس جو ان کو پھسلایا تھا، مگر اس نے سختی سے انکار کردیا۔ اس لیے میں اعتراف کر رہی ہوں، تاکہ اس کو معلوم ہوجائے کہ میں نے بڑی خیانت کا ارتکاب نہیں کیا اور اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا۔ ہاں، میں اپنے آپ کو بالکل بری بھی نہیں کہتی، کیونکہ نفس برائی کی خواہش کرتا اور اس پر ابھارتا ہے، سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم کرے اور اسے بچا لے، بیشک میرا رب غفور و رحیم ہے۔ جس پر میرا رب رحم کرے، مراد یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ حافظ ابن کثیر (رض) نے فرمایا : ” یہی قول زیادہ مشہور اور قصے کے سیاق اور کلام کے معنی و مفہوم کے زیادہ لائق اور مناسب ہے۔ “ ماوردی نے اپنی تفسیر میں یہی بیان کیا ہے اور علامہ ابن تیمیہ (رض) نے اسی کی تائید کی ہے اور اس پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ - بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ قول عزیز کی بیوی ہی کا ہے مگر ” لِيَعْلَمَ “ سے مراد یہ ہے کہ یوسف کو معلوم ہوجائے، جب کہ وہ قید خانے میں ہے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی، نہ اسے کسی طرح مجرم بنایا ہے، بلکہ اپنی کوتاہی کا ہی اعتراف کیا ہے۔ یہ معنی ایک لحاظ سے زیادہ قریب ہے کہ عزیز کا اس سارے سلسلۂ کلام میں ذکر ہی نہیں۔ البتہ قریب ترین شخص جس کا ذکر اس نے کیا وہ یوسف (علیہ السلام) ہیں : (اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ ) دوسرا قول یہ ہے کہ یہ کلام (ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ ) یوسف (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صرف یہی قول بیان کیا ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جب ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کے ہر برائی سے پاک ہونے کی شہادت دی اور عزیز کی بیوی نے بھی اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اس معاملے کی تحقیق تک قید خانے سے اس لیے نہیں نکلا تاکہ عزیز مصر کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی، ساتھ ہی تواضع کے طور پر فرمایا کہ میں اپنے آپ کو بالکل گناہ سے پاک نہیں کہتا، کیونکہ نفس تو یقیناً برائی پر ابھارتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے۔ ابن کثیر (رض) فرماتے ہیں : ” پہلا قول (یعنی ” الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ “ سے ” غَفُوْرْ رَّحِیْم “ تک یہ سارا کلام عزیز کی بیوی کا ہے) ہی زیادہ قوی اور ظاہر ہے، کیونکہ (ان خواتین اور) عزیز کی بیوی کی ساری گفتگو بادشاہ کی مجلس میں ہوئی ہے اور اس وقت یوسف (علیہ السلام) وہاں موجود نہیں تھے، بلکہ بادشاہ نے اس کے بعد انھیں بلوایا ہے۔ “- بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب عزیز مصر کی بیوی نے اعتراف کیا تو ایک شخص نے قید خانے میں جا کر یوسف (علیہ السلام) کو یہ بات بتائی تو انھوں نے فرمایا : (ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ ۔۔ ) مگر یہ بات ہمارے پاس نہ قرآن مجید میں ہے، نہ حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اور اگر ان دونوں کے علاوہ اس خبر کا کوئی اور ذریعہ ہے تو اس کے سچ جھوٹ معلوم ہونے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ - رہی یہ بات کہ عزیز کی بیوی رب تعالیٰ اور اس کی صفات غفور و رحیم ہونے کا ذکر کیسے کرسکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کا بادشاہ مصر کے فرعونوں سے پہلے کا ہے اور ساری سورت میں بادشاہ یا اس کے وزراء میں سے کسی کے کفر کی تصریح کہیں نہیں، ہاں عوام میں شرک موجود تھا، جیسا کہ جیل کے خواب دیکھنے والے تھے۔ عزیز مصر نے بھی اپنی بیوی کو گناہ سے استغفار کرنے کی تلقین کی تھی اور ایک …

