Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 1–10 of 111

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ

الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی(1) بلاشبہ ہم نے نازل کیا ہے اس کو قرآن عربی (زبان میں ) تا کہ تم سمجھو (2) ہم بیان کرتے ہیں آپ پر بہترین بیان بذریعہ اپنے وحی کرنے کے آپ کی طرف یہ قرآن، جبکہ یقینا تھے آپ پہلے اس سے البتہ بے خبروں میں سے (3)

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قرآن کی آیات کتاب مبین کی آیات ہیں ، یعنی جس کے الفاظ اور معانی واضح ہیں ۔

[2] اس کے واضح اور بین ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا جو سب سے زیادہ فضیلت کی حامل اور سب سے زیادہ واضح زبان ہے۔ (المُبِین) سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب مقدس ان تمام حقائق نافعہ کو بیان کرتی ہے جن کے لوگ حاجت مند ہیں اور یہ سب ایضاح و تبیین ہے ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ ’’تاکہ تم سمجھو‘‘ یعنی تاکہ اس کی حدود، اس کے اصول و فروع اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھ سکو جب تم اس کو ایقان کے ساتھ سمجھ لو گے اور تمھارے دل اس کی معرفت سے لبریز ہو جائیں گے تو اس کے ثمرات، جوارح کے عمل اور اطاعت کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ یعنی تمھارے اذہان میں عالی شان معانی کی تکرار سے تمھاری عقل میں اضافہ ہوگا اور تم ادنیٰ حال سے اعلیٰ و اکمل احوال میں منتقل ہو جاؤ گے۔

[3]﴿نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ ﴾ ’’ہم آپ پر بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں ‘‘ یعنی یہ قصہ اپنی صداقت، اپنی عبارت کی سلاست اور اپنے معانی کی خوبصورتی کی وجہ سے سب سے اچھا قصہ ہے۔ ﴿ بِمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنَ﴾ ’’اس واسطے کہ بھیجا ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن‘‘ یعنی وہ امور جن پر یہ قرآن مشتمل ہے جس کی ہم نے آپﷺ کی طرف وحی کی اور اس کے ذریعے سے ہم نے آپ کو تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت بخشی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور یقینا اس سے پہلے آپ بے خبروں میں سے تھے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نزول وحی سے قبل آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے؟ مگر ہم نے اسے روشنی بنایا ہے اور اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ ہدایت دکھاتے ہیں ۔چونکہ یہ قرآن کریم جن قصوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی نیز ذکر فرمایا کہ یہ قصہ علی الاطلاق بہترین قصہ ہے اور تمام کتابوں میں کوئی قصہ ایسا نہیں ملتا جیسا اس قرآن میں پایا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسفu، ان کے والد یعقوبu اور ان کے بھائیوں کا نہایت خوبصورت اور تعجب انگیز قصہ ذکر فرمایا۔

معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اس کتاب کریم میں اپنے رسولﷺ پر بہترین قصہ بیان فرمایا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ نہایت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا اور اس قصے کے متعلق تمام واقعات ذکر کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ قصہ نہایت کامل اور بہت خوبصورت ہے۔ جو کوئی اس قصہ کی ان اسرائیلیات کے ذریعے سے تکمیل اور اس کو مزین کرنا چاہتا ہے، جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے اور ان کو روایت کرنے والے کا نام تک معلوم نہیں ۔ جن میں سے اکثر جھوٹ پر مبنی ہیں … وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ پر استدراک کرنا چاہتا ہے۔ وہ بزعم خود ناقص اور نامکمل چیز کی تکمیل کرتا ہے اور آپ کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کی برائی اس حد تک پہنچتی ہے اس لیے کہ بہت سی کتب تفسیر اس سورۂ مبارکہ سے کئی گنا زیادہ جھوٹے قصے کہانیوں اور انتہائی قبیح امور سے، جو اللہ کے بیان کردہ واقعات کے متناقض ہیں … لبریز ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے اکثر باتوں کو بیان نہیں فرمایا۔ اس لیے بندے پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ واقعات کو خوب اچھی طرح سمجھ لے اور ان تمام قصے کہانیوں کو چھوڑ دے جو رسول اللہﷺ سے منقول نہیں ہیں ۔

2

إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّۭا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو

الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی(1) بلاشبہ ہم نے نازل کیا ہے اس کو قرآن عربی (زبان میں ) تا کہ تم سمجھو (2) ہم بیان کرتے ہیں آپ پر بہترین بیان بذریعہ اپنے وحی کرنے کے آپ کی طرف یہ قرآن، جبکہ یقینا تھے آپ پہلے اس سے البتہ بے خبروں میں سے (3)

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قرآن کی آیات کتاب مبین کی آیات ہیں ، یعنی جس کے الفاظ اور معانی واضح ہیں ۔

