Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 51–60 of 111

51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍۢ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٰٔنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے

Explained together with ayah 50

52

ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا

قول باری ہے ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب ( یوسف نے کہا) اس سے میری غرض یہ تھی کہ ( عزیز مصر) یہ جان لے کہ میں نے در پردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی ۔ حسن ، مجاہد ، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول تھا۔ آپ نے یہ فرمایا کہ ” میں نے قاصد کو بادشاہ کے پاس اس لیے بھیج دیا اور اس سے عورتوں کے معاملہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے کہا کہ بادشاہ یعنی عزیز مصر کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں نے در پردہ اس کی خیانت نہیں کی ہے “ اگر سلسلہ کلام کی ابتداء عورت یعنی عزیز مصر کی بیوی کے متعلق حکایت سے کی جائے تو اس صورت میں کلام کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قول کی حکایت کی طرف لوٹا جائے گا اس لیے کہ اس مفہوم پر کلام کی دلالت واضح ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے وکذلک یفعلون اور یہ ایسا ہی کرتے ہیں جبکہ اس فقرے سے پہلے عورت یعنی ملکہ سبا کے قول کی حکایت ہے یعنی وجعلوا عزۃ اھلھا اذلۃ اور یہ لوگ بیرونی حملہ آور بادشاہ ملک میں بسنے وال عزت دار اور اونچے مرتبے والوں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ قول باری بھی ہے فما ذا تامرون پھر تمہارا کیا مشورہ ہے ؟ حالانکہ اس فقرے سے پہلے فرعون کے دباریوں اور سرداروں کے قول کی حکایت ہے یعنی یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال باہر کردینا چاہتا ہے۔

53

۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ ۚ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

نفس امارہ کی حقیقت - قول باری ہے ان النفس لا مارۃ بالسوء ۔ نفس کا کام تو بس بدی پر اکسانا ہے۔ یعنی نفس برائی کی طرف بہت زیادہ کھینچتا ہے ۔ اس لیے میں اپنے نفس کی برأت کرنا نہیں چاہتا اگرچہ میں اس کے چکر میں نہیں پھنستا۔ اس فقرے کے قائل کے متعلق اختلاف رائے ہے ، کچھ حضرات کا قول ہے کہ اس کے قائل حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں جبکہ بعض دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ یہ عورت یعنی عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے۔- امارہ سے کہتے ہیں جو کسی کام کے کرنے کا بہت زیادہ ام کرے اور حکم دے۔ نفس کو اس صفت سے اس لیے موصوف کیا گیا ہے کہ اس کی خواہشات کی کثرت اور اس کے جذبات کی شدت کی بنا پر اکثر افعال وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ابتداء میں نفس کی طرف برائی کا حکم دینے کی نسبت مجازا ً ہوتی تھی لیکن پھر اس کا استعمال اس کثرت سے ہوا کہ مجاز کا اسم ساقط ہوگیا اور اب یہ استعمال بطور حقیقت ہوتا ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے نفسی تامرنی بکذواتدعنی الی کذا من جھۃ شھوتی لہ ( میرا نفس مجھے فلاں کام کی طرف راغب کر کے اسے کرلینے کا حکم دیتا نیز فلاں کام کی دعوت دیتا ہے) حقیقت کے لحاظ سے یہ بات درست نہیں ہوتی کہ انسان اپنی ذات کو کوئی کام کرنے کا حکم دے اس لیے کہ امر کے اندر مامور کو ایسی چیز کا مالک بناکر جس کا وہ مالک نہیں ہوتا۔ حکم بجا لانے کی ترغیب دی جاتی ہے اور یہ بات محال ہے کہ ایک شخص اپنی ذات کو کسی ایسی چیز کا مالک بنادے جو اس کی ملکیت میں نہ ہو اس لیے کہ ہر شخص صرف اسی چیز کو کسی دوسرے کی ملکیت میں دے سکتا ہے جس کا وہ خود مالک ہوتا ہے۔