53

۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ ۚ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۔۔ : یہ عزیز مصر کی بیوی کے کلام کا آخری حصہ ہے۔ گویا عزیز مصر کی بیوی یہ کہنا چاہتی ہے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اپنے خاوند کی کوئی بڑی خیانت نہیں کی، بیشک میں نے یوسف کو پھسلانا چاہا تھا مگر کامیاب نہ ہوسکی، ہاں میں اپنے آپ کو پاک باز قرار نہیں دیتی، مجھ سے جتنی غلطی ہوئی اس کا اقرار و اعتراف کرتی ہوں، نفس کی شرارتوں سے تو وہی محفوظ رہ سکتا ہے جس پر اللہ کی خاص رحمت ہو (مراد یوسف (علیہ السلام) ہیں) ۔- 3 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی اللہ تعالیٰ کو اور اس کی صفات غفور و رحیم کو مانتی تھی اور نیکی اور گناہ کو بھی سمجھتی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس کا قول نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ تو کافرہ تھی۔ جواب اس کا یہ ہے کہ اول تو اس کے کفر کی کوئی دلیل ہمارے سامنے نہیں اور اگر ہو بھی تو مکہ کے کافر اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے، زنا اور دوسرے قبائح کو گناہ سمجھتے تھے، پھر بھی مشرک تھے۔ آج کل بیشمار کلمہ گو آپ کو ایسے مل جائیں گے جو اللہ کو مانتے، اس سے استغفار کرتے اور گناہ کو گناہ سمجھتے ہیں، مگر پھر بھی سرتاپا شرک میں مبتلا ہیں۔

54

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌۭ

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو

اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِيْ : یہاں سے یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا ایک اور دور شروع ہوتا ہے، جب غلامی و قید ختم ہوئی اور آزادی اور حکومت و سلطنت عطا ہوئی۔ ” اَسْتَخْلِصْهُ “ یہاں بادشاہ ” اُخْلِصْہُ “ بھی کہہ سکتا تھا، جیسا کہ ( اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ ) [ یوسف : ٢٤ ] میں باب افعال استعمال ہوا ہے۔ ” اَسْتَخْلِصْهُ “ میں سین اور تاء مبالغہ کے لیے ہیں کہ ” میں اس کو زیادہ سے زیادہ اپنے لیے خاص کرلوں۔ “ بادشاہ نے جب یوسف (علیہ السلام) سے اپنے خواب کی صحیح تعبیر سنی، پھر بلانے کے باوجود کئی سال بےگناہ قید رہ کر بھی اپنی بےگناہی ثابت ہونے سے پہلے قید خانے سے نکلنے سے انکار دیکھا، پھر تمام متعلقہ خواتین حتیٰ کہ عزیز کی بیوی سے ان کی پاک دامنی اور بےگناہی کی تصدیق سنی تو ان کی شخصیت کا اتنا مشتاق ہوا کہ اس نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ، میں اسے اپنے لیے خاص کرلوں گا۔ پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے بنفس نفیس اس سے گفتگو کی تو بادشاہ نے ان کے علم کی وسعت، اخلاق کی خوبی اور دوسرے اوصاف حسنہ کا عین الیقین ہونے کے بعد کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں مکین و امین، یعنی صاحب اقتدار اور امانت دار ہو۔ ” مَكِيْنٌ“ اس ” مَکَانَۃٌ“ (مرتبے) والے کو کہتے ہیں جو صرف ایک یا چند ایک کے سوا کسی کو حاصل نہ ہو۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال دیکھیے، جب وحی کے سلسلے میں جبریل (علیہ السلام) کا ذکر آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۙاِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۝ ۙذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ 20 ۝ ۙمُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ ) [ التکویر : ١٩ تا ٢١ ] ” بیشک یہ یقیناً ایک ایسے پیغام پہنچانے والے کا قول ہے جو بہت معزز ہے۔ بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت مرتبے والا ہے۔ وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، امانت دار ہے۔ “ اور آپ جانتے ہیں کہ فرشتوں میں جبریل (علیہ السلام) کو کیا مرتبہ حاصل ہے کہ بنی آدم کے تمام انبیاء و رسل کی طر فاللہ کی جانب سے انھیں رسول چنا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا، فرمایا : (لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى) [ النجم : ١٨ ] ” بلاشبہ یقیناً اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔ “ ان سے بڑھ کر اللہ کا قرب رکھنے والا کوئی فرشتہ ہمیں معلوم نہیں۔ ” اَمِيْنٌ“ یعنی اپنی ذات، مملکت کے معاملات و اسرار اور سب لوگوں کے جان و مال اور ان کے درمیان عدل و انصاف میں تم ہمارے ہاں مکمل قابل اعتماد ہو، تمہاری امانت پر ہمیں پورا بھروسا ہے۔