[2] اس کے واضح اور بین ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا جو سب سے زیادہ فضیلت کی حامل اور سب سے زیادہ واضح زبان ہے۔ (المُبِین) سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب مقدس ان تمام حقائق نافعہ کو بیان کرتی ہے جن کے لوگ حاجت مند ہیں اور یہ سب ایضاح و تبیین ہے ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ ’’تاکہ تم سمجھو‘‘ یعنی تاکہ اس کی حدود، اس کے اصول و فروع اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھ سکو جب تم اس کو ایقان کے ساتھ سمجھ لو گے اور تمھارے دل اس کی معرفت سے لبریز ہو جائیں گے تو اس کے ثمرات، جوارح کے عمل اور اطاعت کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ یعنی تمھارے اذہان میں عالی شان معانی کی تکرار سے تمھاری عقل میں اضافہ ہوگا اور تم ادنیٰ حال سے اعلیٰ و اکمل احوال میں منتقل ہو جاؤ گے۔

[3]﴿نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ ﴾ ’’ہم آپ پر بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں ‘‘ یعنی یہ قصہ اپنی صداقت، اپنی عبارت کی سلاست اور اپنے معانی کی خوبصورتی کی وجہ سے سب سے اچھا قصہ ہے۔ ﴿ بِمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنَ﴾ ’’اس واسطے کہ بھیجا ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن‘‘ یعنی وہ امور جن پر یہ قرآن مشتمل ہے جس کی ہم نے آپﷺ کی طرف وحی کی اور اس کے ذریعے سے ہم نے آپ کو تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت بخشی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور یقینا اس سے پہلے آپ بے خبروں میں سے تھے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نزول وحی سے قبل آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے؟ مگر ہم نے اسے روشنی بنایا ہے اور اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ ہدایت دکھاتے ہیں ۔چونکہ یہ قرآن کریم جن قصوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی نیز ذکر فرمایا کہ یہ قصہ علی الاطلاق بہترین قصہ ہے اور تمام کتابوں میں کوئی قصہ ایسا نہیں ملتا جیسا اس قرآن میں پایا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسفu، ان کے والد یعقوبu اور ان کے بھائیوں کا نہایت خوبصورت اور تعجب انگیز قصہ ذکر فرمایا۔

معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اس کتاب کریم میں اپنے رسولﷺ پر بہترین قصہ بیان فرمایا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ نہایت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا اور اس قصے کے متعلق تمام واقعات ذکر کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ قصہ نہایت کامل اور بہت خوبصورت ہے۔ جو کوئی اس قصہ کی ان اسرائیلیات کے ذریعے سے تکمیل اور اس کو مزین کرنا چاہتا ہے، جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے اور ان کو روایت کرنے والے کا نام تک معلوم نہیں ۔ جن میں سے اکثر جھوٹ پر مبنی ہیں … وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ پر استدراک کرنا چاہتا ہے۔ وہ بزعم خود ناقص اور نامکمل چیز کی تکمیل کرتا ہے اور آپ کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کی برائی اس حد تک پہنچتی ہے اس لیے کہ بہت سی کتب تفسیر اس سورۂ مبارکہ سے کئی گنا زیادہ جھوٹے قصے کہانیوں اور انتہائی قبیح امور سے، جو اللہ کے بیان کردہ واقعات کے متناقض ہیں … لبریز ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے اکثر باتوں کو بیان نہیں فرمایا۔ اس لیے بندے پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ واقعات کو خوب اچھی طرح سمجھ لے اور ان تمام قصے کہانیوں کو چھوڑ دے جو رسول اللہﷺ سے منقول نہیں ہیں ۔

3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَٰفِلِينَ

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے

الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی(1) بلاشبہ ہم نے نازل کیا ہے اس کو قرآن عربی (زبان میں ) تا کہ تم سمجھو (2) ہم بیان کرتے ہیں آپ پر بہترین بیان بذریعہ اپنے وحی کرنے کے آپ کی طرف یہ قرآن، جبکہ یقینا تھے آپ پہلے اس سے البتہ بے خبروں میں سے (3)

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قرآن کی آیات کتاب مبین کی آیات ہیں ، یعنی جس کے الفاظ اور معانی واضح ہیں ۔

[2] اس کے واضح اور بین ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا جو سب سے زیادہ فضیلت کی حامل اور سب سے زیادہ واضح زبان ہے۔ (المُبِین) سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب مقدس ان تمام حقائق نافعہ کو بیان کرتی ہے جن کے لوگ حاجت مند ہیں اور یہ سب ایضاح و تبیین ہے ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ ’’تاکہ تم سمجھو‘‘ یعنی تاکہ اس کی حدود، اس کے اصول و فروع اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھ سکو جب تم اس کو ایقان کے ساتھ سمجھ لو گے اور تمھارے دل اس کی معرفت سے لبریز ہو جائیں گے تو اس کے ثمرات، جوارح کے عمل اور اطاعت کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ یعنی تمھارے اذہان میں عالی شان معانی کی تکرار سے تمھاری عقل میں اضافہ ہوگا اور تم ادنیٰ حال سے اعلیٰ و اکمل احوال میں منتقل ہو جاؤ گے۔

