Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 91–100 of 111

91

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے

اے میرے بیٹو! تم جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کواور نہ مایوس ہو اللہ کی رحمت سے، بے شک نہیں مایوس ہوتے اللہ کی رحمت سے مگر کافر لوگ ہی (87) پھر جب وہ داخل ہوئے یوسف پر تو انھوں نے کہا، اے عزیز! پہنچی ہے ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو تکلیف اور لائے ہیں ہم پونجی ناقص، پس آپ پورادیجیے ہمارے لیے ماپ (غلے کا) اور صدقہ خیرات کیجیے ہم پر، بے شک اللہ جزا دیتا ہے صدقہ خیرات کرنے والوں کو (88) یوسف نے کہا، کیا معلوم ہے تمھیں جو کچھ کیا تم نے ساتھ یوسف اور اس کے بھائی کے جب تھے تم نادان؟ (89) انھوں نے کہا، کیاواقعی تو یوسف ہی ہے؟ اس نے کہا، (ہاں ) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، تحقیق احسان کیاہے اللہ نے ہم پر، بے شک جو شخص ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ نہیں ضائع کرتا اجر نیکی کرنے والوں کا (90) انھوں نے کہا، قسم اللہ کی! یقینا فضیلت دی تجھے اللہ نے ہم پراور بلاشبہ ہم ہی تھے خطا کار (91) اس نے کہا، نہیں کوئی ملامت اوپر تمھارے آج، معاف کرے اللہ تمھیں اوروہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (92)

[87] یعنی یعقوبu نے اپنے بیٹوں سے کہا: ﴿ يٰبَنِيَّ اذۡهَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ يُّوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اے بیٹو! جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کو‘‘ یعنی پوری حرص اور کوشش کے ساتھ دونوں کو تلاش کرو۔ ﴿ وَلَا تَايۡــَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کے فیض سے ناامید نہ ہو‘‘ کیونکہ امید بندے کو اپنے مقصد کے لیے کوشش اور جدوجہد کے لیے آمادہ کرتی ہے اور مایوسی اسے سست اور کاہل بنا دیتی ہے اور سب سے بہترین چیز جس کی بندے کو امید رکھنی چاہیے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و مہربانی۔ ﴿ اِنَّهٗ لَا يَايۡــَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ کے فیض سے کافر ہی ناامید ہوتے ہیں ‘‘ کیونکہ کفار اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے دور ہے، اس لیے کفار کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنے ایمان کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی کی امید رکھتا ہے۔

[88] پس وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ ﴿ فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ ﴾ ’’جب وہ اس کے پاس گئے۔‘‘ یعنی جب وہ یوسفu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے عاجزی کے ساتھ عرض کیا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ مَسَّنَا وَاَهۡلَنَا الضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰؔىةٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَا﴾ ’’اے عزیز! پڑی ہے ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سختی اور ہم ناقص پونجی لے کر آئے ہیں ، سو ہمیں بھرتی پوری دیں اور ہم پر خیرات کریں ‘‘ یعنی ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت محتاج ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰؔىةٍ ﴾’’اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ایسا مال لے کر آئے ہیں جو قلیل، بے وقعت ہونے کی بنا پر کسی اہمیت کا حامل نہیں ۔﴿ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ﴾ ’’پس آپ ہمیں پورا غلہ دیجیے۔‘‘ یعنی ہمارے پاس قیمت کم ہونے کے باوجود، ہمیں قیمت سے زیادہ غلہ عنایت کر کے ہم پر صدقہ کیجیے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَجۡزِي الۡمُتَصَدِّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صدقہ کرنے والوں کو ثواب دیتاہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو دنیا و آخرت کا ثواب عطا کرتا ہے۔

[89] جب معاملہ اپنی انتہا اور شدت کو پہنچ گیا تو یوسفu نرم پڑ گئے اور انھوں نے ان کو اپنا تعارف کرایا اور ان پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِيُوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’کیا تمھیں معلوم ہے، تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا‘‘ رہے یوسفu تو ان کے ساتھ ان کا سلوک ظاہر ہے اور رہا ان کا بھائی بنیامین تو شاید… واللہ اعلم… اس سے مراد بھائیوں کا یہ قول ہے ﴿ اِنۡ …

