Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 11–20 of 111

11

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٰصِحُونَ

(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں

انھوں نے کہا، اے ابا جان! کیا ہے تجھے کہ نہیں امین سمجھتا تو ہمیں یوسف پر؟ حالانکہ یقینا ہم اس کے خیر خواہ ہیں (11) تو بھیج اسے ہمارے ساتھ کل، کہ وہ (فراخی سے) کھائے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی یقینا حفاظت کرنے والے ہیں (12) یعقوب نے کہا، بے شک مجھے تو البتہ رنج میں ڈالتی ہے یہ بات کہ تم لے جاؤ اسےاور ڈرتا ہوں میں یہ کہ کھا جائے اسے بھیڑیا اور تم اس سے غافل ہو(13)انھوں نے کہا ، البتہ اگر کھاجائے اسے بھیڑیا، جبکہ ہم ایک (طاقتور) جماعت ہیں ، بلاشبہ ہم اس وقت یقینا خسارہ پانے والے ہوں گے (14)

[11] یعنی جناب یوسفu کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ ﴾ ’’اباجان! کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے۔‘‘ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسفu کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَؔ ﴾ ’’ہم اس کے خیرخواہ ہیں ‘‘ یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں ۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوبu حضرت یوسفu کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے تھے۔

[12] جب انھوں نے اپنے آپ سے اس تہمت کو رفع کر دیا جو یوسفu کو ان کے ساتھ بھیجنے سے مانع تھی تو انھوں نے یوسفu کے بارے میں اس مصلحت کا ذکر کیا جسے یعقوبu پسند کرتے تھے اور اس امر کا تقاضا کرتی تھی کہ وہ یوسفu کو ان کے ساتھ بھیج دیں تو کہنے لگے: ﴿ اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ﴾ ’’بھیج دو اس کو ہمارے ساتھ کل کو، خوب کھائے اور کھیلے‘‘ یعنی وہ جنگل میں تفریح کر کے وحشت دور کر لے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی ہم اس کا دھیان رکھیں گے اور ہر تکلیف دہ چیز سے اس کی حفاظت کریں گے۔

[13] یعقوبu نے جواب میں ان سے فرمایا: ﴿ اِنِّيۡ لَيَحۡزُنُنِيۡۤ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ﴾’’تمھارا اس (یوسف) کو محض ساتھ لے جانا ہی مجھے غم زدہ کرتا ہے‘‘ اور مجھ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا خواہ یہ تھوڑے سے وقت کے لیے ہی کیوں نہ ہو اور یہ چیز یوسفu کو تمھارے ساتھ بھیجنے سے مانع ہے اور دوسرا مانع یہ ہے ﴿وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَؔ﴾ ’’مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔‘‘ تمھارے اس سے غفلت کرنے کی وجہ سے کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔

[14]﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ اَكَلَهُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ﴾ ’’انھوں نے کہا، اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا اور ہم ایک قوی جماعت ہیں ‘‘ یعنی ہم ایک جماعت ہیں اور اس کی حفاظت کے حریص ہیں ۔ ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَؔ﴾ ’’تب تو ہم یقینا نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یعنی اگر بھیڑیا یوسفu کو ہم سے چھین کر کھا جائے تب تو ہم میں کوئی بھلائی اور کوئی نفع نہیں جس کی امید کی جا سکے۔ جب انھوں نے اپنے باپ کے سامنے ان تمام اسباب کو تمہید کے ساتھ بیان کیا جو یوسفu کو ساتھ بھیجنے کے داعی تھے اور عدم موانع کا ذکر کیا تو یعقوبu نے حضرت یوسفu کو تفریح کے لیے ان کے ساتھ بھیج دیا۔

12

أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًۭا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں

انھوں نے کہا، اے ابا جان! کیا ہے تجھے کہ نہیں امین سمجھتا تو ہمیں یوسف پر؟ حالانکہ یقینا ہم اس کے خیر خواہ ہیں (11) تو بھیج اسے ہمارے ساتھ کل، کہ وہ (فراخی سے) کھائے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی یقینا حفاظت کرنے والے ہیں (12) یعقوب نے کہا، بے شک مجھے تو البتہ رنج میں ڈالتی ہے یہ بات کہ تم لے جاؤ اسےاور ڈرتا ہوں میں یہ کہ کھا جائے اسے بھیڑیا اور تم اس سے غافل ہو(13)انھوں نے کہا ، البتہ اگر کھاجائے اسے بھیڑیا، جبکہ ہم ایک (طاقتور) جماعت ہیں ، بلاشبہ ہم اس وقت یقینا خسارہ پانے والے ہوں گے (14)

[11] یعنی جناب یوسفu کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ ﴾ ’’اباجان! کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے۔‘‘ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسفu کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَؔ ﴾ ’’ہم اس کے خیرخواہ ہیں ‘‘ یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں ۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوبu حضرت یوسفu کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے تھے۔