[3]﴿نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ ﴾ ’’ہم آپ پر بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں ‘‘ یعنی یہ قصہ اپنی صداقت، اپنی عبارت کی سلاست اور اپنے معانی کی خوبصورتی کی وجہ سے سب سے اچھا قصہ ہے۔ ﴿ بِمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنَ﴾ ’’اس واسطے کہ بھیجا ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن‘‘ یعنی وہ امور جن پر یہ قرآن مشتمل ہے جس کی ہم نے آپﷺ کی طرف وحی کی اور اس کے ذریعے سے ہم نے آپ کو تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت بخشی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور یقینا اس سے پہلے آپ بے خبروں میں سے تھے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نزول وحی سے قبل آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے؟ مگر ہم نے اسے روشنی بنایا ہے اور اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ ہدایت دکھاتے ہیں ۔چونکہ یہ قرآن کریم جن قصوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی نیز ذکر فرمایا کہ یہ قصہ علی الاطلاق بہترین قصہ ہے اور تمام کتابوں میں کوئی قصہ ایسا نہیں ملتا جیسا اس قرآن میں پایا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسفu، ان کے والد یعقوبu اور ان کے بھائیوں کا نہایت خوبصورت اور تعجب انگیز قصہ ذکر فرمایا۔

معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اس کتاب کریم میں اپنے رسولﷺ پر بہترین قصہ بیان فرمایا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ نہایت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا اور اس قصے کے متعلق تمام واقعات ذکر کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ قصہ نہایت کامل اور بہت خوبصورت ہے۔ جو کوئی اس قصہ کی ان اسرائیلیات کے ذریعے سے تکمیل اور اس کو مزین کرنا چاہتا ہے، جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے اور ان کو روایت کرنے والے کا نام تک معلوم نہیں ۔ جن میں سے اکثر جھوٹ پر مبنی ہیں … وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ پر استدراک کرنا چاہتا ہے۔ وہ بزعم خود ناقص اور نامکمل چیز کی تکمیل کرتا ہے اور آپ کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کی برائی اس حد تک پہنچتی ہے اس لیے کہ بہت سی کتب تفسیر اس سورۂ مبارکہ سے کئی گنا زیادہ جھوٹے قصے کہانیوں اور انتہائی قبیح امور سے، جو اللہ کے بیان کردہ واقعات کے متناقض ہیں … لبریز ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے اکثر باتوں کو بیان نہیں فرمایا۔ اس لیے بندے پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ واقعات کو خوب اچھی طرح سمجھ لے اور ان تمام قصے کہانیوں کو چھوڑ دے جو رسول اللہﷺ سے منقول نہیں ہیں ۔

4

إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَٰجِدِينَ

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں

(یاد کرو!) جس وقت کہا یوسف نے اپنے باپ سے، اے ابا جان! بے شک میں نے دیکھا گیارہ ستاروں کو اور سورج اورچاند کو، دیکھا میں نے ان کو اپنے واسطے سجدہ کرتے ہوئے(4) اس (یعقوب) نے کہا، اے میرے عزیز بیٹے! مت بیان کرنا خواب اپنا اوپر اپنے بھائیوں کے، پس وہ تدبیر کریں گے واسطے تیرے کوئی تدبیر (بری)، بے شک شیطان ہے واسطے انسان کے دشمن ظاہر(5) اور اسی طرح برگزیدہ کرے گا تجھے تیرا رب اور سکھائے گا تجھے حقیقت (تعبیر) باتوں (خواب) کی اور پوری کرے گا اپنی نعمت اوپر تیرے اور اوپر آل ِیعقوب کے، جس طرح اس نے پورا کیا تھا اسے اوپر تیرے باپ دادا کے پہلے اس سے (اوپر) ابراہیم اور اسحٰق کے، بے شک تیرا رب خوب جاننے والا ، حکمت والاہے(6)

[4]﴿ اِذۡ قَالَ يُوۡسُفُ﴾ ’’جب یوسف (u) نے کہا۔‘‘ یعنی جب یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡ رَاَيۡتُ اَحَدَ عَشَرَؔ كَوۡؔكَبًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ رَاَيۡتُهُمۡ لِيۡ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’ابا جان! میں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ خواب یوسفu کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا مقدمہ ہے جن کی بنا پر وہ دنیا و آخرت میں بلند مقام پر فائز ہوئے۔ اسی طرح جب اللہ بڑے بڑے اصولی امور کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے تقدیم پیش کرتا ہے جو اس امر کے لیے تمہید اور تسہیل کا کام دیتی ہے اور بندے کو ان مشقوں کے لیے تیار کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے طور پر بندے پر وارد ہوتی ہیں ۔یعقوبu نے اس خواب کی یہ تاویل کی، کہ سورج سے مراد یوسفu کی والدہ، چاند سے مراد والد اور ستاروں سے مراد ان کے بھائی ہیں ۔ نیز یہ کہ یہ حالات ایسے حالات میں بدل جائیں گے کہ مذکورہ تمام لوگ یوسفu کے مطیع ہوں گے اور ان کی تعظیم و تکریم کے لیے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے۔ یہ سب کچھ صرف ان اسباب کی بنا پر ہوگا جو یوسفu کو پیش آئیں گے، اللہ تعالیٰ یوسفu کو اپنے فضل و کرم کے لیے چن لے گا اور علم و عمل کی نعمت سے ان کو مالا مال فرمائے گا اور زمین میں اقتدار عطا کر کے آپ پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرے گا اور اقتدار کی یہ نعمت تبعاً تمام آل یعقوب کو شامل ہوگی جو یوسفu کے سامنے سرافگندہ ہوں گے۔