55

قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌۭ

(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں

قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۔۔ : ” الْاَرْضِ “ میں الف لام عہد کا ہے ” اس زمین “ یعنی مجھے سرزمین مصر کے خزائن پر مقرر کردیجیے، کیونکہ میں ان کی پوری طرح حفاظت کرسکتا ہوں اور اس کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ ” خزائن “ ” خَزَانَۃٌ“ کی جمع ہے، اس سے مراد یا تو ان گوداموں کا نظام ہے جو خوش حالی کے سالوں کے لیے تعمیر کیے جائیں گے اور غلہ سنبھالیں گے اور قحط کے سالوں میں ان سے غلہ تقسیم کیا جائے گا، کیونکہ اس کے لیے بہت بڑی منصوبہ بندی، محنت و امانت اور حساب کتاب میں مہارت کی ضرورت ہے، یا مراد سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار ہیں۔ قرآن میں ” خزائن “ کا لفظ عموماً اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے : ( وَلِلّٰهِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) [ المنافقون : ٧ ] ” حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں۔ “ اور دیکھیے سورة انعام (٥٠) ، بنی اسرائیل (١٠٠) ، صٓ (٩) ، طور (٣٧) اور حجر (٢١) اور یہی معنی یہاں صحیح ہے، کیونکہ خوش حالی کے سالوں میں گوداموں کی تعمیر، پھر سات سال تک پورے ملک کے لوگوں سے ضرورت سے زائد گندم خریدنا، حکومت کی آمدنی کے تمام ذرائع پر مکمل اختیار کے بغیر ممکن نہ تھا، تاکہ ملک بھی چلتا رہے اور جنس کی خریداری کے لیے رقم بھی مہیا ہو سکے اور گودام بھی تعمیر ہو سکیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا کہ بادشاہ کی نگاہ میں ان کی قدر و منزلت بڑھ گئی ہے اور وہ انھیں ہر طرح کے اختیارات سونپنے کو تیار ہے تو اپنی اہلیت پر اعتماد کرتے ہوئے یہ پیش کش مناسب سمجھی کہ سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار میرے حوالے کردیے جائیں، بلکہ آئندہ آیات (١٠٠، ١٠١) سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار مصر میں یوسف (علیہ السلام) ہی تخت نشین ہوگئے تھے، یا کم از کم عملاً حکومت انھی کی تھی اور یہ پیش کش اس لیے بھی تھی کہ یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے، اس ملک کے تمام اختیارات پر قبضہ ان کے لیے اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ توحید کی اشاعت اور شرک کا استیصال کرسکیں۔ - 3 یہاں ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے خود عہدہ مانگا جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عہدہ مانگنے یا اس کی حرص رکھنے والے کے متعلق فرمایا : ( لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَہٗ ) [ بخاری، الإجارۃ، باب استئجار الرجل الصالح۔۔ : ٢٢٦١ ]” ہم ایسے شخص کو ہرگز عہدہ نہیں دیں گے جو اس کا ارادہ رکھے۔ “ اس کے کئی جواب ہیں جن میں سے سب سے صحیح اور مضبوط جواب یہ ہے کہ بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کو عہدے پر تو فائز کر ہی دیا تھا : ( اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ) [ یوسف : ٥٤ ] ” بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانت دار ہے۔ “ جس طرح آج کل پہلے وزیر چن لیے جاتے ہیں اور پھر وہ اپنے لیے شعبے کا انتخاب خود کرتے ہیں، اسی طرح جب بادشاہ نے انھیں اپنے ہاں پوری طرح صاحب اقتدار اور امانت دار قرار دے دیا تو یوسف (علیہ السلام) جانتے تھے کہ اس منصب کے تقاضے خزانے پر مکمل اختیار کے بغیر پورے ہو ہی نہیں سکتے، سو ان کے لیے یہ اختیار طلب کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ خلاصہ یہ کہ انھوں نے عہدہ ہرگز نہیں مانگا، بلکہ انھیں جب عہدے سے نوازا گیا تو انھوں نے اس کی عملی صورت پیش فرمائی۔ - دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر کسی کو اصرار ہو کہ انھوں نے عہدہ مانگا ہے تو ٹھیک ہے جو شخص یوسف (علیہ السلام) جیسے مقام پر فائز ہو وہ بیشک عہدہ مانگ لے، جو ان جیسے اوصاف رکھتا ہو، انسان کی سب سے منہ زور قوت (جنس) سمیت تمام بہیمانہ قوتوں مثلاً غصے، خیانت اور ظلم وغیرہ پر ان کی طرح قابو رکھتا ہو اور نبوت سے بھی سرفراز ہو، کیونکہ ایسی صورت میں نہ اس عہدے کی ذمہ داری کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے نہ خیانت کا۔ دوسرا شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ …

56

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے

وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ : اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو سلطنت مصر میں ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے اور وہ ایک کافر بادشاہ کے وزیر و ملازم نہیں تھے، ہوسکتا ہے کہ بادشاہ نے از خود ہی زمام حکومت ان کے سپرد کردی ہو۔ ایک مشرک بادشاہ اور ایک نبی کا اتنا قرب ممکن ہی نہیں، اگر بادشاہ کو کافر فرض کیا جائے تو ممکن ہی نہیں کہ انسانوں میں سے اللہ کا سب سے بڑا دشمن (کافر بادشاہ) اللہ کے اس وقت کے سب سے بڑے دوست (نبی) سے اتنی دلی محبت رکھ کر نباہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فیصلہ فرمایا ہے : (اِنَّ الْكٰفِرِيْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِيْنًا) [ النساء : ١٠١ ] ” بیشک کافر لوگ ہمیشہ سے تمہارے کھلے دشمن ہیں۔ “ سورة کافرون پر نظر ڈال لیں اور سورة مجادلہ کی آخری آیت پر بھی۔ سورة ممتحنہ کی آیت (٤) میں یوسف (علیہ السلام) کے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) نے تو مسلم و کافر کے درمیان واضح ابدی بغض و عداوت کی صراحت فرما دی ہے۔ کافر بادشاہ اور نبی کے درمیان عداوت و محبت کا منظر دیکھنا ہو تو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کو دیکھ لیں، حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس گھر میں بیٹے کی حیثیت سے پرورش پائی تھی۔ بادشاہ تو دور کی بات ہے کافر سرداران قوم ایک لمحہ انبیاء اور مسلمانوں کو برداشت نہیں کرسکے اور نہ کرسکتے ہیں۔ سوائے ایسے مسلمانوں کے جو ان کے ہر عمل بد پر ان کی مدد کریں، یا کم از کم خاموش رہیں۔ اللہ کے نبی یوسف (علیہ السلام) سے اس کی توقع وہی شخص کرسکتا ہے جو یوسف (علیہ السلام) کا خواتین مصر کے مطالبے کے مقابلے میں سال ہا سال کی قید گوارا کرنا اور بادشاہ کے بلانے کے باوجود تحقیق کے بغیر قید خانے سے نکلنے سے انکار نہ جانتا ہو۔- يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ ۔۔ : لفظ ” يَتَبَوَّاُ “ سے یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں حاصل ہونے والا اختیار و اقتدار سمجھنے کے لیے اس آیت کو ملاحظہ فرمائیں جس میں ذکر ہے کہ جنتی جنت میں داخلے کے بعد کیا کہیں گے : (وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ) [ الزمر : ٧٤ ] ” اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنادیا کہ ہم (اس) جنت میں سے جہاں چاہیں جگہ بنالیں۔ “ جنت جیسا اختیار نہ سہی مگر اس سے اس لفظ کی وسعت کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ عزیز مصر کی بیوی سے یوسف (علیہ السلام) کا نکاح ہوگیا تھا، مگر محدثین کے نزدیک یہ روایات قابل اعتبار نہیں۔ - وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ وَلَاَجْرُالْاٰخِرَۃِ ۔۔ : یعنی دنیا و آخرت دونوں میں انھیں اپنے نیک اعمال کا بدلہ ملتا ہے، اس آیت کے سلسلے میں شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یہ جواب ہوا ان کے سوالوں کا کہ اولاد ابراہیم اس طرح شام سے مصر آئی اور بیان ہوا کہ بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو گھر سے دور پھینکا، تاکہ ذلیل ہو، اللہ نے زیادہ عزت دی اور ملک پر زیادہ اختیار دیا ویسا ہی ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوا۔ “ (موضح)

