الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ
الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
سورة پر ایک نظر کا بقیہ حصہ :
فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (63) قَالَ هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلا كَمَا أَمِنْتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِنْ قَبْلُ فَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (64) وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ذَلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ (65) قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلا أَنْ يُحَاطَ بِكُمْ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ (66) جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا اباجان ، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے ۔ لہذا آپ ہمارے بھائی کو
ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ کے کر آئیں ۔ اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں “ باپ نے جواب دیا ” کیا میں اس معاملے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں کرچکا ہوں ؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے “۔ پھر جیسا انہوں نے اپنا سامان کھولا تو ایکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے ۔ یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے ، ” اباجان اور ہمیں کیا چاہئے دیکھئے یہ ہمارا مال بھی ہمیں دے دیا گیا ہے ، بس اب ہم جائیں گے اواپنے اہل و عیال کے لئے رسد لے آئیں گے ، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بار شتر اور زیادہ بھی لائیں گے ۔ اتنے غلے کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا “۔ ان کے باپ نے کہا ” میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام سے مجھے کوئی بیان نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرورلے کر آؤگے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لئے جاؤ “ﷲجب انہوں نے اس کو اپنے پیمان دے دئیے تو اس نے کہا ” دیکھو ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے “ پھر اس نے کہا ” میرے بچو ، مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا ۔ مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچاسکتا ، حکم اس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہے اسی پر کرے “۔
اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی۔ ہاں یعقوب کے دل میں جو ایک کھٹک تھی ، اسے دور کرنے کے لئے اس نے اپنی سی کوشش کی ، بےچک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب عالم تھا ، مگر اکثر لوگ معاملے کی حقیقت کو جانتے نہیں “۔ اس کے بعد اس قصے میں ان کا کردار اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ دوسرے صدمے سے دوچار ہوتے ہیں ۔ یہ خدا رسیدہ نبی ہیں اور بےپناہ محبت کرنے والے ہیں۔ یہ اس وقت جب اللہ نے ایک خاص تدبیر کے ذریعے یوسف کے بھائی کو مصر میں رکوا دیا۔ حضرت یعقوب کے بیٹوں میں ایک صاحب جو معتدل شخصیت کے مالک تھے وہ بھی مصر ہی میں رک جاتے ہیں ، ان کی شخصیت کا یہ اعتدال اس پورے قصے میں نمایاں رہا ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ میں کن آنکھوں سے باپ کا سامنا کروں یا تو وہ اجازت دیں یا پھر اللہ کوئی اور صورت نکال دے۔
فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُمْ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُمْ فِي يُوسُفَ فَلَنْ أَبْرَحَ الأرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (80) ارْجِعُوا إِلَى أَبِيكُمْ فَقُولُوا يَا أَبَانَا إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَا …