Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 101–110 of 111

101

۞ رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ

(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو

اے میرے رب! تحقیق دی تو نے مجھے کچھ بادشاہی اور سکھائی تو نے مجھے تعبیر خوابوں کی، اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے! تو ہی میرا کار ساز ہے دنیا اور آخرت میں تو فوت کر مجھے مسلمان اور ملا دے مجھے ساتھ صالحین کے (101)

[101] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یوسفu کو زمین میں مکمل اقتدار عطا کر دیا اور ان کے والدین اور بھائیوں کی ملاقات کے ذریعے سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیں تو یوسفu نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے، اس پر اس کا شکر ادا کرتے اور اسلام پر ثبات اور استقامت کی دعا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ قَدۡ اٰتَيۡتَنِيۡ مِنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’اے رب تو نے مجھے بادشاہی سے حصہ دیا‘‘ یہ انھوں نے اس لیے کہا تھا کہ وہ زمین کے خزانوں کے منتظم اور بادشاہ کے بہت بڑے وزیر تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡتَنِيۡ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ ﴾ ’’اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔‘‘ یعنی تو نے مجھے آسمانی کتاب کی تفسیر اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا ﴿ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١۫ اَنۡتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِيۡ مُسۡلِمًا ﴾ ’’اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے… مجھے اسلام پر موت دے‘‘ یعنی مجھے اسلام پر قائم اور ثابت قدم رکھ حتیٰ کہ اسلام ہی پر مجھے وفات دے۔ یہ دعا موت کے جلدی آنے کی دعا نہیں ہے۔ ﴿ وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے نیک بندوں میں داخل کردیجیے۔‘‘ یعنی مجھے انبیاء و ابرار، اپنے چنے ہوئے اور بہترین بندوں میں شامل کر۔

102

ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوٓا۟ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ

(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے

یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں یہ آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ پاس ان (برادران یوسف) کے جب اتفاق کیا تھا انھوں نے اپنے معاملے پراور وہ مکرو فریب کرتے تھے (102)

[102] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مصطفیﷺ پر یہ قصہ بیان کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ خبر جس سے ہم نے آپ کو آگاہ کیا ہے۔ ﴿ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’غیب کی خبریں ہیں ، جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں ‘‘ اور اگر ہم آپ کی طرف وحی نہ کرتے تو اس جلیل القدر واقعہ کی خبر آپ تک نہ پہنچ سکتی۔ ﴿ وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس موجود نہ تھے۔‘‘ ﴿ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ ﴾ ’’جب وہ اتفاق کر رہے تھے اپنے کام پر‘‘ یعنی یوسف کے بھائی فریب پر اتفاق کر رہے تھے۔ ﴿ وَهُمۡ يَمۡؔكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ چال چل رہے تھے۔‘‘ جبکہ ان کے اور ان کے باپ کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے اس طرح سازش کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اطلاع نہ تھی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہی تھا کہ اصل واقعہ معلوم کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اصل واقعہ سے آگاہ نہ کرے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰu کا قصہ بیان کرنے کے بعد وہ حالات بیان فرمائے جن کا علم، اللہ کی وحی کے بغیر مخلوق کو حاصل نہیں ہو سکتا تو وہاں فرمایا:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ…﴾(القصص: 28؍44) ’’اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی تو آپ طور کے غربی جانب نہ تھے اور نہ آپ اس واقعہ کا مشاہدہ کرنے والے تھے۔‘‘ اور یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے۔

103

وَمَآ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں

اور نہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ حرص رکھیں ، ایمان لانے والے (103)اور نہیں مانگتے آپ ان (مشرکین مکہ) سے اوپر اس (تبلیغ) کے کوئی اجر، نہیں ہے وہ (قرآن) مگر نصیحت جہان والوں کے لیے (104)اور کتنی ہی نشانیاں ہیں (توحید اور قدرت الٰہی کی) آسمانوں اور زمین میں کہ وہ گزرتے ہیں ان پر سےاور وہ ان سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں (105) اور نہیں ایمان لاتے اکثر ان کے، ساتھ اللہ کے مگر وہ مشرک ہی ہوتے ہیں (106) کیا پس وہ بے خوف ہیں اس سے کہ آئے ان کے پاس چھا جانے والا کوئی عذاب اللہ کا یا آئے ان کے پاس قیامت اچانک اور وہ نہ آگاہی رکھتے ہوں ؟(107)