57

وَلَأَجْرُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے

Explained together with ayah 56

58

وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ

اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے

وَجَاۗءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ : یہاں اللہ تعالیٰ نے خوش حالی کے سالوں کا، ان میں یوسف (علیہ السلام) کے حسن انتظام کا اور اس سے متعلق سب باتوں کا ذکر چھوڑ دیا، کیونکہ اصل مقصود یہ تھا کہ انبیاء کو اپنوں کے ہاتھوں کیا کچھ اٹھانا پڑتا ہے اور آخر کار کس طرح ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور حسن انجام کا اہتمام ہوتا ہے۔ درمیان میں گزرنے والے عرصے کا اندازہ خود بخود ہو رہا ہے، اس لیے اب خوش حالی کے سالوں کے ختم ہونے کے بعد قحط کے دوران بھائیوں کی آمد کی بات شروع فرمائی، جس سے بات خودبخود سمجھ میں آرہی ہے کہ قحط کی وسعت مصر سے نکل کر اردگرد کے ممالک فلسطین و شام وغیرہ تک پہنچ گئی تھی اور مصر کے سوا کہیں سے غلہ نہیں ملتا تھا، اس لیے یہ بھائی غلہ خریدنے کے لیے مصر آئے تھے۔- فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کتنی احتیاط سے غلہ تقسیم کر رہے تھے کہ وہ غلہ لینے کے لیے آنے والوں سے خود ملتے اور قیمت وصول کرنے کے باوجود ایک اونٹ فی کس سے زیادہ غلہ نہیں جانے دیتے تھے۔ چھوٹے بھائی کو چھوڑ کر سب کے آنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ دس اونٹوں کا غلہ مل جائے گا اور شاید یہ بھی ہو کہ راستے میں دشمن سے محفوظ رہ سکیں۔ - فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ : ” فَعَرَفَهُمْ “ جملہ فعلیہ ہے جس میں تجدد و حدوث ہوتا ہے، یعنی یوسف (علیہ السلام) نے اپنی یادداشت اور ذکاوت سے دیکھتے ہی انھیں پہچان لیا اور دوسرا جملہ اسمیہ ہے جس میں دوام ہوتا ہے کہ بھائی واپسی تک ان سے ناواقف رہے، کیونکہ بہت مدت گزر گئی تھی، چھوٹی عمر میں ان سے الگ ہوئے تھے۔ دوسرے یہ چیز تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ جس بھائی کو وہ کنویں میں ڈال گئے تھے وہ آج مصر کا مختار مطلق ہوگا۔

59

وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍۢ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ

جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں

وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ ۔۔ : ” جَھَازٌ“ وہ سامان جس کی مسافر کو ضرورت ہوتی ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا : (ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ ) یہ نہیں کہا ” بِأَخِیْکُمْ “ کہ اپنے بھائی کو جو تمہارے باپ سے ہے لے کر آنا، بلکہ ” بِاَخٍ لَّكُمْ “ کہا، یعنی ” اَخٌ“ کو نکرہ رکھا، تاکہ بھائیوں کے سامنے یہی ظاہر ہو کہ عزیز مصر اس بھائی کو نہیں جانتا۔ یہ سب سے چھوٹے اور یوسف (علیہ السلام) کے سگے بھائی تھے۔ ان کا نام بنیامین مشہور ہے جس کی کوئی پختہ دلیل نہیں، جیسا کہ عزیز مصر کا نام ” فوطیفار “ ، اس کی بیوی کے نام ” زلیخا “ یا ” راعیل “ ، بادشاہ کا نام ” ریان بن ولید “ اور یوسف (علیہ السلام) کے دوسرے بھائیوں کے ناموں کی دلیل اسرائیلی روایات کے سوا کچھ نہیں، جن پر اعتبار ممکن نہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کی اس فرمائش سے معلوم ہوتا ہے کہ خود بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے خاندان کا تعارف کرواتے ہوئے اس بھائی کا ذکر کیا۔ - اَلَا تَرَوْنَ ۔۔ : چھوٹے بھائی کو بلوانے کے لیے یوسف (علیہ السلام) نے اپنی تجارتی ایمان داری ” اُوْفِي الْكَيْلَ “ اور بہترین مہمان نوازی کا ذکر بھی کیا اور اگلی آیت میں دھمکی بھی دی کہ اس بھائی کو ساتھ نہ لائے تو نہ غلہ ملے گا اور نہ مجھ سے ملاقات کی امید رکھنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے غلہ لینے کے لیے آنے والے تمام لوگوں کے لیے مہمان نوازی کا، ان کے ٹھہرنے اور کھانے پینے کا بہترین انتظام کر رکھا تھا اور بھائی تو پھر بھائی تھے۔

60

فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے

Explained together with ayah 59

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.