Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 11–20 of 111

11

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٰصِحُونَ

(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں

6: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اس سے پہلے بھی انہیں ساتھ لے جانے کی کوشش کرچکے تھے لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے منع فرما دیا تھا۔

12

أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًۭا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں

Explained together with ayah 11

13

قَالَ إِنِّى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَٰفِلُونَ

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے

7: یعنی اگر کوئی اور حادثہ بھی پیش نہ آئے تو ان کا میری نظروں سے دور چلا جانا بھی میرے لیے باعث رنج ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ محبوب اولاد کو کسی خاص ضرورت کے بغیر جدا کرنا بھی ماں باپ کے لیے تکلیف دہ ہے۔

8: بعض روایات میں ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بھیڑیے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر حملہ کر رہے ہیں۔

14

قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًۭا لَّخَٰسِرُونَ

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے

Explained together with ayah 13

15

فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی

9: حضرت یوسف علیہ السلام اس وقت بچے تھے، روایت میں اُن کی عمر سات سال بتائی گئی ہے۔ اس لئے یہ وحی نبوّت کی وحی نہیں تھی، بلکہ یہ اُس قسم کی وحی تھی جیسی قرآنِ کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ یا حضرت مریم کے لئے بیان فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کسی ذریعے سے یہ بتا دیا کہ گھبراو نہیں، ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ لوگ تمہارے آگے جھکیں گے، اور تم انہیں ان کی ساری حرکتوں کے بارے میں انہیں اس وقت سب کچھ جتلا دو گے جب یہ تمہیں ہچانتے بھی نہیں ہوں گے۔ چنانچہ آگے آیت نمبر 89 میں آ رہا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کا حاکم بننے کے بعد انہیں جتلایا تھا۔

16

وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءًۭ يَبْكُونَ

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

Explained together with ayah 15

17

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍۢ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَٰدِقِينَ

(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے

Explained together with ayah 15

18

وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍۢ كَذِبٍۢ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌۭ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے

10: بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے قمیص پر خون تو لگا دیا۔ لیکن قمیص صحیح سالم تھا اس پر پھٹن کے کوئی آثار نہیں تھے اس لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ بھیڑیاں بڑا مہذب تھا کہ بچے کو کھا گیا اور قمیص جوں کی توں صحیح سالم رہی۔ خلاصہ یہ کہ ان کو یہ بات یقین سے معلوم ہوگئی کہ بھیڑیے کے کھانے کی بات محض افسانہ ہے اس لیے انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تم نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہے۔

19

وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌۭ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَٰبُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٌۭ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا

11: روایات میں ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ ایک پتھر پر جا بیٹھے تھے۔ جب قافلے کے اس آدمی نے پانی نکالنے کے لیے ڈول کنویں میں ڈالا تو وہ اس ڈول میں سوار ہوگئے اس نے ڈول کھینچا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر اس کے منہ سے بے ساختہ وہ الفاظ نکلے جو اس آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔

20

وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍۢ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍۢ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ

اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا

12: قرآن کریم کے الفاظ سے تو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ بیچنے والے قافلے ہی کے لوگ تھے، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس رکھنے سے دلچسپی نہیں تھی بلکہ ان کو بیچ کر جو بھی قیمت ہاتھ آجائے وہ اسے غنیمت سمجھتے تھے، کیونکہ مفت حاصل ہو رہی تھی۔ اس لیے جب کوئی خریدار ملا، انہوں نے اسے تھوڑی سی قیمت پر ہی بیچ دیا۔ البتہ بعض روایات میں واقعے کی یہ تفصیل آئی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی انہیں کنویں میں ڈال تو گئے تھے۔ لیکن بڑا بھائی یہوداہ روزانہ ان کی خبر گیری کے لیے آتا تھا اور کچھ کھانا بھی انہیں پہنچا دیتا تھا۔ تیسرے دن جب انہیں کنویں میں نہ پایا تو تلاش کرنے سے وہ قافلے والے مل گئے۔ اس موقع پر دوسرے بھائی بھی آگئے اور انہوں نے قافلے والوں سے کہا کہ یہ ہمارا غلام ہے جو بھاگ گیا تھا۔ اور اگر تم چاہو تو ہم اسے تمہارے ہاتھ فروخت کرسکتے ہیں۔ چونکہ ان بھائیوں کا اصل مقصد تو یہ تھا کہ وہ ان کے والد کی سرزمین سے دور چلے جائیں۔ قیمت لینا اصل مقصد نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قافلے والوں کے ہاتھ معمولی قیمت پر بیچ دیا۔ بائبل میں بھی یہ مذکور ہے کہ بیچنے والے ان کے بھائی ہی تھے اور انہوں نے قافلے ہاتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو فروخت کیا تھا۔

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.