فانساہ الشیطن کے دو مفہوم - قول باری ہے وقال للذین ظن انہ تاج منھما اذکرنی عند ربک فانساہ الشیطن ذکر ربہ فلبث فی السجن بضع سنین ۔ پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب شاہ مصر سے میرا ذکر کرنا۔ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب شاہ مصر سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف کئی سال قید میں پڑا رہا ۔ یہاں ظن یقین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی اس تعبیر کے وقوع پذیرہونے کا یقین تھا جو آپ نے اسے بتائی تھی ۔ یہاں ظن بمعنی یقین کے استعمال کی مثال یہ آیت ہے۔ انی ظنت انی ملاق حسابیہ مجھے یقین تھا کہ مجھے اپنے اعمال کے حساب و کتاب کا سامنا کرنا ہے۔ یہاں طننت بمعنیالقینت ہے یعنی مجھے یقین تھا۔ قول باری فانساہ الشیطان میں ضمیر مفعول حضرت ابن عباس (رض) سے مروی تفسیر کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ حسن بصری اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ اس قیدی کی طرف راجع ہے جو رہا ہو کر اپنے آقا شاہ مصر کو شراب پلانے والا تھا۔- آیت میں یہ بیان ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کئی سالوں تک قید میں پڑے رہنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے رہا ہونے والے قیدی سے یہ کہا تھا کہ بادشا ہ کے پاس میرا تذکرہ کردینا ۔ آپ نے یہ بات ایک قسم کی غفلت کی بنا پر کہی تھی۔ اگر حضرت ابن عباس (رض) کی تاویل اختیار کی جائے کہ شیطان نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کیذہن سے اللہ کی یاد بھلا دی تھی جب کہ اس حالت قید میں اللہ کو یاد کرنا بہتر تھا، نیز اللہ کی یاد کو چھوڑ کر رہا ہونے والے قیدی سے یہ کہنا نہیں چاہیے تھا کہ اپنے آقا کے پاس میرا تذکرہ کرنا ۔ تو اس تاویل کی بنا پر ایسے وقت میں اللہ کی یاد سے غفلت اور بےتوجہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کئی سالوں تک قید میں پڑے رہنے کا سبب بن گئی ۔ اگر دوسری تاویل اختیار کی جائے جس کے مطابق شیطان نے رہا جانے والے قیدی کو جو اپنے آقا کا ساقی بننے والا تھا غفلت میں ڈال دیا تھا تو اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے یہ کہا تھا تو ساقی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شیطانی وس اس و خیالات کے ساتھ تنہا چوڑ دیا جس کے نتیجے میں شیطان نے اس کے ذہن سے اپنے آقا کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کے تذکرے کی بات نکال دی ۔ لفظ بضع کے متعق حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ یہ تین سے لے کر دس تک ہوتا ہے۔ مجاہد اور قتادہ کے قول کے مطابق نو تک ہوتا ہے۔ وہب کا قو ل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) قید میں سات برس تک رہے۔