Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 41–50 of 111

41

يَٰصَىٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًۭا ۖ وَأَمَّا ٱلْءَاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ ۚ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ

میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے

يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ۔۔ : تعبیر بیان کرتے وقت یوسف (علیہ السلام) کے حسن ادا کو ملاحظہ فرمائیں، ایک تو دونوں میں سے ایک کو متعین کرکے نہیں فرمایا کہ تیرے خواب کا یہ نتیجہ ہے اور تیرے خواب کا یہ، حالانکہ جواب سے ظاہر تھا کہ ساقی نے عہدے پر بحال ہونا ہے اور دوسرے نے سولی چڑھنا ہے، بلکہ فرمایا تم میں سے ایک کی تعبیر یہ ہے اور ایک کی یہ۔ پھر اس بات کو بھی سامنے رکھیے کہ پہلے وہ تعبیر بتائی جو خوش خبری والی تھی، دوسری بعد میں بتائی۔ مقصد یہ تھا کہ دل شکنی میں جتنی بھی دیر ہو سکے کی جائے اور خوشی کی خبر جتنی جلد ہو سکے پہنچائی جائے۔ - قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِ : یعنی یہ فیصلہ ہوچکا جو اب ٹل نہیں سکتا ہے۔ یہاں لفظ ” قُضِيَ “ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلی آیت میں جو لفظ ” ظَنَّ “ آ رہا ہے وہ یہاں یقین کے معنی میں ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ خواب کی تعبیر اجتہادی ظن تھا، لہٰذا یہ ظن اصلی معنی میں ہے۔ (ابن کثیر، روح المعانی) موضح میں ہے : ” ظَنَّ “ فرمایا، معلوم ہوا کہ تعبیر خواب یقین نہیں اٹکل ہے، مگر پیغمبر اٹکل کرے تو بیشک ہے، یعنی اٹکل نہیں ہے۔ “

42

وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍۢ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے

وَقَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ قید خانے میں رہنا جو بقول بعض زندوں کا قبرستان ہے، کس قدر تکلیف دہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) جیسے صابر شخص نے اس آدمی سے کہا جس کے متعلق انھوں نے سمجھا تھا کہ وہ رہا ہونے والا ہے کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا کہ کس طرح ایک شخص بلاجرم قید میں بند ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت سے نکلنے کے لیے دنیا کے جو اسباب اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں انھیں اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں، جیسا کہ : (ۘوَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠ ) [ المائدۃ : ٢ ] (نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو) سے ظاہر ہے اور جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (3 مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ [ آل عمران : ٥٢ ] ” اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں ؟ “ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف سے واپسی پر مطعم بن عدی کی طرف پیغام بھیجا، پھر اس کی پناہ میں مکہ میں داخل ہوئے، بلکہ مسلمان کو دنیا کا ہر جائز سبب اختیار کرنا چاہیے، فرمایا : (وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ ) [ الأنفال : ٦٠ ] یعنی ان کفار کے لیے جس قدر تمہاری استطاعت ہے تیاری رکھو، البتہ بھروسا اس کے بعد بھی اللہ ہی پر ہوگا۔ - 3 شیطان نے اس ساقی کو اپنے مالک یعنی بادشاہ کے پاس یہ ذکر کرنا بھلا دیا، سو یوسف (علیہ السلام) کئی سال قید میں رہے۔ شیطان کی آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد سے دشمنی کا تو قرآن شاہد ہے : (اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ) [ البقرۃ : ١٦٨ ] ” بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ “ اور قرآن نے صراحت کی ہے کہ ساقی کو بھلانا شیطان کا کام تھا، اس کے باوجود بعض اہل علم نے ساقی کو بادشاہ کے پاس اپنا ذکر کرنے کے لیے کہنا یوسف (علیہ السلام) کی عزیمت اور شان پیغمبری کے خلاف قرار دیا ہے اور اتنے سال جیل میں رہنے کا باعث یہ قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کا دل اسباب پر نہ ٹھہرے۔ اس سلسلے میں یہ حضرات وہ روایت بھی پیش کرتے ہیں جو ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ بیان کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر یوسف (علیہ السلام) وہ بات نہ کہتے جو انھوں نے کہی تو اتنی لمبی مدت قید میں نہ رہتے، کیونکہ انھوں نے غیر اللہ کے ہاں سے مصیبت دور کروانا چاہی۔ “ حافط ابن کثیر (رض) نے فرمایا : ” یہ روایت نہایت ضعیف ہے، کیونکہ اس کا راوی سفیان بن وکیع ضعیف ہے اور (اس کا شیخ) ابراہیم بن یزید (الجوزی) اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ “- لَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ : ” بِضْعَ “ کا لفظ تین سے لے کر نو تک کے لیے آتا ہے۔ قرآن و سنت میں اس مدت کی تعیین کہیں نہیں آئی۔ تابعین میں سے کسی نے سات سال کہا، کسی نے کم و بیش، مگر اب ان سے کون پوچھے کہ آپ کو کس نے یہ مدت بتائی، اگر بنی اسرائیل سے آئی ہے تو اس پر تو اعتبار ممکن نہیں، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق ہم نہ اسے سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ سو اصل یہی ہے کہ وہ مدت دس سال سے کم تھی اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی تھی۔