[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ ﴾ ’’اور نہیں ہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے ہوں ۔‘‘ ﴿ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’ایمان لانے والے‘‘ کیونکہ ان کے مدارک و مقاصد فاسد ہو چکے ہیں اس لیے خیر خواہوں کی خیر خواہی انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگرچہ موانع معدوم ہی کیوں نہ ہوں ، یعنی اگرچہ یہ خیر خواہ انھیں تعلیم دیتے رہیں انھیں ان امور کی طرف بلاتے رہیں جن میں ان کے لیے بھلائی اور ان سے شر کا دفعیہ ہے، خواہ یہ خیر خواہ اپنی صداقت پر شواہد، آیات اور دلائل ہی کیوں نہ پیش کریں ۔

[104] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا تَسۡـَٔؔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ١ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، یہ تو صرف جہانوں کے لیے نصیحت ہے‘‘ اس کے ذریعے سے یہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ کون سی چیز فائدہ مند ہے تاکہ اس پر عمل کریں اور کون سی چیز نقصان دہ ہے تاکہ اسے چھوڑ دیں ۔

[105]﴿ وَؔكَاَيِّنۡ ﴾ ’’اور کتنی ہی‘‘ ﴿ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں ، جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے‘‘ جو توحید الٰہی پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ ان سے روگردانی کرتے ہیں ۔‘‘

[106]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان میں سے کچھ لوگوں میں کچھ ایمان پایا بھی جاتا ہے تو ﴿وَ مَا يُؤۡمِنُ اَ كۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان اللہ کے ماننے والوں کی اکثریت مشرک ہے۔‘‘ یعنی وہ اگرچہ توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے مگر وہ توحید الوہیت میں شرک کرتے ہیں ۔

[107] پس یہ لوگ اب اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان پر نزول عذاب کے سوا کوئی بات باقی نہیں رہی اور یہ کہ ان کے پاس اچانک عذاب آجائے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مامون سمجھتے ہوں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَاَمِنُوۡۤا ﴾ ’’کیا یہ بے خوف ہیں ۔‘‘ یعنی کیا ان افعال کا ارتکاب کرنے اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ﴿ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ غَاشِيَةٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہو، جو سب کو ڈھانپ لے‘‘ اور ان کی جڑ کاٹ دے۔ ﴿اَوۡ تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یا ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے۔‘‘ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو خبر نہ ہو‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کریں اور ان اسباب کو ترک کر دیں جو ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں۔

104

وَمَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ لِّلْعَٰلَمِينَ

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے

اور نہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ حرص رکھیں ، ایمان لانے والے (103)اور نہیں مانگتے آپ ان (مشرکین مکہ) سے اوپر اس (تبلیغ) کے کوئی اجر، نہیں ہے وہ (قرآن) مگر نصیحت جہان والوں کے لیے (104)اور کتنی ہی نشانیاں ہیں (توحید اور قدرت الٰہی کی) آسمانوں اور زمین میں کہ وہ گزرتے ہیں ان پر سےاور وہ ان سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں (105) اور نہیں ایمان لاتے اکثر ان کے، ساتھ اللہ کے مگر وہ مشرک ہی ہوتے ہیں (106) کیا پس وہ بے خوف ہیں اس سے کہ آئے ان کے پاس چھا جانے والا کوئی عذاب اللہ کا یا آئے ان کے پاس قیامت اچانک اور وہ نہ آگاہی رکھتے ہوں ؟(107)

[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ ﴾ ’’اور نہیں ہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے ہوں ۔‘‘ ﴿ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’ایمان لانے والے‘‘ کیونکہ ان کے مدارک و مقاصد فاسد ہو چکے ہیں اس لیے خیر خواہوں کی خیر خواہی انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگرچہ موانع معدوم ہی کیوں نہ ہوں ، یعنی اگرچہ یہ خیر خواہ انھیں تعلیم دیتے رہیں انھیں ان امور کی طرف بلاتے رہیں جن میں ان کے لیے بھلائی اور ان سے شر کا دفعیہ ہے، خواہ یہ خیر خواہ اپنی صداقت پر شواہد، آیات اور دلائل ہی کیوں نہ پیش کریں ۔