[12] جب انھوں نے اپنے آپ سے اس تہمت کو رفع کر دیا جو یوسفu کو ان کے ساتھ بھیجنے سے مانع تھی تو انھوں نے یوسفu کے بارے میں اس مصلحت کا ذکر کیا جسے یعقوبu پسند کرتے تھے اور اس امر کا تقاضا کرتی تھی کہ وہ یوسفu کو ان کے ساتھ بھیج دیں تو کہنے لگے: ﴿ اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ﴾ ’’بھیج دو اس کو ہمارے ساتھ کل کو، خوب کھائے اور کھیلے‘‘ یعنی وہ جنگل میں تفریح کر کے وحشت دور کر لے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی ہم اس کا دھیان رکھیں گے اور ہر تکلیف دہ چیز سے اس کی حفاظت کریں گے۔

[13] یعقوبu نے جواب میں ان سے فرمایا: ﴿ اِنِّيۡ لَيَحۡزُنُنِيۡۤ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ﴾’’تمھارا اس (یوسف) کو محض ساتھ لے جانا ہی مجھے غم زدہ کرتا ہے‘‘ اور مجھ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا خواہ یہ تھوڑے سے وقت کے لیے ہی کیوں نہ ہو اور یہ چیز یوسفu کو تمھارے ساتھ بھیجنے سے مانع ہے اور دوسرا مانع یہ ہے ﴿وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَؔ﴾ ’’مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔‘‘ تمھارے اس سے غفلت کرنے کی وجہ سے کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔

[14]﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ اَكَلَهُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ﴾ ’’انھوں نے کہا، اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا اور ہم ایک قوی جماعت ہیں ‘‘ یعنی ہم ایک جماعت ہیں اور اس کی حفاظت کے حریص ہیں ۔ ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَؔ﴾ ’’تب تو ہم یقینا نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یعنی اگر بھیڑیا یوسفu کو ہم سے چھین کر کھا جائے تب تو ہم میں کوئی بھلائی اور کوئی نفع نہیں جس کی امید کی جا سکے۔ جب انھوں نے اپنے باپ کے سامنے ان تمام اسباب کو تمہید کے ساتھ بیان کیا جو یوسفu کو ساتھ بھیجنے کے داعی تھے اور عدم موانع کا ذکر کیا تو یعقوبu نے حضرت یوسفu کو تفریح کے لیے ان کے ساتھ بھیج دیا۔

13

قَالَ إِنِّى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَٰفِلُونَ

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے

انھوں نے کہا، اے ابا جان! کیا ہے تجھے کہ نہیں امین سمجھتا تو ہمیں یوسف پر؟ حالانکہ یقینا ہم اس کے خیر خواہ ہیں (11) تو بھیج اسے ہمارے ساتھ کل، کہ وہ (فراخی سے) کھائے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی یقینا حفاظت کرنے والے ہیں (12) یعقوب نے کہا، بے شک مجھے تو البتہ رنج میں ڈالتی ہے یہ بات کہ تم لے جاؤ اسےاور ڈرتا ہوں میں یہ کہ کھا جائے اسے بھیڑیا اور تم اس سے غافل ہو(13)انھوں نے کہا ، البتہ اگر کھاجائے اسے بھیڑیا، جبکہ ہم ایک (طاقتور) جماعت ہیں ، بلاشبہ ہم اس وقت یقینا خسارہ پانے والے ہوں گے (14)

[11] یعنی جناب یوسفu کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ ﴾ ’’اباجان! کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے۔‘‘ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسفu کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَؔ ﴾ ’’ہم اس کے خیرخواہ ہیں ‘‘ یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں ۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوبu حضرت یوسفu کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے تھے۔

[12] جب انھوں نے اپنے آپ سے اس تہمت کو رفع کر دیا جو یوسفu کو ان کے ساتھ بھیجنے سے مانع تھی تو انھوں نے یوسفu کے بارے میں اس مصلحت کا ذکر کیا جسے یعقوبu پسند کرتے تھے اور اس امر کا تقاضا کرتی تھی کہ وہ یوسفu کو ان کے ساتھ بھیج دیں تو کہنے لگے: ﴿ اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ﴾ ’’بھیج دو اس کو ہمارے ساتھ کل کو، خوب کھائے اور کھیلے‘‘ یعنی وہ جنگل میں تفریح کر کے وحشت دور کر لے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی ہم اس کا دھیان رکھیں گے اور ہر تکلیف دہ چیز سے اس کی حفاظت کریں گے۔

