Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 21–30 of 111

21

وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لامْرَاَتِهٖٓ : قرآن نے اس شخص کے نام اور عہدے کا کہیں ذکر نہیں کیا، البتہ آگے چل کر مصر کی عورتوں نے ” عزیز “ کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے اور یہی لقب بعد میں یوسف (علیہ السلام) کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر کے بادشاہ کا کوئی وزیر یا بہت بڑے عہدے پر فائز شخص تھا۔ اس کی بیوی کا نام بھی قرآن نے کہیں ذکر نہیں کیا، کیونکہ اس سے کوئی فائدہ نہ تھا، بلکہ یہ پردہ پوشی کے بھی خلاف تھا۔ اس لیے جو لوگ اس خاتون کا نام ” زلیخا “ (زاء کے فتحہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ) یا ” راعیل “ بتاتے ہیں، ان کے پاس محض اسرائیلی روایات ہیں، کوئی پختہ دلیل نہیں اور ان کا یہ عمل ستر کے بھی خلاف ہے۔ - اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ : عزیز مصر نے اپنی بیوی کو یوسف (علیہ السلام) کی رہائش باعزت رکھنے اور ہر ضرورت مہیا رکھنے کی تاکید کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہمارا اور اس کا تعلق مالک اور غلام والا ہونے کے بجائے گھر کے ایک معزز رکن کا ہونا چاہیے، بچہ نہایت ذہین اور اچھی عادات والا ہے، امید ہے ہمیں فائدہ دے گا۔ عزیز مصر مملکت کے کسی بھی شخص سے کام کروا سکتا تھا اور مطلوبہ فائدہ حاصل کرسکتا تھا مگر ماتحت نوکر جس طرح فائدہ پہنچاتے ہیں اور نہایت عزت و محبت سے پالے ہوئے اپنے گھر کے ایک فرد سے جس خیر خواہی اور فائدے کی امید ہوتی ہے، دونوں برابر نہیں ہوسکتے ۔- اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا : اس سے ظاہر ہے کہ ان کے ہاں اولاد نہیں تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ماں باپ، بہن بھائی یا بیٹا بیٹی منہ کے کہہ دینے سے نہیں بنتے۔ دیکھیے سورة احزاب (٤، ٥) اور مجادلہ (٢) ورنہ عزیز کی بیوی کا سگا بیٹا ہوتا تو وہ اس سے وہ معاملہ کبھی نہ کرتی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اکثر گھروں میں اللہ کی اس نافرمانی کے ایسے ہی نتائج رونما ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت تاکید کے ساتھ اس سے منع فرمایا ہے۔ - وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ ۔۔ : اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ اس طرح یعنی عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کروا کر اور مصر کے اتنے عظیم مقام والے گھر میں باعزت رہائش دے کر ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو سرزمین مصر میں جگہ دی (تاکہ وہ باعزت زندگی بسر کرے) تاکہ ایک حکمران کے گھر میں رہ کر سرداروں کی مجلسیں دیکھے اور حکمرانی اور سیاست کے اسرار و رموز سیکھے، جو صحرا میں رہنے سے کبھی حاصل نہیں ہوسکتے تھے اور آخر میں ان کی وجہ سے بنی اسرائیل مصر میں آ کر آباد ہوں۔ دوسری یہ کہ جیسے ہم نے اس سے پہلے یوسف کو بھائیوں کے شر سے بچایا اور کنویں سے نکلوایا، اسی طرح ہم نے اسے سرزمین مصر میں جگہ بخشی۔ - وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ :” غَلَبَ “ کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی مقابلے میں ہو۔ دیکھیے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کیا چاہتے تھے اور کنویں میں پھینکنے کے بعد اپنے خیال میں وہ کس قدر کامیاب ہوچکے تھے، مگر اللہ اپنے کام پر غالب ہے۔ وہ جو کرنا چاہے کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ کنویں سے نکال کر حکومت تک پہنچانا اور پھینکنے والوں کو سائل بنا کر اس کے سامنے لا کھڑا کرنا اس کے ادنیٰ اشارے کا کام ہے۔ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شاعر نے بدر کے موقع پر کیا خوب کہا تھا ؂ - جَاءَتْ سَخِیْنَۃُ کَیْ تُغَالِبَ رَبَّھَا - وَلَیُغْلَبَنَّ مُغَالِبُ الْغَلَّابِ- ” قریش اس لیے آئے تھے کہ اپنے رب کے ساتھ غالب آنے کا مقابلہ کریں گے اور قسم ہے کہ اس زبردست غالب کا مقابلہ کرنے والا ہر صورت مغلوب ہو کر رہے گا۔ “ (قریش کو سخینہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ حاجیوں کی ضیافت گرم کھانے سے کرتے تھے) ۔- وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ ہر قسم کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں …

22

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ” اَشُدَّ “ بعض اہل علم کے مطابق مفرد ہے جو جمع کے وزن پر آیا ہے۔ بعض نے فرمایا جمع ہے، مگر اس کے لفظ میں سے اس کا واحد نہیں ہے۔ بعض نے فرمایا ” شِدَّۃٌ“ کی جمع ہے، جس طرح ” نِعْمَۃٌ“ کی جمع ” أَنْعُمٌ“ ہے، یعنی اپنی پوری قوتوں اور جوانی کو پہنچ گئے۔ اسی ” بَلَغَ “ کے لفظ ہی سے بلوغت کی اصطلاح اخذ کی گئی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس کے آتے ہی انسان پر نیکی اور بدی لکھنے والا وہ قلم مقرر ہوجاتا ہے جو بچپن میں اس پر مقرر نہیں تھا۔ اب وہ اپنے جیسے انسان کی پیدائش کا ذریعہ بننے کے قابل ہوجاتا ہے۔ معلوم نہیں جو لوگ اس وقت یوسف (علیہ السلام) کی عمر کی تعیین پچیس یا تیس یا چالیس سال بیان کرتے ہیں ان کے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ بہرحال جس قسم کی خوش حالی اور ناز و نعمت میں یوسف (علیہ السلام) کی پرورش ہو رہی تھی، اس میں یہ عمر طوفان بن کر آتی ہے، مگر ان پر اللہ کا فضل تھا جس کی وجہ سے رعونت، شہوت اور حسن و عشق کی آفات کے بجائے اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم اور علم عطا فرمایا۔ ” حُکْمٌ“ اور ” حِکْمَۃٌ“ تقریباً ہم معنی ہیں، اس کا مطلب ہے ایک دوسرے کے مخالف اور ٹکرانے والے دو معاملات حق اور باطل میں سے حق کا فیصلہ کرنے کی اہلیت۔ یہ اہلیت عطا ہونے کے بعد آدمی صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ کرنے کے قابل ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں علم عطا فرمایا، یعنی نیکی و بدی کی پہچان اور وہ باتیں جاننے اور ان پر عمل کی استعداد جو عام لوگ نہیں جانتے، جس میں خواب کی تعبیر اور وہ علم بھی شامل ہے جس کا اظہار انھوں نے وزارت کی پیش کش پر خزانے کا شعبہ طلب کرنے پر کیا تھا : (اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ )[ یوسف : ٥٥ ] ” بیشک میں پوری طرح حفاظت کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں۔ “- وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ : انسان خوش حال ہو یا خستہ حال، اگر وہ نیکی اور اچھائی پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسے ہی جزا دیتے ہیں، مثلاً کوئی بھی تنگ دست جو اللہ کا شکوہ کرنے اور اپنی حالت پر ناراض رہنے کے بجائے اس کی تقدیر پر شاکر ہو کر صبر کرے، اس پر خوش رہے اور غلط سمت میں قدم نہ اٹھائے تو اسے اللہ تعالیٰ ایسے ہی بدلہ دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ نوازش صرف یوسف (علیہ السلام) ہی پر نہیں تھی بلکہ احسان پر کاربند رہنے والے ہر شخص کو ایسے ہی جزا ملتی ہے۔