[104] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا تَسۡـَٔؔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ١ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، یہ تو صرف جہانوں کے لیے نصیحت ہے‘‘ اس کے ذریعے سے یہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ کون سی چیز فائدہ مند ہے تاکہ اس پر عمل کریں اور کون سی چیز نقصان دہ ہے تاکہ اسے چھوڑ دیں ۔

[105]﴿ وَؔكَاَيِّنۡ ﴾ ’’اور کتنی ہی‘‘ ﴿ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں ، جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے‘‘ جو توحید الٰہی پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ ان سے روگردانی کرتے ہیں ۔‘‘

[106]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان میں سے کچھ لوگوں میں کچھ ایمان پایا بھی جاتا ہے تو ﴿وَ مَا يُؤۡمِنُ اَ كۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان اللہ کے ماننے والوں کی اکثریت مشرک ہے۔‘‘ یعنی وہ اگرچہ توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے مگر وہ توحید الوہیت میں شرک کرتے ہیں ۔

[107] پس یہ لوگ اب اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان پر نزول عذاب کے سوا کوئی بات باقی نہیں رہی اور یہ کہ ان کے پاس اچانک عذاب آجائے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مامون سمجھتے ہوں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَاَمِنُوۡۤا ﴾ ’’کیا یہ بے خوف ہیں ۔‘‘ یعنی کیا ان افعال کا ارتکاب کرنے اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ﴿ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ غَاشِيَةٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہو، جو سب کو ڈھانپ لے‘‘ اور ان کی جڑ کاٹ دے۔ ﴿اَوۡ تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یا ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے۔‘‘ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو خبر نہ ہو‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کریں اور ان اسباب کو ترک کر دیں جو ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں۔

105

وَكَأَيِّن مِّنْ ءَايَةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ

اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں

اور نہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ حرص رکھیں ، ایمان لانے والے (103)اور نہیں مانگتے آپ ان (مشرکین مکہ) سے اوپر اس (تبلیغ) کے کوئی اجر، نہیں ہے وہ (قرآن) مگر نصیحت جہان والوں کے لیے (104)اور کتنی ہی نشانیاں ہیں (توحید اور قدرت الٰہی کی) آسمانوں اور زمین میں کہ وہ گزرتے ہیں ان پر سےاور وہ ان سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں (105) اور نہیں ایمان لاتے اکثر ان کے، ساتھ اللہ کے مگر وہ مشرک ہی ہوتے ہیں (106) کیا پس وہ بے خوف ہیں اس سے کہ آئے ان کے پاس چھا جانے والا کوئی عذاب اللہ کا یا آئے ان کے پاس قیامت اچانک اور وہ نہ آگاہی رکھتے ہوں ؟(107)

[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ ﴾ ’’اور نہیں ہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے ہوں ۔‘‘ ﴿ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’ایمان لانے والے‘‘ کیونکہ ان کے مدارک و مقاصد فاسد ہو چکے ہیں اس لیے خیر خواہوں کی خیر خواہی انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگرچہ موانع معدوم ہی کیوں نہ ہوں ، یعنی اگرچہ یہ خیر خواہ انھیں تعلیم دیتے رہیں انھیں ان امور کی طرف بلاتے رہیں جن میں ان کے لیے بھلائی اور ان سے شر کا دفعیہ ہے، خواہ یہ خیر خواہ اپنی صداقت پر شواہد، آیات اور دلائل ہی کیوں نہ پیش کریں ۔

[104] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا تَسۡـَٔؔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ١ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، یہ تو صرف جہانوں کے لیے نصیحت ہے‘‘ اس کے ذریعے سے یہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ کون سی چیز فائدہ مند ہے تاکہ اس پر عمل کریں اور کون سی چیز نقصان دہ ہے تاکہ اسے چھوڑ دیں ۔