[13] یعقوبu نے جواب میں ان سے فرمایا: ﴿ اِنِّيۡ لَيَحۡزُنُنِيۡۤ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ﴾’’تمھارا اس (یوسف) کو محض ساتھ لے جانا ہی مجھے غم زدہ کرتا ہے‘‘ اور مجھ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا خواہ یہ تھوڑے سے وقت کے لیے ہی کیوں نہ ہو اور یہ چیز یوسفu کو تمھارے ساتھ بھیجنے سے مانع ہے اور دوسرا مانع یہ ہے ﴿وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَؔ﴾ ’’مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔‘‘ تمھارے اس سے غفلت کرنے کی وجہ سے کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔

[14]﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ اَكَلَهُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ﴾ ’’انھوں نے کہا، اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا اور ہم ایک قوی جماعت ہیں ‘‘ یعنی ہم ایک جماعت ہیں اور اس کی حفاظت کے حریص ہیں ۔ ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَؔ﴾ ’’تب تو ہم یقینا نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یعنی اگر بھیڑیا یوسفu کو ہم سے چھین کر کھا جائے تب تو ہم میں کوئی بھلائی اور کوئی نفع نہیں جس کی امید کی جا سکے۔ جب انھوں نے اپنے باپ کے سامنے ان تمام اسباب کو تمہید کے ساتھ بیان کیا جو یوسفu کو ساتھ بھیجنے کے داعی تھے اور عدم موانع کا ذکر کیا تو یعقوبu نے حضرت یوسفu کو تفریح کے لیے ان کے ساتھ بھیج دیا۔

14

قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًۭا لَّخَٰسِرُونَ

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے

انھوں نے کہا، اے ابا جان! کیا ہے تجھے کہ نہیں امین سمجھتا تو ہمیں یوسف پر؟ حالانکہ یقینا ہم اس کے خیر خواہ ہیں (11) تو بھیج اسے ہمارے ساتھ کل، کہ وہ (فراخی سے) کھائے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی یقینا حفاظت کرنے والے ہیں (12) یعقوب نے کہا، بے شک مجھے تو البتہ رنج میں ڈالتی ہے یہ بات کہ تم لے جاؤ اسےاور ڈرتا ہوں میں یہ کہ کھا جائے اسے بھیڑیا اور تم اس سے غافل ہو(13)انھوں نے کہا ، البتہ اگر کھاجائے اسے بھیڑیا، جبکہ ہم ایک (طاقتور) جماعت ہیں ، بلاشبہ ہم اس وقت یقینا خسارہ پانے والے ہوں گے (14)

[11] یعنی جناب یوسفu کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ ﴾ ’’اباجان! کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے۔‘‘ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسفu کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَؔ ﴾ ’’ہم اس کے خیرخواہ ہیں ‘‘ یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں ۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوبu حضرت یوسفu کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے تھے۔

[12] جب انھوں نے اپنے آپ سے اس تہمت کو رفع کر دیا جو یوسفu کو ان کے ساتھ بھیجنے سے مانع تھی تو انھوں نے یوسفu کے بارے میں اس مصلحت کا ذکر کیا جسے یعقوبu پسند کرتے تھے اور اس امر کا تقاضا کرتی تھی کہ وہ یوسفu کو ان کے ساتھ بھیج دیں تو کہنے لگے: ﴿ اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ﴾ ’’بھیج دو اس کو ہمارے ساتھ کل کو، خوب کھائے اور کھیلے‘‘ یعنی وہ جنگل میں تفریح کر کے وحشت دور کر لے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی ہم اس کا دھیان رکھیں گے اور ہر تکلیف دہ چیز سے اس کی حفاظت کریں گے۔

[13] یعقوبu نے جواب میں ان سے فرمایا: ﴿ اِنِّيۡ لَيَحۡزُنُنِيۡۤ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ﴾’’تمھارا اس (یوسف) کو محض ساتھ لے جانا ہی مجھے غم زدہ کرتا ہے‘‘ اور مجھ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا خواہ یہ تھوڑے سے وقت کے لیے ہی کیوں نہ ہو اور یہ چیز یوسفu کو تمھارے ساتھ بھیجنے سے مانع ہے اور دوسرا مانع یہ ہے ﴿وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَؔ﴾ ’’مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔‘‘ تمھارے اس سے غفلت کرنے کی وجہ سے کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔

[14]﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ اَكَلَهُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ﴾ ’’انھوں نے کہا، اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا اور ہم ایک قوی جماعت ہیں ‘‘ یعنی ہم ایک جماعت ہیں اور اس کی حفاظت کے حریص ہیں ۔ ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَؔ﴾ ’’تب تو ہم یقینا نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یعنی اگر بھیڑیا یوسفu کو ہم سے چھین کر کھا جائے تب تو ہم میں کوئی بھلائی اور کوئی نفع نہیں جس کی امید کی جا سکے۔ جب انھوں نے اپنے باپ کے سامنے ان تمام اسباب کو تمہید کے ساتھ بیان کیا جو یوسفu کو ساتھ بھیجنے کے داعی تھے اور عدم موانع کا ذکر کیا تو یعقوبu نے حضرت یوسفu کو تفریح کے لیے ان کے ساتھ بھیج دیا۔

