Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 31–40 of 111

31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍۢ مِّنْهُنَّ سِكِّينًۭا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٌۭ كَرِيمٌۭ

جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے

Explained together with ayah 26

32

قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًۭا مِّنَ ٱلصَّٰغِرِينَ

تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا

Explained together with ayah 26

33

قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا

Explained together with ayah 26

34

فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے

Explained together with ayah 26

35

ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْءَايَٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍۢ

پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں

Explained together with ayah 26

36

وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ ۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًۭا ۖ وَقَالَ ٱلْءَاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًۭا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ ۖ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں

قول باری ہے قال احدھما انی ارانی اعصرخموا ً ۔ ایک روز ان میں سے ایک نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں ایک قول کے مطابق فقرے میں کچھ الفاظ پوشیدہ ہیں یعنی عصیر العنیب الخمر شراب تیار کرنے کے لیے انگور کا رس اس کے لیے مائع شراب میں کشید کا عمل نہیں ہوسکتا ۔ ایک قول کے مطابق میں ایسی چیز کشید کررہا ہوں جو آخر کار شراب میں تبدیل ہوجائے گی ۔ اس چیز یعنی رس کو خمر کے نام سے موسوم کردیا ۔ اگرچہ فی الحال وہ شراب نہیں تھی ۔ یہ اطلاق مجاز کے طور پر کیا گیا ہے انگور سے شراب کی کشید اس طرح بھی درست ہے کہ انگور کو مٹکے میں ڈال کر رکھ دیاجائے یہاں تک کہ اس میں ابا ل آ جائے اور جوش مارنے لگے اس طرح انگور کے دانوں میں موجود رس شراب میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس تشریح کی بنا پر شراب کے لیے شید کے الفاظ کو حقیقت پر محمول کیا جائے گا ۔ ضحاک کا قول ہے کہ عربی زبان کی ایک بولی میں انگور کو شراب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔- قول باری ہے نبئنابتاویلہ انا نراک من المحسنین ہمیں اس کی تعبیر بتایئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں ۔ قتادہ کا قول ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) مریضوں کا علاج معالجہ کرتے ، غمزدوں کو تسلی دیتے اور عبادت الٰہی میں بڑی سرگرمی دکھاتے تھے۔ ایک قول کے مطابق آپ مظلوموں کی مدد کرتے کمزوروں کا ہاتھ بٹاتے اور بیماروں کی عیادت کرتے تھے۔ ایک قول ہے کہ آپ خوابوں کی تعبیر کے لحاظ سے محسن تھے۔ یعنی خوابوں کی بہت درست تعبیر کرتے تھے ، آپ نے اپنے ان دونوں قیدی ساتھیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے خوابوں کی تعبیر بھی کی تھی۔

37

قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌۭ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ ۚ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍۢ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْءَاخِرَةِ هُمْ كَٰفِرُونَ

یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں

یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر خواب میں حکمت تبلیغ - قول باری ہے قال لا باتیکما طعام ترزقا نہ الا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یا تیکما ۔ یوسف نے کہا ۔ یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ تا آخر آیت ۔ ابن جریج کا قول ہے کہ حضرت یوسف نے دونوں قیدی ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر فوری طور پر بتانے سے اس لیے پہلو تھی کی تھی کہ ان میں سے ایک کے خواب کی تعبیر بری تھی اس لیے آپ نے انہیں تعبیر بتانے کی بجائے ان سے وہ گفتگو کی جو آیت میں درج ہے لیکن دونوں نے اس وقت تک آپ کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک آپ نے انہیں تعبیر نہ بتادی ۔ ایک قول کے مطابق آپ نے تعبیر بتانے سے پہلے ان دونوں سے یہ گفتگو اس لیے کی کہ انہیں پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت کی خلعت سے سرفراز کیا ہے ، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر آمادہ ہوجائیں۔- حضرت یوسف (علیہ السلام) ان لوگوں کے درمیان اس سے پہلے کافی عرصہ گزارچکے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق یہ حکایت نہیں کی کہ آپ نے ان لوگوں کو کبھی اللہ کی طرف دعوت دی تھی جبکہ یہ لوگ بت پرستی میں مبتلا تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے انہیں توحید کی دعوت کو قبول کرلیں گے۔ لیکن جب آپ نے دیکھا کہ خواب کی تعبیر بتانے کے احسان کے زیراثر وہ لوگ آپکی طرف متوجہ ہیں تو آپ کو یہ توقع پیدا ہوگئی کہ اب یہ لوگ میری باتوں پر کان دھریں گے اور میری دعوت قبول کریں گے چناچہ آپ نے انہیں توحید باری کی دعوت دی جس کی حکایت اس قول باری میں ہوتی ہے۔ یا صاحبی السجنء ارباب متفرقون خیرا ام اللہ الواحد القھا اے زندان کے ساتھیوں تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے تا آخر آیت ثانیہ۔- حضرت یوسف (علیہ السلام) نے توحید باری کی تبلیغ کا جواز انداز اختیار کیا تھا وہ اس قول باری کے عین مطابق تھا ۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ ۔ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی موعظت کے ذریعے لوگوں کو بلائو یعنی بڑی حکمت اور باریک بینی سے اس مناسب وقت کا انتظار کرتے رہو جب لوگ اللہ کے راستے کی طرف تمہاری دعوت پر کان دھرنے کے لیے آمادہ ہوں اور اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعوت توحید کی حکایت اس لیے کی ہے کہ م بھی تبلیغ کے سلسلے میں ان کی اقتدا کریں۔

38

وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ

اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

Explained together with ayah 37

39

يَٰصَىٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌۭ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ

میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟

Explained together with ayah 37

40

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

Explained together with ayah 37

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.