[105]﴿ وَؔكَاَيِّنۡ ﴾ ’’اور کتنی ہی‘‘ ﴿ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں ، جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے‘‘ جو توحید الٰہی پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ ان سے روگردانی کرتے ہیں ۔‘‘

[106]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان میں سے کچھ لوگوں میں کچھ ایمان پایا بھی جاتا ہے تو ﴿وَ مَا يُؤۡمِنُ اَ كۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان اللہ کے ماننے والوں کی اکثریت مشرک ہے۔‘‘ یعنی وہ اگرچہ توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے مگر وہ توحید الوہیت میں شرک کرتے ہیں ۔

[107] پس یہ لوگ اب اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان پر نزول عذاب کے سوا کوئی بات باقی نہیں رہی اور یہ کہ ان کے پاس اچانک عذاب آجائے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مامون سمجھتے ہوں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَاَمِنُوۡۤا ﴾ ’’کیا یہ بے خوف ہیں ۔‘‘ یعنی کیا ان افعال کا ارتکاب کرنے اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ﴿ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ غَاشِيَةٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہو، جو سب کو ڈھانپ لے‘‘ اور ان کی جڑ کاٹ دے۔ ﴿اَوۡ تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یا ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے۔‘‘ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو خبر نہ ہو‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کریں اور ان اسباب کو ترک کر دیں جو ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں۔

106

وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں

اور نہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ حرص رکھیں ، ایمان لانے والے (103)اور نہیں مانگتے آپ ان (مشرکین مکہ) سے اوپر اس (تبلیغ) کے کوئی اجر، نہیں ہے وہ (قرآن) مگر نصیحت جہان والوں کے لیے (104)اور کتنی ہی نشانیاں ہیں (توحید اور قدرت الٰہی کی) آسمانوں اور زمین میں کہ وہ گزرتے ہیں ان پر سےاور وہ ان سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں (105) اور نہیں ایمان لاتے اکثر ان کے، ساتھ اللہ کے مگر وہ مشرک ہی ہوتے ہیں (106) کیا پس وہ بے خوف ہیں اس سے کہ آئے ان کے پاس چھا جانے والا کوئی عذاب اللہ کا یا آئے ان کے پاس قیامت اچانک اور وہ نہ آگاہی رکھتے ہوں ؟(107)

[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ ﴾ ’’اور نہیں ہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے ہوں ۔‘‘ ﴿ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’ایمان لانے والے‘‘ کیونکہ ان کے مدارک و مقاصد فاسد ہو چکے ہیں اس لیے خیر خواہوں کی خیر خواہی انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگرچہ موانع معدوم ہی کیوں نہ ہوں ، یعنی اگرچہ یہ خیر خواہ انھیں تعلیم دیتے رہیں انھیں ان امور کی طرف بلاتے رہیں جن میں ان کے لیے بھلائی اور ان سے شر کا دفعیہ ہے، خواہ یہ خیر خواہ اپنی صداقت پر شواہد، آیات اور دلائل ہی کیوں نہ پیش کریں ۔

[104] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا تَسۡـَٔؔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ١ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، یہ تو صرف جہانوں کے لیے نصیحت ہے‘‘ اس کے ذریعے سے یہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ کون سی چیز فائدہ مند ہے تاکہ اس پر عمل کریں اور کون سی چیز نقصان دہ ہے تاکہ اسے چھوڑ دیں ۔

[105]﴿ وَؔكَاَيِّنۡ ﴾ ’’اور کتنی ہی‘‘ ﴿ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں ، جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے‘‘ جو توحید الٰہی پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ ان سے روگردانی کرتے ہیں ۔‘‘

[106]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان میں سے کچھ لوگوں میں کچھ ایمان پایا بھی جاتا ہے تو ﴿وَ مَا يُؤۡمِنُ اَ كۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان اللہ کے ماننے والوں کی اکثریت مشرک ہے۔‘‘ یعنی وہ اگرچہ توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے مگر وہ توحید الوہیت میں شرک کرتے ہیں ۔

