وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
13: قرآن کریم کا خاص اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی واقعے کو بیان کرتے ہوئے غیر ضروری تفصیلات کا ذکر نہیں کرتا بلکہ واقعے کے اہم حصوں کو بیان کرنے پر اکتفا کرتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے جن لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو فلسطین کے جنگل سے خریدا تھا، چاہے وہ خود قافلے والے ہوں۔ جیسا کہ اوپر کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، یا وہ ہوں جنہوں نے قافلے والوں سے خریدا بہر صورت وہ انہیں مصر لے گئے اور وہاں جا کر انہیں بھاری قیمت پر فروخت کیا۔ وہاں جس شخص نے خریدا، وہ مصر کا وزیر خزانہ تھا جسے اس وقت عزیز مصر کہتے تھے اس نے اپنی بیوی کو تاکید کی کہ ان کا خاص خیال رکھیں۔ بیوی کا نام روایات میں زلیخا بتایا گیا۔