Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 101–110 of 111

101

۞ رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ

(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو

Explained together with ayah 100

102

ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوٓا۟ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ

(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے

Explained together with ayah 100

103

وَمَآ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں

Explained together with ayah 100

104

وَمَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ لِّلْعَٰلَمِينَ

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے

Explained together with ayah 100

105

وَكَأَيِّن مِّنْ ءَايَةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ

اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں

کائنات میں تفکر کی دعوت - قول باری ہے (وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون، زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے) یعنی زمین و آسمان میں کتنی نشانیاں موجود ہیں جن کے بارے میں یہ لوگ غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے توحید باری پر استدلال کرتے ہیں۔ آیت میں اللہ کی آیات اور اس کے دلائل سے اس کی ذات پر استدلال کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ نیز کائنات کے نظام پر غور و فکر کرنے اور اس پر اس زاویے سے نظر ڈالنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اس نظام کو ایک مدبر ذات چلا رہی ہے جسے اس کائنات پر پوری قدرت حاصل ہے اور جو اس کے ایک ایک ذرے کا علم رکھتی ہے نیز یہ کہ یہ ذات کائنات کے ساتھ کسی پہلو سے بھی مشابہت نہیں رکھتی بلکہ بےمثل اور یکتا ہے۔ یہ غور و فکر کائنات کی ان چیزوں پر نظر ڈال کر کیا جاسکتا ہے جو آنکھوں پر عیاں ہیں اور حواس خمسہ سے جن کا ادراک کیا جاسکتا ہے مثلاً سورج، چاند، ستاروں، ہوائوں، درختوں، نباتات و حیوانات اور ان کی نسل کا تسلسل وغیرہ کے اندر کارفرما تدبیر وغیرہ۔

106

وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں

قول باری ہے (وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون۔ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں) حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد اور قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ان میں سے اکثر لالہ کو اس اقرار کے ساتھ مانتے ہیں کہ وہ ان کا خالق اور ارض و سما کا پیدا کرنے والا ہے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ بت پرستی کے ذریعے دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ آیت کے مصداق اہل کتاب ہیں جن کے اندر ایمان بھی تھا اور شرک بھی تھا۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی عبادت کی تصدیق کرتے اور اسے مانتے ہیں مگر اس طرح کہ عبادت میں بتوں کو بھی شریک کرلیتے ہیں۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ایک یہودی کے اندر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان ہوتا ہے لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت سے کفر اور انکار ہوتا ہے اس لئے کہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایمان اور کفر الگ الگ جہت سے ایک دوسرے کے منافی نہیں ہوتے اور اس طرح ایک انسان میں ایک جہت سے کفر ہوتا ہے اور ایک جہت سے ایمان۔ تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ الگ الگ جہت سے ان دونوں کا اجتماع ایسے شخص پر مومن کے اسم کے اطلاق اور اس کے لئے ایمان کے ثواب کے استحقاق کا سبب نہیں بنتا اس لئے کہ کفر ان دونوں باتوں کے منافی ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو) اس قول باری نے یہودیوں کے اندر کتاب کے ایک حصے پر ایمان اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کو ثابت کردیا۔ اس کے ذریعے ایک جہت سے ایمان اور دوسری جہت سے کفر کے ثبوت کا جواز پیدا ہوگیا تاہم یہ جائز نہیں کہ ایسے شخص میں مومن ہونے کی صفت اور کافر ہونے کا وصف یکجا ہوجائے۔ اس لئے کہ مومن ہونے کی صفت علی الاطلاق صفت مدح ہے جبکہ کافر ہونے کی صفت صفت ذم ہے اور ایک ہی حالت میں ایک شخص کا ان دونوں صفات سے متصف ہونے کا علی الاطلاق استحقاق ممتنع ہوتا ہے۔

107

أَفَأَمِنُوٓا۟ أَن تَأْتِيَهُمْ غَٰشِيَةٌۭ مِّنْ عَذَابِ ٱللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو

Explained together with ayah 106

108

قُلْ هَٰذِهِۦ سَبِيلِىٓ أَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِى ۖ وَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں

قول باری ہے (قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا و من اتبعنی تم ان سے صاف کہہ دو کہ ” میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی) آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لئے ہوئی ہے نیز آپ خود بھی اس راستے پر پوری بصیرت کے ساتھ چل رہے ہیں کہ گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں نیز آپ کے متبعین بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہے ہیں اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے کے لئے آپ کا یہی طریق کار ہے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ اہل ایمان پر لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کی اسی طرح ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تھی۔ قول باری ہے (وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم من اھل القری اے محمد تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے۔ اور انہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے اور انہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں) ایک قول کے مطابق شہروں میں رہنے والوں میں سے نہ کہ صحرا نشینوں میں سے، اس لئے کہ شہروں میں رہنے والے علم و حکمت میں دوسروں سے بڑھ کر ہوتے ہیں اور لوگوں میں ان کی باتوں کو قبول کرنے کا زیادہ رجحان ہوتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دیہاتوں اور صحرائوں میں رہنے والوں میں سے کبھی کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا۔ نہ ہی جنات میں کوئی نبی ہوا اور نہ ہی عورتوں میں۔

109

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓ ۗ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

Explained together with ayah 108

110

حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا۟ جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّىَ مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا

قول باری ہے (حتی اذا ستیئس الرسل و ظنوا انھم قدکذبوا جاء ھم نصرنا۔ یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ ان پر جھوٹ بولا گیا تھا تو یکایک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی) یاس امید کے انقطاع کا نام ہے۔ قول باری (کذبوا) کو حرف ذال کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ پڑھا گیا۔ اگر پہلی قرأت لی جائے تو آیت اس معنی پر محمول ہوگی جس کی حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) ، حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) ، سعید بن جبیر، مجاہد اور ضحاک سے روایت کی گئی ہے۔ یعنی قوموں نے یہ سمجھ لیا کہ پیغمبروں نے ان سے جو کہا تھا کہ انہیں اللہ کی نصرت حاصل ہے اور ان کے دشمن ہلاک ہوجائیں گے، وہ جھوٹ تھا۔ حماد بن زید سے مروی ہے۔ انہوں نے سعید بن الحجات سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابراہیم بن ابی حرۃ الجزری نے یہ بات سنائی کہ ” میں نے کھانا تیار کیا اور اپنے کچھ دوستوں کو جن میں سعید بن جبیر بھی شامل تھے کھانے پر بلایا۔ میں ضحاک بن مزاحم کو بھی پیغام بھیجا لیکن انہوں نے آنے سے انکار کردیا۔ اس پر میں خود ان کے پاس گیا اور انہیں لئے بغیر واپس نہیں آیا۔ دوران مجلس میں ایک قریشی نوجوان نے سعید بن جبیر سے دریافت کیا کہ ” ابو عبد اللہ ، آپ اس لفظ کی تلاوت کس طرح کرتے ہیں میں تو جب تلاوت کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچتا ہوں تو میرے دل میں یہ تمنا بیدار ہوجاتی ہے کہ کاش میں یہ سورت نہ ہی پڑھتا یعنی قول باری (حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انھم قدکذبوا) نوجوان کی یہ بات سن کر سعید بن جبیر نے فرمایا : ہاں سنو یہاں تک کہ جب پیغمبروں کو اپنی قوموں سے اس بارے میں مایوسی ہوگئی کہ وہ ان کی تصدیق کریں گے اور قوموں نے بھی سمجھ لیا کہ پیغمبروں سے جھوٹ کہا گیا ہے۔ “ یہاں سعید بن جبیر نے (کذبوا) کی تخفیف والی قرأت کی۔ یہ سن کر ضحاک بن مزاحم نے فرمایا : میں نے آج کی طرح کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی ہو اور اس نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اس کا جواب دے دیا ہو، اگر مجھے یہ بات معلوم کرنے کے لئے یمن تک کا سفر کرنا پڑتا تو بھی میں اسے تھوڑا سمجھتا “ ایک اور روایت کے مطابق مسلم بن یسار نے سعید بن جبیر سے اسی آیت کی تفسیر پوچھی تھی اور جواب ملنے پر انہوں نے سعید کے ساتھ معانقہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ ” اللہ تم سے بھی اسی طرح سختیدور کر دے جس طرح تم نے اس آیت کے سلسلے میں مجھ سے سختی اور الجھن دور کردی ہے۔ “ جن حضرات نے لفظ (کذبوا) کی تشدید کے ساتھ قرأت کی ہے ان کے نزدیک آیت اس معنی پر محمول ہے کہ پیغمبروں کو یہ یقین ہوگیا کہ قوموں نے ان کی تکذیب کی ہے۔ اس طرح ان قوموں نے ہماری تکذیب کردی حتیٰ کہ ان میں سے ایک کو بھی فلاح نصیب نہیں ہوئی۔ حضرت عائشہ (رض) ، حسن اور قتادہ سے یہ تفسیر مروی ہے۔

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.