فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍۢ مِّنْهُنَّ سِكِّينًۭا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٌۭ كَرِيمٌۭ
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
اور کہا عورتوں نے شہر (مصر) میں کہ عزیز مصر کی بیوی نے پھسلایا (ورغلایا) اپنے غلام کو اس کے نفس سے، تحقیق غالب آگیا ہے یوسف اس پر ازروئے محبت کے، بے شک ہم البتہ دیکھتی ہیں اسے گمراہی ظاہر میں (30) پس جب اس عورت نے سنی ملامت ان کی تو اس نے (پیغام) بھیجا ان کی طرف (بلانے کو) اور تیار کیں ان کے لیے نشست گاہیں اور دی اس نے ہر ایک عورت کو ان میں سے ایک چھری اور کہا (یوسف سے) نکل ان پر، پس جب ان عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو بہت بڑا جانا اسے اور کاٹ لیے اپنے ہاتھ اور بولیں ، حاشاللہ! (پاکیزگی اللہ کی)، نہیں ہے یہ بشر، نہیں ہے یہ مگر فرشتہ نہایت معزز(31) اس نے کہا، پس یہی تو ہے وہ شخص کہ ملامت کی تم نے مجھے اس کے بارے میں اور البتہ تحقیق ورغلایا تھا میں نے اسے اس کے نفس سے، پس وہ بچ گیا اور البتہ اگر نہ کیا اس نے جو حکم دیتی ہوں میں اسے تو ضرور قید کیا جائے گا اور یقینا ہو گا بے عزت ہونے والوں میں سے (32) یوسف نے کہا، اے رب! قید خانہ زیادہ پسند ہے مجھے اس سے کہ بلاتی ہیں یہ عورتیں مجھے اس کی طرف اور اگر نہ پھیرے گا تو مجھ سے ان کا مکر تو مائل ہو جاؤں گا میں طرف ان کی اور ہو جاؤں گا میں جاہلوں میں سے (33) پس قبول کر لی (دعا) اس کی اس کے رب نے، سو پھیر دیا اس نے اس سے مکران عورتوں کا، بے شک وہی ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (34) پھر ظاہر ہو اواسطے ان کے بعد اس کے کہ دیکھ لیں انھوں نے نشانیاں کہ بہر صورت قید کریں وہ لوگ اس (یوسف) کو کچھ وقت تک (35)
[30] یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں : ﴿ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہو گیا ہے‘‘ یہ کام بہت برا ہے۔ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غلام پر ڈورے ڈالتی رہی جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی ﴿ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾ ’’اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔‘‘ یعنی یوسفu کی محبت عورت کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے۔ ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىهَا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں ‘‘ یہ عورت اس حالت کو پہنچ گئی ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں ، یہ حالت لوگوں کے ہاں اس کی قدر و قیمت گھٹا دے گی۔
[31] ان عورتوں کا اس قول سے مجرد ملامت اور محض لعن طعن مقصود نہیں تھا بلکہ یہ ان کی ایک چال تھی۔ وہ درحقیقت یہ بات کہہ کر جناب یوسفu تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھیں جن کی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی فتنے میں پڑ گئی… تاکہ یہ بات سن کر عزیز مصر کی بیوی غصے میں آئے اور ان کے سامنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کے لیے یوسفu کا دیدار کروا دے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر قرار دیا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَؔكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ ﴾ ’’جب اس نے ان کا فریب سنا تو ان کو بلوا بھیجا‘‘ ان کو اپنے گھر ایک ضیافت پر بلایا ﴿ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَاً ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک مجلس تیار کی‘‘ ان کے لیے ایک ایسی جگہ تیار کی جہاں مختلف اقسام کے فرش بچھے ہوئے تھے جن پر تکیے لگے ہوئے تھے اور کھانے سجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں اس ضیافت میں عزیز مصر کی بیوی نے کچھ ایسے کھانے بھی پیش کیے جن میں چھری کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً:لیموں وغیرہ۔ ﴿ وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا ﴾ ’’اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی‘‘ تاکہ اس چھری سے وہ مخصوص کھانا کاٹ سکیں۔ ﴿ وَّقَالَتِ ﴾ اور یوسفu سے بولی: ﴿ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّ﴾ ’’ان کے سامنے نکل آؤ‘‘ اپنے پورے جمال اور …