[107] پس یہ لوگ اب اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان پر نزول عذاب کے سوا کوئی بات باقی نہیں رہی اور یہ کہ ان کے پاس اچانک عذاب آجائے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مامون سمجھتے ہوں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَاَمِنُوۡۤا ﴾ ’’کیا یہ بے خوف ہیں ۔‘‘ یعنی کیا ان افعال کا ارتکاب کرنے اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ﴿ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ غَاشِيَةٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہو، جو سب کو ڈھانپ لے‘‘ اور ان کی جڑ کاٹ دے۔ ﴿اَوۡ تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یا ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے۔‘‘ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو خبر نہ ہو‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کریں اور ان اسباب کو ترک کر دیں جو ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں۔

107

أَفَأَمِنُوٓا۟ أَن تَأْتِيَهُمْ غَٰشِيَةٌۭ مِّنْ عَذَابِ ٱللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو

اور نہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ حرص رکھیں ، ایمان لانے والے (103)اور نہیں مانگتے آپ ان (مشرکین مکہ) سے اوپر اس (تبلیغ) کے کوئی اجر، نہیں ہے وہ (قرآن) مگر نصیحت جہان والوں کے لیے (104)اور کتنی ہی نشانیاں ہیں (توحید اور قدرت الٰہی کی) آسمانوں اور زمین میں کہ وہ گزرتے ہیں ان پر سےاور وہ ان سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں (105) اور نہیں ایمان لاتے اکثر ان کے، ساتھ اللہ کے مگر وہ مشرک ہی ہوتے ہیں (106) کیا پس وہ بے خوف ہیں اس سے کہ آئے ان کے پاس چھا جانے والا کوئی عذاب اللہ کا یا آئے ان کے پاس قیامت اچانک اور وہ نہ آگاہی رکھتے ہوں ؟(107)

[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ ﴾ ’’اور نہیں ہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے ہوں ۔‘‘ ﴿ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’ایمان لانے والے‘‘ کیونکہ ان کے مدارک و مقاصد فاسد ہو چکے ہیں اس لیے خیر خواہوں کی خیر خواہی انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگرچہ موانع معدوم ہی کیوں نہ ہوں ، یعنی اگرچہ یہ خیر خواہ انھیں تعلیم دیتے رہیں انھیں ان امور کی طرف بلاتے رہیں جن میں ان کے لیے بھلائی اور ان سے شر کا دفعیہ ہے، خواہ یہ خیر خواہ اپنی صداقت پر شواہد، آیات اور دلائل ہی کیوں نہ پیش کریں ۔

[104] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا تَسۡـَٔؔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ١ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، یہ تو صرف جہانوں کے لیے نصیحت ہے‘‘ اس کے ذریعے سے یہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ کون سی چیز فائدہ مند ہے تاکہ اس پر عمل کریں اور کون سی چیز نقصان دہ ہے تاکہ اسے چھوڑ دیں ۔

[105]﴿ وَؔكَاَيِّنۡ ﴾ ’’اور کتنی ہی‘‘ ﴿ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں ، جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے‘‘ جو توحید الٰہی پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ ان سے روگردانی کرتے ہیں ۔‘‘

[106]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان میں سے کچھ لوگوں میں کچھ ایمان پایا بھی جاتا ہے تو ﴿وَ مَا يُؤۡمِنُ اَ كۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان اللہ کے ماننے والوں کی اکثریت مشرک ہے۔‘‘ یعنی وہ اگرچہ توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے مگر وہ توحید الوہیت میں شرک کرتے ہیں ۔

[107] پس یہ لوگ اب اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان پر نزول عذاب کے سوا کوئی بات باقی نہیں رہی اور یہ کہ ان کے پاس اچانک عذاب آجائے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مامون سمجھتے ہوں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَاَمِنُوۡۤا ﴾ ’’کیا یہ بے خوف ہیں ۔‘‘ یعنی کیا ان افعال کا ارتکاب کرنے اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ﴿ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ غَاشِيَةٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہو، جو سب کو ڈھانپ لے‘‘ اور ان کی جڑ کاٹ دے۔ ﴿اَوۡ تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یا ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے۔‘‘ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو خبر نہ ہو‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کریں اور ان اسباب کو ترک کر دیں جو ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں۔

108

قُلْ هَٰذِهِۦ سَبِيلِىٓ أَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِى ۖ وَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں

(اے پیغمبر!) کہہ دیجیے، یہی ہے راستہ میرا، میں بلاتا ہوں (تمھیں ) طرف اللہ کی، اوپر بصیرت کے ہوں میں اور وہ لوگ جنھوں نے میری پیروی کی اور پاک ہے اللہ (شریکوں سے)اور نہیں میں مشرکوں میں سے (108) اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے آپ سے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، بستیوں کے رہنے والوں میں سے، کیا پس نہیں سير کی انھوں نے زمین میں ، پس دیکھتے وہ کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ اور البتہ گھر آخرت کا بہت بہتر ہے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا، کیا پس نہیں عقل پکڑتے تم؟(109)

[108] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ قُلۡ ﴾ ’’(لوگوں سے) کہہ دیجیے!‘‘ ﴿ هٰؔذِهٖ سَبِيۡلِيۡۤ ﴾ ’’یہ میرا راستہ ہے‘‘ جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں ، یہ راستہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے جو علم حق، اس پر عمل کرنے، اس کو ترجیح دینے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص دین کو متضمن ہے۔ ﴿ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام مخلوق اور تمام بندوں کو اپنے رب کے پاس پہنچنے پر آمادہ کرتا ہوں اور انھیں اس کی ترغیب دیتا ہوں اور انھیں ان تمام امور سے ڈراتا ہوں جو انھیں اللہ تعالیٰ سے دور کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا﴾ ’’سمجھ بوجھ کر‘‘ یعنی میں اپنے دین کے بارے میں بغیر کسی شک و شبہ کے پورے علم و یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَنِيۡ﴾ ’’اور میرے متبعین بھی‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں جیسے میں اللہ تعالیٰ کے معاملے میں پوری بصیرت اور یقین کے ساتھ اس کی طرف بلاتا ہوں ۔ ﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے تمام امور کی نسبت سے پاک ہے جو اس کے کمال کے منافی ہیں اور اس کے جلال کے لائق نہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’ میں کسی بھی معاملے میں مشرکین میں شامل نہیں ‘‘ بلکہ دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں ۔

[109]﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مرد ہی رسول بنا کر بھیجے‘‘ یعنی ہم انسانوں کی ہدایت کے لیے فرشتے یا کوئی اور مخلوق نہیں بھیجتے۔ تب آپﷺ کی قوم کو آپ کی رسالت میں کون سی چیز انوکھی نظر آرہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کو ان پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ پس آپ کے لیے انبیائے سابقین میں اسوۂ حسنہ ہے۔ ﴿ نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى ﴾ ’’ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، (وہ) بستیوں کے رہنے والے ہیں‘‘ یعنی یہ انبیائے کرام صحراؤں میں رہنے والے نہیں تھے بلکہ بستیوں میں رہنے والے تھے جو سب سے زیادہ کامل عقل اور سب سے زیادہ صحیح رائے کے حامل تھے تاکہ ان کا معاملہ نہایت واضح اور ان کی شان نمایاں ہو۔ ﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا پس انھوں نے زمین کی سیر نہیں کی‘‘ جب وہ آپﷺ کی بات کی تصدیق نہیں کرتے تو پھر کیا انھوں نے چل پھر کر نہیں دیکھا ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔‘‘ یعنی اور وہ دیکھتے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا۔ لہذا تم بھی اس رویہ کو اختیار کرنے سے بچو جس رویے پر وہ قائم رہے ہیں ورنہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جو ان پر نازل ہوا تھا۔ ﴿ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت کا گھر‘‘ یعنی جنت اور جنت کی دائمی نعمتیں ﴿ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا﴾ ’’ان لوگوں کے لیے بہتر ہیں جو پرہیز گار ہیں ‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کیونکہ دنیا کی نعمتیں منقطع ہو کر ختم ہو جانے والی ہیں ۔ آخرت کی نعمت کامل اور کبھی نہ فنا ہونے …

109

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓ ۗ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