23

وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے

وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا : ” رَاوَدَ “ باب مفاعلہ سے ہے، نرمی اور ملائمت سے بار بار مطالبہ کرنا، پھسلانا، فریب سے غلط کام پر آمادہ کرنا۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے، یعنی بار بار اور ہر طریقے سے پھسلایا۔ کیونکہ ایک ہی گھر میں رہ کر خدمت کرنے والے غلام سے ہزار انداز سے اور بار بار اپنے شوق کا اظہار ہوسکتا ہے، مثلاً غلام کھانا لایا ہے تو حکم ہو، دور کیوں بیٹھے ہو ؟ ادھر میرے ساتھ آ کر بیٹھو وغیرہ۔” بَیْتٌ“ ” بَاتَ یَبِیْتُ “ (رات گزارنا) سے ہے، اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں آدمی رات رہتا ہو، پھر گھر کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اب بھی اس کا اصل استعمال اینٹ پتھر کے مکان یا اون، پشم اور کپڑے وغیرہ کے خیمے پر ہوتا ہے۔ صحن سمیت پورے گھر کو عموماً ” دَارٌ“ کہتے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) جب تک بچے تھے، عزیز کی بیوی کی نظر بچے پر شفقت و محبت والی تھی، اب جب جوانی آئی تو وہ نگاہ نہ رہی۔ یہی اصل بیٹے اور متبنّیٰ کا فرق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےمثال حسن سے نوازا تھا۔ حدیث معراج میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ( وَ إِذَا ھُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ ) [ مسلم، الإیمان، باب الإسراء ۔۔ : ١٦٢] ” انھیں حسن کا شطر عطا کیا گیا تھا۔ “ شطر کا معنی نصف بھی ہے اور ایک حصہ بھی۔ (قاموس) یعنی یوسف (علیہ السلام) کو حسن کا خاصا بڑا حصہ عطا ہوا تھا۔ عزیز کی بیوی کے غلط راستے پر چل نکلنے کا ایک باعث ترمذی (٢١٦٥) میں موجود اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی بھی تھی کہ کوئی عورت کسی غیر محرم مرد کے ساتھ اکیلی نہ ہو، ورنہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا (جو دونوں کو ایک دوسرے کی نگاہ میں خوبصورت بنا کر دکھائے گا) ۔ یہاں یوسف (علیہ السلام) تو ویسے ہی شیطان سے محفوظ تھے، اگرچہ غلام ہونے کی وجہ سے پردہ لازم نہ تھا، مگر ایک ہی گھر اور کمرے میں سال ہا سال کی خلوت عزیز مصر کی بیوی کو لے ڈوبی۔ افسوس مسلمان اب بھی اس کی پروا نہیں کرتے، حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاوند کے بھائی کے ساتھ خلوت سے بھی منع کیا، فرمایا : ( اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ ) [ بخاری، النکاح، باب لا یخلون رجل۔۔ : ٥٢٣٢ ] ” خاوند کا بھائی تو موت ہے۔ “ - اللہ تعالیٰ نے اس عورت کا نام نہیں لیا جس کے گھر میں یوسف (علیہ السلام) تھے۔ حق یہی ہے کہ ہم بھی نہ لیں، خصوصاً جب ہمیں اس کا نام کسی صحیح ذریعے سے معلوم ہی نہ ہو اور نام لینے میں کسی گناہ گار خصوصاً عورت کی پردہ دری ہو رہی ہو۔ اس لیے بار بار زلیخا کہنے والے قرآن سے سبق سیکھیں اور اپنے اس رویے کو ترک کریں۔- عَنْ نَّفْسِهٖ : قرآن مجید کے بیان کی پاکیزگی ملاحظہ فرمایئے، پوری بات سمجھ میں آرہی ہے اور کوئی ناشائستہ لفظ بھی استعمال نہیں ہوا۔- وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ ۔۔ : ” غَلَّقَ “ باب تفعیل میں سے ہونے کی وجہ سے ترجمہ ” دروازے اچھی طرح بند کرلیے “ کیا ہے۔ ” هَيْتَ لَكَ “ اسم فعل ہے جس کا معنی ہے ” آ، جلدی کر۔ “ ” لَکَ “ خطاب کی صراحت کے لیے ہے، جیسے کہتے ہیں : ” شُکْرًا لَکَ ، سَقْیًا لَکَ “ اہل علم فرماتے ہیں کہ اس وقت یوسف (علیہ السلام) کو گناہ پر آمادہ کرنے والی ہر چیز موجود تھی اور روکنے والی دنیا کی کوئی چیز نہ تھی۔ یوسف (علیہ السلام) کی صحت، جوانی، قوت، خلوت، فریق ثانی کا حسن، پیش کش، اس پر اصرار، غرض ہر چیز ہی بہکا دینے والی تھی، جب کہ انسان کو روکنے والی چیز اس کی اپنی جسمانی یا جنسی کمزوری ہوسکتی ہے، یا فریق ثانی کے حسن کی کمی، یا اس کی طرف سے انکار یا مزاحمت کا امکان یا راز فاش ہونے کا خطرہ یا اپنے خاندان، قوم اور لوگوں میں رسوائی کا خوف، ان میں سے کوئی چیز ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھی۔ اٹھتی جوانی تھی، …