15

فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی

پھر جب وہ لے گئے اسےاور عزم کرلیا انھوں نے یہ کہ ڈال دیں وہ اسے تہ میں کنویں کی اور وحی کی ہم نے اس کی طرف کہ تو ضرور خبر دے گا انھیں ان کے اس کام کی جبکہ وہ نہیں سمجھتے ہوں گے (15) اور آئے وہ اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے (16)انھوں نے کہا، ابا جان! بے شک گئے تھے ہم مقابلہ کرتے تھے ہم دوڑ کا اور چھوڑ دیا تھا ہم نے یوسف کو نزدیک اپنے سامان کے، پس کھا گیا اسے بھیڑیااور نہیں تو یقین کرنے والا ہماری بات کا اگر چہ ہوں ہم سچے (17) اور (لگا) لائے وہ اوپر اس کی قمیص کے خون جھوٹا، یعقوب نے کہا، (حقیقت یہ نہیں )بلکہ بنا دی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے ایک بات، سو صبر ہی بہتر ہےاور اللہ (اسی سے) مدد طلب کی جاتی ہے اس پر جو تم بیان کرتے ہو (18)

[15] یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسفu کو ساتھ لے گئے اور انھوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسفu کو… جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے… اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے، ان کی طرف وحی کی ﴿ لَتُنَبِّئَنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰؔذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے‘‘ یعنی آپ عنقریب اس معاملے میں ان پر عتاب کریں گے اور ان کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور انھیں اس معاملے کا شعور تک نہ ہوگا۔ اس میں جناب یوسفu کے لیے بشارت تھی کہ وہ اس مصیبت سے ضرور نجات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس حالت میں ان کو اپنے گھر والوں کے ساتھ اکٹھا کرے گا کہ عزت اور ملک کا اقتدار ان کے پاس ہوگا۔

[16]﴿ وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؔ ﴾ ’’اور وہ اندھیرا پڑتے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے‘‘ تاکہ ان کے معمول کے مطابق آنے کے وقت سے تاخیر کر کے اور ان کا روتے دھوتے آنا ان کے حق میں دلیل اور ان کی صداقت کا قرینہ ہو۔

[17] وہ جھوٹا عذر پیش کرتے ہوئے بولے: ﴿يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ﴾ ’’اباجان! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے۔‘‘ ابا جان! ہم مقابلہ کرنے لگ گئے تھے۔ یہ ’’مقابلہ‘‘ یا تو دوڑ کا مقابلہ تھا یا تیر اندازی اور نیزہ بازی کا۔ ﴿ وَتَرَؔكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا ﴾ ’’اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔‘‘ ہم نے سامان کی حفاظت اور یوسفu کے آرام کی خاطر اسے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا ﴿ فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُ﴾ ’’تو اسے بھیڑیا کھاگیا۔‘‘ جب ہم مقابلہ کر رہے تھے تو ہماری عدم موجودگی میں اسے بھیڑیا کھا گیا ﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡؔ كُنَّا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچے بھی ہوں ، باور نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی ہم یہ عذر پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ ہماری بات نہیں مانیں گے کیونکہ آپ کا دل یوسفu کے بارے میں سخت غم زدہ ہے۔ مگر آپ کا ہماری بات کو نہ ماننا اس بات سے مانع نہیں کہ ہم آپ کے سامنے حقیقی عذر پیش کریں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے عذر پر تاکید کے لیے تھا۔

[18]﴿ وَ﴾ اور انھوں نے اپنی بات کو اس طرح مؤکد کیا ﴿ جَآءُوۡ عَلٰى قَمِيۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ ’’وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے‘‘ اور دعویٰ کیا کہ یہ یوسفu کا خون ہے اور یہ خون اس وقت لگا تھا جب بھیڑیے نے یوسفu کو کھایا تھا۔ مگر ان کے باپ نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا ﴿ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا﴾ ’’انھوں (یعقوب) نے کہا بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے نفس نے میرے اور یوسفu کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے ایک برے کام کو تمھارے سامنے مزین کر دیا کیونکہ قرائن و احوال اور …

