فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍۢ مِّنْهُنَّ سِكِّينًۭا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٌۭ كَرِيمٌۭ
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
20: یہ اِن عورتوں کی اس بات کو ’’مکر‘‘ شاید اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ کسی خیر خواہی کی وجہ سے یہ باتیں نہیں بنا رہی تھیں، بلکہ محض زلیخا کو بدنام کرنا مقصود تھا، اور کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال کی شہرت سن کر یہ باتیں اسی لئے کی ہوں کہ زلیخا اُن کو بھی دیدار کا موقع فراہم کردے۔
21: ان کی مہمان نوازی کے لئے پھل دسترخوان پر رکھے گئے تھے، اور چاقو انہیں کاٹنے کے لئے دیا گیا تھا۔ لیکن شاید زلیخا کو یہ اندازہ تھا کہ جب یہ عورتیں حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھیں گی تو یہ چاقو بے خودی کی حالت میں خود ان کے ہاتھوں پر چل جائے گا۔ چنانچہ آگے بیان فرمایا گیا ہے کہ واقعی جب انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو ان کے حسن و جمال میں ایسی محو ہوئیں کہ بے خیالی میں چاقو ان کے ہاتھوں پر چل گیا۔