Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 41–50 of 111

41

يَٰصَىٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًۭا ۖ وَأَمَّا ٱلْءَاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ ۚ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ

میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے

اور داخل ہوئے اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان، ان میں سے ایک نے کہا، بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو کہ نچوڑ رہا ہوں میں شراب،اورکہا دوسرے نے بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو اٹھا رہا ہوں میں اوپر اپنے سر کے روٹی، کھا رہے ہیں پرندے اس میں سے ، بتلا تو ہمیں تعبیر اس کی، بے شک ہم دیکھتے ہیں تجھے احسان کرنے والوں میں سے (36) یوسف نے کہا، نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس کھانا جو دیے جاتے ہو تم وہ مگر بتلا دوں گا میں تمھیں تعبیر اس کی پہلے اس سے کہ وہ آئے تمھارے پاس، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو سکھائیں مجھے میرے رب نے، یقینا میں نے چھوڑ دیا دین ان لوگوں کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ کے ساتھ اور وہ ساتھ آخرت کے بھی کفر کرنے والے ہیں (37) اور میں نے پیروی کی دین کی اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کے، نہیں جائز واسطے ہمارے یہ کہ شریک ٹھہرائیں ہم ساتھ اللہ کے کسی چیز کو، یہ ہے فضل سے اللہ کے اوپر ہمارے اور اوپر تمام لوگوں کے لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (38) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! کیا معبود متفرق بہتر ہیں یا اللہ ایک نہایت غالب؟(39) نہیں عبادت کرتے تم سوائے اس کے مگر چند ناموں کی جو نام رکھے ہیں خود ہی تم نے وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادا نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اس نے حکم دیا یہ کہ نہ عبادت کروتم مگر صرف اسی کی، یہی ہے دین سیدھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (40) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! لیکن ایک تو تم دونوں میں سے پس وہ پلائے گا اپنے مالک کو شراب اور لیکن دوسرا، سو وہ سولی دیا جائے گا اورکھائیں گے پرندے اس کے سر میں سے، فیصلہ کیا گیا ہے اس معاملے کا، وہ جس کی بابت تم مجھ سے پوچھتے تھے (41)

[36]﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ﴾ ’’اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔‘‘ جب یوسفu قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کیے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انھوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسفu کو سنایا ﴿ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا١ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِيۡ خُبۡزًا﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں ‘‘ اور یہ روٹی ﴿ تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ﴾ ’’پرندے کھا رہے ہیں ۔‘‘ ﴿ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ﴾ ’’ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجیے۔‘‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کہا: ﴿ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم آپ کو بھلائی کرنے والا دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں ۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انھوں نے یوسفu کے احسان کو وسیلہ بنایا۔

[37]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا﴾ ’’جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔‘‘ یعنی تمھیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمھارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔شاید یوسفu یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں ، جبکہ ان قیدیوں نے حضرت یوسفu کی حاجت محسوس کی وہ ان قیدیوں کو ایمان کی دعوت دیں تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لیے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو، پھر یوسفu سے فرمایا:﴿ذٰلِكُمَا﴾ یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں …

42

وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍۢ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے

اور کہا اسے کہ گمان کیا تھا (اس کو) کہ وہ نجات پانے والا ہے ان دونوں میں سے تو ذکر کرنا میر ااپنے مالک کے ہاں ، پس بھلوا دیا اسے شیطان نے ذکر کرنا اپنے مالک کے پاس ، سو ٹھہرا رہا یوسف قید خانے میں کئی سال (42)

[42]﴿وَقَالَ ﴾ یعنی یوسفu نے فرمایا: ﴿ لِلَّذِيۡ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّؔنۡهُمَا ﴾ ’’اس شخص سے جس کی بابت انھوں نے گمان کیا تھا کہ وہ بچے گا‘‘ یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب پلارہا ہے۔ ﴿ اذۡكُرۡنِيۡ عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا‘‘ یعنی اس کے پاس میرے قصے اور میرے معاملے کاذکر کرنا شاید وہ نرم پڑ جائے اور مجھے اس قید خانے سے نکال دے۔ ﴿ فَاَنۡسٰىهُ الشَّيۡطٰنُ ذِكۡرَ رَبِّهٖ﴾ ’’لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا۔‘‘ یعنی قید سے نجات پانے والے اس شخص کو شیطان نے اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔[( فاضل مصنف کے برعکس اکثر مفسرین نے (ذکر ربہ) میں رب سے آقا، یعنی بادشاہ وقت مراد لیا ہے، یعنی نجات پانے والے کو شیطان نے بھلا دیا اور اس نے حضرت یوسفu کی خواہش کے مطابق بادشاہ سے آکر ان کے جیل میں محبوس رہنے کا ذکر نہیں کیا۔ (ص ۔ ی)] اور نیز ہر اس چیز کو فراموش کرا دیا جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا باعث تھی اور انھی چیزوں میں یوسفu کا تذکرہ بھی تھا جو اس چیز کے مستحق تھے کہ بہترین اور کامل ترین بھلائی کے ساتھ ان کو بدلہ دیا جاتا۔ یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کا حکم پورا ہو۔ ﴿ فَلَبِثَ فِي السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِيۡنَ ﴾ ’’پس ٹھہرے رہے یوسفu جیل میں کئی سال‘‘ (بضع) کا اطلاق تین سے لے کر نو تک کے عدد پر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سات برس تک قید میں رہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے چاہا کہ اس کا حکم پورا ہو اور یوسفu کو قید سے نکالنے کا اذن دے تو اس نے یوسفu کو قید سے نکالنے، ان کی شان بلند کرنے اور ان کی قدر و منزلت نمایاں کرنے کے لیے ایک سبب مقدر کر دیا… وہ تھا بادشاہ کا خواب دیکھنا۔