[5] جب یعقوبu نے حضرت یوسفu کے خواب کی تعبیر مکمل کر لی تو حضرت یعقوبu نے حضرت یوسفu سے فرمایا: ﴿ يٰبُنَيَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلٰۤى اِخۡوَتِكَ فَيَكِيۡدُوۡا لَكَ كَيۡدًا﴾ ’’اے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب‘‘ یعنی تمھارے ساتھ اپنے حسد کی وجہ سے تمھارے خلاف کوئی چال چلیں گے کہ کہیں تم ان کے سردار اور سربراہ نہ بن جاؤ۔ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے‘‘ دہ دن رات اور کھلے چھپے اس پر وار کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔ اس لیے ان اسباب سے دور رہنا بہتر ہے جن کے ذریعے سے وہ بندے پر تسلط حاصل کرتا ہے۔ یوسفu نے اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کی اور انھوں نے اپنے بھائیوں کو اس خواب کے بارے میں کچھ نہ بتایا بلکہ اس کو چھپائے رکھا۔

[6]﴿وَؔكَذٰلِكَ يَجۡتَبِيۡكَ رَبُّكَ ﴾ ’’اور اسی طرح چن لے گا تجھ کو تیرا رب‘‘ یعنی اللہ جل شانہ تجھ کو اوصاف جلیلہ اور مناقب جمیلہ کی نعمتوں سے نواز کر چن لے گا۔ ﴿وَيُعَلِّمُكَ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ ﴾ ’’اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا‘‘ یعنی خوابوں کی تعبیر اور کتب سماویہ میں وارد ہونے والے سچے واقعات کی تاویل وغیرہ۔ ﴿ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا۔‘‘ اور دنیا و آخرت میں تجھ پر اپنی نعمت کی تکمیل کرے گا، یعنی وہ دنیا میں بھی تجھ کو بھلائی عطا کرے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔ ﴿ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى …

5

قَالَ يَٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

(یاد کرو!) جس وقت کہا یوسف نے اپنے باپ سے، اے ابا جان! بے شک میں نے دیکھا گیارہ ستاروں کو اور سورج اورچاند کو، دیکھا میں نے ان کو اپنے واسطے سجدہ کرتے ہوئے(4) اس (یعقوب) نے کہا، اے میرے عزیز بیٹے! مت بیان کرنا خواب اپنا اوپر اپنے بھائیوں کے، پس وہ تدبیر کریں گے واسطے تیرے کوئی تدبیر (بری)، بے شک شیطان ہے واسطے انسان کے دشمن ظاہر(5) اور اسی طرح برگزیدہ کرے گا تجھے تیرا رب اور سکھائے گا تجھے حقیقت (تعبیر) باتوں (خواب) کی اور پوری کرے گا اپنی نعمت اوپر تیرے اور اوپر آل ِیعقوب کے، جس طرح اس نے پورا کیا تھا اسے اوپر تیرے باپ دادا کے پہلے اس سے (اوپر) ابراہیم اور اسحٰق کے، بے شک تیرا رب خوب جاننے والا ، حکمت والاہے(6)

[4]﴿ اِذۡ قَالَ يُوۡسُفُ﴾ ’’جب یوسف (u) نے کہا۔‘‘ یعنی جب یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡ رَاَيۡتُ اَحَدَ عَشَرَؔ كَوۡؔكَبًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ رَاَيۡتُهُمۡ لِيۡ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’ابا جان! میں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ خواب یوسفu کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا مقدمہ ہے جن کی بنا پر وہ دنیا و آخرت میں بلند مقام پر فائز ہوئے۔ اسی طرح جب اللہ بڑے بڑے اصولی امور کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے تقدیم پیش کرتا ہے جو اس امر کے لیے تمہید اور تسہیل کا کام دیتی ہے اور بندے کو ان مشقوں کے لیے تیار کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے طور پر بندے پر وارد ہوتی ہیں ۔یعقوبu نے اس خواب کی یہ تاویل کی، کہ سورج سے مراد یوسفu کی والدہ، چاند سے مراد والد اور ستاروں سے مراد ان کے بھائی ہیں ۔ نیز یہ کہ یہ حالات ایسے حالات میں بدل جائیں گے کہ مذکورہ تمام لوگ یوسفu کے مطیع ہوں گے اور ان کی تعظیم و تکریم کے لیے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے۔ یہ سب کچھ صرف ان اسباب کی بنا پر ہوگا جو یوسفu کو پیش آئیں گے، اللہ تعالیٰ یوسفu کو اپنے فضل و کرم کے لیے چن لے گا اور علم و عمل کی نعمت سے ان کو مالا مال فرمائے گا اور زمین میں اقتدار عطا کر کے آپ پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرے گا اور اقتدار کی یہ نعمت تبعاً تمام آل یعقوب کو شامل ہوگی جو یوسفu کے سامنے سرافگندہ ہوں گے۔

