وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
عزیز مصر کی فراست - قول باری ہے وقال الذی اشتراہ من مصر لا مراتہ اکرمی مثواہ عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا ۔ مصر میں جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کو اچھی طرح رکھنا ، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔ حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ فراست کے لحاظ سے تین بہترین انسان گزرے ہیں ۔ اول عزیز مصر جب اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے یعنی یوسف کو اچھی طرح رکھنا ، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا اسے ہم بیٹا بنالیں۔ دوم حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی جب کہ حضرت موسیٰ کے بارے میں انہوں نے اپنے والد محترم کو مشورہ دیا تھا کہ انہیں غلام رکھ لیا جائے۔ سوم حضرت ابوبکر (رض) جبکہ انہوں نے حضرت عمر (رض) کو خلافت کے لیے نامزد کیا تھا۔