24

وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَٰنَ رَبِّهِۦ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ

اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے

وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا : عزیز کی بیوی کا یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ارادۂ بدی تو ” لام “ اور ” قَدْ “ سے (جو دونوں تحقیق کے لیے بمعنی قسم آتے ہیں) بلکہ سارے واقعہ ہی سے ظاہر ہے، البتہ یوسف (علیہ السلام) نے ارادہ کیا یا نہیں، اس میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ جس طرح روزہ دار کو ٹھنڈا پانی دیکھ کر اس کی رغبت ہوتی ہے مگر وہ روزے کی وجہ سے اس پر قابو پا لیتا ہے اور یہ ایک طبعی چیز ہے۔ اس قسم کا خیال یوسف (علیہ السلام) کے دل میں آگیا ہو تو کچھ بعید نہیں مگر ” بُرْهَانَ رَبِّهٖ “ دیکھنے کی برکت سے یوسف (علیہ السلام) نے اسے جھٹک دیا۔ مگر دوسری تفسیر جس پر زیادہ اطمینان ہوتا ہے، وہ یہی ہے جو ترجمے سے ظاہر ہے اور قرآن مجید میں ” لَوْلَا “ شرط کی جزا اس سے پہلے آنے کی مثال بھی موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے متعلق فرمایا : ( ۭاِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِهٖ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰي قَلْبِهَا) [ القصص : ١٠ ] ” بیشک وہ قریب تھی کہ اسے ظاہر کر ہی دیتی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ہم نے اس کے دل پر بند باندھ دیا تھا۔ “ اگر یوسف (علیہ السلام) ارادہ کرچکے ہوتے اور برہانِ رب کے ذریعے سے ان کو ہٹایا جاتا تو آیت کے الفاظ یہ نہ ہوتے : (كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ ) ” اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اس سے برائی اور بےحیائی کو ہٹا دیں “ بلکہ یہ ہوتے : ” کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَہُ عَنِ السُّوْٓءِ وَالْفَحْشَاءِ “ کہ اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اسے برائی اور بےحیائی سے ہٹا دیں۔ پھر اس واقعہ سے تعلق رکھنے والے ہر شخص نے جس طرح یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی کی شہادت دی اس کا تقاضا بھی یہی ہے، مثلاً 1 خود اللہ تعالیٰ : (كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ ) 2 یوسف (علیہ السلام) : (ھِیَ رَاوَدَتْنِی) 3 شاہد ” قمیص کا معائنہ “ 4 عزیز مصر : (اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ ) 5 شاہ مصر : (اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ) 6 زنان مصر : (مَا عَلِمْنَا عَلَیْہ مِنْ سُوْءٍ ) 7 اور خود عزیز کی بیوی : (وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ ) 8 خود یوسف (علیہ السلام) نے بعد میں فرمایا : (وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ ) کہ اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا، یہ صریح دلیل ہے کہ وہ مائل نہیں ہوئے تھے۔ سب کی شہادتیں ہمارے سامنے ہیں۔ رہے وہ مفسرین جو یوسف (علیہ السلام) کو بلا دلیل گناہ کے عین کنارے پر پہنچا کر پیچھے ہٹاتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کو خود جواب دہ ہوں گے اور جو مفسرین ان بند دروازوں میں ہونے والی گفتگو بھی بڑی تفصیل سے بیان کرتے ہیں وہ شاید وہاں چھپ کر سنتے رہے ہوں گے، یا ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحی آئی ہوگی، کیونکہ قرآن و حدیث اور عقل و فطرت میں سے تو کوئی چیز ان مکالموں کی تائید نہیں کرتی۔- لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ : وہ رب کی دلیل کیا تھی ؟ اس کی تعیین میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحت کے ساتھ کوئی چیز ثابت نہیں ہے، البتہ مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں جو محض اقوال ہیں۔ ہمارے استاذ مولانا محمد عبدہ (رض) فرماتے ہیں : ” ہوسکتا ہے کہ ایک نبی کے اخلاق کی بلندی اس کی اجازت نہ دیتی ہو کہ زنا جیسے برے کام پر آمادہ ہوں اور اسی کو یہاں ” بُرْهَانَ رَبِّهٖ “ سے تعبیر فرمایا ہو۔ “ - اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ : ” اَلْمُخْلِصِیْنَ “ لام کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اخلاص والے، نیک بخت بندے مراد ہوں گے اور ” الْمُخْلَصِيْنَ “ لام کے فتحہ کے ساتھ ہو تو معنی ہوگا وہ جنھیں چن لیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خالص کرلیا ہے۔ یہاں لام کے فتحہ کے ساتھ ہے، یعنی وہ لوگ …