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یوسفu کو قید خانے سے نکالنا چاہا تو بادشاہ کو ایک عجیب و غریب خواب دکھایا۔ جس کی تعبیر تمام قوم کو متاثر کرتی تھی… تاکہ یوسفu اس خواب کی تعبیر بتائیں اور یوں ان کا علم و فضل ظاہر ہو اور دین و دنیا میں ان کو رفعت حاصل ہو۔ اس میں تقدیر کی مناسبت یہ ہے کہ بادشاہ نے… جو رعایا کے تمام امور کا ذمہ دار ہوتا ہے… یہ خواب دیکھا کیونکہ قوم کے مصالح کا تعلق بادشاہ سے ہوتا ہے۔ اس بادشاہ نے ایک خواب دیکھا جس نے بادشاہ کو خوف زدہ کر دیا۔ اس نے اپنی قوم کے اہل علم اور اصحاب الرائے کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا:

43

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍۢ ۖ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ

اور کہا بادشاہ نے، بے شک میں دیکھتا ہوں (خواب میں ) ساتھ گائیں موٹی کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اور دوسری خشک، اے درباریو! تعبیر بتلاؤ تم مجھے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر کر سکتے (43) انھوں نے کہا، (یہ ہیں ) پریشان خواب اورنہیں ہیں ہم تعبیر ایسے خوابوں کی جاننے والے (44) اور کہا اس شخص نے جس نے نجات پائی تھی ان دونوں میں سےاور یاد آیا اسے بعد مدت کے، میں خبر دوں گا تمھیں اس کی تعبیر کے پس تم بھیجو مجھے (45)(اس نے جا کر کہا) اے یوسف! اے بہت ہی سچے! تعبیر بتلا ہمیں سات گائیوں کی بابت جو موٹی ہیں کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اوردوسری خشک تاکہ میں لوٹوں طرف لوگوں کی (اور) تاکہ وہ جان لیں (46) یوسف نے کہا، کاشت کرو گے تم سات سال لگاتار، پس جو کاٹو تم تو چھوڑ دو اسے اس کی بالی ہی میں مگر تھوڑا سا اس میں سے جو کھاؤ تم (47) پھر آئیں گے اس کے بعد سات سال سخت، وہ کھا جائیں گے اسے جو پہلے (ذخیرہ) کیا تم نے واسطے ان کے مگر تھوڑا سا اس (ذخیرے) میں سے جو محفوظ رکھو گے تم (بیج کے لیے)(48) پھر آئے گا اس (قحط سالی) کے بعد ایسا سال کہ اس میں بارش دیے جائیں گے لوگ اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے (49)

[43]﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ﴾ ’’میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ، ان کو کھاتی ہیں سات کمزور اور لاغر گائیں ۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ لاغر اور کمزور گائیں ، جن میں قوت ختم ہو چکی ہے وہ ایسی سات موٹی گایوں کو کھا جائیں جو انتہائی طاقتور ہوں ۔ ﴿وَ﴾ اور میں نے دیکھا ہے ﴿ سَبۡعَ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ﴾ ’’سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔‘‘ یعنی ان سات ہری بالیوں کو سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں ۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡ رُءۡيَايَ ﴾ ’’اے دربار والو! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ‘‘ کیونکہ سب کی تعبیر ایک تھی اس خواب کی تاویل بھی ایک ہی چیز تھی۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَؔ ﴾ ’’اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرنے والے۔‘‘

[44] پس وہ سخت حیران ہوئے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہ کر سکے۔ کہنے لگے: ﴿اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ﴾ ’’یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔‘‘ یعنی یہ ایسا پریشان خواب ہے جس کا کوئی حاصل ہے نہ اس کی کوئی تعبیر۔ یہ ان کی اس بارے میں حتمی رائے تھی جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے اور انھوں نے ایسی چیز کو عذر بنایا جو درحقیقت عذر ہی نہیں ، پھر انھوں نے کہا:﴿ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ہم تو صرف خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں ۔ رہے پریشان خواب جو شیطانی وسوسوں اور نفس کی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں تو ہم ان کی تفسیر نہیں جانتے۔پس انھوں نے جہالت، حتمی رائے کہ یہ پریشان خواب ہیں اور خود پسندی کو ایک جگہ کر دیا کیونکہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہم اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے اور یہ ایسا رویہ ہے جو اہل دین اور عقل مندوں کو زیب نہیں دیتا… نیز یہ یوسفu پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی ہے کیونکہ اگر شروع ہی سے، بادشاہ کے اعیان سلطنت اور ان کے علماء کے سامنے یہ خواب پیش ہونے اور ان کے اس کی تعبیر بتانے سے عاجز ہوئے بغیر، جناب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتائی ہوتی تو ان کی تعبیر کی اتنی وقعت نہ ہوتی۔ مگر جب بادشاہ نے یہ خواب علماء اور اعیان سلطنت کے سامنے پیش کیا اور وہ اس کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور بادشاہ کو خواب نے بہت زیادہ فکر میں ڈال دیا تھا، پس جب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتا دی تو ان کے ہاں یوسفu کی قدر اور وقعت بہت بڑھ گئی۔ یہ اس واقعہ کی نظیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے ذریعے سے جناب آدمu کی فضیلت ظاہر کی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا، وہ جواب نہ دے …

