Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 21–30 of 111

21

وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

عزیز مصر کی فراست - قول باری ہے وقال الذی اشتراہ من مصر لا مراتہ اکرمی مثواہ عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا ۔ مصر میں جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کو اچھی طرح رکھنا ، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔ حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ فراست کے لحاظ سے تین بہترین انسان گزرے ہیں ۔ اول عزیز مصر جب اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے یعنی یوسف کو اچھی طرح رکھنا ، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا اسے ہم بیٹا بنالیں۔ دوم حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی جب کہ حضرت موسیٰ کے بارے میں انہوں نے اپنے والد محترم کو مشورہ دیا تھا کہ انہیں غلام رکھ لیا جائے۔ سوم حضرت ابوبکر (رض) جبکہ انہوں نے حضرت عمر (رض) کو خلافت کے لیے نامزد کیا تھا۔

22

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

جوانی کی اصل عمر - قول باری ہے ولما بلغ اشدہ اتیناہ حکما ً و علما ً اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا ۔ ایک قول کے مطابق اٹھارہ برس سے لے کر ساٹھ برس کی عمر تک جسمانی قوت و طاقت کو اشد کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ بیس برس کے انسان کو اشد کہا جاتا ہے ۔ مجاہد کے قول کے مطابق تینتیس سالہ جوان کو اشد کہا جاتا ہے۔

23

وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے

Explained together with ayah 22

24

وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَٰنَ رَبِّهِۦ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ

اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے

قول باری ہے ولقد ھمت بہ وھم بھا وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھا ۔ حسن سے مروی ہے کہ وہ یعنی عزیز مصر کی بیوی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف عزیمت یعنی پکے ارادے کے ساتھ بڑھی تھی اور حضرت یوسف اس کی طرف شہوت یعنی کشش کے تحت بڑھے تھے انہوں نے عزم نہیں کیا تھا۔ ایک قول کے مطابق طرفین ایک دوسرے کی طرف کشش کے تحت بڑھے تھے اس لیے کہ محاورے کے مطابق ہم بالشی کا مفہوم اس چیز کی قربت اختیار کرنا ہوتا ہے اس سے جا کر مل جانا نہیں ہوتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس کی طرف بڑھنا عزم اور پکے ارادے کے تحت نہیں تھا بلکہ صرف کشش کی بنا پر تھا اس کی دلیل یہ قول باری ہے۔ معاذ اللہ انہ ربی احسن مثوی ۔ خدا کی پناہ میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی اور میں یہ کام کروں نیز یہ قول باری کذلک لنصرف عنہ السوء والفحشاء انہ من عبادنا المخلصین ایسا ہوا تا کہ ہم اس سے بدی اور بےحیائی کو دور کردیں ۔ در حقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔ آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دامن ارتکاب معصیت کے پختہ عزم سے پاک تھا۔ ایک قول کے مطابق آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ مفہوم یہ ہے اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا تو اسکی طرف بڑھتا لیکن اس تاویل میں یہ قباحت ہے کہ حرف لولا کے جواب کا اس پر مقدم ہوجانا جائز نہیں ہوتا اس لیے کہ نحوییین اس فقرے کو درست قرار نہیں دیتے۔ قد اتیتک لولازید اس میں لولا کا جواب اس پر مقدم ہے تا ہم یہ ہوسکتا ہے کہ حرف لو لا کی تقدیم مقدرما ن لی جائے۔- برھان ربہ سے مراد - قول باری ہے لولا ان را برھان ربہ اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا حضرت ابن عباس (رض) ، حسن بصری ، سعید بن جبیر اور مجاہد کے قول کے مطابق حضرت یوسف کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا چہرہ نظر آیا، آپ نے دانتوں میں انگلیاں دبا رکھی تھیں ۔ قتادہ کے قول کے مطابق حضرت یوسف کے کانوں میں یہ آواز آئی ۔ یوسف تمہارا نام انبیاء کی فہرست میں درج ہے اور تم چلے ہو سفہاء و الاکام کرنے حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو فرشتے کی صورت نظر آ گئی تھی ۔ محمد بن کعب کے قول کے مطابق برہان سے مراد وہ تعلیم ہے جو زنا کی سزا کے متعلق انہیں ملی تھی۔

25

وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍۢ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ ۚ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے

Explained together with ayah 24

26

قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى ۚ وَشَهِدَ شَاهِدٌۭ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍۢ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ

یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا

شاہد کون تھا ؟- قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس (رض) ، حضرت ابوہریرہ (رض) ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد سے اس کا تذکرہ کیا۔ جسے سن کر اس نے اپنی رائے دی کہ اگر قمیص سامنے سے پھٹی ہے تو لازما ً یوسف کی طرف سے دست درازی کی کوشش ہوئی ہوگی اور تمہاری بیوی نے اپنا بچائو کیا ہوگا اور اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف بچ کر بھاگا ہوگا اور تمہاری بیوی نے پیچھے سے قمیص پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کی ہوگی۔- لقط کا حکم - بعض لوگوں نے اس آیت سے لقطہ کے مسئلے میں استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص لقطہ کی ملکیت کا دعویٰ کرے اور لقطہ کی نشانیاں بتادے تو اس پر فیصلہ کردیا جائے گا ۔- اگر کوئی شخص لقط یعنی گری پڑی چیز جو کسی کے ہاتھ آ جائے ، کی نشانیاں بیان کر کے اس کی ملکیت کا دعویٰ کرے تو اس صورت میں فیصلہ اس کے حق میں کردیاجائے گا یا نہیں ۔ اس بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ ، امام ابو یوسف ، امام محمد زفر اور امام شافعی کا قول ہے کہ صرف نشانیاں بتا کر ایک شخص لقطہ کی ملکیت کا حق دار نہیں بنے گا ۔ اس کے لیے اسے بینہ یعنی ثبوت بھی پیش کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ نیز مدعی کی طرف سے نشانیاں بیان کردینے کی بنا پر لقطہ اٹھانے والے شخص کو لقطہ اس کے حوالے کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا تا ہم اگر وہ لقطہ اسکے حوالے کردے تو اس کے لیے اس کی بھی گنجائش ہے اگرچہ اسے عدالت کی طرف سے مجبور نہ بھی کیا گیا ہو۔ ابن القاسم نے امام مالک کے قول پر قیاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشانیاں بیان کردینے کی بنا پر وہ لقطہ کا حق دار ہوجائے گا اور اٹھانے والے کو لقطہ اس کے حوالے کرنے پر مجبور کردیا جائے گا ۔ اگر اس کے بعد کوئی اور مدعی پیدا ہوجائے اور ثبوت دے کر لقطہ کا مستحق قرار پائے تو اس صورت میں لقطہ اٹھانے والا کسی تاوان کا ذمہ دار نہ ہوگا ۔ امام مالک کا قول ہے کہ چوروں کی چرائی ہوئی چیزوں کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر ان سے مال برآمد ہوجائے اور کچھ لوگ آ کر اس مال کی ملکیت کا دعویٰ کریں لیکن ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہ ہو تو ایسی صورت میں حاکم فوری فیصلہ نہیں کرے گا ۔ بلکہ سوچ بچار میں کچھ عرصے لگائے گا ۔ اگر اس دوران دوسرے لوگ اس مال کے دعویدار بن کر پیش نہ ہوں تو یہ مال پہلے دعویداروں کے حوالے کر دے گا ، بھاگے ہوئے غلام کے بارے میں بھی یہی حکم ہے ۔ حسن بن حی کا قول ہے کہ نشانیاں بیان کردینے کی بنا پر لقطہ مدعی کے حوالے کردیا جائے گا ۔ لقیط یعنی کہیں سے ہاتھ آئے بچے کے متعلق ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر دو شخص اس کے دعوے دار ہوں اور ایک نے اس کے جسم پر موجود کی نشان کا پتہ دیا ہو تو وہ دوسرے کی بہ نسبت اس کا زیادہ حق دار قرار پائے گا ۔- گھرکے سامان کے متعلق اگر میاں بیوی میں اختلاف پیدا ہوجائے تو اس صورت میں امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا قول ہے گھر میں مردانہ استعمال کی جو چیزیں ہوں گی وہ مرد کو مل جائیں گی اور زنا نہ استعمال کی چیزیں عورت کو دے دی جائیں گی ۔ لیکن جو چیزیں مشترک استعمال کی ہوں گی وہ مرد کو مل جائیں گی ۔ اس مسئلہ میں ہمارے اصحاب نے گھریلو سامان کی ظاہری ہیئت کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ اگر مکان کرایہ پر دینے والے اور کرایہ پر لینے والے کے درمیان گھر میں رکھے ہوئے …

27

وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍۢ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے

Explained together with ayah 26

28

فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍۢ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ ۖ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌۭ

اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں

Explained together with ayah 26

29

يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا ۚ وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔينَ

یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے

Explained together with ayah 26

30

۞ وَقَالَ نِسْوَةٌۭ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ

اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے

Explained together with ayah 26

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.