[5] جب یعقوبu نے حضرت یوسفu کے خواب کی تعبیر مکمل کر لی تو حضرت یعقوبu نے حضرت یوسفu سے فرمایا: ﴿ يٰبُنَيَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلٰۤى اِخۡوَتِكَ فَيَكِيۡدُوۡا لَكَ كَيۡدًا﴾ ’’اے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب‘‘ یعنی تمھارے ساتھ اپنے حسد کی وجہ سے تمھارے خلاف کوئی چال چلیں گے کہ کہیں تم ان کے سردار اور سربراہ نہ بن جاؤ۔ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے‘‘ دہ دن رات اور کھلے چھپے اس پر وار کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔ اس لیے ان اسباب سے دور رہنا بہتر ہے جن کے ذریعے سے وہ بندے پر تسلط حاصل کرتا ہے۔ یوسفu نے اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کی اور انھوں نے اپنے بھائیوں کو اس خواب کے بارے میں کچھ نہ بتایا بلکہ اس کو چھپائے رکھا۔

[6]﴿وَؔكَذٰلِكَ يَجۡتَبِيۡكَ رَبُّكَ ﴾ ’’اور اسی طرح چن لے گا تجھ کو تیرا رب‘‘ یعنی اللہ جل شانہ تجھ کو اوصاف جلیلہ اور مناقب جمیلہ کی نعمتوں سے نواز کر چن لے گا۔ ﴿وَيُعَلِّمُكَ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ ﴾ ’’اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا‘‘ یعنی خوابوں کی تعبیر اور کتب سماویہ میں وارد ہونے والے سچے واقعات کی تاویل وغیرہ۔ ﴿ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا۔‘‘ اور دنیا و آخرت میں تجھ پر اپنی نعمت کی تکمیل کرے گا، یعنی وہ دنیا میں بھی تجھ کو بھلائی عطا کرے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔ ﴿ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى …

6

وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(یاد کرو!) جس وقت کہا یوسف نے اپنے باپ سے، اے ابا جان! بے شک میں نے دیکھا گیارہ ستاروں کو اور سورج اورچاند کو، دیکھا میں نے ان کو اپنے واسطے سجدہ کرتے ہوئے(4) اس (یعقوب) نے کہا، اے میرے عزیز بیٹے! مت بیان کرنا خواب اپنا اوپر اپنے بھائیوں کے، پس وہ تدبیر کریں گے واسطے تیرے کوئی تدبیر (بری)، بے شک شیطان ہے واسطے انسان کے دشمن ظاہر(5) اور اسی طرح برگزیدہ کرے گا تجھے تیرا رب اور سکھائے گا تجھے حقیقت (تعبیر) باتوں (خواب) کی اور پوری کرے گا اپنی نعمت اوپر تیرے اور اوپر آل ِیعقوب کے، جس طرح اس نے پورا کیا تھا اسے اوپر تیرے باپ دادا کے پہلے اس سے (اوپر) ابراہیم اور اسحٰق کے، بے شک تیرا رب خوب جاننے والا ، حکمت والاہے(6)

[4]﴿ اِذۡ قَالَ يُوۡسُفُ﴾ ’’جب یوسف (u) نے کہا۔‘‘ یعنی جب یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡ رَاَيۡتُ اَحَدَ عَشَرَؔ كَوۡؔكَبًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ رَاَيۡتُهُمۡ لِيۡ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’ابا جان! میں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ خواب یوسفu کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا مقدمہ ہے جن کی بنا پر وہ دنیا و آخرت میں بلند مقام پر فائز ہوئے۔ اسی طرح جب اللہ بڑے بڑے اصولی امور کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے تقدیم پیش کرتا ہے جو اس امر کے لیے تمہید اور تسہیل کا کام دیتی ہے اور بندے کو ان مشقوں کے لیے تیار کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے طور پر بندے پر وارد ہوتی ہیں ۔یعقوبu نے اس خواب کی یہ تاویل کی، کہ سورج سے مراد یوسفu کی والدہ، چاند سے مراد والد اور ستاروں سے مراد ان کے بھائی ہیں ۔ نیز یہ کہ یہ حالات ایسے حالات میں بدل جائیں گے کہ مذکورہ تمام لوگ یوسفu کے مطیع ہوں گے اور ان کی تعظیم و تکریم کے لیے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے۔ یہ سب کچھ صرف ان اسباب کی بنا پر ہوگا جو یوسفu کو پیش آئیں گے، اللہ تعالیٰ یوسفu کو اپنے فضل و کرم کے لیے چن لے گا اور علم و عمل کی نعمت سے ان کو مالا مال فرمائے گا اور زمین میں اقتدار عطا کر کے آپ پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرے گا اور اقتدار کی یہ نعمت تبعاً تمام آل یعقوب کو شامل ہوگی جو یوسفu کے سامنے سرافگندہ ہوں گے۔

[5] جب یعقوبu نے حضرت یوسفu کے خواب کی تعبیر مکمل کر لی تو حضرت یعقوبu نے حضرت یوسفu سے فرمایا: ﴿ يٰبُنَيَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلٰۤى اِخۡوَتِكَ فَيَكِيۡدُوۡا لَكَ كَيۡدًا﴾ ’’اے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب‘‘ یعنی تمھارے ساتھ اپنے حسد کی وجہ سے تمھارے خلاف کوئی چال چلیں گے کہ کہیں تم ان کے سردار اور سربراہ نہ بن جاؤ۔ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے‘‘ دہ دن رات اور کھلے چھپے اس پر وار کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔ اس لیے ان اسباب سے دور رہنا بہتر ہے جن کے ذریعے سے وہ بندے پر تسلط حاصل کرتا ہے۔ یوسفu نے اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کی اور انھوں نے اپنے بھائیوں کو اس خواب کے بارے میں کچھ نہ بتایا بلکہ اس کو چھپائے رکھا۔

[6]﴿وَؔكَذٰلِكَ يَجۡتَبِيۡكَ رَبُّكَ ﴾ ’’اور اسی طرح چن لے گا تجھ کو تیرا رب‘‘ یعنی اللہ جل شانہ تجھ کو اوصاف جلیلہ اور مناقب جمیلہ کی نعمتوں سے نواز کر چن لے گا۔ ﴿وَيُعَلِّمُكَ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ ﴾ ’’اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا‘‘ یعنی خوابوں کی تعبیر اور کتب سماویہ میں وارد ہونے والے سچے واقعات کی تاویل وغیرہ۔ ﴿ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا۔‘‘ اور دنیا و آخرت میں تجھ پر اپنی نعمت کی تکمیل کرے گا، یعنی وہ دنیا میں بھی تجھ کو بھلائی عطا کرے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔ ﴿ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى …

7

۞ لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَٰتٌۭ لِّلسَّآئِلِينَ

ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں

البتہ تحقیق تھیں یوسف اور اس کے بھائیوں (کے واقعے) میں نشانیاں سوال کرنے والوں کے لیے (7) جب کہا انھوں نے (آپس میں ) ، البتہ یوسف اور اس کا بھائی (بنیامین) زیادہ پیارے ہیں طرف ہمارے باپ کی ہم سے حالانکہ ہم ایک (طاقتور) جماعت ہیں ، بے شک ہمارا باپ غلطی میں ہے جو کہ واضح ہے (8) تم قتل کر دو یوسف کو یا پھینک دو اسے کسی زمین میں ، کہ خالی ہو جائے تمھارے لیے چہرہ تمھارے باپ کااور تم ہو جانا بعد اس کے نیک لوگ (9)

[7] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ كَانَ فِيۡ يُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ ﴾ ’’یقینا یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصہ) میں نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی قصۂ یوسف میں عبرتیں اور بہت سے مطالب حسنہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’پوچھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ہر اس شخص کے لیے جو زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اس قصے کے بارے میں سوال کرتا ہے کیونکہ سوال کرنے والے لوگ ہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور رہے روگردانی کرنے والے تو وہ آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، نہ قصوں اور واضح دلائل سے۔

[8]﴿ اِذۡ قَالُوۡا ﴾ ’’جب انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے آپس میں کہا: ﴿ لَيُوۡسُفُ وَاَخُوۡهُ ﴾ ’’یوسف اور اس کا بھائی۔‘‘ یعنی یوسفu اور ان کے حقیقی بھائی بنیا مین، ورنہ تو وہ سب ان کے بھائی تھے ﴿ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِيۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ﴾ ’’ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں ‘‘ یعنی حالانکہ ہم بھائی ایک جماعت ہیں پھر وہ اپنی محبت اور شفقت میں ان دونوں کو کیوں فضیلت دیتے ہیں ؟ ﴿ اِنَّ اَبَانَا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہمارا باپ واضح غلطی پر ہے‘‘ کیونکہ اس نے بغیر کسی موجب کے جس کو ہم دیکھ سکیں اور بغیر کسی ایسے سبب کے جس کا ہم مشاہدہ کر سکیں ، ان دونوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔

[9]﴿ اقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡهُ اَرۡضًا ﴾ ’’یوسف کو مار ڈالو یا اس کو پھینک دو کسی زمین میں ‘‘ یعنی کہیں دور علاقے میں لے جا کر اس کو باپ کی نظروں سے دور کر دو جہاں وہ اپنے باپ کو نظر نہ آسکے۔ اگر تم نے ان دونوں امور میں سے کسی ایک پر عمل کر لیا ﴿ يَّخۡلُ لَكُمۡ وَجۡهُ اَبِيۡكُمۡ ﴾ ’’تو خالص ہو جائے گی تمھارے باپ کی توجہ تمھارے لیے‘‘ یعنی وہ تمھارے لیے فارغ ہوگا اور تمھارا باپ تمھارے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آئے گا کیونکہ وہ اس وقت یوسف کی محبت میں مشغول ہے تمھاری محبت کے لیے اس کے پاس فراغت نہیں ۔ ﴿ وَتَكُوۡنُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ ﴾ ’’اور ہو جانا تم اس کے بعد‘‘ یعنی یہ کام کرنے کے بعد ﴿ قَوۡمًا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کر لینا اور اپنے اس گناہ کی معافی مانگ لینا۔ انھوں نے گناہ کے صدور سے پہلے ہی توبہ کا عزم کیا تاکہ گناہ کا ارتکاب آسان ہو، اس کی برائی زائل ہو اور اس گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے ایک دوسرے میں حوصلہ پیدا کریں ۔

