Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 11–20 of 111

11

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٰصِحُونَ

(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا ۔۔ : اب یہ مرحلہ درپیش تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ کیسے لے جائیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانے کی کوشش کرچکے تھے، مگر والد نے اجازت نہیں دی تھی اور یہ کہ والد کو پہلے بھی ان کے متعلق اعتبار نہ تھا کہ وہ یوسف کے خیر خواہ ہیں، یا انھیں کوئی گزند نہیں پہنچائیں گے۔ اس مرتبہ دس کے دس بھائیوں نے منت، خوشامد اور دھونس دھاندلی کا ہر حربہ استعمال کرکے یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانے کی اجازت طلب کی۔ سب سے پہلے تو نہایت ادب اور منت کے ساتھ بات کی، ابتدا دیکھیے ” يٰٓاَبَانَا “ ” اے ہمارے باپ “ اس سے قریب تر رشتہ کون سا ہوگا جو درمیان میں لا کر درخواست کی جائے اور دل نرم نہ ہو، پھر ساتھ ہی دھونس دیکھیے ” آپ کو کیا ہے کہ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتماد ہی نہیں کرتے “ (گویا سارا قصور ابا جی کا ہے) ” حالانکہ بیشک ہم یقیناً اس کے خیر خواہ ہیں۔ “ ” اِنَّا “ کے ” اِنَّ “ اور ” لَنٰصِحُوْنَ “ کے لام کے ساتھ خیر خواہی کا یقین دلانا ملاحظہ فرمائیں، اہل عرب کے ہاں اس میں قسم کا مفہوم شامل ہوتا ہے۔ پھر یوسف کی مزید خیر خواہی کا ذکر ہوتا ہے کہ کبھی باہر جنگل میں جا کر اسے سیر و تفریح کا موقع ہی نہیں ملا۔ کل آپ اسے ہمارے ساتھ بھیجیں، جنگل کے پھل وغیرہ کھائے پیے گا، کھیلے کودے گا، خوش دل ہوگا۔ رہا جنگل اور صحرا میں وحشی جانوروں وغیرہ کا خطرہ تو اس کی فکر نہ کیجیے۔ ” بیشک “ ہم اس کی ” یقینا “ حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ وہی قسم کے مفہوم والے الفاظ ہیں جو انھوں نے اپنی خیر خواہی کا یقین دلاتے ہوئے کہے تھے کہ ” وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ “ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کا پیشہ جنگل میں بکریاں وغیرہ چرانا تھا۔

12

أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًۭا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں

Explained together with ayah 11

13

قَالَ إِنِّى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَٰفِلُونَ

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے

قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِيْٓ ۔۔ : یعقوب (علیہ السلام) نے نہ بھیجنے کے لیے دو عذر پیش کیے، ایک تو نہایت تاکید کے الفاظ ” اِنَّ “ اور ” لام تاکید “ کے ساتھ کہا کہ مجھے تمہارا اسے اپنے ساتھ لے جانا غمگین کرتا ہے۔ (حالانکہ یہی بات تو ان کے غصے کا باعث تھی) دوسرا یہ کہ مجھے خوف ہے کہ اسے کوئی بھیڑیا کھاجائے گا۔ ساتھ ہی ان کے جذبات ٹھنڈے رکھنے کے لیے یہ کہنے کے بجائے کہ ” اور تم بیٹھے رہو گے “ یہ کہا کہ ” تم اس سے غافل ہو گے۔ “ گویا تم میرے غم اور خوف دونوں کا سامان کر رہے ہو۔ - ان کو بھیڑیے کا بہانہ کرنا تھا وہی ان کے دل میں خوف آیا۔ (موضح) یا یعقوب (علیہ السلام) کے منہ سے یہ بات نکلنا تھی کہ انھوں نے اسی کا بہانہ بنا لیا۔

14

قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًۭا لَّخَٰسِرُونَ

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے

قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ ۔۔ : یعنی پھر ہماری قوت کس دن کام آئے گی، ہم دس مضبوط جوان ہیں۔ - اب یعقوب (علیہ السلام) ان کے اصرار کے سامنے بےبس ہوگئے، کیونکہ اللہ کی تقدیر ہو کر رہنی تھی، جس کے واقع ہو کر رہنے میں کوئی احتیاط کام نہیں آسکتی، پھر یوسف (علیہ السلام) کو خواب میں دکھائے جانے والے کمال و عروج کی منزل کے راستے پر بھی روانہ ہونا تھا اور اس راستے میں نہایت کٹھن گھاٹیوں سے گزرے بغیر چارہ ہی نہیں اور نہ ان بلند مقامات پر پہنچنے والوں کے لیے راستے میں کوئی قالین یا کہکشاں بچھی ہوتی ہے۔

