Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 101–110 of 111

101

۞ رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ

(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو

رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ ۔۔ : پچھلی آیت میں یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کیا ہے، یہاں سے وہ اللہ تعالیٰ کو اس کی صفت ربوبیت کے ساتھ مخاطب کرکے اور مزید نعمتوں کا ذکر کرکے اس چیز کی دعا کرتے ہیں جو ان تمام نعمتوں سے بڑی ہے اور اتنی نعمتوں کے باوجود یوسف (علیہ السلام) سب سے زیادہ اسی کے متعلق فکر مند ہیں اور فی الواقع اصل فکر اسی کی ہونا لازم ہے۔ عرض کیا اے ہر لمحے میری نگہداشت کر کے، میری ہر ضرورت پوری کر کے مجھے پالنے والے تو نے مجھے حکومت میں سے حصہ بھی دیا ( ” مِنْ “ بمعنی بعض ہے، کیونکہ وہ وزیر خزانہ تھے اور اگر کوئی بادشاہ ہے تو اس کے پاس بھی بادشاہی کا ایک حصہ ہی ہے، کل بادشاہی تو ایک ہی ہستی کی ہے۔ ” تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ “ ) اور مجھے باتوں کی اصل حقیقت سمجھنے میں سے کچھ سکھایا۔ یہاں بھی ” مِن “ بعض کے معنی میں ہے، کیونکہ ہر بات کی اصل حقیقت تو ایک ہستی ہی جانتی ہے۔ ” وَمَایَعْلَمُ تَاوِیلہ اِلَّا اللّٰه “ ، یہاں ” تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ “ میں خوابوں کی تعبیر، مقدمات کے فیصلے، وحی الٰہی کا علم سب شامل ہیں) ، دنیا و آخرت میں میرا یارومددگار صرف تو ہے، میری آخری درخواست یہ ہے کہ جب تو مجھے فوت کرے تو میں اس وقت تیرا فرماں بردار ہوں، کیونکہ ہمیشہ کی زندگی کا سارا دارو مدار اسی پر ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِِنَّمَا الْأَعْمَال بالْخَوَاتِیْمِ ) [ بخاري، الرقاق، باب الأعمال بالخواتیم ۔۔ : (٦٤٩٣) ] ” اعمال کا دارومدار ان کے خاتموں ہی پر ہے۔ “ اس میں ہمارے لیے سبق ہے کہ آدمی دنیا کے جتنے بھی اونچے مرتبے پر پہنچ جائے اسے ہر وقت فکر آخرت ہی کی لازم ہے، کیونکہ وہ باقی ہے اور دنیا کا ہر منصب فانی ہے۔- وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ : صالحین میں عام صالحین کے ساتھ اعلیٰ درجے کے صالح، یعنی انبیاء بھی داخل ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ) [ آل عمران : ٣٩ ] ” اور وہ سردار اور اپنے آپ پر بہت ضبط رکھنے والا اور نبی ہوگا، صالحین (نیک لوگوں) میں سے۔ “ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ( مَا مِنْ نَبِيٍّ یَمْرَضُ إِلاَّ خُیِّرَ بَیْنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَکَانَ فِيْ شَکْوَاہُ الَّذِيْ قُبِضَ فِیْہِ أَخَذَتْہٗ بُحَّۃٌ شَدِیْدَۃٌ، فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ : ( مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ) فَعَلِمْتُ أَنَّہٗ خُیِّرَ ) [ بخاری، التفسیر، باب ( فأولئک مع الذین ۔۔ ) : ٤٥٨٦ ]” کوئی نبی مرض الموت میں بیمار نہیں ہوتا حتیٰ کہ اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے، چناچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس بیماری میں فوت ہوئے، آپ کو گلے کی سخت تکلیف ہوگئی تو میں نے آپ سے سنا، آپ کہہ رہے تھے : ( مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ ) [ النساء : ٦٩ ] ” میں ان کا ساتھ چاہتا ہوں جن پر اللہ نے انعام فرمایا، نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالح لوگوں میں سے “ تو میں سمجھ گئی کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ “ معلوم ہوا قیامت کے دن صالحین کے ساتھ شامل ہونے کی خواہش اور دعا صرف یوسف (علیہ السلام) ہی نے نہیں بلکہ ساری اولاد آدم کے سردار نے بھی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بےپایاں فضل و کرم سے ہمیں بھی یہ نعمت عطا فرمائے۔ (آمین)- ” تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا “ سے بعض لوگوں نے دلیل پکڑی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے موت کی دعا کی، اس لیے موت کی دعا جائز ہے، حالانکہ یہ مطلب درست نہیں۔ کسی بھی امر …