16

وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءًۭ يَبْكُونَ

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

پھر جب وہ لے گئے اسےاور عزم کرلیا انھوں نے یہ کہ ڈال دیں وہ اسے تہ میں کنویں کی اور وحی کی ہم نے اس کی طرف کہ تو ضرور خبر دے گا انھیں ان کے اس کام کی جبکہ وہ نہیں سمجھتے ہوں گے (15) اور آئے وہ اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے (16)انھوں نے کہا، ابا جان! بے شک گئے تھے ہم مقابلہ کرتے تھے ہم دوڑ کا اور چھوڑ دیا تھا ہم نے یوسف کو نزدیک اپنے سامان کے، پس کھا گیا اسے بھیڑیااور نہیں تو یقین کرنے والا ہماری بات کا اگر چہ ہوں ہم سچے (17) اور (لگا) لائے وہ اوپر اس کی قمیص کے خون جھوٹا، یعقوب نے کہا، (حقیقت یہ نہیں )بلکہ بنا دی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے ایک بات، سو صبر ہی بہتر ہےاور اللہ (اسی سے) مدد طلب کی جاتی ہے اس پر جو تم بیان کرتے ہو (18)

[15] یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسفu کو ساتھ لے گئے اور انھوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسفu کو… جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے… اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے، ان کی طرف وحی کی ﴿ لَتُنَبِّئَنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰؔذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے‘‘ یعنی آپ عنقریب اس معاملے میں ان پر عتاب کریں گے اور ان کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور انھیں اس معاملے کا شعور تک نہ ہوگا۔ اس میں جناب یوسفu کے لیے بشارت تھی کہ وہ اس مصیبت سے ضرور نجات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس حالت میں ان کو اپنے گھر والوں کے ساتھ اکٹھا کرے گا کہ عزت اور ملک کا اقتدار ان کے پاس ہوگا۔

[16]﴿ وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؔ ﴾ ’’اور وہ اندھیرا پڑتے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے‘‘ تاکہ ان کے معمول کے مطابق آنے کے وقت سے تاخیر کر کے اور ان کا روتے دھوتے آنا ان کے حق میں دلیل اور ان کی صداقت کا قرینہ ہو۔

[17] وہ جھوٹا عذر پیش کرتے ہوئے بولے: ﴿يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ﴾ ’’اباجان! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے۔‘‘ ابا جان! ہم مقابلہ کرنے لگ گئے تھے۔ یہ ’’مقابلہ‘‘ یا تو دوڑ کا مقابلہ تھا یا تیر اندازی اور نیزہ بازی کا۔ ﴿ وَتَرَؔكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا ﴾ ’’اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔‘‘ ہم نے سامان کی حفاظت اور یوسفu کے آرام کی خاطر اسے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا ﴿ فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُ﴾ ’’تو اسے بھیڑیا کھاگیا۔‘‘ جب ہم مقابلہ کر رہے تھے تو ہماری عدم موجودگی میں اسے بھیڑیا کھا گیا ﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡؔ كُنَّا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچے بھی ہوں ، باور نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی ہم یہ عذر پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ ہماری بات نہیں مانیں گے کیونکہ آپ کا دل یوسفu کے بارے میں سخت غم زدہ ہے۔ مگر آپ کا ہماری بات کو نہ ماننا اس بات سے مانع نہیں کہ ہم آپ کے سامنے حقیقی عذر پیش کریں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے عذر پر تاکید کے لیے تھا۔

[18]﴿ وَ﴾ اور انھوں نے اپنی بات کو اس طرح مؤکد کیا ﴿ جَآءُوۡ عَلٰى قَمِيۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ ’’وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے‘‘ اور دعویٰ کیا کہ یہ یوسفu کا خون ہے اور یہ خون اس وقت لگا تھا جب بھیڑیے نے یوسفu کو کھایا تھا۔ مگر ان کے باپ نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا ﴿ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا﴾ ’’انھوں (یعقوب) نے کہا بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے نفس نے میرے اور یوسفu کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے ایک برے کام کو تمھارے سامنے مزین کر دیا کیونکہ قرائن و احوال اور …

17

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍۢ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَٰدِقِينَ

(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے

پھر جب وہ لے گئے اسےاور عزم کرلیا انھوں نے یہ کہ ڈال دیں وہ اسے تہ میں کنویں کی اور وحی کی ہم نے اس کی طرف کہ تو ضرور خبر دے گا انھیں ان کے اس کام کی جبکہ وہ نہیں سمجھتے ہوں گے (15) اور آئے وہ اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے (16)انھوں نے کہا، ابا جان! بے شک گئے تھے ہم مقابلہ کرتے تھے ہم دوڑ کا اور چھوڑ دیا تھا ہم نے یوسف کو نزدیک اپنے سامان کے، پس کھا گیا اسے بھیڑیااور نہیں تو یقین کرنے والا ہماری بات کا اگر چہ ہوں ہم سچے (17) اور (لگا) لائے وہ اوپر اس کی قمیص کے خون جھوٹا، یعقوب نے کہا، (حقیقت یہ نہیں )بلکہ بنا دی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے ایک بات، سو صبر ہی بہتر ہےاور اللہ (اسی سے) مدد طلب کی جاتی ہے اس پر جو تم بیان کرتے ہو (18)

[15] یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسفu کو ساتھ لے گئے اور انھوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسفu کو… جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے… اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے، ان کی طرف وحی کی ﴿ لَتُنَبِّئَنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰؔذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے‘‘ یعنی آپ عنقریب اس معاملے میں ان پر عتاب کریں گے اور ان کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور انھیں اس معاملے کا شعور تک نہ ہوگا۔ اس میں جناب یوسفu کے لیے بشارت تھی کہ وہ اس مصیبت سے ضرور نجات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس حالت میں ان کو اپنے گھر والوں کے ساتھ اکٹھا کرے گا کہ عزت اور ملک کا اقتدار ان کے پاس ہوگا۔

[16]﴿ وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؔ ﴾ ’’اور وہ اندھیرا پڑتے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے‘‘ تاکہ ان کے معمول کے مطابق آنے کے وقت سے تاخیر کر کے اور ان کا روتے دھوتے آنا ان کے حق میں دلیل اور ان کی صداقت کا قرینہ ہو۔

[17] وہ جھوٹا عذر پیش کرتے ہوئے بولے: ﴿يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ﴾ ’’اباجان! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے۔‘‘ ابا جان! ہم مقابلہ کرنے لگ گئے تھے۔ یہ ’’مقابلہ‘‘ یا تو دوڑ کا مقابلہ تھا یا تیر اندازی اور نیزہ بازی کا۔ ﴿ وَتَرَؔكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا ﴾ ’’اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔‘‘ ہم نے سامان کی حفاظت اور یوسفu کے آرام کی خاطر اسے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا ﴿ فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُ﴾ ’’تو اسے بھیڑیا کھاگیا۔‘‘ جب ہم مقابلہ کر رہے تھے تو ہماری عدم موجودگی میں اسے بھیڑیا کھا گیا ﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡؔ كُنَّا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچے بھی ہوں ، باور نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی ہم یہ عذر پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ ہماری بات نہیں مانیں گے کیونکہ آپ کا دل یوسفu کے بارے میں سخت غم زدہ ہے۔ مگر آپ کا ہماری بات کو نہ ماننا اس بات سے مانع نہیں کہ ہم آپ کے سامنے حقیقی عذر پیش کریں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے عذر پر تاکید کے لیے تھا۔

[18]﴿ وَ﴾ اور انھوں نے اپنی بات کو اس طرح مؤکد کیا ﴿ جَآءُوۡ عَلٰى قَمِيۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ ’’وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے‘‘ اور دعویٰ کیا کہ یہ یوسفu کا خون ہے اور یہ خون اس وقت لگا تھا جب بھیڑیے نے یوسفu کو کھایا تھا۔ مگر ان کے باپ نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا ﴿ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا﴾ ’’انھوں (یعقوب) نے کہا بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے نفس نے میرے اور یوسفu کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے ایک برے کام کو تمھارے سامنے مزین کر دیا کیونکہ قرائن و احوال اور …

18

وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍۢ كَذِبٍۢ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌۭ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے

پھر جب وہ لے گئے اسےاور عزم کرلیا انھوں نے یہ کہ ڈال دیں وہ اسے تہ میں کنویں کی اور وحی کی ہم نے اس کی طرف کہ تو ضرور خبر دے گا انھیں ان کے اس کام کی جبکہ وہ نہیں سمجھتے ہوں گے (15) اور آئے وہ اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے (16)انھوں نے کہا، ابا جان! بے شک گئے تھے ہم مقابلہ کرتے تھے ہم دوڑ کا اور چھوڑ دیا تھا ہم نے یوسف کو نزدیک اپنے سامان کے، پس کھا گیا اسے بھیڑیااور نہیں تو یقین کرنے والا ہماری بات کا اگر چہ ہوں ہم سچے (17) اور (لگا) لائے وہ اوپر اس کی قمیص کے خون جھوٹا، یعقوب نے کہا، (حقیقت یہ نہیں )بلکہ بنا دی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے ایک بات، سو صبر ہی بہتر ہےاور اللہ (اسی سے) مدد طلب کی جاتی ہے اس پر جو تم بیان کرتے ہو (18)

[15] یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسفu کو ساتھ لے گئے اور انھوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسفu کو… جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے… اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے، ان کی طرف وحی کی ﴿ لَتُنَبِّئَنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰؔذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے‘‘ یعنی آپ عنقریب اس معاملے میں ان پر عتاب کریں گے اور ان کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور انھیں اس معاملے کا شعور تک نہ ہوگا۔ اس میں جناب یوسفu کے لیے بشارت تھی کہ وہ اس مصیبت سے ضرور نجات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس حالت میں ان کو اپنے گھر والوں کے ساتھ اکٹھا کرے گا کہ عزت اور ملک کا اقتدار ان کے پاس ہوگا۔

