فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍۢ مِّنْهُنَّ سِكِّينًۭا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٌۭ كَرِيمٌۭ
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ ۔۔ : اس آیت کی تفسیر اکثر بلکہ تقریباً سبھی مفسرین نے یہ کی ہے اور اس کے لیے جس تاویل کی ضرورت پڑی وہ بھی کرتے گئے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب شہر میں اس واقعہ کی شہرت ہوئی تو عورتوں نے طعن و تشنیع اور ملامت کے تیر برسانا شروع کردیے کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے غلام کو پھسلا رہی ہے اور اس کی اتنی دیوانی ہوگئی ہے جو اس کی حیثیت کے خلاف ہے۔ جب عزیز کی بیوی نے ان کی ملامت کو سنا۔ (قرآن میں لفظ ہے کہ جب اس نے ان کے مکر کو سنا۔ مکر کا سیدھا سا معنی ” فریب، سازش، خفیہ تدبیر “ ہوتا ہے، مگر ہمارے مفسرین نے اسے درست کرنے کے لیے کہا کہ وہ ظاہر تو ملامت کر رہی تھیں مگر حقیقت میں وہ یوسف کا حسن دیکھنا چاہتی تھیں، ان کے مکر سے مراد یہ ہے) خیر جب اس نے ان کی ملامت کو سنا تو اس نے ان کی ملامت کے جواب میں اپنے فعل کا جواز پیش کرنے اور اپنے بےاختیار ہوجانے کے سبب کا مشاہدہ کروانے کے لیے چند خاص عورتوں کو دعوت دی اور ان کے لیے یہ مجلس آراستہ کی۔ اب جب مجلس جوبن پر تھی، چھریوں سے گوشت اور پھل کاٹے جا رہے تھے، تو یوسف (علیہ السلام) سے کہا، ان کے سامنے آؤ۔ جب انھوں نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو ان کے حسن کو دیکھ کر ایسی بےخود ہوئیں کہ انھیں خیال ہی نہ رہا کہ ہم پھل کاٹ رہی ہیں یا اپنے ہاتھ، وہ انھیں دیکھتی ہی رہ گئیں اور چھریاں ان کے ہاتھوں پر چل گئیں، جس سے انھوں نے اپنے ہاتھ بری طرح کاٹ لیے ( َقَطَّعْنَ باب تفعیل مبالغہ کے لیے ہے) اور محویت میں انھیں درد کا احساس ہی نہیں ہوا اور کہنے لگیں، اللہ کی پناہ یہ کوئی آدمی نہیں، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ (یعنی حسن میں فرشتہ قرار دیا جس طرح بدصورتی میں شیطان کہا جاتا ہے) عزیز کی بیوی نے کہا کہ پھر یہی ہے وہ جس کے متعلق تم نے مجھے ملامت کی ۔۔ عام تفاسیر کا خلاصہ یہ ہے، مگر اصل صورت واقعہ کچھ اور معلوم ہوتی ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) بچے تھے، جب وہ ان کے گھر میں غلام کی حیثیت سے آئے تھے۔ غلام کا خدمت کے لیے اپنے آقا سے تعلق رکھنے والے تمام گھروں میں لین دین یا پیغام وغیرہ پہنچانے کے لیے عام آنا جانا ہوتا ہے۔ کئی سال بعد جب وہ پورے جوان ہوئے تو یہ واقعہ پیش آیا۔ اب آیا یہ ممکن ہے کہ اتنے سالوں تک عزیز مصر کی بیوی کی اتنی قریب ترین سہیلیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا ہی نہ ہو اور عزیز کی بیوی نے انھیں دکھانے کا اہتمام اب ہی کیا ہو ؟ میں نے بیسیوں تفسیریں پڑھیں، بڑے بڑے باریک بین اہل علم جن کے علم و فضل کا یہ عاجز دل سے نہایت معترف ہے اور انھی کا خوشہ چین ہے، وہ اس سوال کے پاس سے خاموشی سے گزر گئے ہیں اور حسن یوسف سے بےخودی ہی کو ہاتھ کٹنے کا باعث قرار دیتے چلے گئے ہیں۔ البتہ چند ایک نے اس کی طرف توجہ کی ہے، انھوں نے اس کا جواب یہ تراشا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی ہمیشہ یوسف (علیہ السلام) کو برقع پہنا کر رکھتی تھی، تاکہ کوئی انھیں دیکھ نہ لے۔ مجھے تعجب ہوا کہ بعض مفسرین نے حسن یوسف کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ مصر کی گلیوں میں چلتے تھے تو ان کے چہرے کے حسن اور نور کا عکس دیواروں پر پڑتا تھا۔ اب کہاں برقع اور کہاں دیواروں پر چہرے کے حسن و نور کا عکس پڑنا۔ ” ضِدَّانِ مُفْتَرِقَانِ أَیَّ تَفَرُّقٍ “ سیدھی سی بات ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے عزیز مصر کے گھر اسی لیے جگہ دی تھی کہ وہ مشورے کی مجلسوں میں خدمت کرنے والے غلام یا عزیز مصر کے بیٹے کی حیثیت سے شریک ہو کر رموز مملکت سیکھیں، فرمایا : (وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ) [ یوسف : ٢١ ] ” اور تاکہ ہم اسے باتوں کی اصل حقیقت میں سے کچھ سکھائیں۔ “ اس معاشرے میں مردوں اور عورتوں کا بےپردہ مل کر بیٹھنا معمول کی بات تھی، جس طرح آج کل مسلمانوں کی پارلیمنٹ اور دوسرے اداروں اور …