قول باری ہے ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب ( یوسف نے کہا) اس سے میری غرض یہ تھی کہ ( عزیز مصر) یہ جان لے کہ میں نے در پردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی ۔ حسن ، مجاہد ، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول تھا۔ آپ نے یہ فرمایا کہ ” میں نے قاصد کو بادشاہ کے پاس اس لیے بھیج دیا اور اس سے عورتوں کے معاملہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے کہا کہ بادشاہ یعنی عزیز مصر کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں نے در پردہ اس کی خیانت نہیں کی ہے “ اگر سلسلہ کلام کی ابتداء عورت یعنی عزیز مصر کی بیوی کے متعلق حکایت سے کی جائے تو اس صورت میں کلام کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قول کی حکایت کی طرف لوٹا جائے گا اس لیے کہ اس مفہوم پر کلام کی دلالت واضح ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے وکذلک یفعلون اور یہ ایسا ہی کرتے ہیں جبکہ اس فقرے سے پہلے عورت یعنی ملکہ سبا کے قول کی حکایت ہے یعنی وجعلوا عزۃ اھلھا اذلۃ اور یہ لوگ بیرونی حملہ آور بادشاہ ملک میں بسنے وال عزت دار اور اونچے مرتبے والوں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ قول باری بھی ہے فما ذا تامرون پھر تمہارا کیا مشورہ ہے ؟ حالانکہ اس فقرے سے پہلے فرعون کے دباریوں اور سرداروں کے قول کی حکایت ہے یعنی یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال باہر کردینا چاہتا ہے۔