[16]﴿ وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؔ ﴾ ’’اور وہ اندھیرا پڑتے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے‘‘ تاکہ ان کے معمول کے مطابق آنے کے وقت سے تاخیر کر کے اور ان کا روتے دھوتے آنا ان کے حق میں دلیل اور ان کی صداقت کا قرینہ ہو۔

[17] وہ جھوٹا عذر پیش کرتے ہوئے بولے: ﴿يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ﴾ ’’اباجان! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے۔‘‘ ابا جان! ہم مقابلہ کرنے لگ گئے تھے۔ یہ ’’مقابلہ‘‘ یا تو دوڑ کا مقابلہ تھا یا تیر اندازی اور نیزہ بازی کا۔ ﴿ وَتَرَؔكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا ﴾ ’’اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔‘‘ ہم نے سامان کی حفاظت اور یوسفu کے آرام کی خاطر اسے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا ﴿ فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُ﴾ ’’تو اسے بھیڑیا کھاگیا۔‘‘ جب ہم مقابلہ کر رہے تھے تو ہماری عدم موجودگی میں اسے بھیڑیا کھا گیا ﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡؔ كُنَّا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچے بھی ہوں ، باور نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی ہم یہ عذر پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ ہماری بات نہیں مانیں گے کیونکہ آپ کا دل یوسفu کے بارے میں سخت غم زدہ ہے۔ مگر آپ کا ہماری بات کو نہ ماننا اس بات سے مانع نہیں کہ ہم آپ کے سامنے حقیقی عذر پیش کریں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے عذر پر تاکید کے لیے تھا۔

[18]﴿ وَ﴾ اور انھوں نے اپنی بات کو اس طرح مؤکد کیا ﴿ جَآءُوۡ عَلٰى قَمِيۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ ’’وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے‘‘ اور دعویٰ کیا کہ یہ یوسفu کا خون ہے اور یہ خون اس وقت لگا تھا جب بھیڑیے نے یوسفu کو کھایا تھا۔ مگر ان کے باپ نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا ﴿ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا﴾ ’’انھوں (یعقوب) نے کہا بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے نفس نے میرے اور یوسفu کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے ایک برے کام کو تمھارے سامنے مزین کر دیا کیونکہ قرائن و احوال اور …

19

وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌۭ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَٰبُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٌۭ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا

اور آیا قافلہ پس بھیجا انھوں نے اپنا پانی لانے والا، پس لٹکایا اس نے اپنا ڈول تو کہا اس نے، واہ خوش خبری ہے! یہ تو لڑکا ہےاورچھپایا انھوں نے اسے پونجی سمجھ کر اور اللہ خوب جانتا تھا اسے جو وہ کر رہے تھے (19) اور بیچ ڈالا انھوں نے اسے بہ قیمت ناقص، (،یعنی ) چند درہموں میں گنتی کے اور تھے وہ اس کی بابت بے رغبت (20)

[19] جناب یوسفu کچھ عرصہ اس اندھے کنویں میں پڑے رہے ﴿ وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٌ ﴾ ’’ایک قافلہ آوارد ہوا۔‘‘ یہاں تک کہ ایک قافلہ آیا جو مصر جا رہا تھا ﴿ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَهُمۡ﴾ ’’انھوں نے اپنے ہراول سقے کو بھیجا‘‘ اس سے مراد وہ شخص ہے جو قافلے کے لیے پانی تلاش کرتا ہے اور ان کے لیے حوض وغیرہ تیار کرتا ہے۔ ﴿ فَاَدۡلٰى دَلۡوَهٗ﴾ ’’پس اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔‘‘ یعنی پانی تلاش کرنے والے اس سقے نے کنویں میں اپنا ڈول ڈالا تو یوسفu اس ڈول سے چمٹ کر باہر آگئے ﴿ قَالَ يٰبُشۡرٰى هٰؔذَا غُلٰمٌ﴾ یعنی وہ بہت خوش ہوا اور بولا ’’یہ تو قیمتی غلام ہے‘‘ ﴿ وَاَسَرُّوۡهُ بِضَاعَةً﴾ ’’اور اس کو تجارت کا مال سمجھ کر چھپا لیا‘‘