44

قَالُوٓا۟ أَضْغَٰثُ أَحْلَٰمٍۢ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی

اور کہا بادشاہ نے، بے شک میں دیکھتا ہوں (خواب میں ) ساتھ گائیں موٹی کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اور دوسری خشک، اے درباریو! تعبیر بتلاؤ تم مجھے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر کر سکتے (43) انھوں نے کہا، (یہ ہیں ) پریشان خواب اورنہیں ہیں ہم تعبیر ایسے خوابوں کی جاننے والے (44) اور کہا اس شخص نے جس نے نجات پائی تھی ان دونوں میں سےاور یاد آیا اسے بعد مدت کے، میں خبر دوں گا تمھیں اس کی تعبیر کے پس تم بھیجو مجھے (45)(اس نے جا کر کہا) اے یوسف! اے بہت ہی سچے! تعبیر بتلا ہمیں سات گائیوں کی بابت جو موٹی ہیں کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اوردوسری خشک تاکہ میں لوٹوں طرف لوگوں کی (اور) تاکہ وہ جان لیں (46) یوسف نے کہا، کاشت کرو گے تم سات سال لگاتار، پس جو کاٹو تم تو چھوڑ دو اسے اس کی بالی ہی میں مگر تھوڑا سا اس میں سے جو کھاؤ تم (47) پھر آئیں گے اس کے بعد سات سال سخت، وہ کھا جائیں گے اسے جو پہلے (ذخیرہ) کیا تم نے واسطے ان کے مگر تھوڑا سا اس (ذخیرے) میں سے جو محفوظ رکھو گے تم (بیج کے لیے)(48) پھر آئے گا اس (قحط سالی) کے بعد ایسا سال کہ اس میں بارش دیے جائیں گے لوگ اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے (49)

[43]﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ﴾ ’’میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ، ان کو کھاتی ہیں سات کمزور اور لاغر گائیں ۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ لاغر اور کمزور گائیں ، جن میں قوت ختم ہو چکی ہے وہ ایسی سات موٹی گایوں کو کھا جائیں جو انتہائی طاقتور ہوں ۔ ﴿وَ﴾ اور میں نے دیکھا ہے ﴿ سَبۡعَ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ﴾ ’’سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔‘‘ یعنی ان سات ہری بالیوں کو سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں ۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡ رُءۡيَايَ ﴾ ’’اے دربار والو! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ‘‘ کیونکہ سب کی تعبیر ایک تھی اس خواب کی تاویل بھی ایک ہی چیز تھی۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَؔ ﴾ ’’اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرنے والے۔‘‘

[44] پس وہ سخت حیران ہوئے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہ کر سکے۔ کہنے لگے: ﴿اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ﴾ ’’یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔‘‘ یعنی یہ ایسا پریشان خواب ہے جس کا کوئی حاصل ہے نہ اس کی کوئی تعبیر۔ یہ ان کی اس بارے میں حتمی رائے تھی جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے اور انھوں نے ایسی چیز کو عذر بنایا جو درحقیقت عذر ہی نہیں ، پھر انھوں نے کہا:﴿ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ہم تو صرف خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں ۔ رہے پریشان خواب جو شیطانی وسوسوں اور نفس کی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں تو ہم ان کی تفسیر نہیں جانتے۔پس انھوں نے جہالت، حتمی رائے کہ یہ پریشان خواب ہیں اور خود پسندی کو ایک جگہ کر دیا کیونکہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہم اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے اور یہ ایسا رویہ ہے جو اہل دین اور عقل مندوں کو زیب نہیں دیتا… نیز یہ یوسفu پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی ہے کیونکہ اگر شروع ہی سے، بادشاہ کے اعیان سلطنت اور ان کے علماء کے سامنے یہ خواب پیش ہونے اور ان کے اس کی تعبیر بتانے سے عاجز ہوئے بغیر، جناب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتائی ہوتی تو ان کی تعبیر کی اتنی وقعت نہ ہوتی۔ مگر جب بادشاہ نے یہ خواب علماء اور اعیان سلطنت کے سامنے پیش کیا اور وہ اس کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور بادشاہ کو خواب نے بہت زیادہ فکر میں ڈال دیا تھا، پس جب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتا دی تو ان کے ہاں یوسفu کی قدر اور وقعت بہت بڑھ گئی۔ یہ اس واقعہ کی نظیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے ذریعے سے جناب آدمu کی فضیلت ظاہر کی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا، وہ جواب نہ دے …