15

فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ ۔۔ :” وَاَجْمَعُوْٓا “ باب افعال ہے، کسی کام کا مصمم عزم کرلینا، یعنی آخر وہ باپ کے کسی عذر کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کے خاموش ہونے پر اسے اپنے ساتھ لے ہی گئے۔ اب یہاں قرآن کریم کا کمال اعجاز دیکھیے، فرمایا : ” پھر جب وہ اسے لے گئے اور طے کرلیا کہ اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں پھینک دیں “ تو پھر کیا ہوا ؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ذکر ہی نہیں فرمایا، تاکہ سننے والے خود ہی سمجھ لیں کہ قتل تک کا منصوبہ بنانے والے ان دس شیر جوانوں نے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کنویں میں پھینکنے کے وقت اور اس سے پہلے کیا سلوک کیا ہوگا۔ قرآن اشارہ کرتا ہے، پھر سمجھنے والے پر چھوڑ دیتا ہے اور کچھ اس لیے بھی کہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ان کا سلوک تصور میں تو آسکتا ہے، اسے الفاظ کا جامہ پہنانا مشکل ہے، یا پھر بات اتنی لمبی ہوجائے گی جو قرآن کا طریقہ نہیں۔ مفسر آلوسی نے فرمایا : ” انھیں کنویں میں پھینکنے کی کیفیت اور اس وقت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے جو کچھ کہا اور جو کچھ انھوں نے اس سے کہا، اس کے متعلق کتب تفسیر میں بہت سی روایات ہیں جنھیں سن کر پتھر بھی پانی ہوجاتا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کی سند پر اعتماد ہوسکتا ہو۔ “ کیونکہ ان مفسرین میں سے کوئی چشم دید بیان کرنے والا ہے ہی نہیں اور وہ عالم الغیب جو سب کچھ دیکھ رہا تھا اس نے یہ بات ہمارے خود سوچنے کے لیے بلا تفصیل چھوڑ دی ہے۔ - وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ ۔۔ : یعنی اس مشکل وقت میں یوسف (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے تسلی دی گئی کہ ایک ایسا وقت ہر صورت آئے گا جب تم ان بھائیوں کو ان کا یہ کام بتاؤ گے، جب کہ طویل مدت اور آج اور اس وقت کے حالات کے فرق کی وجہ سے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ ہم اسی بھائی سے پورا غلہ دینے اور صدقہ کرنے کی درخواست کر رہے ہیں جسے ہم کنویں میں پھینک کر اس سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہاں ” لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا “ (تو ضرور ہی انھیں ان کے اس کام کی خبر دے گا) میں ” ان کے اس کام “ کے الفاظ میں بھی ان کے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ سلوک کی لمبی و دلخراش داستان دو تین لفظوں میں سمٹی ہوئی نظر آرہی ہے۔ - کچھ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کے ان الفاظ سے کہ ” میں ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھاجائے گا “ ان کے لیے علم غیب ثابت کرتے ہیں، مگر چند میل کے فاصلے پر کنویں میں یوسف (علیہ السلام) پر گزرنے والی حالت، ان کی غلامی، عفت کی آزمائش، قید خانے کے سال، بادشاہ کے خواب کا قید سے نکلنے کا ذریعہ بننا، خوش حالی اور قحط کے سال، قید سے نکل کر قرب شاہی اور وزارت خزانہ کا حصول، یہ سب کچھ یعقوب (علیہ السلام) کو کیوں معلوم نہ ہوسکا ؟ آنکھیں غم سے سفید کیوں ہوگئیں ؟ کیا علم غیب یہی ہوتا ہے ؟ ہاں، پیغمبروں کو اللہ تعالیٰ جتنی بات وحی کے ذریعے سے بتاتا ہے وہ انھیں معلوم ہوجاتی ہے، جیسے بشارت دینے والے کے مصر سے قمیص لے کر چلنے کے ساتھ ہی انھیں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آنے لگی اور قمیص آنکھوں پر ڈالنے سے بینائی واپس آگئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ یہ نہ یوسف (علیہ السلام) کے بس کی بات تھی اور نہ ان کے والد ماجد یعقوب (علیہ السلام) کے بس کی۔ اللہ تعالیٰ جتنی بات بتادے وہ معلوم، باقی کی خبر نہیں، ایسا شخص عالم الغیب نہیں ہوتا، ورنہ غیب کی کئی باتیں ہمیں بھی رسول کے بتانے سے معلوم ہیں، تو کیا ہم بھی عالم الغیب ہوگئے ؟ نہیں، آسمان و زمین میں عالم الغیب صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے، جیسے فرمایا : (قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ) [ النمل : ٦٥ ] ” کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا۔ “