25

وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍۢ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ ۚ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے

وَاسْتَبَقَا الْبَابَ ۔۔ : علماء نے لکھا ہے کہ اس جملے کا تعلق ” وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۔۔ “ کے ساتھ ہے اور ” كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ ۔۔ “ درمیان میں جملہ معترضہ ہے جو یوسف (علیہ السلام) کی پاک بازی کو ثابت کرنے کے لیے لایا گیا ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ عورت نے زنا کا عزم کیا، مگر یوسف (علیہ السلام) نے انکار کیا، چناچہ اسی کشمکش میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے، آگے یوسف (علیہ السلام) اور پیچھے عزیز کی بیوی۔ یوسف (علیہ السلام) اس لیے کہ جلدی سے دروازہ کھول کر بھاگ جائیں اور عزیز کی بیوی دوڑی کہ پہلے پہنچ کر انھیں دروازہ کھول کر بھاگنے نہ دے۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ دروازے جو عزیز کی بیوی نے بہت اچھی طرح بند کیے جب یوسف (علیہ السلام) گناہ سے بچنے کے لیے بند دروازوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بھاگے تو اللہ تعالیٰ نے کھولنے میں بھی مدد فرما دی۔ اسی مقصد کے لیے اس نے پیچھے سے قمیص پکڑی کہ روک لے مگر قمیص پھاڑ کر بھی روکنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ یوسف دروازے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے، ساتھ ہی وہ بھی نکلی تو اچانک دونوں نے اس کے خاوند کو سامنے پایا۔ اب وہ سارا ” عشق حقیقی “ جس کی داستان ہمارے قصہ گو مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں اور اسے ایک رسول خدا کا عشق صادق ہونے کی وجہ سے معرفتِ الٰہی کی ایک منزل قرار دیتے ہیں، ایک لمحہ میں بہتان کے سانچے میں ڈھل گیا۔ کہنے لگی، اس شخص کی کیا جزا ہے جس نے تیری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، سوائے اس کے کہ قید کیا جائے یا دردناک سزا ہو ؟ سبحان اللہ خاوند کو بھڑکانے کے لیے، جو غلام کو ورغلانے والی تھی وہ خاوند کی عفت مآب گھر والی بن گئی، دعویٰ کرنے والی بھی خود ہی بن گئی اور دعویٰ یہ نہیں کہ اس نے کوئی چھیڑ چھاڑ کی یا دست درازی کی ہے، بلکہ صرف یہ کہ برائی کا ارادہ کیا ہے، اب کسی کے سینے کے اندر جا کر کون تحقیق کرے کہ ارادہ تھا بھی یا نہیں اور تھا تو کیا تھا ؟ پھر اس الزام کے ثبوت کے لیے کوئی گواہ یا قرینہ پیش نہیں کیا، اس کے باوجود خود ہی سزا سنانے والی جج بن گئی کہ اس کے لیے ان دو سزاؤں میں سے ایک کے سوا ہو ہی کیا سکتی ہے ؟

26

قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى ۚ وَشَهِدَ شَاهِدٌۭ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍۢ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ

یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا

قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ : یوسف (علیہ السلام) اب تک خاموش تھے اور انھوں نے خاموش ہی رہنا تھا، کیونکہ اللہ کے بندوں کی صفت پردہ پوشی ہے، مگر تہمت کے بعد خاموش رہنے کا مطلب اس الزام کو قبول کرنا تھا، اس لیے یوسف (علیہ السلام) نے اپنی صفائی پیش کرنا ضروری سمجھا، فرمایا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے۔- وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۔۔ : عزیز مصر اور گھر کے خصوصی افراد دونوں کی بات سن کر پس و پیش میں پڑگئے کہ کسے سچا کہیں اور کسے جھوٹا ؟ کیونکہ وقوعہ کے وقت کوئی شخص پاس موجود ہی نہ تھا۔ ایسے وقت میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ موقع دیکھ کر قرائن سے فیصلہ کیا جائے، اسے قرینے کی شہادت بھی کہتے ہیں۔ دیکھا گیا تو عورت کے جسم یا لباس پر دست درازی کا کوئی نشان نہ تھا۔ ہاں، یہ بات سب کو معلوم ہوچکی تھی کہ یوسف کی قمیص پھٹی ہے۔ عزیز مصر کی بیوی کے گھر والوں میں سے ایک سمجھ دار آدمی نے فیصلہ کیا (یہاں شہادت کا لفظ قرینے پر فیصلہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے) کہ قمیص کو دیکھ کر فیصلہ کرلو۔ ظاہر ہے کہ اس آدمی نے ابھی تک قمیص دیکھی نہ تھی، ورنہ وہ یہ نہ کہتا کہ قمیص دیکھو کدھر سے پھٹی ہے، بلکہ اس نے ایک مسلمہ قاعدے کے طور پر یہ فیصلہ دیا۔ جب عزیز مصر نے قمیص دیکھی کہ پیچھے سے پھٹی ہے تو ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی اور پھر صرف اپنی بیوی ہی نہیں سب عورتوں کے متعلق کہہ دیا کہ یقیناً یہ تمہارے فریب میں سے ایک فریب ہے، یقیناً تم عورتوں کا فریب بہت بڑا ہے۔ یہ شاہد کون تھا ؟ مستدرک حاکم اور بعض دوسری کتب میں ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ وہ ان چار بچوں میں سے ایک تھا جنھوں نے گود میں کلام کیا۔ اس حدیث کو بہت سے اصحاب نے صحیح یا حسن کہا ہے، مگر بہت سے اصحاب نے ضعیف بھی کہا ہے۔ جن میں سے شیخ ناصر الدین البانی (رض) سرفہرست ہیں۔ دیکھیے : ” سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ (٢؍٢٧١، ح : ٨٨٠) “ پوری بحث وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ حافظ ابن قیم (رض) نے بھی ” الجواب الکافی “ میں اسے ضعیف کہا ہے۔ میری دانست میں یہی بات درست ہے کہ وہ ایک سمجھ دار آدمی تھا، کیونکہ 1 خود ابن عباس (رض) کا قول ثقہ راویوں کے ساتھ تفسیر طبری میں ہے کہ وہ شاہد داڑھی والا مرد تھا۔ اگر ابن عباس (رض) کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان موجود ہوتا تو وہ کبھی اس کے خلاف نہ فرماتے، جب کہ ان کا یہ قول صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے۔ 2 اگر دودھ پیتے بچے نے گواہی دی تھی تو یہ معجزہ خود اکیلا ہی یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی ثابت کرنے کے لیے کافی تھا، اس بچے کو عزیز مصر کی بیوی کا رشتہ دار بتائے جانے کی اور قمیص آگے یا پیچھے سے پھٹی ہونے کی پڑتال کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ہمارے بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اگرچہ اس بچے کا بول اٹھنا ہی بہت بڑا تھا، جس نے کلام کرنا سیکھا ہی نہیں، مگر قرآن نے اس پر اکتفا نہیں کیا، کیونکہ قرآن بنیادی طور پر دلیل یا تحقیق اور جستجو کو معیار ماننا یا منوانا چاہتا ہے۔ وہ نری تقدیس پر نہیں، تحقیق پر بنیاد رکھتا ہے۔ چناچہ بچے نے دلیل اور مشاہدہ کو فیصلے کی بنیاد قرار دیا اور کہا : ”(قمیص) دیکھ لو۔۔ “ اگر یہ بات درست مانی جائے تو پھر مریم [ کی پاک بازی کے ثبوت کے لیے بچے کے معجزۂ کلام کے سوا تحقیق کی کیا بنیاد تھی ؟ اور صحیح بخاری میں مذکور جریج پر جس بچے کا باپ ہونے کا الزام لگا تھا، وہاں صرف اس بچے کے بولنے کے سوا تحقیق کی بنیاد کیا تھی ؟ دونوں جگہ بچے کا بولنا ہی کافی دلیل تھا۔ - 3 یہاں بعض لوگ عورتوں کی مذمت کے طور پر عجیب صغریٰ کبریٰ ملاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عورتوں کا مکر و فریب شیطان کے مکر و فریب سے بھی بڑا ہے، دلیل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے کید (مکر) کو عظیم قرار دیا، جب کہ شیطان کے کید کے متعلق فرمایا : (اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا) [ النساء : ٧٦ …