43

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍۢ ۖ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ

وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْٓ ۔۔ : مصر کے بادشاہ کا یہ خواب اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں یوسف (علیہ السلام) کی قید سے عزت و تکریم کے ساتھ رہائی کا سبب تھا، اس خواب نے شاہ مصر کو نہایت خوف زدہ اور پریشان کردیا، چناچہ اس نے اپنے علم تعبیر کے تمام ماہروں اور سب سرداروں کو جمع کرکے خواب سنایا اور تعبیر کی فرمائش کی۔ - يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر بھی فتویٰ کا حکم رکھتی ہے، جس طرح فتویٰ علم کے بغیر جائز نہیں، خواب کی تعبیر کا بھی اگر فی الواقع علم ہو تو بتانی چاہیے، ورنہ علم کے بغیر تعبیر کرنے والے اس حدیث کے مصداق ہوں گے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ لاَ یَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا یَنْتَرِعُہُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلٰکِنْ یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّی إِذَا لَمْ یُبْقَ عَالِمَا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوْسًا جُھَّالاً ، فَسُءِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَ أَضَلُّوْا ([ بخاری، العلم، باب کیف یقبض العلم : ١٠٠ ] ” اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ اسے علماء کے سینے سے نکال لے، بلکہ علم کو علماء کے فوت کرلینے کے ساتھ قبض کرے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہل سردار بنالیں گے، پھر ان سے سوال کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتویٰ دیں گے، سو خود گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ “ اس حدیث سے تک بندی اور اٹکل پچو سے تعبیر بتانے والے اپنا انجام سوچ لیں۔ - معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ کو اپنے درباریوں سے امید نہ تھی کہ وہ اس خواب کی تعبیر کرسکیں گے، اسی لیے کہا : ” اگر تم خواب کی تعبیر کیا کرتے ہو۔ “

44

قَالُوٓا۟ أَضْغَٰثُ أَحْلَٰمٍۢ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی

قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ ۔۔ : ” اَضْغَاثُ “ ” ضِغْثٌ“ کی جمع ہے، آپ گھاس کا ایک مٹھا اکھاڑیں، اس میں ملا جلا جو کچھ ہاتھ میں آئے اسے ” ضِغْثٌ“ کہتے ہیں، یعنی یہ خوابوں کی ملی جلی پریشان باتیں ہیں، کوئی مرتب یا واضح خواب نہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ علم تعبیر میں مہارت کے دعوؤں کو قائم رکھنے کے لیے انھوں نے خواب ہی کو پریشان خیالوں کا مجموعہ قرار دے دیا، جیسا کہ کہاوت ہے ” ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ “

45

وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ

اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے

وَقَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ ۔۔ : ” وَادَّكَرَ “ ” ذَکَرَ یَذْکُرُ “ (ن) سے باب افتعال ہے، اصل میں ” اِذْتَکَرَ “ تھا، پھر افتعال کی تاء کو دال اور اس کے ساتھ ہی ذال کو بھی دال میں بدل کر ” ِادَّكَرَ “ کردیا، بمعنی یاد کیا۔ ” اُمَّةٍ “ کے کئی معانی ہیں جن میں سے ایک معنی مدت بھی ہے، تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اس وقت ساقی کو جس نے یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر کے بعد قید سے رہائی پائی تھی اور یوسف (علیہ السلام) کے کہنے کے باوجود سرے سے ان کی بات بھول چکا تھا، اتنی لمبی مدت کے بعد یوسف (علیہ السلام) اور ان کی علم تعبیر میں مہارت یاد آئی اور اس نے کہا میں تمہیں اس کی تعبیر بتاتا ہوں، آپ مجھے بھیجیں، چناچہ اسے اجازت مل گئی اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا۔ - اس ساقی کے رویے سے سرکاری و درباری کارندوں کے کردار پر بھی بڑی روشنی پڑتی ہے کہ وہ ہمیشہ کریڈٹ کے چکر میں رہتے ہیں۔ (الا ماشاء اللہ) اس کا یہ کہنا حقیقت سے کس قدر دور تھا کہ میں تمہیں تعبیر بتاتا ہوں، اس کا حق تھا کہ اپنے محسن کا ذکر کرتا، انھیں عزت سے بلواتا اور بادشاہ سے درخواست کرتا کہ ان سے تعبیر پوچھیں، مگر وہ اس چکر ہی سے نہیں نکلا کہ ” میں تمہیں بتاتا ہوں۔ “ کتنے ہی سرکاری افسر اور سرمایہ دار ہیں جو دوسروں کی علمی محنت کو اپنے نام لگا کر ڈگریاں حاصل کرتے یا اپنی علمی شان کا سکہ جماتے ہیں، مگر یہ سب بےچارے اسی مرض کے مریض ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بعض اہل کتاب کا بتایا ہے : (وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) [ آل عمران : ١٨٨ ] ” اور وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے، پس تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہرگز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ “

46

يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍۢ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں

يُوْسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ ۔۔ : ” يُوْسُفُ “ سے پہلے حرف ندا ” یَا “ وغیرہ محذوف ہے، جس کی وجہ سے یہ مبنی علی الضم ہے۔ ” الصِّدِّيْقُ “ ” صَدَقَ “ کے اسم فاعل میں مبالغہ ہے جو ہر حال میں اپنے قول، فعل اور حال کا سچا ہو، جس کی عادت ہی ہر حال میں سچ ہو، اس کا قول سچ ہو اور اس کا فعل اور حال بھی اس کے مطابق ہو۔ صدیقیت کے کئی درجے ہیں، مومن بھی صدیق ہے بمقابلہ کافر (دیکھیے حدید : ١٩) اور ابوبکر بھی صدیق ہیں اور امت میں اس درجے کا کوئی صدیق نہیں۔ ابراہیم اور ادریس ( علیہ السلام) کے بارے میں سورة مریم (٤١، ٥٦) میں ” صِدِّیْقاً نَّبِیَّا “ آتا ہے، یوسف (علیہ السلام) بھی صدیق ہیں۔ ساقی کو ان کا صدیق ہونا تعبیر سے پہلے بھی مشاہدے سے ثابت ہوچکا تھا، اسی لیے انھوں نے کہا : ( اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ ) [ یوسف : ٣٦ ] پھر تعبیر کے بعد عین اسی طرح واقع ہونے سے ان کے صدیق ہونے کی مزید تصدیق ہوگئی۔ - یہاں ساقی کا رویہ دیکھیں کہ اس کی طرف سے بھول جانے کی معذرت کا کوئی ذکر نہیں اور یوسف (علیہ السلام) کے سینے کی وسعت دیکھیں، پوچھا ہی نہیں کہ تمہیں اتنی دیر یوسف صدیق یاد نہ آیا، اب کیا لینے آئے ہو۔ غرض کے بندوں اور محسنین کا یہی فرق ہے ۔- ساقی نے خواب دیکھنے والے کا ذکر نہیں کیا، البتہ خواب عین انھی الفاظ میں بیان کیا جو بادشاہ کے تھے، کیونکہ ایک لفظ کے فرق سے بھی مطلب کچھ اور بن جاتا ہے۔ قرآن میں دونوں جگہ خشک گائیوں کے موٹی گایوں کو کھانے کا ذکر تو ہے مگر خشک خوشوں کے سبز خوشوں پر لپٹنے کا ذکر مفسرین نے کہاں سے لیا ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ساقی نے درخواست کی کہ آپ ہمیں اس خواب کے بارے میں فتویٰ دیں (تعبیر بتائیں) لوگ منتظر ہیں، تاکہ میں جا کر انھیں بتاؤں اور وہ بھی جان لیں۔