16

وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءًۭ يَبْكُونَ

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً : اتنا بڑا ظلم کرنے کے بعد انھیں دن کی روشنی میں باپ کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہوئی، کیونکہ دن کے وقت چہرے کے اثرات، جسم کا اضطراب اور زبان کا لڑکھڑانا ہی سب کچھ ظاہر کردیتا ہے۔ اس لیے وہ عشاء کے وقت باپ کے پاس آئے۔ اکثر جرائم کے وقوع اور انھیں چھپانے کا ذریعہ رات کا اندھیرا ہی بنتا ہے، اس لیے ہم سب کو حکم ہوا کہ کہو : (وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ) [ الفلق : ٣ ] ” اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے (پناہ مانگتا ہوں) ۔ “- يَّبْكُوْنَ : ” روتے ہوئے “ معلوم ہوا ہر رونے والا سچا نہیں ہوتا۔ میں نے ایک عالم کا قول پڑھا کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے رونے کے بعد سے ہمارا اعتبار رونے والوں سے اٹھ گیا ہے، اللہ جانے کون سچا رو رہا ہے اور کون جھوٹا۔ حسین (رض) کی بہن زینب (رض) نے کوفے والوں کو روتے پیٹتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیوں رو رہے ہیں ؟ انھیں بتایا گیا کہ یہ لوگ حسین (رض) اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر رو رہے ہیں تو وہ بےساختہ کہنے لگیں کہ یہ لوگ ہم پر رو رہے ہیں تو ہمیں قتل کرنے والے کون ہیں ؟ (یعنی کیا وہ کوفہ سے باہر کی کوئی مخلوق تھی ؟ یہی تو قتل کرنے والے تھے) ۔

17

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍۢ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَٰدِقِينَ

(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے

قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ ۔۔ : ” اِسْتِبَاقٌ“ باب افتعال کا مصدر ہے، آگے نکلنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ، وہ پیدل دوڑ میں آگے نکلنے کا ہو یا گھوڑوں پر (اِسْتِبَاقُ الْخَیْلِ ) یا نشانہ بازی میں (اِسْتِبَاق الرَّمْیِ ) یعنی ہم دوڑ کے مقابلے میں دور نکل گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تو یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ ” الذئب “ کا الف لام تخصیص کے لیے نہیں، جنس کے لیے ہے، یعنی کوئی بھیڑیا اسے کھا گیا۔ ساتھ ہی اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے والد پر چڑھائی کردی کہ آپ تو ہم سے اس قدر بدظن ہیں کہ کسی صورت ہم پر اعتبار کرنے والے ہی نہیں، خواہ ہم بالکل سچے ہوں۔ مگر سننے والا یہ تو ضرور سوچتا ہے کہ بھیڑیا انھیں ہڈیوں سمیت کھا گیا اور ایک ذرہ بھی باقی نہیں چھوڑا جو ساتھ لے آتے، خصوصاً اس لیے کہ نہ وہ ان کا کچھ بچا کھچا جسم واپس لائے نہ یہ کہا کہ ہم نے اسے دفن کردیا۔

18

وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍۢ كَذِبٍۢ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌۭ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے

وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ ۔۔ : یہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی ایک اور چال تھی کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر ایسا خون لگا کر لائے جو ” کَذِب “ تھا، جس کا معنی جھوٹ ہے یا یہ بمعنی ” مَکْذُوْبٌ“ ہے، جیسے ” خَلْقٌ“ بمعنی ” مَخْلُوْقٌ“ یعنی جھوٹا بنایا ہوا، یا مصدر مبالغے کے لیے ہے کہ وہ خون سراسر جھوٹ تھا، یوسف (علیہ السلام) کا ہرگز نہ تھا، بلکہ وہ بھیڑ بکری یا جنگل سے شکار کیا ہوا کوئی جانور ذبح کرکے اس کا خون لگا کرلے آئے تھے۔ والد ساری حقیقت سمجھ گئے، کیونکہ ان کی گھڑی ہوئی کہانی خود ہی اپنی حقیقت بتارہی تھی اور فرمایا : ” بَلْ سَوَّلَتْ لَکُم انفسکم امرا “ (بلکہ) یعنی جو کچھ تم کہہ رہے ہو سب جھوٹ ہے، بھیڑیے نے یوسف کو ہرگز نہیں کھایا، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تمہارے دلوں نے تمہارے لیے کوئی بات خوشنما بنادی جو تم کر گزرے ہو۔ اب وہ چونکہ کئی چیزیں ہوسکتی تھیں، اس لیے کسی کی تعیین نہیں فرمائی اور وہ یوسف کو کہیں پھینک آنا، اسے کسی جگہ لے جا کر بیچ آنا، اسے کہیں چھپا دینا وغیرہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ مرنے کا یقین ہوجائے تو صبر آجاتا ہے مگر جب خبر ہی نہ ہو کہ بیٹا اس وقت کہاں ہے ؟ کس حال میں ہے ؟ تو یہ بہت ہی بڑی آزمائش اور ہر وقت دل میں سلگتی رہنے والی چنگاری ہوا کرتی ہے۔ ادھر خواب کے مطابق ابھی یوسف (علیہ السلام) پر اتمام نعمت ہونا تھا اور ” تاویل الاحادیث “ کی تعلیم بھی باقی تھی۔ سو کس طرح مان لیتے کہ اسے بھیڑیا کھا گیا۔ - اہل علم نے لکھا ہے کہ اس سورت میں یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کا تین دفعہ ذکر ہے اور ہر دفعہ اس کا انوکھا ہی اثر ہے۔ ایک تو یہ خون آلود قمیص تھی جس کے نتیجے میں یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی ختم ہوگئی، دوسرا یوسف (علیہ السلام) کو تہمت دست درازی سے ان کی قمیص دیکھ کر بری قرار دیا گیا اور تیسرا یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کی خوشبو آنا اور یعقوب (علیہ السلام) پر اسے ڈالنے سے ان کی بینائی کا واپس آنا۔ سبحان اللہ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کمال نشانیاں ہیں۔ - تفسیر ” التحریر والتنویر “ کے مصنف ابن عاشور لکھتے ہیں : ” اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے قمیص کو خون آلود کرنے کی جعل سازی میں اور اسے چیر پھاڑ کر ایسی قمیص کی صورت میں پیش کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہوگی جس کے پہننے والے کو بھیڑیے نے کھالیا ہو۔ خصوصاً اس لیے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ سمجھ دار تھے کہ اتنی سی بات بھی ان میں سے کسی کے ذہن میں نہ آئی ہو، جب کہ وہ دس جوان تھے۔ سو بعض اہل تفسیر نے جو لکھا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں نے آج کی طرح کا کوئی بھیڑیا نہیں دیکھا جو اس بھیڑیے سے زیادہ حلیم (بردبار) ہو کہ میرے بیٹے کو کھا گیا اور اس کی قمیص نہیں پھاڑی، تو یہ قصہ گوئی کی ایک ظرافت ہے۔ “ اگر قمیص کے سالم رہنے کی بات قرآن و حدیث یا کسی صحیح ذریعے سے آئی ہوتی تو میرے خیال کے مطابق ابن عاشور (رض) اتنے واضح الفاظ میں اسے قصہ گو حضرات کی کارستانی قرار نہ دیتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں، بالکل ممکن ہے اور جرم یقیناً اپنے نشان چھوڑ جاتا ہے مگر بات ثابت تو ہونی چاہیے۔ یہاں ان کے جھوٹے ہونے کے اور دلائل ہی میں کچھ کمی نہ تھی کہ ہم قمیص کا سالم رہنا کسی صحیح ذریعۂ خبر کے بغیر ہی تسلیم کرلیں۔ - فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ : جملہ فعلیہ ” أَصْبِرُ صَبْرًا جَمِیْلاً “ (یعنی اب میں صبر جمیل اختیار کروں گا) کے بجائے جملہ اسمیہ ارشاد فرمایا : ” فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ“ کیونکہ اس میں دوام ہوتا ہے۔ گویا اس میں مبتدا یا خبر محذوف ہے، یعنی ” فَأَمْرِیْ صَبْرٌ جَمِیْلٌ“ یا ” فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ اَمْرِیْ “ یعنی اب میرا کام صبر جمیل ہے۔ کسی بھی چیز کا جمال یہ ہے کہ وہ اپنے جیسی دوسری چیزوں سے بہتر اور خوبصورت ہو۔ چناچہ صبر بھی دو طرح کا ہوتا ہے، ایک …

19

وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌۭ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَٰبُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٌۭ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا

وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ ۔۔ : یہ قافلہ مصر کی طرف جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یوسف (علیہ السلام) پر یہ احسان ہوا کہ قافلے والوں کی توجہ کنویں سے پانی لانے کی طرف ہوگئی اور یوسف (علیہ السلام) کو باہر نکلنے کا موقع مل گیا۔ یہاں بات خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ ڈول والے نے ڈول لٹکایا تو یوسف (علیہ السلام) اس کے ساتھ لٹک گئے اور اوپر آگئے۔ - وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً :” بِضَاعَةً “ کا معنی سامان تجارت ہے، یعنی قافلے والوں پر لازم تھا کہ وہ اردگرد اعلان کرتے، یا یوسف (علیہ السلام) کے بتانے کے مطابق انھیں ان کے والد کے پاس پہنچا دیتے، مگر وہ ظالم بےدین تھے۔ انھوں نے زبردستی غلام بنا کر سامان تجارت کے طور پر چھپالیا کہ مصر جا کر فروخت کریں گے، حالانکہ کسی آزاد کو غلام بنانا یا اسے فروخت کرنا حرام ہے۔ اس سارے سلسلۂ کلام میں یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ صاف ظاہر ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے نکلنے پر اہل قافلہ بہت خوش ہوئے اور انھوں نے سامان تجارت کے طور پر انھیں چھپالیا، کسی کو خبر تک نہیں ہونے دی۔ - ان آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے کہ بھائیوں کا یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینکنا آخر ان کی عظمت و رفعت کا ذریعہ بن گیا۔ آپ بھی اپنے خاندان کے لوگوں کے ظلم وستم سے بددل نہ ہوں۔ یہ سب بھی آخر کار برادران یوسف کی طرح آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

20

وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍۢ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍۢ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ

اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا

وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ ۔۔ :” بَخْسٍ “ کا معنی اصل قیمت سے کم قیمت ہے، جیسے فرمایا : ( وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَهُمْ ) [ الأعراف : ٨٥ ] ” اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو ۔ “ یعنی قافلے والوں نے اسے تھوڑی قیمت، چند گنے ہوئے درہموں میں بیچ دیا، کیونکہ زیادہ درہم ہوتے تو وہ گننے کے بجائے تول لیے جاتے تھے۔ ” اور وہ اس میں رغبت نہ رکھنے والوں میں سے تھے “ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قانونی طور پر حقیقی غلام کو نہیں بیچ رہے تھے، اس لیے جو کچھ مل گیا اسے انھوں نے غنیمت سمجھا۔ بےرغبت ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ جلد اس سے خلاصی حاصل کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی ایسا شخص نہ آجائے جو انھیں اس جرم میں پکڑ لے کہ وہ اس کے آزاد بیٹے کو غلام بنا کر پکڑ لائے ہیں، تو ہر وقت چھپا کر رکھنا اور یوسف (علیہ السلام) کو کسی سے اپنی حقیقت بیان کرنے کا موقع ہی نہ دینا ان کے لیے مصیبت تھا۔ اس سے ان لوگوں کی داستان گوئی کی حقیقت بھی معلوم ہوگئی جو یوسف (علیہ السلام) کے خریداروں کے ہجوم کا اور سوت کی اٹی لانے والی عورت کا اور آخر کار سونے میں تول کر فروخت کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ ویسے بھی ” شَرَی یَشْرِیْ “ بیچنے اور ” اِشْتَرَی یَشْتَرِیْ “ خریدنے کے معنوں میں آتا ہے، الا یہ کہ کوئی خاص قرینہ اس کے خلاف ہو، کیونکہ اصل یہی ہے کہ ” فَعَلَ “ کسی حدث (کام) کے لیے آتا ہے اور ” اِفْتَعَلَ “ اس کی مطاوعت (اس کام کا اثر قبول کرنے) کے لیے ہوتا ہے، جیسے ” بَاعَ “ اس نے بیچا اور ” اِبْتَاعَ “ اس نے خریدا۔ ” رَھَنَ “ اس نے گروی دیا اور ” اِرْتَھَنَ “ اس نے گروی لیا۔ ” کَرِیَ “ اس نے کرایہ پر دیا اور ” اِکْتَرَی “ اس نے کرایہ پر لیا۔ اس کے خلاف اول تو آتا ہی نہیں، آئے تو کوئی قرینہ موجود ہوتا ہے۔ جو لوگ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا آ کر قافلے والوں کے ہاتھوں فروخت کرنا ذکر کرتے ہیں ان کی بات کا قرآن کی کسی آیت میں ذکر چھوڑ کر اشارہ بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی اسرائیلی روایت ہے تو اس کا اعتبار نہیں اور وہ قرآن کے بیان کے بھی خلاف ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.