45

وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ

اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے

اور کہا بادشاہ نے، بے شک میں دیکھتا ہوں (خواب میں ) ساتھ گائیں موٹی کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اور دوسری خشک، اے درباریو! تعبیر بتلاؤ تم مجھے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر کر سکتے (43) انھوں نے کہا، (یہ ہیں ) پریشان خواب اورنہیں ہیں ہم تعبیر ایسے خوابوں کی جاننے والے (44) اور کہا اس شخص نے جس نے نجات پائی تھی ان دونوں میں سےاور یاد آیا اسے بعد مدت کے، میں خبر دوں گا تمھیں اس کی تعبیر کے پس تم بھیجو مجھے (45)(اس نے جا کر کہا) اے یوسف! اے بہت ہی سچے! تعبیر بتلا ہمیں سات گائیوں کی بابت جو موٹی ہیں کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اوردوسری خشک تاکہ میں لوٹوں طرف لوگوں کی (اور) تاکہ وہ جان لیں (46) یوسف نے کہا، کاشت کرو گے تم سات سال لگاتار، پس جو کاٹو تم تو چھوڑ دو اسے اس کی بالی ہی میں مگر تھوڑا سا اس میں سے جو کھاؤ تم (47) پھر آئیں گے اس کے بعد سات سال سخت، وہ کھا جائیں گے اسے جو پہلے (ذخیرہ) کیا تم نے واسطے ان کے مگر تھوڑا سا اس (ذخیرے) میں سے جو محفوظ رکھو گے تم (بیج کے لیے)(48) پھر آئے گا اس (قحط سالی) کے بعد ایسا سال کہ اس میں بارش دیے جائیں گے لوگ اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے (49)

[43]﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ﴾ ’’میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ، ان کو کھاتی ہیں سات کمزور اور لاغر گائیں ۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ لاغر اور کمزور گائیں ، جن میں قوت ختم ہو چکی ہے وہ ایسی سات موٹی گایوں کو کھا جائیں جو انتہائی طاقتور ہوں ۔ ﴿وَ﴾ اور میں نے دیکھا ہے ﴿ سَبۡعَ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ﴾ ’’سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔‘‘ یعنی ان سات ہری بالیوں کو سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں ۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡ رُءۡيَايَ ﴾ ’’اے دربار والو! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ‘‘ کیونکہ سب کی تعبیر ایک تھی اس خواب کی تاویل بھی ایک ہی چیز تھی۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَؔ ﴾ ’’اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرنے والے۔‘‘

[44] پس وہ سخت حیران ہوئے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہ کر سکے۔ کہنے لگے: ﴿اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ﴾ ’’یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔‘‘ یعنی یہ ایسا پریشان خواب ہے جس کا کوئی حاصل ہے نہ اس کی کوئی تعبیر۔ یہ ان کی اس بارے میں حتمی رائے تھی جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے اور انھوں نے ایسی چیز کو عذر بنایا جو درحقیقت عذر ہی نہیں ، پھر انھوں نے کہا:﴿ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ہم تو صرف خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں ۔ رہے پریشان خواب جو شیطانی وسوسوں اور نفس کی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں تو ہم ان کی تفسیر نہیں جانتے۔پس انھوں نے جہالت، حتمی رائے کہ یہ پریشان خواب ہیں اور خود پسندی کو ایک جگہ کر دیا کیونکہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہم اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے اور یہ ایسا رویہ ہے جو اہل دین اور عقل مندوں کو زیب نہیں دیتا… نیز یہ یوسفu پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی ہے کیونکہ اگر شروع ہی سے، بادشاہ کے اعیان سلطنت اور ان کے علماء کے سامنے یہ خواب پیش ہونے اور ان کے اس کی تعبیر بتانے سے عاجز ہوئے بغیر، جناب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتائی ہوتی تو ان کی تعبیر کی اتنی وقعت نہ ہوتی۔ مگر جب بادشاہ نے یہ خواب علماء اور اعیان سلطنت کے سامنے پیش کیا اور وہ اس کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور بادشاہ کو خواب نے بہت زیادہ فکر میں ڈال دیا تھا، پس جب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتا دی تو ان کے ہاں یوسفu کی قدر اور وقعت بہت بڑھ گئی۔ یہ اس واقعہ کی نظیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے ذریعے سے جناب آدمu کی فضیلت ظاہر کی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا، وہ جواب نہ دے …

46

يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍۢ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں

اور کہا بادشاہ نے، بے شک میں دیکھتا ہوں (خواب میں ) ساتھ گائیں موٹی کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اور دوسری خشک، اے درباریو! تعبیر بتلاؤ تم مجھے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر کر سکتے (43) انھوں نے کہا، (یہ ہیں ) پریشان خواب اورنہیں ہیں ہم تعبیر ایسے خوابوں کی جاننے والے (44) اور کہا اس شخص نے جس نے نجات پائی تھی ان دونوں میں سےاور یاد آیا اسے بعد مدت کے، میں خبر دوں گا تمھیں اس کی تعبیر کے پس تم بھیجو مجھے (45)(اس نے جا کر کہا) اے یوسف! اے بہت ہی سچے! تعبیر بتلا ہمیں سات گائیوں کی بابت جو موٹی ہیں کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اوردوسری خشک تاکہ میں لوٹوں طرف لوگوں کی (اور) تاکہ وہ جان لیں (46) یوسف نے کہا، کاشت کرو گے تم سات سال لگاتار، پس جو کاٹو تم تو چھوڑ دو اسے اس کی بالی ہی میں مگر تھوڑا سا اس میں سے جو کھاؤ تم (47) پھر آئیں گے اس کے بعد سات سال سخت، وہ کھا جائیں گے اسے جو پہلے (ذخیرہ) کیا تم نے واسطے ان کے مگر تھوڑا سا اس (ذخیرے) میں سے جو محفوظ رکھو گے تم (بیج کے لیے)(48) پھر آئے گا اس (قحط سالی) کے بعد ایسا سال کہ اس میں بارش دیے جائیں گے لوگ اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے (49)

