Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 41–50 of 111

41

يَٰصَىٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًۭا ۖ وَأَمَّا ٱلْءَاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ ۚ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ

میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے

Explained together with ayah 37

42

وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍۢ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے

فانساہ الشیطن کے دو مفہوم - قول باری ہے وقال للذین ظن انہ تاج منھما اذکرنی عند ربک فانساہ الشیطن ذکر ربہ فلبث فی السجن بضع سنین ۔ پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب شاہ مصر سے میرا ذکر کرنا۔ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب شاہ مصر سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف کئی سال قید میں پڑا رہا ۔ یہاں ظن یقین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی اس تعبیر کے وقوع پذیرہونے کا یقین تھا جو آپ نے اسے بتائی تھی ۔ یہاں ظن بمعنی یقین کے استعمال کی مثال یہ آیت ہے۔ انی ظنت انی ملاق حسابیہ مجھے یقین تھا کہ مجھے اپنے اعمال کے حساب و کتاب کا سامنا کرنا ہے۔ یہاں طننت بمعنیالقینت ہے یعنی مجھے یقین تھا۔ قول باری فانساہ الشیطان میں ضمیر مفعول حضرت ابن عباس (رض) سے مروی تفسیر کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ حسن بصری اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ اس قیدی کی طرف راجع ہے جو رہا ہو کر اپنے آقا شاہ مصر کو شراب پلانے والا تھا۔- آیت میں یہ بیان ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کئی سالوں تک قید میں پڑے رہنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے رہا ہونے والے قیدی سے یہ کہا تھا کہ بادشا ہ کے پاس میرا تذکرہ کردینا ۔ آپ نے یہ بات ایک قسم کی غفلت کی بنا پر کہی تھی۔ اگر حضرت ابن عباس (رض) کی تاویل اختیار کی جائے کہ شیطان نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کیذہن سے اللہ کی یاد بھلا دی تھی جب کہ اس حالت قید میں اللہ کو یاد کرنا بہتر تھا، نیز اللہ کی یاد کو چھوڑ کر رہا ہونے والے قیدی سے یہ کہنا نہیں چاہیے تھا کہ اپنے آقا کے پاس میرا تذکرہ کرنا ۔ تو اس تاویل کی بنا پر ایسے وقت میں اللہ کی یاد سے غفلت اور بےتوجہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کئی سالوں تک قید میں پڑے رہنے کا سبب بن گئی ۔ اگر دوسری تاویل اختیار کی جائے جس کے مطابق شیطان نے رہا جانے والے قیدی کو جو اپنے آقا کا ساقی بننے والا تھا غفلت میں ڈال دیا تھا تو اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے یہ کہا تھا تو ساقی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شیطانی وس اس و خیالات کے ساتھ تنہا چوڑ دیا جس کے نتیجے میں شیطان نے اس کے ذہن سے اپنے آقا کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کے تذکرے کی بات نکال دی ۔ لفظ بضع کے متعق حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ یہ تین سے لے کر دس تک ہوتا ہے۔ مجاہد اور قتادہ کے قول کے مطابق نو تک ہوتا ہے۔ وہب کا قو ل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) قید میں سات برس تک رہے۔

43

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍۢ ۖ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ

Explained together with ayah 42

44

قَالُوٓا۟ أَضْغَٰثُ أَحْلَٰمٍۢ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی

Explained together with ayah 42

45

وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ

اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے

Explained together with ayah 42

46

يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍۢ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں

Explained together with ayah 42

47

قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًۭا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تَأْكُلُونَ

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا

Explained together with ayah 42

48

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌۭ شِدَادٌۭ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تُحْصِنُونَ

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے

Explained together with ayah 42

49

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌۭ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے

Explained together with ayah 42

50

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌۭ

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے

قول باری ہے وقال الملک ائتونی بہ فلما جاء ہ الرسول قال ارجع الی ربک فاسئلہ ما بال النسوۃ الاتی قطعن ایدیھن ان ربی بکیلہ ھن علیہ۔ بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لائو ، مگر جب شاہی فرستادہ یوسف کے پاس پہنچا تو اس نے کہا : اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کر ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے۔- ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فوری طور پر بادشاہ کے پاس جانے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ شاہی قاصد کو یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ پہلے ان عورتوں سے ماملہ کی اصل حقیقت معلوم کرلی جائے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے تا کہ اس معاملہ میں آپ کی پاک دامنی واضح ہوجائے اور اس کے بعد جب آپ بادشاہ کے پاس جائیں تو اس کی نظروں میں آپ کی قدر و منزلت بڑھ جائے اور پھر آپ اسے توحید باری کی جو دعوت دیں نیز امور سلطنت میں اسے جو مشورے دے وہ انہیں آسانی سے قبول کرلے۔

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.