8

إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں

البتہ تحقیق تھیں یوسف اور اس کے بھائیوں (کے واقعے) میں نشانیاں سوال کرنے والوں کے لیے (7) جب کہا انھوں نے (آپس میں ) ، البتہ یوسف اور اس کا بھائی (بنیامین) زیادہ پیارے ہیں طرف ہمارے باپ کی ہم سے حالانکہ ہم ایک (طاقتور) جماعت ہیں ، بے شک ہمارا باپ غلطی میں ہے جو کہ واضح ہے (8) تم قتل کر دو یوسف کو یا پھینک دو اسے کسی زمین میں ، کہ خالی ہو جائے تمھارے لیے چہرہ تمھارے باپ کااور تم ہو جانا بعد اس کے نیک لوگ (9)

[7] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ كَانَ فِيۡ يُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ ﴾ ’’یقینا یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصہ) میں نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی قصۂ یوسف میں عبرتیں اور بہت سے مطالب حسنہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’پوچھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ہر اس شخص کے لیے جو زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اس قصے کے بارے میں سوال کرتا ہے کیونکہ سوال کرنے والے لوگ ہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور رہے روگردانی کرنے والے تو وہ آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، نہ قصوں اور واضح دلائل سے۔

[8]﴿ اِذۡ قَالُوۡا ﴾ ’’جب انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے آپس میں کہا: ﴿ لَيُوۡسُفُ وَاَخُوۡهُ ﴾ ’’یوسف اور اس کا بھائی۔‘‘ یعنی یوسفu اور ان کے حقیقی بھائی بنیا مین، ورنہ تو وہ سب ان کے بھائی تھے ﴿ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِيۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ﴾ ’’ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں ‘‘ یعنی حالانکہ ہم بھائی ایک جماعت ہیں پھر وہ اپنی محبت اور شفقت میں ان دونوں کو کیوں فضیلت دیتے ہیں ؟ ﴿ اِنَّ اَبَانَا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہمارا باپ واضح غلطی پر ہے‘‘ کیونکہ اس نے بغیر کسی موجب کے جس کو ہم دیکھ سکیں اور بغیر کسی ایسے سبب کے جس کا ہم مشاہدہ کر سکیں ، ان دونوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔

[9]﴿ اقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡهُ اَرۡضًا ﴾ ’’یوسف کو مار ڈالو یا اس کو پھینک دو کسی زمین میں ‘‘ یعنی کہیں دور علاقے میں لے جا کر اس کو باپ کی نظروں سے دور کر دو جہاں وہ اپنے باپ کو نظر نہ آسکے۔ اگر تم نے ان دونوں امور میں سے کسی ایک پر عمل کر لیا ﴿ يَّخۡلُ لَكُمۡ وَجۡهُ اَبِيۡكُمۡ ﴾ ’’تو خالص ہو جائے گی تمھارے باپ کی توجہ تمھارے لیے‘‘ یعنی وہ تمھارے لیے فارغ ہوگا اور تمھارا باپ تمھارے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آئے گا کیونکہ وہ اس وقت یوسف کی محبت میں مشغول ہے تمھاری محبت کے لیے اس کے پاس فراغت نہیں ۔ ﴿ وَتَكُوۡنُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ ﴾ ’’اور ہو جانا تم اس کے بعد‘‘ یعنی یہ کام کرنے کے بعد ﴿ قَوۡمًا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کر لینا اور اپنے اس گناہ کی معافی مانگ لینا۔ انھوں نے گناہ کے صدور سے پہلے ہی توبہ کا عزم کیا تاکہ گناہ کا ارتکاب آسان ہو، اس کی برائی زائل ہو اور اس گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے ایک دوسرے میں حوصلہ پیدا کریں ۔

9

ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًۭا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًۭا صَٰلِحِينَ

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے

البتہ تحقیق تھیں یوسف اور اس کے بھائیوں (کے واقعے) میں نشانیاں سوال کرنے والوں کے لیے (7) جب کہا انھوں نے (آپس میں ) ، البتہ یوسف اور اس کا بھائی (بنیامین) زیادہ پیارے ہیں طرف ہمارے باپ کی ہم سے حالانکہ ہم ایک (طاقتور) جماعت ہیں ، بے شک ہمارا باپ غلطی میں ہے جو کہ واضح ہے (8) تم قتل کر دو یوسف کو یا پھینک دو اسے کسی زمین میں ، کہ خالی ہو جائے تمھارے لیے چہرہ تمھارے باپ کااور تم ہو جانا بعد اس کے نیک لوگ (9)

