Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 111

41

يَٰصَىٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًۭا ۖ وَأَمَّا ٱلْءَاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ ۚ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ

میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے

حضرت یوسف نے اچھے انجام پانے والے اور برے انجام تک پہنچنے والے کا یہاں تعین نہیں فرمایا کیونکہ انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ برا انجام پانے والے کو ذاتی طور پر مخاطب کریں البتہ انہوں نے تاکید سے کہہ دیا کہ انجام یہی ہوگا۔ یہ امر فیصلہ شدہ ہے جس طرح فیصلہ ویسا ہی ہونے والا ہے۔ حضرت یوسف ایک ناکردہ گناہ قیدی تھے ۔ بادشاہ نے ان کی قید کا حکم بغیر سوچ اور تحقیق کے صادر فرما دیا تھا۔ شاید اس کے حاشیہ نشینوں نے عزیز مصری کی بیوی کے واقعہ کو اس طرح اس کے سامنے پیش کیا کہ اس میں حضرت یوسف کو گناہ گار کر کے پیش کیا ہوک ، جس طرح با اثر طبقات عموماً ایسا کرلیتے ہیں۔ چناچہ حضرت یوسف نے اس موقعہ پر یہ مناسب سمجھا کہ وہ بادشاہ تک یہ بات پہنچا دیں کہ وہ ان کے معاملے میں تحقیق کرے۔

42

وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍۢ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے

یعنی میرے حالت ، میرا واقعہ اور میری حقیقت کا ذکر اپنے رب اور حاکم کے سامنے کرنا جس کے قانونی اور دستوری نظام کے تم تابع ہو۔ اور جس کے احکام کے تم مطیع ہو۔ ان معنوں میں ہی وہ تمہارا رب ہے۔ کیونکہ رب کے معنی ہی یہ ہیں کہ جو حاکم ، سردار اور قانون دہندہ ہو۔ اسلامی اصطلاح میں ربوبیت کا جو مفہوم ہے۔ یہاں اسے واضح کردیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہنا چاہیے کہ حضرت یوسف گڈریوں کے دور میں تھے اور گدرئیے بادشاہوں کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ وہ خود رب ہیں جس طرح فراعنہ کا عقیدہ تھا۔ نہ وہ فرعونوں کی طرح اپنے آپ کو الٰہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ربوبیت کا مفہوم حاکمیت تھا ، یہاں لفظ رب صریح طور پر حاکم کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

اب یہاں سیاق کلام یہ تفصیلات نہیں دیتا کہ قیدی ساتھیوں کا انجام اسی طرح ہوا جس طرح حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر کی تھی۔ یہاں قصے میں خلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ قارئین خود معلوم کرلیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ لیکن جس شخص کے بارے میں حضرت یوسف کی تاویل یہ تھی کہ وہ نجات پائے گا ، اس نے حضرت یوسف کے بارے میں حضرت یوسف کی وصیت کو پورا نہ کیا۔ جب وہ شاہی محلات کی زندگی کی ہماہمی میں دوبارہ پہنچا تو وہ ان سرگرمیوں میں مدہوش ہوگیا ، اس نے درس توحید بھی بھلا دیا ، حضرت یوسف کے مسئلے کو بھی پیش نہ کیا۔

فلبث ۔ یہ آخری ضمییر (لبث) حضرت یوسف کی طرف عائد ہے۔ اللہ کی حکمت کی مشیت یہ تھی کہ حضرت یوسف تمام دنیاوی اسباب سے کٹ کر صرف اللہ پر بھروسہ کریں۔ مشیت ایزدی کے نزدیک یہ بات حضرت یوسف کے شایان شان نہ تھی کہ ان کی رہائی کسی دنیاوی اور انسانی ذریعے سے ہو۔

اللہ کے مخلص بندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے لیے خالص ہوجائیں۔ وہ صرف اس کو اپنی حاجات میں پکاریں اور دعا کریں کہ اللہ ان کو ثابت قدم رکھے۔ اور اگر کبھی ان بندوں سے کوتاہی ہوجائے تو پھر ان پر اللہ کا فضل ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی حقیقی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ وہ از سر نو شوق ، محبت اور رضامندی سے اللہ کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ اور ان پر اس کا فضل و کرم پورا ہوجاتا ہے۔

43

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍۢ ۖ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ

منظر پھر منتقل ہوجاتا ہے۔ اب ہم بادشاہ کے دربار میں پہنچ جاتے ہیں۔ بادشاہ نے ایک اہم خواب دیکھا ہے۔ وہ اپنے حاشیہ نشینوں اور کاہنوں اور مذہبی لیڈروں سے اس کی حقیقی تاویل دریافت کرتا ہے۔

بادشاہ نے اس خواب کی تعبیر چاہی اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والے حاشیہ نشین اور درباری مذہبی لیڈر ان خوابوں کی تعبیر نہ بتا سکے۔ یا انہوں نے محسوس تو کرلیا تھا کہ ملک کو کچھ مشکلات در پیش آنے والی ہیں لیکن وہ بادشاہ کے سامنے کسی بدشگونی کے اظہار کی جرات نہ کرسکے۔ شاہی درباریوں کا یہ طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ بات کو ٹال دیتے ہیں اور یا جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے ان اہم خوابوں پر ایسا ہی تبصرہ کیا کہ یہ خواب ہائے پریشان ہیں اور ان کو ان تاویل کی کوئی سمجھ نہیں آرہی ہے۔ کیونکہ ان خوابوں میں کوئی واضح اشارہ نہیں ہے۔

یہاں تک تین خوابوں کے ساتھ ہمارا واسطہ پڑچکا ہے۔ حضرت یوسف کا خواب ، یوسف کے دو قیدی ساتھیوں کے خواب ، اور با بادشاہ وقت کا خواب۔ ان خوابوں کی تعبیر اور اور ان خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مصر اور مصر سے باہر اردگرد کی دنیا میں تعبیر خواب کا فن بہت ہی زوروں پر تھا اور اللہ نے حضرت یوسف کو اپنی جانب سے جو صلاحیت دی ، کہ وہ خوابوں کی تعبیر تک پہنچ جاتے تھے ، وہ ایک ایسا کامل تھا جو روح عصر تھا۔ اور تمام انبیاء کو جو بھی معجزات دیے جاتے ہیں وہ ان کے عصری ماحول کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ تو کیا خوابوں کی تعبیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے ایک معجزہ تھا۔ یہاں فی ظلال القرآن می ہم یایس بحثیں نہیں چھیڑتے۔ بہرحال بادشاہ نے خواب دیکھا ہے اور اس کی تعبیر کی تلاش ہے۔

44

قَالُوٓا۟ أَضْغَٰثُ أَحْلَٰمٍۢ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی

منظر پھر منتقل ہوجاتا ہے۔ اب ہم بادشاہ کے دربار میں پہنچ جاتے ہیں۔ بادشاہ نے ایک اہم خواب دیکھا ہے۔ وہ اپنے حاشیہ نشینوں اور کاہنوں اور مذہبی لیڈروں سے اس کی حقیقی تاویل دریافت کرتا ہے۔

بادشاہ نے اس خواب کی تعبیر چاہی اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والے حاشیہ نشین اور درباری مذہبی لیڈر ان خوابوں کی تعبیر نہ بتا سکے۔ یا انہوں نے محسوس تو کرلیا تھا کہ ملک کو کچھ مشکلات در پیش آنے والی ہیں لیکن وہ بادشاہ کے سامنے کسی بدشگونی کے اظہار کی جرات نہ کرسکے۔ شاہی درباریوں کا یہ طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ بات کو ٹال دیتے ہیں اور یا جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے ان اہم خوابوں پر ایسا ہی تبصرہ کیا کہ یہ خواب ہائے پریشان ہیں اور ان کو ان تاویل کی کوئی سمجھ نہیں آرہی ہے۔ کیونکہ ان خوابوں میں کوئی واضح اشارہ نہیں ہے۔

یہاں تک تین خوابوں کے ساتھ ہمارا واسطہ پڑچکا ہے۔ حضرت یوسف کا خواب ، یوسف کے دو قیدی ساتھیوں کے خواب ، اور با بادشاہ وقت کا خواب۔ ان خوابوں کی تعبیر اور اور ان خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مصر اور مصر سے باہر اردگرد کی دنیا میں تعبیر خواب کا فن بہت ہی زوروں پر تھا اور اللہ نے حضرت یوسف کو اپنی جانب سے جو صلاحیت دی ، کہ وہ خوابوں کی تعبیر تک پہنچ جاتے تھے ، وہ ایک ایسا کامل تھا جو روح عصر تھا۔ اور تمام انبیاء کو جو بھی معجزات دیے جاتے ہیں وہ ان کے عصری ماحول کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ تو کیا خوابوں کی تعبیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے ایک معجزہ تھا۔ یہاں فی ظلال القرآن می ہم یایس بحثیں نہیں چھیڑتے۔ بہرحال بادشاہ نے خواب دیکھا ہے اور اس کی تعبیر کی تلاش ہے۔