102

ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوٓا۟ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ

(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ : یعنی غیب کی یہ خبریں اپنی صحیح تفصیلات کے ساتھ ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے سے بتائیں، ہماری وحی کے بغیر آپ کو یہ کیسے معلوم ہوسکتی تھیں۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے پیغمبر ہیں، اگر سچے پیغمبر نہ ہوتے تو ہزاروں برس پہلے کے یہ واقعات کیسے معلوم کرسکتے تھے اور تمہیں کیسے سنا سکتے تھے۔ - وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا ۔۔ : یعنی اگر ہم آپ کو نہ بتاتے تو آپ کو کچھ خبر نہ تھی، کیونکہ آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے۔ قرآن مجید نے ” وما کنت “ کے ساتھ یہ بات کئی جگہ دہرائی ہے اور اپنا احسان جتلایا ہے کہ آپ کو گزشتہ واقعات کا کچھ علم نہ تھا، نہ آپ وہاں موجود تھے جب یہ سب کچھ ہوا، یہ ہم ہی ہیں جنھوں نے وحی کے ذریعے سے آپ کو یہ واقعات بتائے۔ اس لیے اہل مکہ اور دوسرے کفار کو آپ کی نبوت میں ہرگز شک نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ان مسلمانوں کے لیے بھی سبق ہے جو کہتے ہیں کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر بات کا پہلے ہی علم تھا، اگر ایسا ہی تھا تو وحی کی کیا ضرورت تھی۔ قرآن مجید کی ” وَمَا كُنْتَ “ والی تمام آیات آپ کے علم غیب کی نفی کرتی ہیں۔ ” وَمَا كُنْتَ “ کے مقامات کی سیر کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورة آل عمران (٤٤) ، ہود (٤٩) ، یوسف (١٠٢) ، قصص (٤٤، ٤٥، ٤٦، ٨٦) ، عنکبوت (٤٨) اور شوریٰ (٥٢) ۔- 3 اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا قصہ اہل کتاب سے جن تفصیلات کے ساتھ منقول ہے وہ تمام کی تمام صحیح نہیں، کیونکہ اگر صحیح ہوتیں تو ان کی کوئی بات قرآن مجید کے خلاف نہ ہوتی جو ان کی کتابوں پر نگران اور ان کے صحیح مضامین کا محافظ ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (٤٨) اس لیے صحیح و غلط کے گڈ مڈ ہوجانے کی وجہ سے ان کی معلومات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

103

وَمَآ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ ۔۔ : سورة یوسف کے نزول کے بعد، جو آپ کی نبوت کی واضح دلیل تھی، جب آپ کی یہ خواہش اور توقع پوری نہ ہوئی کہ اسے سننے والے ایمان لے آئیں گے تو اس پر آپ کا غم زدہ ہونا فطری بات تھی، اللہ تعالیٰ نے اس پر تسلی دی کہ آپ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ شیطان کے غلبے اور اپنی نفسانی خواہشات، حرص، حسد وغیرہ کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کی حکمتیں پوری طرح وہی جانتا ہے۔ اس سے جمہوریت، یعنی اکثریت کے نمائندوں کو قانون سازی کا حق دینے کی حیثیت بھی خوب واضح ہوتی ہے، خصوصاً جب وہ صاف اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف قانون بناتے اور چلاتے ہوں۔