27

وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍۢ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے

Explained together with ayah 26

28

فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍۢ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ ۖ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌۭ

اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں

Explained together with ayah 26

29

يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا ۚ وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔينَ

یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے

يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا۔۔ : عزیز مصر نے حقیقت حال جان لینے کے بعد یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ یوسف اس معاملے سے در گزر کرو (تاکہ بات نہ پھیلے، بلاشبہ تمہاری سچائی اور پاک بازی ثابت ہوگئی ہے) ۔ ادھر اپنی بیوی سے کہا کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر، معافی مانگ، یقیناً تو ہی خطاکاروں سے تھی۔ ” مُخْطِئٌ“ اور ” خَاطِئٌ“ کا یہی فرق ہے، پہلا وہ شخص ہے جس سے بھول کر خطا ہوجائے نہ کہ دانستہ طور پر اور ” خَاطِئٌ“ وہ ہے جو جان بوجھ کر غلط کام کرے، جیسے فرمایا : (اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ ) [ القصص : ٨ ] ” بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔ “- بظاہر یہ عزیز مصر کا حلم و تحمل ہے، مگر درحقیقت اس سے اس کا بےغیرت اور دیوث ہونا ثابت ہوتا ہے کہ اس نے اسے معمول کی ایک بات قرار دے کر معاملہ نمٹا دیا۔ نہ بیوی کو کوئی سزا دی اور نہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کا کوئی اہتمام ضروری سمجھا۔ اس سے اس وقت کے مصر کے اونچے طبقے کی اخلاقی حالت معلوم ہوتی ہے جو اب مسلمانوں کے طبقۂ اشراف کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ (الا ما شاء اللہ)- وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کے لوگوں میں خواہ نیک ہوں یا بد، گناہ اور نیکی کی پہچان پائی جاتی ہے اور ایسی ہستی پر بھی کسی نہ کسی حد تک ایمان پایا جاتا ہے جس کی نافرمانی کے بعد اس سے بخشش مانگنی چاہیے۔

30

۞ وَقَالَ نِسْوَةٌۭ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ

اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے

وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِيْنَةِ ۔۔ : ” نِسْوَۃٌ، نِسَاءٌ“ اور ” نِسْوَانٌ“ سب ” اِمْرَأَۃٌ“ کی جمع ہیں، مگر ” اِمْرَأَۃٌ“ لفظ سے نہیں۔ (قاموس) ” نِسْوَۃٌ“ کے ” اِمْرَأَۃٌ“ کی جمع حقیقی نہ ہونے کی وجہ ہی سے فعل ” قَالَتْ نِسْوَۃٌ“ کے بجائے : ” َقَالَ نِسْوَةٌ“ آیا ہے، کیونکہ غیر حقیقی جمع ہونے کی صورت میں ایسا ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہر جگہ ” نِسَاءٌ“ آیا ہے، صرف اس آیت یا اسی سورت کی آیت (٥٠) میں کل دو مرتبہ ” نِسْوَةٌ“ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ” نِسْوَۃٌ“ جمع قلت کا وزن ہے، جو تین سے دس تک استعمال ہوتا ہے، بخلاف ” نِسَاءٌ“ وغیرہ کے کہ وہ کثرت کے لیے بھی آتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ عزیز کی بیوی نے چند ایک خاص عورتوں ہی کو اس مجلس کی دعوت دی تھی۔ ” شَغَفَهَا “ شغاف دل کے پردے کو کہتے ہیں، یعنی دل کے پردے کے اندر داخل ہوگیا ہے۔ بعض نے شغاف کا معنی ” سویداء القلب “ (دل کا مرکز) بھی کیا ہے۔ ” تُرَاوِدُ فَتٰىهَا “ (اپنے غلام کو پھسلاتی ہے) ان عورتوں نے ماضی کا صیغہ ” رَاوَدَتْ “ (اس نے پھسلایا ہے) کے بجائے مضارع کا صیغہ استعمال کیا کہ وہ اب بھی اس سے باز نہیں آتی، بلکہ پھسلاتی رہتی ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.