54

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌۭ

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو

قول باری ہے وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفی فلماکلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین۔ بادشاہ نے کہا : ” انہیں میرے پاس لائو تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کرلوں “ جب یوسف نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا :” اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسہ ہے “ چونکہ یہ بادشاہ عقل اور سمجھ رکھتا تھا اس لیے وہ حضرت یوسف علیہ کے حسن و جمال اور پر وقار شخصیت سے اس طرح متاثر نہیں ہوا جس طرح عورتیں اپنی کم عقلی اور ناسمجھی کی بنا پر ان سے متاثر ہوگئی تھیں ، نیز ان عورتوں نے صرف آپ کے ظاہری حسن و جمال کو دیکھا تھا آپ کی عقل مندی اور سمجھ داری کی خوبیوں میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ اس کے برعکس بادشاہ نے اس ظاہری کیفیت کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی ، لیکن اسے ان کے ساتھ گفتگو کرنے کا موقع ملا تو وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے باطنی کمالات سے ان کے بیان اور علم کی روشنی میں پوری طرح آگاہ ہوگیا اور کہنے لگا انک الیوم لدینا مکین علیم حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جوابا ً جو کچھ اس سے کہا قرآن نے اسے ان الفاظ میں بیان کیا ہے اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم ملک کے خزانے میرے سپرد کیجئے میں حفاظت کرنیوالا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں ۔ آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے فضل و کمال کا ایسے شخص کے سامنے تذکرہ کرے جسے اس کا علم نہ ہو تو اسے کے لیے ایسا کرنا جائز ہے اس کا یہ اقدام قول باری فلا تزکو انفسکم تم اپنی خود ستائی نہ کرو خود ستائی کی ممانعت کے ذیل میں نہیں آتا۔

55

قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌۭ

(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں

Explained together with ayah 54

56

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے

Explained together with ayah 54

57

وَلَأَجْرُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے

Explained together with ayah 54

58

وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ

اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے

Explained together with ayah 54

59

وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍۢ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ

جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں

قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ وہ ان کے بھائی کو دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کا دل اس کا اصل سبب معلوم کرنے کے لیے بےتا ب ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ اس طریقے سے وہ اپنے بھائی تک رسائی حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ انہیں یہ خوف تھا کہ اگر بھائیوں کے سامنے وہ کھل کر آ جائیں اور انہیں بتادیں کہ میں یوسف ہوں تو عین ممکن تھا کہ بھائی ان میں سے بن یامین کا معاملہ چھپا جاتے۔- اور اس کے متعلق کچھ نہ بتاتے بلکہ دونوں بھائیوں کے یکجا ہونے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے اس لئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کے حصول کے لئے اپنی تدبیر پر مرحلہ وار عمل کیا تاکہ بھائیوں پر حقیقت حال سے واقف ہوجانے کی وجہ سے ایسا دبائو نہ پڑے جس کی بنا پر بھائی کے ساتھ ان کے اختلاف اور نفرت میں اور زیادہ شدت پیدا ہوجائے۔ قول باری ہے (یا بنی لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من ابواب متفرقۃ میرے بچو مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا) حضرت ابن عباس (رض) ، حسن بصری، قتادہ، ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے یہ بیٹے بڑے وجیہ اور حسین و جمیل تھے، آپ کو یہ خوف پیدا ہوا کہ اکٹھے داخل ہونے کی صورت میں کہیں انہیں نظر نہ لگ جائے۔ دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ خوف پیدا ہوگیا کہ کہیں لوگ ان سے حسد کرنا نہ شروع کردیں اور ان کی قوت و طاقت کی خبر بادشاہ کے کانوں تک نہ پہنچ جائے اور وہ انہیں اپنی حکومت کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے قتل نہ کرا دے۔ حضرت ابن عباس (رض) اور دیگر تابعین سے مروی تاویل کی بنا پر یہ دلالت ہوتی ہے کہ نظر بد برحق ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (العین حق، نظر بد برحق ہے) قول باری ہے (جعل السقایۃ فی رحل اخیہ ثم اذن موذن ایتھا العیر انکم تارقون۔ اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا ” اے قافلے والو تم لوگ چور ہو “ ) ایک قول ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کسی آدمی کو بھائی کے سامان میں پیالہ رکھ دینے کے لئے کہا تھا اس کے بعد جو لوگ پیمانوں کے ذریعے ناپ کر قافلے والوں کو غلہ تقسیم کرنے پر مامور تھے انہیں جب ایک پیمانہ نہ ملا اور پتہ نہل گا کہ اسے کون اٹھا کرلے گیا ہے تو ان میں سے ایک نے قافلہ کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم چور ہو، غلہ تقسیم کرنے والوں کا خیال تھا کہ قافلے والے اس قسم کی چوریاں کرلیتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں یہ اعلان کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، اس بنا پر اعلان کرنے والے شخص کی یہ بات غلط نہیں تھی کیونکہ اس نے اپنے ظن غالب کی بنیاد پر نیز اپنی سمجھ کے مطابق یہ اعلان کیا تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائی تک رسائی کا جو طریقہ اختیار کیا اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان کے لئے دوسرے سے اپنے حق کی وصولی کے لئے ہر ممکن طریقہ اختیار کرنا جائز ہے اس کے لئے اس شخص کی رضا مندی کو کوئی ضرورت نہیں جس سے حق وصول …

60

فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے

Explained together with ayah 59

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.