104

وَمَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ لِّلْعَٰلَمِينَ

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے

وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ : یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے اس تبلیغ پر اجرت مانگ کر ان پر بوجھ بن رہے ہوں، سو یہ بات ہے ہی نہیں۔ - اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ : اور یہ بھی نہیں کہ یہ نہ مانیں گے تو دین کا کچھ بگاڑ لیں گے، یہ قرآن اور اسلام صرف انھی کے لیے تو نہیں، یہ تو سارے جہانوں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اور بندے لے آئے گا جو اس کا علم اٹھا لیں گے، باقی رہ گئے یہ لوگ تو اگر مانیں گے تو اپنے آپ کو فائدہ پہنچائیں گے اور نہ مانیں گے تو اپنا نقصان کریں گے، آپ ان کے رویے سے ہرگز رنجیدہ نہ ہوں۔

105

وَكَأَيِّن مِّنْ ءَايَةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ

اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں

وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ ۔۔ : ” وَكَاَيِّنْ “ کاف تشبیہ اور ” اَیٌّ“ کا مرکب ہے، معنی اس کا ہے کتنی ہی، مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد ذکر ہونے والی چیز اتنی زیادہ ہے کہ اس کا شمار نہیں ہوسکتا۔ ” اٰیَةٍ “ نشانی سے مراد ایسی عجیب چیز ہے جو توجہ کو اپنی طرف کھینچ لے، اس طرح کہ وہ بھولنے نہ پائے، جیسے کہتے ہیں : ” فَلَانٌ آیَۃٌ فِي الذَّکَاءِ “ یعنی فلاں شخص ذہانت میں آیت ہے، یعنی اتنا ذہین ہے کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ توحید کی کچھ آیات تنزیلیہ ہیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اتریں اور بیشمار کونیہ ہیں جو کائنات کے ذرے ذرے میں بکھری پڑی ہیں۔ ” یَمُرُّوْنَ “ گزرنے سے مراد صرف یہی نہیں کہ چلتے ہوئے گزرتے ہیں، کیونکہ آسمان کی نشانیوں پر گزر کیسے ہوسکتا ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ کتنی ہی بیشمار عجیب و غریب چیزیں ہیں جو روزانہ ان کی نگاہوں کے سامنے آتی ہیں، مگر یہ ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ موٹی سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس دعوے کے مقابلے میں کہ ” میں نے ہر چیز پیدا کی ہے، کوئی اور ہے جس نے ایک مکھی یا اس کا پر بھی پیدا کیا ہے تو سامنے لاؤ “ جب کوئی بھی سر نہیں اٹھاتا اور تمہیں بھی یہ مانے بغیر چارہ نہیں تو اس کائنات میں اختیارات کا مالک یا اللہ تعالیٰ سے زبردستی منوالینے والا کوئی دوسرا کیوں بنا لیتے ہو ؟ اور ہر چیز کے خالق ومالک کو چھوڑ کر اس کی مخلوق کو کس دلیل سے مشکل کشا سمجھتے اور پکارتے ہو۔ وہ نشانیاں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت جگہ ذکر کی ہیں۔ مثال کے طور پر دو تین مقامات ذکر کیے جاتے ہیں : (وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ) [ الذاریات : ٢٠، ٢١ ] ” اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمہارے نفسوں میں بھی، تو کیا تم نہیں دیکھتے۔ “ اور دیکھیے سورة بقرہ (١٦٤ تا ١٦٧) کائنات میں پھیلی ہوئی ان بیشمار نشانیوں میں سے کافی نشانیاں ان آیات میں بھی آگئی ہیں، بلکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہر اختیار ہونے کو بھی کمال طرز سے بیان فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورة روم (١٧ تا ٢٨) تھوڑی سی زحمت فرما کر ان مقامات کا مطالعہ کر لیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر پوری طرح غور کرنے والا شخص یقیناً توحید، آخرت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت تک پہنچ جائے گا، ورنہ کم از کم کائنات کی چیزوں پر غور کرنے سے کسی نہ کسی مفید نتیجے یا ایجاد تک ضرور پہنچ جائے گا جو کم از کم دنیا میں اسے اور دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچائے گی۔ جیسا کہ دیگچی کی بھاپ سے ڈھکنا اٹھنے پر غور نے بھاپ کی قوت کو دریافت کرکے ریل اور کتنی ایجادات کیں۔ بجلی، گیس، لیزر، ایٹم یہ سب اللہ کی آیات کو نیہ پر غور ہی کا نتیجہ ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ اپنی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، اگر کوئی توحید تک نہ پہنچ سکے تو محنت اس کی بھی ضائع نہیں کرتا، کافر کو بھی اس کی سوچ اور فکر کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی انعام دنیوی ہی سہی، ضرور دے دیتا ہے، مگر اصل کامیاب وہ ہے کہ یہ غور و فکر اسے اپنے خالق ومالک کی پہچان، اس اکیلے کی عبادت اور اس کے رسول پر ایمان تک پہنچا دے۔