[43]﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ﴾ ’’میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ، ان کو کھاتی ہیں سات کمزور اور لاغر گائیں ۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ لاغر اور کمزور گائیں ، جن میں قوت ختم ہو چکی ہے وہ ایسی سات موٹی گایوں کو کھا جائیں جو انتہائی طاقتور ہوں ۔ ﴿وَ﴾ اور میں نے دیکھا ہے ﴿ سَبۡعَ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ﴾ ’’سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔‘‘ یعنی ان سات ہری بالیوں کو سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں ۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡ رُءۡيَايَ ﴾ ’’اے دربار والو! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ‘‘ کیونکہ سب کی تعبیر ایک تھی اس خواب کی تاویل بھی ایک ہی چیز تھی۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَؔ ﴾ ’’اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرنے والے۔‘‘

[44] پس وہ سخت حیران ہوئے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہ کر سکے۔ کہنے لگے: ﴿اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ﴾ ’’یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔‘‘ یعنی یہ ایسا پریشان خواب ہے جس کا کوئی حاصل ہے نہ اس کی کوئی تعبیر۔ یہ ان کی اس بارے میں حتمی رائے تھی جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے اور انھوں نے ایسی چیز کو عذر بنایا جو درحقیقت عذر ہی نہیں ، پھر انھوں نے کہا:﴿ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ہم تو صرف خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں ۔ رہے پریشان خواب جو شیطانی وسوسوں اور نفس کی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں تو ہم ان کی تفسیر نہیں جانتے۔پس انھوں نے جہالت، حتمی رائے کہ یہ پریشان خواب ہیں اور خود پسندی کو ایک جگہ کر دیا کیونکہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہم اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے اور یہ ایسا رویہ ہے جو اہل دین اور عقل مندوں کو زیب نہیں دیتا… نیز یہ یوسفu پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی ہے کیونکہ اگر شروع ہی سے، بادشاہ کے اعیان سلطنت اور ان کے علماء کے سامنے یہ خواب پیش ہونے اور ان کے اس کی تعبیر بتانے سے عاجز ہوئے بغیر، جناب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتائی ہوتی تو ان کی تعبیر کی اتنی وقعت نہ ہوتی۔ مگر جب بادشاہ نے یہ خواب علماء اور اعیان سلطنت کے سامنے پیش کیا اور وہ اس کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور بادشاہ کو خواب نے بہت زیادہ فکر میں ڈال دیا تھا، پس جب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتا دی تو ان کے ہاں یوسفu کی قدر اور وقعت بہت بڑھ گئی۔ یہ اس واقعہ کی نظیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے ذریعے سے جناب آدمu کی فضیلت ظاہر کی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا، وہ جواب نہ دے …

47

قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًۭا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تَأْكُلُونَ

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا

اور کہا بادشاہ نے، بے شک میں دیکھتا ہوں (خواب میں ) ساتھ گائیں موٹی کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اور دوسری خشک، اے درباریو! تعبیر بتلاؤ تم مجھے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر کر سکتے (43) انھوں نے کہا، (یہ ہیں ) پریشان خواب اورنہیں ہیں ہم تعبیر ایسے خوابوں کی جاننے والے (44) اور کہا اس شخص نے جس نے نجات پائی تھی ان دونوں میں سےاور یاد آیا اسے بعد مدت کے، میں خبر دوں گا تمھیں اس کی تعبیر کے پس تم بھیجو مجھے (45)(اس نے جا کر کہا) اے یوسف! اے بہت ہی سچے! تعبیر بتلا ہمیں سات گائیوں کی بابت جو موٹی ہیں کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اوردوسری خشک تاکہ میں لوٹوں طرف لوگوں کی (اور) تاکہ وہ جان لیں (46) یوسف نے کہا، کاشت کرو گے تم سات سال لگاتار، پس جو کاٹو تم تو چھوڑ دو اسے اس کی بالی ہی میں مگر تھوڑا سا اس میں سے جو کھاؤ تم (47) پھر آئیں گے اس کے بعد سات سال سخت، وہ کھا جائیں گے اسے جو پہلے (ذخیرہ) کیا تم نے واسطے ان کے مگر تھوڑا سا اس (ذخیرے) میں سے جو محفوظ رکھو گے تم (بیج کے لیے)(48) پھر آئے گا اس (قحط سالی) کے بعد ایسا سال کہ اس میں بارش دیے جائیں گے لوگ اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے (49)

[43]﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ﴾ ’’میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ، ان کو کھاتی ہیں سات کمزور اور لاغر گائیں ۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ لاغر اور کمزور گائیں ، جن میں قوت ختم ہو چکی ہے وہ ایسی سات موٹی گایوں کو کھا جائیں جو انتہائی طاقتور ہوں ۔ ﴿وَ﴾ اور میں نے دیکھا ہے ﴿ سَبۡعَ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ﴾ ’’سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔‘‘ یعنی ان سات ہری بالیوں کو سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں ۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡ رُءۡيَايَ ﴾ ’’اے دربار والو! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ‘‘ کیونکہ سب کی تعبیر ایک تھی اس خواب کی تاویل بھی ایک ہی چیز تھی۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَؔ ﴾ ’’اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرنے والے۔‘‘