92

قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے

اے میرے بیٹو! تم جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کواور نہ مایوس ہو اللہ کی رحمت سے، بے شک نہیں مایوس ہوتے اللہ کی رحمت سے مگر کافر لوگ ہی (87) پھر جب وہ داخل ہوئے یوسف پر تو انھوں نے کہا، اے عزیز! پہنچی ہے ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو تکلیف اور لائے ہیں ہم پونجی ناقص، پس آپ پورادیجیے ہمارے لیے ماپ (غلے کا) اور صدقہ خیرات کیجیے ہم پر، بے شک اللہ جزا دیتا ہے صدقہ خیرات کرنے والوں کو (88) یوسف نے کہا، کیا معلوم ہے تمھیں جو کچھ کیا تم نے ساتھ یوسف اور اس کے بھائی کے جب تھے تم نادان؟ (89) انھوں نے کہا، کیاواقعی تو یوسف ہی ہے؟ اس نے کہا، (ہاں ) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، تحقیق احسان کیاہے اللہ نے ہم پر، بے شک جو شخص ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ نہیں ضائع کرتا اجر نیکی کرنے والوں کا (90) انھوں نے کہا، قسم اللہ کی! یقینا فضیلت دی تجھے اللہ نے ہم پراور بلاشبہ ہم ہی تھے خطا کار (91) اس نے کہا، نہیں کوئی ملامت اوپر تمھارے آج، معاف کرے اللہ تمھیں اوروہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (92)

[87] یعنی یعقوبu نے اپنے بیٹوں سے کہا: ﴿ يٰبَنِيَّ اذۡهَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ يُّوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اے بیٹو! جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کو‘‘ یعنی پوری حرص اور کوشش کے ساتھ دونوں کو تلاش کرو۔ ﴿ وَلَا تَايۡــَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کے فیض سے ناامید نہ ہو‘‘ کیونکہ امید بندے کو اپنے مقصد کے لیے کوشش اور جدوجہد کے لیے آمادہ کرتی ہے اور مایوسی اسے سست اور کاہل بنا دیتی ہے اور سب سے بہترین چیز جس کی بندے کو امید رکھنی چاہیے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و مہربانی۔ ﴿ اِنَّهٗ لَا يَايۡــَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ کے فیض سے کافر ہی ناامید ہوتے ہیں ‘‘ کیونکہ کفار اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے دور ہے، اس لیے کفار کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنے ایمان کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی کی امید رکھتا ہے۔

[88] پس وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ ﴿ فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ ﴾ ’’جب وہ اس کے پاس گئے۔‘‘ یعنی جب وہ یوسفu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے عاجزی کے ساتھ عرض کیا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ مَسَّنَا وَاَهۡلَنَا الضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰؔىةٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَا﴾ ’’اے عزیز! پڑی ہے ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سختی اور ہم ناقص پونجی لے کر آئے ہیں ، سو ہمیں بھرتی پوری دیں اور ہم پر خیرات کریں ‘‘ یعنی ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت محتاج ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰؔىةٍ ﴾’’اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ایسا مال لے کر آئے ہیں جو قلیل، بے وقعت ہونے کی بنا پر کسی اہمیت کا حامل نہیں ۔﴿ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ﴾ ’’پس آپ ہمیں پورا غلہ دیجیے۔‘‘ یعنی ہمارے پاس قیمت کم ہونے کے باوجود، ہمیں قیمت سے زیادہ غلہ عنایت کر کے ہم پر صدقہ کیجیے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَجۡزِي الۡمُتَصَدِّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صدقہ کرنے والوں کو ثواب دیتاہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو دنیا و آخرت کا ثواب عطا کرتا ہے۔

[89] جب معاملہ اپنی انتہا اور شدت کو پہنچ گیا تو یوسفu نرم پڑ گئے اور انھوں نے ان کو اپنا تعارف کرایا اور ان پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِيُوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’کیا تمھیں معلوم ہے، تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا‘‘ رہے یوسفu تو ان کے ساتھ ان کا سلوک ظاہر ہے اور رہا ان کا بھائی بنیامین تو شاید… واللہ اعلم… اس سے مراد بھائیوں کا یہ قول ہے ﴿ اِنۡ …

93

ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًۭا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ

لے جاؤ تم قمیص میری یہ پس ڈال دو اسے اوپر چہرے میرے باپ کے، ہو جائے گا وہ دیکھنے والا اور لے آؤ تم میرے پاس اپنے اہل و عیال کو سب کو (93) اور جب نکلا قافلہ (مصر سے) تو کہا ان کے باپ نے، بے شک میں پاتا ہوں مہک یوسف کی، اگر نہ بہکا ہوا کہو تم مجھے (94) انھوں نے کہا! قسم اللہ کی، بے شک تو البتہ اپنی پرانی غلطی میں ہے (95) پس جب آیا خوشخبری دینے والا تو ڈالی اس نے وہ قمیص اوپر اس کے چہرے کے تو پھر سے ہو گیا وہ دیکھنے والا، یعقوب نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے بے شک میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ جو نہیں جانتے تم (96) انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! مغفرت طلب کر ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بے شک ہم ہی تھے خطا کار (97) اس نے کہا، عنقریب میں مغفرت طلب کرو ں گا تمھارے لیے اپنے رب سے بے شک وہی غفور ہے رحیم ہے (98)