106

وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں

وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ۔۔ : اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ شرک کرنے والوں کی پہلی مثال کفار قریش ہیں جو آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، خود ان مشرکین کو پیدا کرنے والے اور ہر چیز کی مکمل ملکیت رکھنے والے اللہ تعالیٰ کو جانتے اور مانتے تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ) [ الزخرف : ٨٧ ] ” اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ “ اور فرمایا : (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ) [ لقمان : ٢٥ ] ” اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ “ اس کے علاوہ دیکھیے سورة مومنون (٨٤ تا ٨٩) اور یونس (٣١ تا ٣٥) اور ساتھ ہی کچھ ہستیوں کو اللہ کے ہاں اپنے سفارشی، اللہ کے قریب کرنے والے اور اپنے کام نکلوانے والے سمجھتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (؀ وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ ) [ یونس : ١٨ ] ” اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ “ اور فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى ) [ الزمر : ٣ ] ” اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا اور حمایتی بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں، اچھی طرح قریب کرنا۔ “ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مشرکین کہتے تھے : ( لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ ) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : ( وَیْلَکُمْ قَدٍْ قَدٍْ ) ” تمہاری بربادی ہو، اس سے آگے مت کہنا “ (مگر وہ کہتے) ( إِلاَّ شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہٗ وَمَا مَلَکَ ، یَقُوْلُوْنَ ھٰذَا وَھُمْ یُطُوْفُوْنَ بالْبَیْتِ ) ” مگر ایک شریک جو تیرا ہی ہے، تو ہی اس کا مالک ہے، وہ مالک نہیں۔ “ وہ یہ الفاظ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتے تھے۔ “ [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ وصف تھا ووقتھا : ١١٨٥ ] مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، اس طرح بھی وہ اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ ) [ الزخرف : ١٩ ] ” اور انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو رحمن کے بندے ہیں، عورتیں بنادیا، کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ؟ ان کی گواہی ضرور لکھی جائے گی اور وہ پوچھے جائیں گے۔ “ مشرکین مکہ اللہ پر ایمان کے ساتھ ہی بزرگوں کے بتوں کی بھی پوجا کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا : (اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى 19؀ۙوَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى 20؀ اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى 21؀ تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى 22؀ اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ ) [ النجم : ١٩ تا ٢٣ ] ” پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔ اور تیسری ایک اور (دیوی) منات کو۔ کیا تمہارے لیے لڑکے ہیں اور اس کے لیے لڑکیاں ؟ یہ تو اس وقت ناانصافی کی تقسیم ہے۔ یہ (بت) چند ناموں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔ “ انھوں نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) کی صورتیں رکھی ہوئی تھیں۔ [ بخاري، الحج، باب من کبّر في نواحي الکعبۃ : ١٦٠١ ] اہل کتاب بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان کے دعوے دار تھے، اس کے باوجود عزیر اور مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ …

107

أَفَأَمِنُوٓا۟ أَن تَأْتِيَهُمْ غَٰشِيَةٌۭ مِّنْ عَذَابِ ٱللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو

اَفَاَمِنُوْٓا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ ۔۔ : ” غَشِیَ یَغْشٰی غَشْیًا وَ غَشَیَانًا “ ہر جانب سے گھیر لینا، ڈھانک لینا، جیسے فرمایا : (وَاِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ ) [ لقمان : ٣٢ ] ” اور جب انھیں سائبانوں جیسی عظیم موج ڈھانک لیتی ہے۔ “ غاشیہ وہ حادثہ جو چاروں طرف سے گھیر لے۔ عرب ایسے حوادث کو مؤنث ہی استعمال کرتے ہیں، مثلاً ” اَلطَّامَّۃُ ، اَلصَّاخَّۃُ ، اَلدَّاھِیَۃُ ، اَلْمُصِیْبَۃُ ، اَلْکَارِثَۃُ ، اَلْحَادِثَۃُ ، اَلْوَاقِعَۃُ ، اَلْحَآقَّۃُ “ اس آیت میں مشرکین کے لیے سخت وعید ہے کہ کچھ بعید نہیں کہ کسی بھی وقت ان پر ہر طرف سے گھیرنے والا عذاب آجائے، مثلاً زلزلہ، طاعون، سیلاب اور طوفان وغیرہ۔- ” بَغْتَةً “ ” بَغَتَ “ (ف) سے مصدر بمعنی اسم فاعل حال ہے ( بَاغِتًا) اچانک۔

108

قُلْ هَٰذِهِۦ سَبِيلِىٓ أَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِى ۖ وَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں

قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ : لفظ ” سَبِیْلٌ“ مؤنث بھی آتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے اور مذکر بھی، جیسا کہ فرمایا : (ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ) [ الأعراف : ١٤٦ ] معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے پیروکاروں کا راستہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت ہے، یعنی صرف اللہ کی عبادت اور اسی کے احکام کی اطاعت جو بذریعہ وحی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اترے، اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی دعوت دے، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ کی طرف سے اترنے والے احکام و مسائل کے بجائے کسی اور کی پیروی، مثلاً کسی امام یا پیر وغیرہ کی تقلید کی دعوت دے تو وہ نہ اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہے اور نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے پر چل رہا ہے، کیونکہ جس چیز کی طرف وہ بلا رہا ہے وہ اللہ کی طرف سے اتری ہی نہیں، وہ محض انسانی رائے یا خیال ہے۔- عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۔۔ : ” بَصَارَۃٌ“ آنکھوں کا دیکھنا اور ” بَصِيْرَةٍ “ دل سے اچھی طرح سمجھنا، یعنی میں اور میرے پیروکار خوب سوچ سمجھ کر اللہ کے راستے پر قائم ہیں۔ ” وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور خطا سے پاک ہے۔ اس اکیلے کی عبادت ہی حق ہے اور اس اکیلے کی وحی پر چلنا ہی حق ہے اور جو اس راہ کو چھوڑتا ہے وہ ایسی ہستیوں کی عبادت اور اطاعت کی وجہ سے مشرک ہے جو عیب اور خطا سے پاک نہیں ہیں۔ اس لیے میں کبھی ایسے مشرکوں میں شامل نہیں ہوسکتا۔

