Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 111–111 of 111

111

لَقَدْ كَانَ فِى قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌۭ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًۭا يُفْتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

یہاں تک کہ جب نا امید ہو گئے رسول اور انھوں نے گمان کیا(وسوسے کی حد تک) کہ بے شک وہ جھوٹ بولے گئے تو آگئی ان کے پاس مدد ہماری ، پھر نجات دی گئی اسے جسے ہم چاہتے تھےاور نہیں پھیرا جاتا عذاب ہمارا مجرم قوم سے (110) ، البتہ تحقیق ہے ان کے بیان (احوال) میں عبرت واسطے عقل والوں کے، نہیں ہے یہ (قرآن) ایسی بات کہ گھڑ لی گئی ہو لیکن (یہ تو) تصدیق ہے اس کی جو اس سے پہلے ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت ہے اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (111)

[110] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ انبیاء کرام کو مبعوث فرماتا ہے ان کی قوم کے مجرم اور لئیم لوگ انھیں جھٹلا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں ۔ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت پر مہلت دیے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ انبیاء کرام پر ان کی سختیاں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں اور انبیاء و مرسلین یقین کامل اور اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید کی تصدیق کے باوجود کبھی کبھی ان کے دل میں مایوسی کا کوئی خیال سا گزرتا ہے اور ان کے علم اور یقین میں ایک قسم کا ضعف سا آجاتا ہے۔ جب معاملہ اس حال کو پہنچ جاتا ہے ﴿ جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا ١ۙ فَنُجِّيَ مَنۡ نَّشَآءُ﴾ ’’تو ان کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی، پس جن کو ہم نے چاہا، نجات دے دی گئی‘‘ اس سے مراد انبیاء و رسل اور ان کے متبعین ہیں ۔ ﴿ وَلَا يُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھر انہیں کرتا۔‘‘ یعنی ہمارے عذاب کو مجرموں اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں جرأت کرنے والے پر سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی کوئی پیش چل سکے گی نہ ان کی کوئی مدد کر سکے گا۔

[111]﴿لَقَدۡ كَانَ فِيۡ قَصَصِهِمۡ ﴾ ’’ان کے قصے میں ۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کے اپنی قوم کے ساتھ قصے میں ﴿ عِبۡرَةٌ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾’’عقل والوں کے لیے عبرت ہے‘‘ یعنی وہ اہل خیر اور اہل شر کے بارے میں عبرت لیتے ہیں ۔ جو کوئی ان جیسے افعال کا ارتکاب کرے گا تو اپنے فعل کے مطابق کرامت یا اہانت کا مستحق ٹھہرے گا۔ وہ ان قصوں میں سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی عظیم حکمت کا استنباط کرتے ہیں ۔ نیز وہ ان قصوں سے اس حقیقت کو اخذ کرتے ہیں کہ اللہ واحد کے سوا عبادت کسی کے لیے مناسب نہیں ۔﴿ مَا كَانَ حَدِيۡثًا يُّفۡتَرٰى ﴾ ’’یہ ایسی بات نہیں جو بنالی گئی ہو۔‘‘ یعنی یہ قرآن جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں غیب کی خبروں سے آگاہ کرتا ہے، گھڑی ہوئی باتوں اور خود ساختہ کہانیوں پر مشتمل نہیں ہے۔ ﴿ وَلٰكِنۡ تَصۡدِيۡقَ الَّذِيۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’بلکہ جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق کرنے والا ہے۔‘‘ بلکہ کتب سابقہ کی تصدیق، ان کی موافقت اور ان کی صحت کی شہادت پر مشتمل ہے۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلَ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل ہے۔‘‘ بندے جن کے محتاج ہیں ، مثلاً:دین کے اصول و فروع اور دلائل و براہین۔ ﴿ وَّهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اس قرآن کے ذریعے سے انھیں جو حق کا علم حاصل ہوتا ہے اور وہ حق کو ترجیح دیتے ہیں … انھیں ہدایت حاصل ہوتی ہے اور انھیں جو دنیاوی یا اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے اس کے ذریعے سے رحمت سے نوازے جاتے ہیں ۔

ضمیمہ : اس عظیم قصہ میں بعض فوائد اور عبرتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن پر یہ مشتمل ہے۔ اس قصہ کی ابتدا میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ ﴾ ’’ہم آپ پر بہترین قصہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور فرمایا ہے: ﴿ لَقَدۡ كَانَ فِيۡ يُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’یوسف اوراس کے بھائیوں (کے واقعے) میں ، پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘ اور سورۃ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ لَقَدۡ كَانَ فِيۡ قَصَصِهِمۡ …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.