[7] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ كَانَ فِيۡ يُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ ﴾ ’’یقینا یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصہ) میں نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی قصۂ یوسف میں عبرتیں اور بہت سے مطالب حسنہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’پوچھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ہر اس شخص کے لیے جو زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اس قصے کے بارے میں سوال کرتا ہے کیونکہ سوال کرنے والے لوگ ہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور رہے روگردانی کرنے والے تو وہ آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، نہ قصوں اور واضح دلائل سے۔

[8]﴿ اِذۡ قَالُوۡا ﴾ ’’جب انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے آپس میں کہا: ﴿ لَيُوۡسُفُ وَاَخُوۡهُ ﴾ ’’یوسف اور اس کا بھائی۔‘‘ یعنی یوسفu اور ان کے حقیقی بھائی بنیا مین، ورنہ تو وہ سب ان کے بھائی تھے ﴿ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِيۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ﴾ ’’ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں ‘‘ یعنی حالانکہ ہم بھائی ایک جماعت ہیں پھر وہ اپنی محبت اور شفقت میں ان دونوں کو کیوں فضیلت دیتے ہیں ؟ ﴿ اِنَّ اَبَانَا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہمارا باپ واضح غلطی پر ہے‘‘ کیونکہ اس نے بغیر کسی موجب کے جس کو ہم دیکھ سکیں اور بغیر کسی ایسے سبب کے جس کا ہم مشاہدہ کر سکیں ، ان دونوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔

[9]﴿ اقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡهُ اَرۡضًا ﴾ ’’یوسف کو مار ڈالو یا اس کو پھینک دو کسی زمین میں ‘‘ یعنی کہیں دور علاقے میں لے جا کر اس کو باپ کی نظروں سے دور کر دو جہاں وہ اپنے باپ کو نظر نہ آسکے۔ اگر تم نے ان دونوں امور میں سے کسی ایک پر عمل کر لیا ﴿ يَّخۡلُ لَكُمۡ وَجۡهُ اَبِيۡكُمۡ ﴾ ’’تو خالص ہو جائے گی تمھارے باپ کی توجہ تمھارے لیے‘‘ یعنی وہ تمھارے لیے فارغ ہوگا اور تمھارا باپ تمھارے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آئے گا کیونکہ وہ اس وقت یوسف کی محبت میں مشغول ہے تمھاری محبت کے لیے اس کے پاس فراغت نہیں ۔ ﴿ وَتَكُوۡنُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ ﴾ ’’اور ہو جانا تم اس کے بعد‘‘ یعنی یہ کام کرنے کے بعد ﴿ قَوۡمًا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کر لینا اور اپنے اس گناہ کی معافی مانگ لینا۔ انھوں نے گناہ کے صدور سے پہلے ہی توبہ کا عزم کیا تاکہ گناہ کا ارتکاب آسان ہو، اس کی برائی زائل ہو اور اس گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے ایک دوسرے میں حوصلہ پیدا کریں ۔

10

قَالَ قَآئِلٌۭ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)

کہا ایک کہنے والے نے ان میں سے، نہ قتل کرو تم یوسف کو اور ڈال دو تم اسے تہ میں کنویں کی، کہ اٹھالے جائے اسے کوئی مسافر، اگر ہو تم کرنے والے ہی (10)

[10]﴿ قَالَ قَآىِٕلٌ مِّؔنۡهُمۡ﴾’’ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا۔‘‘ یعنی یوسفu کے بھائیوں میں سے کسی نے کہا جنھوں نے یوسفu کو قتل کرنے یا جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا ﴿ لَا تَقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ﴾ ’’یوسف کو قتل نہ کرو‘‘ کیونکہ اس کو قتل کرنا بہت بڑی برائی اور بہت بڑا گناہ ہے اور یہ مقصد کہ یوسفu کو اس کے باپ سے دور کردیا جائے، یوسف کو قتل کیے بغیر حاصل ہوجائے گا، اس لیے تم یہ کرو کہ باپ سے دور کرنے کے لیے اسے اندھے کنویں میں ڈال دو اور یوسف کو دھمکی دو کہ وہ بھائیوں کی اس کارستانی کے بارے میں کسی کو آگاہ نہ کرے اور اپنے بارے میں یہی بتائے کہ وہ بھاگا ہوا ایک غلام ہے۔ اس وجہ سے کہ ﴿ يَلۡتَقِطۡهُ بَعۡضُ السَّيَّارَةِ ﴾ ’’کوئی قافلے والا نکال کر اسے لے جائے گا۔‘‘ جو کہیں دور جا رہے ہوں گے اور وہ یوسفu کو ساتھ لے جائیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔ اس قول کا قائل جناب یوسفu کے بارے میں سب سے اچھی رائے رکھنے والا اور اس پورے قضیے میں سب سے زیادہ نیک اور تقویٰ پر مبنی رویے کا حامل تھا کیونکہ کچھ برائیاں دوسری برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں اور کم تر نقصان کے ذریعے سے بڑے نقصان کو دور کرلیا جاسکتا ہے۔ پس جب وہ اس رائے پر متفق ہوگئے۔

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.