47

قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًۭا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تَأْكُلُونَ

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا ۔۔ : ” دَاَبًا “ ” تَزْرَعُوْنَ “ کی ضمیر سے حال ہے، یعنی ” دَاءِبِیْنَ “ مسلسل پے در پے محنت سے کاشت کرنے والے۔ یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر کے ساتھ ہی حل بھی بتایا۔ یہاں ” تَزْرَعُوْنَ “ بمعنی ” اِزْرَعُوْا “ ہے، یعنی ” سات سال مسلسل محنت سے کاشت کرو “ کیونکہ آگے آ رہا ہے کہ جو کچھ کاٹو اسے سٹوں میں رہنے دو ۔ زیادہ تاکید کرنی ہو تو امر کو مضارع کی صورت میں لاتے ہیں، جیسے فرمایا : (وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ ) [ البقرۃ : ٨٣ ] ” اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے۔ “ آج سے ہزاروں سال پہلے یوسف (علیہ السلام) نے گندم کو گھن، سسری اور کیڑے وغیرہ سے محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ بتایا، جدید ترین محققین بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکے۔- اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ : یعنی خوشوں سے صرف اتنی گندم صاف کرو جو کھانی ہے اور وہ بھی کم از کم، تاکہ زیادہ سے زیادہ محفوظ رہ سکے اور ان سات سالوں میں آدمیوں کے علاوہ بھس بھی جانوروں کے کام آسکے۔ کم کھانے کی تاکید پر طب اور شرع دونوں متفق ہیں۔ اس کی حد ہمارے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو چند لقمے بیان فرمائی، فرمایا : ( فَإِنْ کَانَ لَا مَحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہٖ وَثُلُثٌ لِشَرَابِہٖ وَثُلُثٌ لِنَفْسِہٖ ) [ ترمذی، الزھد، باب ما جاء في کراھیۃ کثرۃ الأکل : ٢٣٨٠، و صححہ الألبانی ]” اگر ضرور ہی زیادہ کھانا ہو تو پیٹ کا ایک حصہ کھانے، ایک پینے اور ایک سانس کے لیے رکھو۔ “

48

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌۭ شِدَادٌۭ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تُحْصِنُونَ

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ ۔۔ :” تُحْصِنُوْنَ “ ” حِصْنٌ“ قلعے کو کہتے ہیں، مراد حفاظت سے رکھنا ہے، یعنی خوش حالی کے سات سالوں کا ذخیرہ تم لوگ قحط کے سات سالوں میں چٹ کر جاؤ گے، مگر وہ تھوڑا سا جو تم آئندہ سال کے بیج کے لیے بڑی محنت سے بچا کر محفوظ رکھو گے۔