[20] یوسفu کے بھائی بھی کہیں قریب ہی تھے۔ قافلے والوں نے یوسفu کو ان کے بھائیوں سے خرید لیا ﴿ بِثَمَنٍۭؔ بَخۡسٍ﴾ ’’بہت ہی معمولی قیمت میں ‘‘پھر اس کی تفسیر یوں بیان فرمائی: ﴿ دَرَاهِمَ مَعۡدُوۡدَةٍ١ۚ وَكَانُوۡا فِيۡهِ مِنَ الزَّاهِدِيۡنَ﴾ ’’چند درہموں میں اور وہ اس سے بیزار ہو رہے تھے‘‘ کیونکہ ان کا مقصد تو صرف یوسفu کو غائب کر کے اپنے باپ سے جدا کرنا تھا۔ ان کا مقصد یوسفu کی قیمت حاصل کرنا نہ تھا۔اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ جب یوسفu اس قافلے کے ہاتھ لگ گئے تو قافلے والوں نے ان کے معاملے کو چھپانے کا عزم کر لیا تاکہ وہ انھیں بھی اپنے سامان تجارت میں شامل کر لیں ، حتیٰ کہ ان کے بھائی آگئے اور انھوں نے یوسفu کے بارے میں ظاہر کیا کہ وہ ان کا بھاگا ہوا غلام ہے۔ پس قافلے والوں نے انھیں اس معمولی قیمت پر خرید لیا اور انھوں نے قافلے والوں سے یقین حاصل کیا کہ وہ بھاگ نہ جائے۔ واللہ اعلم۔

20

وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍۢ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍۢ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ

اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا

اور آیا قافلہ پس بھیجا انھوں نے اپنا پانی لانے والا، پس لٹکایا اس نے اپنا ڈول تو کہا اس نے، واہ خوش خبری ہے! یہ تو لڑکا ہےاورچھپایا انھوں نے اسے پونجی سمجھ کر اور اللہ خوب جانتا تھا اسے جو وہ کر رہے تھے (19) اور بیچ ڈالا انھوں نے اسے بہ قیمت ناقص، (،یعنی ) چند درہموں میں گنتی کے اور تھے وہ اس کی بابت بے رغبت (20)

[19] جناب یوسفu کچھ عرصہ اس اندھے کنویں میں پڑے رہے ﴿ وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٌ ﴾ ’’ایک قافلہ آوارد ہوا۔‘‘ یہاں تک کہ ایک قافلہ آیا جو مصر جا رہا تھا ﴿ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَهُمۡ﴾ ’’انھوں نے اپنے ہراول سقے کو بھیجا‘‘ اس سے مراد وہ شخص ہے جو قافلے کے لیے پانی تلاش کرتا ہے اور ان کے لیے حوض وغیرہ تیار کرتا ہے۔ ﴿ فَاَدۡلٰى دَلۡوَهٗ﴾ ’’پس اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔‘‘ یعنی پانی تلاش کرنے والے اس سقے نے کنویں میں اپنا ڈول ڈالا تو یوسفu اس ڈول سے چمٹ کر باہر آگئے ﴿ قَالَ يٰبُشۡرٰى هٰؔذَا غُلٰمٌ﴾ یعنی وہ بہت خوش ہوا اور بولا ’’یہ تو قیمتی غلام ہے‘‘ ﴿ وَاَسَرُّوۡهُ بِضَاعَةً﴾ ’’اور اس کو تجارت کا مال سمجھ کر چھپا لیا‘‘

[20] یوسفu کے بھائی بھی کہیں قریب ہی تھے۔ قافلے والوں نے یوسفu کو ان کے بھائیوں سے خرید لیا ﴿ بِثَمَنٍۭؔ بَخۡسٍ﴾ ’’بہت ہی معمولی قیمت میں ‘‘پھر اس کی تفسیر یوں بیان فرمائی: ﴿ دَرَاهِمَ مَعۡدُوۡدَةٍ١ۚ وَكَانُوۡا فِيۡهِ مِنَ الزَّاهِدِيۡنَ﴾ ’’چند درہموں میں اور وہ اس سے بیزار ہو رہے تھے‘‘ کیونکہ ان کا مقصد تو صرف یوسفu کو غائب کر کے اپنے باپ سے جدا کرنا تھا۔ ان کا مقصد یوسفu کی قیمت حاصل کرنا نہ تھا۔اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ جب یوسفu اس قافلے کے ہاتھ لگ گئے تو قافلے والوں نے ان کے معاملے کو چھپانے کا عزم کر لیا تاکہ وہ انھیں بھی اپنے سامان تجارت میں شامل کر لیں ، حتیٰ کہ ان کے بھائی آگئے اور انھوں نے یوسفu کے بارے میں ظاہر کیا کہ وہ ان کا بھاگا ہوا غلام ہے۔ پس قافلے والوں نے انھیں اس معمولی قیمت پر خرید لیا اور انھوں نے قافلے والوں سے یقین حاصل کیا کہ وہ بھاگ نہ جائے۔ واللہ اعلم۔

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.