45

وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ

اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے

یہاں بچ جانے والے قیدی ساتھی کو حضرت یوسف یاد آجاتے ہیں۔ اس سے قبل شیطان نے اس سے حضرت یوسف کو بھلا دیا تھا اور یہ شخص محل کی ہماہمی ، مہمانوں شرابوں اور عیش و طرب میں مصروف ہوگیا تھا۔ اب اسے حضرت یوسف یاد آتے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے تعبیر بتائی تھی اور وہ حقیقت کی طرح نمودار ہوئی تھی۔

یہ شخص کہتا ہے کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس کی تاویل کیا ہے۔ اب یہاں پردہ گرتے ہی یہ منظر ختم ہوجاتا ہے۔ جب پردہ اٹھتا ہے تو ہم جیل میں حضرت یوسف کا مکالمہ سنتے ہیں (اگلی آیات)

46

يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍۢ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں

یہاں یہ شخص یوسف کے لیے صدیق کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ یعنی بکثرت سچائی بولنے والے یہ لفظ اس لیے استعمال کرتا ہے کہ اس دیکھ لیا کہ حضرت اعلی درجے کے صدیق ہیں۔ اور پھر بادشاہ کا خواب نقل کردیتا ہے۔ افتنا۔ ۔۔۔

یہ شخص خواب کے الفاظ پورے کے پورے نقل کرتا ہے کیونکہ خواب کی تعبیر چاہتا ہے۔ لہذا پورا خواب بتانا ضروری ہے۔ چناچہ وہ خواب لفظ بلفظ نقل کرتا ہے۔

47

قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًۭا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تَأْكُلُونَ

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا

یہاں حضرت یوسف خواب کی تعبیر بھی بتاتے ہیں اور ساتھ ہی تجاویز اور مشورے بھی دیتے ہیں۔

یوسف نے کہا سات برس تک لگاتار تم کھیتی باڑی کرتے رہوگے ، یعنی مسلسل اور پے در پے۔ یہ سرسبز اور شاداب سال ہوں گے اور ان کی طرف " بقرات سمان " سے اشارہ کیا گیا تھا۔

اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو ان میں سے بس تھوڑا سا حصہ ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے ، نکالو اور باقی کو اس کی بالیوں ہی میں رہنے دو ۔ یعنی ان سالوں میں جو فصل تم کاٹو اسے خوشوں کے اندر چھوڑ دو تاکہ وہ حشرات ارض اور دوسرے موسمی اثرات سے محفوظ رہیں۔ ہاں جسے تم نے استعمال کرنا ہے اسے صاف کرو لیکن استعمال شدہ حصہ تھوڑا ہونا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ غلہ مشکل وقت کے لیے بچ جائے۔

48

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌۭ شِدَادٌۭ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تُحْصِنُونَ

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے

یہ سات سال اس طرح سخت ہوں گے کہ ان میں زرعی پیداوار نہ ہوگی۔ یہ سال سب کچھ کھا جائیں۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ یہ سال قحط سالی کے ہوں گے اور ان سے وہی کچھ بچے گا جو تم نے سابقہ سالوں میں محفوظ کرلیا ہوگا۔

49

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌۭ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے

اب یہ سات خشک سال ختم ہوں گے ، تمہارا سابقہ محفوظ غلہ بھی ختم ہوگا اور اب سرسبزی اور شادابی کا دور لوٹ آئے گا۔ بارشیں ہوں گی ، پانی اور فصل زیادہ ہوں گے ، انگوروں کی فصل بکثرت ہوگی اور لوگ ان کا جوس نکالیں گے شراب بنائیں گے۔ اسی طرح تل اور زیتون اور دوسرے مغزیات ہوں گے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سات سالہ خشک سالی کے بعد خوشحالی کے اس دور کی طرف بادشاہ کے خواب میں کوئی اشارہ نہیں ہے۔ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے لدنی اور نبوتی علم کے بل بوتے پر کہہ رہے ہیں ، اس طرح حضرت یوسف نے اس شاہی فرستادے کو خوشخبری دی کہ سات سالہ مشکل دور کے بعد وسیع پیمانے پر خوشحالی کا دور آئے گا تاکہ وہ بادشاہ کو اس کی اطلاع دے۔

50

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌۭ

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے

اب یہاں ہمارے سامنے ایک دوسرا منظر آتا ہے اور ان دونوں مناظر کے درمیان ایک خلا ہے۔ یہ خلا انسانی تخیل خود بھر دیتا ہے۔ اب ہم دوبارہ شاہی دربار میں ہیں۔ یہاں فرستادہ شاہی نے مکمل رپورٹ دے دی ہے۔ خواب کی تعبیر بتا دی گئی ہے۔ اب اس نے بادشاہ کو حضرت یوسف کی ناجائز سزا کے بارے میں بھی بتا دیا ہے۔ لیکن سیاق کلام میں یہ باتیں مذکور نہیں ہیں۔ ہمارے سامنے بادشاہ کی خواہش آتی ہے۔

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ : بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ۔

مزید تفصیلات ترک کردی جاتی ہیں۔ بادشاہ کا حکم ہے۔ ہر کا رہ خود حضرت یوسف کے پاس پہنچتا ہے۔ لیکن حضرت یوسف ہر کارے کو لوٹا دیتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ ہر کا رہ وہی ساقی ہے یا کوئی اور ہے۔ شاہی اوامر کا نفاذ شاید کسی اور کے ذمے ہو۔ لیکن حضرت یوسف طویل قید کے بعد بھی قید خانے سے نکلنے میں جلدی نہیں فرماتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مقدمے کا صحیح فیصلہ ہو ، احقاق حق ہو اور غلط کار لوگوں کی سازشیں بےنقاب ہوں اور وہ باعزت طور پر بری ہوکر نکلیں۔ یہ اطمینان قلب اور یہ طمانیت صرف ربانی تربیت کے نتیجے میں آسکتی ہے۔ اب وہ اس قدر پختہ کار ہوگئے ہیں ان کے مزاج میں عجلت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

حضرت یوسف کی سنجیدگہ اور پختہ کاری اور طمانیت دونوں مواقف میں واضح ہوتی ہے ، پہلے انہوں نے ساقی کو صرف یہ کہا کہ اپنے رب کے پاس میرا تذکرہ کردے۔ اور دوسرے میں انہوں نے رہائی کے احکام کے باوجود یہ کہہ دیا کہ پہلے میرے مقدمے کی تحقیقات کرو ، لیکن پہلے موقف اور دوسرے موقف میں فرق ہے کیونکہ چند سالوں کی قید اور تربیت نے ان کو مزید پختہ کار بنا دیا ہے۔

حضرت یوسف نے رہائی کے شاہی احکام کو اس لیے مسترد کیا کہ بادشاہ کو صحیح طرح معلوم تو ہوجائے کہ ان کے معاملے کی حقیقت کیا ہے اور ان عورتوں کے الزامات کی حقیقت کیا ہے ؟ حضرت یوسف نے عورتوں کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے گویا یہ کہہ دیا کہ تحقیقات ہونے پر وہ عورتیں اصل صورت حال بتا سکتی ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ یہ تحقیقات یوسف کی عدم موجودگی میں ہو تاکہ یوسف کی شاہی دربار میں موجودگی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو متاثر نہ کردے۔ یہ سب اس لیے کہ حضرت یوسف کو اپنی بےگناہی کا یقین تھا اور وہ مطمئن تھے کہ نتیجہ لازما ان کے حق میں ہوگا۔ کیونکہ سچائی چھپ نہیں سکتی ، نہ اسے دیر تک چھپایا جاسکتا ہے۔

قرآن کریم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان سے لفظ رب استعمال کرایا ہے اور اسے مخاطب کی طرف مضاف کیا ہے (ربک) اس لیے کہ حضرت یوسف کا رب تو اللہ ہے جبکہ اس فرستادے کا رب بادشاہ جس کے نظام حکومت کا وہ کارندہ ہے اس سے رب کا یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ حکمران بھی رب ہوتا ہے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.