[44] پس وہ سخت حیران ہوئے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہ کر سکے۔ کہنے لگے: ﴿اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ﴾ ’’یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔‘‘ یعنی یہ ایسا پریشان خواب ہے جس کا کوئی حاصل ہے نہ اس کی کوئی تعبیر۔ یہ ان کی اس بارے میں حتمی رائے تھی جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے اور انھوں نے ایسی چیز کو عذر بنایا جو درحقیقت عذر ہی نہیں ، پھر انھوں نے کہا:﴿ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ہم تو صرف خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں ۔ رہے پریشان خواب جو شیطانی وسوسوں اور نفس کی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں تو ہم ان کی تفسیر نہیں جانتے۔پس انھوں نے جہالت، حتمی رائے کہ یہ پریشان خواب ہیں اور خود پسندی کو ایک جگہ کر دیا کیونکہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہم اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے اور یہ ایسا رویہ ہے جو اہل دین اور عقل مندوں کو زیب نہیں دیتا… نیز یہ یوسفu پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی ہے کیونکہ اگر شروع ہی سے، بادشاہ کے اعیان سلطنت اور ان کے علماء کے سامنے یہ خواب پیش ہونے اور ان کے اس کی تعبیر بتانے سے عاجز ہوئے بغیر، جناب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتائی ہوتی تو ان کی تعبیر کی اتنی وقعت نہ ہوتی۔ مگر جب بادشاہ نے یہ خواب علماء اور اعیان سلطنت کے سامنے پیش کیا اور وہ اس کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور بادشاہ کو خواب نے بہت زیادہ فکر میں ڈال دیا تھا، پس جب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتا دی تو ان کے ہاں یوسفu کی قدر اور وقعت بہت بڑھ گئی۔ یہ اس واقعہ کی نظیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے ذریعے سے جناب آدمu کی فضیلت ظاہر کی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا، وہ جواب نہ دے …

48

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌۭ شِدَادٌۭ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تُحْصِنُونَ

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے

اور کہا بادشاہ نے، بے شک میں دیکھتا ہوں (خواب میں ) ساتھ گائیں موٹی کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اور دوسری خشک، اے درباریو! تعبیر بتلاؤ تم مجھے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر کر سکتے (43) انھوں نے کہا، (یہ ہیں ) پریشان خواب اورنہیں ہیں ہم تعبیر ایسے خوابوں کی جاننے والے (44) اور کہا اس شخص نے جس نے نجات پائی تھی ان دونوں میں سےاور یاد آیا اسے بعد مدت کے، میں خبر دوں گا تمھیں اس کی تعبیر کے پس تم بھیجو مجھے (45)(اس نے جا کر کہا) اے یوسف! اے بہت ہی سچے! تعبیر بتلا ہمیں سات گائیوں کی بابت جو موٹی ہیں کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اوردوسری خشک تاکہ میں لوٹوں طرف لوگوں کی (اور) تاکہ وہ جان لیں (46) یوسف نے کہا، کاشت کرو گے تم سات سال لگاتار، پس جو کاٹو تم تو چھوڑ دو اسے اس کی بالی ہی میں مگر تھوڑا سا اس میں سے جو کھاؤ تم (47) پھر آئیں گے اس کے بعد سات سال سخت، وہ کھا جائیں گے اسے جو پہلے (ذخیرہ) کیا تم نے واسطے ان کے مگر تھوڑا سا اس (ذخیرے) میں سے جو محفوظ رکھو گے تم (بیج کے لیے)(48) پھر آئے گا اس (قحط سالی) کے بعد ایسا سال کہ اس میں بارش دیے جائیں گے لوگ اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے (49)

[43]﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ﴾ ’’میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ، ان کو کھاتی ہیں سات کمزور اور لاغر گائیں ۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ لاغر اور کمزور گائیں ، جن میں قوت ختم ہو چکی ہے وہ ایسی سات موٹی گایوں کو کھا جائیں جو انتہائی طاقتور ہوں ۔ ﴿وَ﴾ اور میں نے دیکھا ہے ﴿ سَبۡعَ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ﴾ ’’سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔‘‘ یعنی ان سات ہری بالیوں کو سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں ۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡ رُءۡيَايَ ﴾ ’’اے دربار والو! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ‘‘ کیونکہ سب کی تعبیر ایک تھی اس خواب کی تاویل بھی ایک ہی چیز تھی۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَؔ ﴾ ’’اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرنے والے۔‘‘