(اے پیغمبر!) کہہ دیجیے، یہی ہے راستہ میرا، میں بلاتا ہوں (تمھیں ) طرف اللہ کی، اوپر بصیرت کے ہوں میں اور وہ لوگ جنھوں نے میری پیروی کی اور پاک ہے اللہ (شریکوں سے)اور نہیں میں مشرکوں میں سے (108) اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے آپ سے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، بستیوں کے رہنے والوں میں سے، کیا پس نہیں سير کی انھوں نے زمین میں ، پس دیکھتے وہ کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ اور البتہ گھر آخرت کا بہت بہتر ہے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا، کیا پس نہیں عقل پکڑتے تم؟(109)

[108] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ قُلۡ ﴾ ’’(لوگوں سے) کہہ دیجیے!‘‘ ﴿ هٰؔذِهٖ سَبِيۡلِيۡۤ ﴾ ’’یہ میرا راستہ ہے‘‘ جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں ، یہ راستہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے جو علم حق، اس پر عمل کرنے، اس کو ترجیح دینے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص دین کو متضمن ہے۔ ﴿ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام مخلوق اور تمام بندوں کو اپنے رب کے پاس پہنچنے پر آمادہ کرتا ہوں اور انھیں اس کی ترغیب دیتا ہوں اور انھیں ان تمام امور سے ڈراتا ہوں جو انھیں اللہ تعالیٰ سے دور کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا﴾ ’’سمجھ بوجھ کر‘‘ یعنی میں اپنے دین کے بارے میں بغیر کسی شک و شبہ کے پورے علم و یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَنِيۡ﴾ ’’اور میرے متبعین بھی‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں جیسے میں اللہ تعالیٰ کے معاملے میں پوری بصیرت اور یقین کے ساتھ اس کی طرف بلاتا ہوں ۔ ﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے تمام امور کی نسبت سے پاک ہے جو اس کے کمال کے منافی ہیں اور اس کے جلال کے لائق نہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’ میں کسی بھی معاملے میں مشرکین میں شامل نہیں ‘‘ بلکہ دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں ۔

[109]﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مرد ہی رسول بنا کر بھیجے‘‘ یعنی ہم انسانوں کی ہدایت کے لیے فرشتے یا کوئی اور مخلوق نہیں بھیجتے۔ تب آپﷺ کی قوم کو آپ کی رسالت میں کون سی چیز انوکھی نظر آرہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کو ان پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ پس آپ کے لیے انبیائے سابقین میں اسوۂ حسنہ ہے۔ ﴿ نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى ﴾ ’’ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، (وہ) بستیوں کے رہنے والے ہیں‘‘ یعنی یہ انبیائے کرام صحراؤں میں رہنے والے نہیں تھے بلکہ بستیوں میں رہنے والے تھے جو سب سے زیادہ کامل عقل اور سب سے زیادہ صحیح رائے کے حامل تھے تاکہ ان کا معاملہ نہایت واضح اور ان کی شان نمایاں ہو۔ ﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا پس انھوں نے زمین کی سیر نہیں کی‘‘ جب وہ آپﷺ کی بات کی تصدیق نہیں کرتے تو پھر کیا انھوں نے چل پھر کر نہیں دیکھا ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔‘‘ یعنی اور وہ دیکھتے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا۔ لہذا تم بھی اس رویہ کو اختیار کرنے سے بچو جس رویے پر وہ قائم رہے ہیں ورنہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جو ان پر نازل ہوا تھا۔ ﴿ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت کا گھر‘‘ یعنی جنت اور جنت کی دائمی نعمتیں ﴿ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا﴾ ’’ان لوگوں کے لیے بہتر ہیں جو پرہیز گار ہیں ‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کیونکہ دنیا کی نعمتیں منقطع ہو کر ختم ہو جانے والی ہیں ۔ آخرت کی نعمت کامل اور کبھی نہ فنا ہونے …

110

حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا۟ جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّىَ مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا

یہاں تک کہ جب نا امید ہو گئے رسول اور انھوں نے گمان کیا(وسوسے کی حد تک) کہ بے شک وہ جھوٹ بولے گئے تو آگئی ان کے پاس مدد ہماری ، پھر نجات دی گئی اسے جسے ہم چاہتے تھےاور نہیں پھیرا جاتا عذاب ہمارا مجرم قوم سے (110) ، البتہ تحقیق ہے ان کے بیان (احوال) میں عبرت واسطے عقل والوں کے، نہیں ہے یہ (قرآن) ایسی بات کہ گھڑ لی گئی ہو لیکن (یہ تو) تصدیق ہے اس کی جو اس سے پہلے ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت ہے اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (111)