109

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓ ۗ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ ۔۔ : اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انسان ہونے کی وجہ سے نبی ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اترے۔ (دیکھیے فرقان : ٢١) یہ رسول تو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ (دیکھیے فرقان : ٧) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے تمام رسول ” رِجَالٌ“ (مرد) ہی بھیجے۔ دوسرے مردوں سے ان کا فرق یہ تھا کہ ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے جس سے دوسرے لوگ محروم تھے۔- اِلَّا رِجَالًا : اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ کچھ عورتیں بھی پیغمبر ہوئی ہیں، مثلاً حوا، آسیہ، سارہ، ام موسیٰ اور مریم علیھن السلام۔ حافظ ابن کثیر (رض) لکھتے ہیں کہ ان عورتوں کو فرشتوں کے ذریعے سے وحی یا بشارت تو ضرور ملی ہے مگر اس سے ان کا معروف معنی میں نبی ہونا لازم نہیں آتا۔ نبی وہ ہے جس پر شرع کے احکام اتریں اور اس قسم کی وحی کسی عورت پر نہیں اتری، یہ شرف رجال (مردوں) ہی کو حاصل رہا ہے۔ اگرچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صراحت فرما دی تھی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، مگر اس آیت میں ان عورتوں کے جھوٹے دعوے کا پیشگی مزید رد ہے جنھوں نے آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا، مثلاً سجاح نامی عورت۔ چناچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے ہم نے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا، عورتوں کا اس میں کچھ دخل نہیں، کیونکہ رسول نے مردوں کو بھی دعوت دینا ہوتی ہے، الجھنا بھی پڑتا ہے، جنگ بھی ہوتی ہے اور یہ کام عورت کے بس کے نہیں ہیں۔ - مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى : اکثر اہل علم اس سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبی ہمیشہ شہروں اور بستیوں کے رہنے والوں میں سے آئے ہیں، بادیہ یا صحرا نشینوں سے نہیں آئے، کیونکہ بادیہ نشین قدرتی طور پر غیر سنجیدہ اور سخت طبع ہوتے ہیں۔ مگر ابن عاشور (رض) نے فرمایا :” یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں۔ “ یعنی جو بات تم کہہ رہے ہو کہ آسمان سے فرشتہ اترنا چاہیے، یہ بات درست نہیں، تمام پیغمبر انسان ہی تھے اور زمین کی بستیوں ہی کے رہنے والے تھے، آسمان سے نہیں اترے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) بدو میں رہتے تھے اور پیغمبر تھے، جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ( وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ ) [ یوسف : ١٠٠ ] یا پھر یہ کہا جائے کہ یعقوب (علیہ السلام) بھی بستی ہی میں رہتے تھے، مگر ترقی یافتہ اور متمدن شہر مصر کے مقابلے میں اس بستی کنعان کی حیثیت بھی بدو اور صحرا کی تھی، جیسا کہ پیچھے گزرا۔ - اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ ۔۔ : کفار آخرت کو تو مانتے نہیں تھے، اس لیے انھیں سمجھانے کے لیے دنیا میں گزرنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے شام کو جاتے ہوئے پہاڑوں کو کھود کر بنائے ہوئے قوم ثمود کے مکانات اور قوم لوط کی بستیوں کی جگہ والاخرابہ اور پھر مصر کے اہرام نہیں دیکھیے کہ انھیں عبرت ہوتی۔ - وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ل۔۔ : اگرچہ پچھلے کلام کا تقاضا تھا کہ کہا جاتا کہ ان کفار سے آخرت میں ہونے والا معاملہ اس سے بھی کہیں برا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ان کا ذکر ہی چھوڑ کر متقی لوگوں کا انجام ذکر فرمایا، جس سے ان کا انجام خود بخود ظاہر ہو رہا ہے، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔

110

حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا۟ جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّىَ مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا

حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ ۔۔ :” اسْتَيْــــَٔـسَ “ ” یَءِسَ “ میں مبالغہ ہے، یعنی بالکل مایوس ہوگئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ” حَتّٰٓي “ (یہاں تک) کا تعلق پیچھے کس سے ہے، جواب یہ ہے کہ اس کا تعلق گزشتہ آیت : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ ) سے ہے، یعنی ہم نے تجھ سے پہلے فرشتے یا جن نہیں بلکہ آدمی بھیجے، وہ مدتوں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان کی قومیں ان پر ایمان نہیں لائیں، یہاں تک کہ جب رسول ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید ہوگئے۔ ” ظَنُّوْٓا “ ” ظَنَّ “ کے معنی وسوسہ، گمان اور یقین تینوں آتے ہیں، یعنی انھوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا۔ ” ظَنُّوْٓا “ کے فاعل کے متعلق تین قول ہیں، ایک یہ کہ کفار ہیں، یعنی ان کی قوم کے کفار نے یقین کرلیا کہ رسولوں نے ہم سے جو کہا تھا کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر عذاب آجائے گا، یہ بات ہم سے جھوٹ ہی کہی گئی تھی، کوئی عذاب وغیرہ نہیں آئے گا۔ اس وقت ان رسولوں کے پاس ہماری مدد آگئی اور مجرموں سے ہمارا عذاب ہٹایا نہیں جاتا۔ یہ معنی ابن عباس اور ابن مسعود (رض) سے مروی ہے۔ دوسرا یہ کہ ” ظَنُّوْٓا “ کے فاعل اہل ایمان ہیں، یعنی رسول کفار کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے اور مومنوں کو بھی وسوسہ پیدا ہونے لگا کہ شاید کفار پر عذاب آنے کی بات ان سے جھوٹ ہی کہی گئی تھی۔ یہ معنی بھی درست ہے، کیونکہ وسوسہ پیدا ہونا ایمان کے منافی نہیں، شیطان کا کام ہی لوگوں کے سینے میں وسوسے ڈالنا ہے، مگر اس پر مؤاخذہ نہیں۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِيْ عَنْ أُمَّتِيْ مَا وَسْوَسَتْ بِہٖ صُدُوْرُھَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَکَلَّمْ ) [ بخاري، العتق، باب الخطأ والنسیان في العتاقۃ۔۔ : ٢٥٢٨۔ مسلم : ١٢٧ ] ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جن کا وسوسہ ان کے سینے ڈالیں، جب تک وہ انھیں منہ سے نہ نکالیں یا ان پر عمل نہ کریں۔ “ - تیسرا وہ جو شاہ عبد القادر (رض) نے فرمایا : ” یعنی وعدۂ عذاب کو دیر لگی یہاں تک کہ رسول لگے ناامید ہونے کہ شاید ہماری زندگی میں نہ آیا پیچھے آوے اور ان کے اصحاب خیال کرنے لگے کہ شاید وعدہ خلاف تھا۔ اتنے خیال سے آدمی کافر نہیں ہوتا، مگر جانتا ہے کہ یہ خیال بد ہے۔ “ (موضح) اگر ” ظَنَّ “ سے مراد وسوسہ ہو تو ” ظنوا “ سے مراد رسول بھی بعید نہیں، کَذَا قَالَ ابْنُ تَیْمِیَۃَ (روح المعانی) کیونکہ لمبی آزمائشوں اور مصیبتوں میں خیال آ ہی جاتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ) [ البقرۃ : ٢١٤ ] ” یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی ؟ سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔ “ اس آیت کی روشنی میں یہ معنی بھی قرین عقل ہے۔ مراد اس آیت سے رسولوں پر آنے والی آزمائشوں کی مدت کی لمبائی اور ان کے صبر کے پیمانے کے لبریز ہونے کے قریب تک پہنچ جانے پر اللہ کی مدد کا آنا ہے، جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا۔ - جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا : یعنی پیغمبروں کو ہماری مدد پہنچ گئی۔- وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ : لہٰذا اب اگر عذاب آنے میں دیر ہو رہی ہے تو دھوکا نہ …

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.