[44] پس وہ سخت حیران ہوئے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہ کر سکے۔ کہنے لگے: ﴿اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ﴾ ’’یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔‘‘ یعنی یہ ایسا پریشان خواب ہے جس کا کوئی حاصل ہے نہ اس کی کوئی تعبیر۔ یہ ان کی اس بارے میں حتمی رائے تھی جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے اور انھوں نے ایسی چیز کو عذر بنایا جو درحقیقت عذر ہی نہیں ، پھر انھوں نے کہا:﴿ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ہم تو صرف خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں ۔ رہے پریشان خواب جو شیطانی وسوسوں اور نفس کی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں تو ہم ان کی تفسیر نہیں جانتے۔پس انھوں نے جہالت، حتمی رائے کہ یہ پریشان خواب ہیں اور خود پسندی کو ایک جگہ کر دیا کیونکہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہم اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے اور یہ ایسا رویہ ہے جو اہل دین اور عقل مندوں کو زیب نہیں دیتا… نیز یہ یوسفu پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی ہے کیونکہ اگر شروع ہی سے، بادشاہ کے اعیان سلطنت اور ان کے علماء کے سامنے یہ خواب پیش ہونے اور ان کے اس کی تعبیر بتانے سے عاجز ہوئے بغیر، جناب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتائی ہوتی تو ان کی تعبیر کی اتنی وقعت نہ ہوتی۔ مگر جب بادشاہ نے یہ خواب علماء اور اعیان سلطنت کے سامنے پیش کیا اور وہ اس کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور بادشاہ کو خواب نے بہت زیادہ فکر میں ڈال دیا تھا، پس جب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتا دی تو ان کے ہاں یوسفu کی قدر اور وقعت بہت بڑھ گئی۔ یہ اس واقعہ کی نظیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے ذریعے سے جناب آدمu کی فضیلت ظاہر کی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا، وہ جواب نہ دے …

49

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌۭ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے

اور کہا بادشاہ نے، بے شک میں دیکھتا ہوں (خواب میں ) ساتھ گائیں موٹی کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اور دوسری خشک، اے درباریو! تعبیر بتلاؤ تم مجھے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر کر سکتے (43) انھوں نے کہا، (یہ ہیں ) پریشان خواب اورنہیں ہیں ہم تعبیر ایسے خوابوں کی جاننے والے (44) اور کہا اس شخص نے جس نے نجات پائی تھی ان دونوں میں سےاور یاد آیا اسے بعد مدت کے، میں خبر دوں گا تمھیں اس کی تعبیر کے پس تم بھیجو مجھے (45)(اس نے جا کر کہا) اے یوسف! اے بہت ہی سچے! تعبیر بتلا ہمیں سات گائیوں کی بابت جو موٹی ہیں کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اوردوسری خشک تاکہ میں لوٹوں طرف لوگوں کی (اور) تاکہ وہ جان لیں (46) یوسف نے کہا، کاشت کرو گے تم سات سال لگاتار، پس جو کاٹو تم تو چھوڑ دو اسے اس کی بالی ہی میں مگر تھوڑا سا اس میں سے جو کھاؤ تم (47) پھر آئیں گے اس کے بعد سات سال سخت، وہ کھا جائیں گے اسے جو پہلے (ذخیرہ) کیا تم نے واسطے ان کے مگر تھوڑا سا اس (ذخیرے) میں سے جو محفوظ رکھو گے تم (بیج کے لیے)(48) پھر آئے گا اس (قحط سالی) کے بعد ایسا سال کہ اس میں بارش دیے جائیں گے لوگ اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے (49)

[43]﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ﴾ ’’میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ، ان کو کھاتی ہیں سات کمزور اور لاغر گائیں ۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ لاغر اور کمزور گائیں ، جن میں قوت ختم ہو چکی ہے وہ ایسی سات موٹی گایوں کو کھا جائیں جو انتہائی طاقتور ہوں ۔ ﴿وَ﴾ اور میں نے دیکھا ہے ﴿ سَبۡعَ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ﴾ ’’سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔‘‘ یعنی ان سات ہری بالیوں کو سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں ۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡ رُءۡيَايَ ﴾ ’’اے دربار والو! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ‘‘ کیونکہ سب کی تعبیر ایک تھی اس خواب کی تاویل بھی ایک ہی چیز تھی۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَؔ ﴾ ’’اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرنے والے۔‘‘

[44] پس وہ سخت حیران ہوئے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہ کر سکے۔ کہنے لگے: ﴿اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ﴾ ’’یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔‘‘ یعنی یہ ایسا پریشان خواب ہے جس کا کوئی حاصل ہے نہ اس کی کوئی تعبیر۔ یہ ان کی اس بارے میں حتمی رائے تھی جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے اور انھوں نے ایسی چیز کو عذر بنایا جو درحقیقت عذر ہی نہیں ، پھر انھوں نے کہا:﴿ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ہم تو صرف خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں ۔ رہے پریشان خواب جو شیطانی وسوسوں اور نفس کی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں تو ہم ان کی تفسیر نہیں جانتے۔پس انھوں نے جہالت، حتمی رائے کہ یہ پریشان خواب ہیں اور خود پسندی کو ایک جگہ کر دیا کیونکہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہم اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے اور یہ ایسا رویہ ہے جو اہل دین اور عقل مندوں کو زیب نہیں دیتا… نیز یہ یوسفu پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی ہے کیونکہ اگر شروع ہی سے، بادشاہ کے اعیان سلطنت اور ان کے علماء کے سامنے یہ خواب پیش ہونے اور ان کے اس کی تعبیر بتانے سے عاجز ہوئے بغیر، جناب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتائی ہوتی تو ان کی تعبیر کی اتنی وقعت نہ ہوتی۔ مگر جب بادشاہ نے یہ خواب علماء اور اعیان سلطنت کے سامنے پیش کیا اور وہ اس کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور بادشاہ کو خواب نے بہت زیادہ فکر میں ڈال دیا تھا، پس جب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتا دی تو ان کے ہاں یوسفu کی قدر اور وقعت بہت بڑھ گئی۔ یہ اس واقعہ کی نظیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے ذریعے سے جناب آدمu کی فضیلت ظاہر کی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا، وہ جواب نہ دے …