49

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌۭ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ ۔۔ :” يُغَاثُ “ ” غَیْثٌ“ سے بھی ہوسکتا ہے اور ” غَوْثٌ“ سے بھی۔ ” غَیْثٌ“ سے ہو تو بارش برسائے جائیں گے اور ” غَوْثٌ“ سے ہو تو مدد کیے جائیں گے۔ ” يَعْصِرُوْنَ “ ” نچوڑیں گے “ یعنی اس سال وہ پھل جن سے رس نکلتا ہے، مثلاً انگور، لیموں وغیرہ اور وہ بیج جن سے تیل نکلتا ہے، مثلاً زیتون، سرسوں وغیرہ کثرت سے پیدا ہوں گے اور جانور بھی اچھا چارا ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دیں گے۔ اس بنا پر بعض نے ” يَعْصِرُوْنَ “ کے معنی ” یَحْلِبُوْنَ “ (دودھ دو ہیں گے) کیے ہیں۔ یہ بات کہ قحط کے سات سالوں کے بعد ایک خوش حالی کا سال آئے گا، خواب سے زائد بتائی، یا تو وحی الٰہی کے ذریعے سے، یا خشک سالوں کی گنتی سات ہونے سے استدلال فرمایا کہ وہ سات تبھی رہتے ہیں جب ان کے بعد کم از کم ایک خوش حالی کا سال ہو اور اس سے بھی کہ اللہ کی رحمت کا تقاضا بھی شدت کے بعد آسانی کا ہے۔ - اس سے معلوم ہوا کہ کبھی کافر کا خواب بھی سچا ہوتا ہے، اگر بادشاہ کا کافر ہونا ثابت ہو۔ اس سے پہلے دونوں قیدی جو مشرک تھے، ان کے خواب بھی سچے نکلے۔ امام بخاری (رض) نے بھی ” کِتَاب التَّعْبِیْرِ “ میں اس سے یہ استدلال فرمایا ہے : ” بَابُ رُؤْیَا أَہْلِ السُّجُوْنِ وَالْفَسَادِ وَالشِّرْکِ “ ” قیدیوں اور اہل شرک و فساد کے خواب کا بیان۔ “

50

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌۭ

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ : یعنی جب ساقی نے جا کر تعبیر بتائی تو بادشاہ نے کہا : ” اسے میرے پاس لاؤ۔ “ اس سے علم کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ حسن بےمثال قید اور مصیبت کا باعث بنا اور علم رہائی کا۔ دنیا میں جب یہ حال ہے تو آخرت میں علم نافع کی برکتوں کا آپ خود اندازہ فرما لیں۔ - قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ ۔۔ : یوسف (علیہ السلام) نے قید سے نکل کر قاصد کے ساتھ جانے کے بجائے مطالبہ کیا کہ واپس جاؤ اور بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، یقیناً میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) کا خیال تھا کہ شاید بادشاہ کو میرے قید میں بھیجے جانے یا عورتوں کے فریب کے معاملے کا علم ہی نہ ہو، دوسرے وزیروں نے ازخود ہی یہ سب کچھ کیا ہو، یا اگر علم ہو تو جس طرح بدنام کرکے قید کیا گیا اسی کے مطابق علم ہو۔ اسی طرح عام لوگوں میں بھی ممکن ہے کچھ لوگ ان کا قصور سمجھتے ہوں، اس لیے انھوں نے جب تک تحقیق کے ساتھ تہمت سے ہر طرح صفائی نہ ہو، قید سے نکلنے سے انکار کردیا۔ ہمارے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوسف (علیہ السلام) کے صبر کی تعریف فرمائی، چناچہ ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ یُوْسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِيْ لَأَجَبْتُہٗ ) [ بخاری، التعبیر، باب رؤیا أہل السجون والفساد والشرک : ٦٩٩٢ ] ” اگر میں اتنی مدت قید خانے میں رہتا جتنی مدت یوسف (علیہ السلام) رہے، پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں ضرور اس کی دعوت قبول کرتا۔ “ - 3 یوسف (علیہ السلام) نے جو مطالبہ کیا کہ ” بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے “ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اپنے ہاتھ کاٹنے والی عورتوں کا یہ فعل (عزیز کی بیوی ہاتھ کاٹنے والیوں میں شامل نہیں تھی) یوسف (علیہ السلام) کے حسن سے بےخود ہو کر بےاختیاری میں نہیں ہوا، بلکہ یہ باقاعدہ ان کی سازش اور فریب تھا، جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بھی ذکر کیا ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.