[110] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ انبیاء کرام کو مبعوث فرماتا ہے ان کی قوم کے مجرم اور لئیم لوگ انھیں جھٹلا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں ۔ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت پر مہلت دیے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ انبیاء کرام پر ان کی سختیاں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں اور انبیاء و مرسلین یقین کامل اور اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید کی تصدیق کے باوجود کبھی کبھی ان کے دل میں مایوسی کا کوئی خیال سا گزرتا ہے اور ان کے علم اور یقین میں ایک قسم کا ضعف سا آجاتا ہے۔ جب معاملہ اس حال کو پہنچ جاتا ہے ﴿ جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا ١ۙ فَنُجِّيَ مَنۡ نَّشَآءُ﴾ ’’تو ان کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی، پس جن کو ہم نے چاہا، نجات دے دی گئی‘‘ اس سے مراد انبیاء و رسل اور ان کے متبعین ہیں ۔ ﴿ وَلَا يُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھر انہیں کرتا۔‘‘ یعنی ہمارے عذاب کو مجرموں اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں جرأت کرنے والے پر سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی کوئی پیش چل سکے گی نہ ان کی کوئی مدد کر سکے گا۔

[111]﴿لَقَدۡ كَانَ فِيۡ قَصَصِهِمۡ ﴾ ’’ان کے قصے میں ۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کے اپنی قوم کے ساتھ قصے میں ﴿ عِبۡرَةٌ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾’’عقل والوں کے لیے عبرت ہے‘‘ یعنی وہ اہل خیر اور اہل شر کے بارے میں عبرت لیتے ہیں ۔ جو کوئی ان جیسے افعال کا ارتکاب کرے گا تو اپنے فعل کے مطابق کرامت یا اہانت کا مستحق ٹھہرے گا۔ وہ ان قصوں میں سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی عظیم حکمت کا استنباط کرتے ہیں ۔ نیز وہ ان قصوں سے اس حقیقت کو اخذ کرتے ہیں کہ اللہ واحد کے سوا عبادت کسی کے لیے مناسب نہیں ۔﴿ مَا كَانَ حَدِيۡثًا يُّفۡتَرٰى ﴾ ’’یہ ایسی بات نہیں جو بنالی گئی ہو۔‘‘ یعنی یہ قرآن جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں غیب کی خبروں سے آگاہ کرتا ہے، گھڑی ہوئی باتوں اور خود ساختہ کہانیوں پر مشتمل نہیں ہے۔ ﴿ وَلٰكِنۡ تَصۡدِيۡقَ الَّذِيۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’بلکہ جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق کرنے والا ہے۔‘‘ بلکہ کتب سابقہ کی تصدیق، ان کی موافقت اور ان کی صحت کی شہادت پر مشتمل ہے۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلَ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل ہے۔‘‘ بندے جن کے محتاج ہیں ، مثلاً:دین کے اصول و فروع اور دلائل و براہین۔ ﴿ وَّهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اس قرآن کے ذریعے سے انھیں جو حق کا علم حاصل ہوتا ہے اور وہ حق کو ترجیح دیتے ہیں … انھیں ہدایت حاصل ہوتی ہے اور انھیں جو دنیاوی یا اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے اس کے ذریعے سے رحمت سے نوازے جاتے ہیں ۔

ضمیمہ : اس عظیم قصہ میں بعض فوائد اور عبرتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن پر یہ مشتمل ہے۔ اس قصہ کی ابتدا میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ ﴾ ’’ہم آپ پر بہترین قصہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور فرمایا ہے: ﴿ لَقَدۡ كَانَ فِيۡ يُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’یوسف اوراس کے بھائیوں (کے واقعے) میں ، پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘ اور سورۃ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ لَقَدۡ كَانَ فِيۡ قَصَصِهِمۡ …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.