50

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌۭ

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے

اور کہا بادشاہ نے، لے آؤ تم میرے پاس اس کو، پھر جب آیا اس کے پاس قاصد تو کہا یوسف نے، لوٹ جا طرف اپنے مالک اور پوچھ اس سے کہ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنھوں نے کاٹ لیے تھے ہاتھ اپنے؟ بے شک میرا رب ان کے مکر کو خوب جاننے والا ہے (50) کہا بادشاہ نے، کیا حال ہے تمھارا جب پھسلایا (ورغلایا) تھا تم نے یوسف کو اس کے نفس سے؟ انھوں نے کہا حاشا للہ، نہیں جانی ہم نے اس کے ذمے کوئی برائی، کہا عزیز (مصر) کی بیوی نے، اب واضح ہو گیا ہے حق ، میں نے ہی ورغلایا تھا اسے اس کے نفس سےاور بلاشبہ وہ البتہ سچوں میں سے ہے(51) یہ اس لیے تاکہ وہ جان لے کہ بے شک میں نے نہیں خیانت کی تھی اس کی پیٹھ پیچھےاور یہ کہ بے شک اللہ نہیں چلنے دیتا مکر خیانت کرنے والوں کا(52) اور نہیں بری کرتا میں اپنے نفس کو، بے شک نفس تو یقینا بہت حکم دینے والا ہے برائی ہی کا مگر جس پررحم کرے میرا رب بے شک میرا رب بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے (53) اور کہا بادشاہ نے، لاؤ تم میرے پاس اس کو ، خالص کروں گا میں اسے واسطے اپنی ذات کے، پھر جب بادشاہ نے بات چیت کی یوسف سے تو کہا، بے شک تو آج ہمارے ہاں مرتبے والا، امین ہے (54) یوسف نے کہا، بنا دے مجھے خزانوں (پیداوار) پر زمین کے (نگران)، بے شک میں نہایت نگہبانی کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں (55) اور اسی طرح اقتدار دیا ہم نے یوسف کو زمین (مصر) میں ، جگہ پکڑتا تھا اس (ملک) میں جہاں چاہتا، ہم پہنچاتے ہیں رحمت اپنی جسے چاہیں اور نہیں ضائع کرتے ہم اجر نیکی کرنے والوں کا (56) اور یقینا اجر آخرت کا بہت بہتر ہے واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور رہے وہ ڈرتے (57)

[50] جب قاصد بادشاہ اور لوگوں کے پاس واپس پہنچا اور انھیں یوسفu کی تعبیر کے بارے میں آگاہ کیا تو انھیں تعبیر سن کر تعجب ہوا اور بے حد خوش ہوئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَقَالَ الۡمَلِكُ﴾ ’’بادشاہ نے (وہاں موجود لوگوں سے) کہا‘‘ ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِهٖ﴾ ’’اسے میرے پاس لاؤ‘‘یعنی یوسفu کو قید خانے سے نکال کر میرے سامنے حاضر کرو۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوۡلُ ﴾ ’’پس جب بادشاہ کا ایلچی جناب یوسفu کے پاس آیا‘‘ اور اسے بادشاہ کے پاس حاضر ہونے کے لیے کہا تو انھوں نے اس وقت تک قید خانے سے باہر آنے سے انکار کر دیا جب تک کہ ان کی براء ت مکمل طور پر لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہو جاتی۔ یہ چیز ان کے صبر، عقل اور اصابت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ اس وقت انھوں نے بادشاہ کے ایلچی سے کہا: ﴿ ارۡجِـعۡ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ ’’بادشاہ کے پاس واپس جا‘‘ ﴿فَسۡـَٔؔلۡهُ مَا بَالُ النِّسۡوَةِ الّٰتِيۡ قَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّ﴾ ’’بادشاہ سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔‘‘ کیونکہ ان کا معاملہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’میرا رب تو ان کا فریب، سب جانتا ہے۔‘‘

[51] بادشاہ نے ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے پوچھا ﴿مَا خَطۡبُكُنَّ﴾ ’’تمھارا کیا معاملہ ہے؟‘‘ ﴿ اِذۡ رَاوَدۡتُّنَّ يُوۡسُفَ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلانا چاہا تھا؟‘‘ کیا تم نے یوسف میں کوئی برائی دیکھی؟ ان عورتوں نے یوسفu کی براء ت کا اقرار کیا اور کہنے لگیں :﴿ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمۡنَا عَلَيۡهِ مِنۡ سُوۡٓءٍ﴾ ’’حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔‘‘ یعنی تھوڑا یا بہت ہم نے اس میں کوئی عیب نہیں دیکھا۔ تب وہ سبب زائل ہوگیا جس پر تہمت کا دارومدار تھا۔ اب کوئی سبب باقی نہ بچا سوائے اس الزام کے جو عزیز مصر کی بیوی نے لگایا تھا۔ ﴿ قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ الۡـٰٔنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ﴾ ’’عزیز کی بیوی نے کہا، اب حق واضح ہو گیا ہے‘‘ یعنی حق واضح ہوگیا ہے جبکہ ہم نے یوسف کو برائی اور تہمت میں ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی جو اس کو محبوس کرنے کا باعث بنا۔ ﴿ اَنَا رَاوَدۡتُّهٗ …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.