[93] یوسفu نے اپنے بھائیوں سے کہا: ﴿ اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِيۡ هٰؔذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِيۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا﴾ ’’تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا‘‘ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسفu کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کر دیا تھا… جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… حضرت یوسفu چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسفu کو مطلع کیا گیا۔ ﴿ وَاۡتُوۡنِيۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور میرے پاس اپنا سارا گھر لے آؤ‘‘ یعنی اپنے بال بچوں ، قبیلے والوں اور دیگر تمام متعلقہ لوگوں کو میرے پاس لاؤ تاکہ ملاقات کی تکمیل ہو اور تمھاری معاشی بدحالی اور رزق کی تنگی دور ہو۔

[94]﴿ وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ ﴾ ’’اور جب قافلہ جدا ہوا‘‘ یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوبu نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی۔ کہنے لگے: ﴿ اِنِّيۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ﴾ ’’میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں ، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ‘‘ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے کیونکہ یعقوبu نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔

[95] پس وہی کچھ ہوا جو حضرت یعقوبu سمجھتے تھے۔ کہنے لگے: ﴿ قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ﴾ ’’اللہ کی قسم آپ تو اسی پرانی غلطی میں ہیں ‘‘ یعنی آپ تو ہمیشہ محبت کے سمندر میں سرگرداں رہیں گے، آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔

[96]﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ ﴾ ’’پس جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔‘‘ یعنی جب ایلچی حضرت یوسفu، ان کے بھائیوں اور ان کے باپ کے اجتماع کی خوشخبری لے کر آیا ﴿ اَلۡقٰىهُ ﴾ ’’تو ڈال دیا اس کو‘‘ یعنی قمیص کو ﴿ عَلٰى وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًا﴾ ’’ان کے چہرے پر، جس سے وہ دوبارہ دیکھنے والے ہو گئے‘‘ یعنی یعقوبu اپنی پہلی سی بصارت والی حالت میں آگئے حالانکہ غم و اندوہ کی و جہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں ۔ یعقوبu نے ان لوگوں سے… جو وہاں موجود تھے اور جو ان کی رائے کو جھٹلاتے رہے تھے اور ان پر تعجب کررہے تھے… اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہو کر فاتحانہ انداز میں کہا:﴿ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ١ۙۚ اِنِّيۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘‘ کیونکہ میں یوسفu کے ملنے کی امید رکھتا تھا اور حزن و غم کے ختم ہونے کا منتظر تھا۔

[97] جب یعقوبu کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ …

94

وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے

لے جاؤ تم قمیص میری یہ پس ڈال دو اسے اوپر چہرے میرے باپ کے، ہو جائے گا وہ دیکھنے والا اور لے آؤ تم میرے پاس اپنے اہل و عیال کو سب کو (93) اور جب نکلا قافلہ (مصر سے) تو کہا ان کے باپ نے، بے شک میں پاتا ہوں مہک یوسف کی، اگر نہ بہکا ہوا کہو تم مجھے (94) انھوں نے کہا! قسم اللہ کی، بے شک تو البتہ اپنی پرانی غلطی میں ہے (95) پس جب آیا خوشخبری دینے والا تو ڈالی اس نے وہ قمیص اوپر اس کے چہرے کے تو پھر سے ہو گیا وہ دیکھنے والا، یعقوب نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے بے شک میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ جو نہیں جانتے تم (96) انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! مغفرت طلب کر ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بے شک ہم ہی تھے خطا کار (97) اس نے کہا، عنقریب میں مغفرت طلب کرو ں گا تمھارے لیے اپنے رب سے بے شک وہی غفور ہے رحیم ہے (98)

[93] یوسفu نے اپنے بھائیوں سے کہا: ﴿ اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِيۡ هٰؔذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِيۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا﴾ ’’تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا‘‘ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسفu کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کر دیا تھا… جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… حضرت یوسفu چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسفu کو مطلع کیا گیا۔ ﴿ وَاۡتُوۡنِيۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور میرے پاس اپنا سارا گھر لے آؤ‘‘ یعنی اپنے بال بچوں ، قبیلے والوں اور دیگر تمام متعلقہ لوگوں کو میرے پاس لاؤ تاکہ ملاقات کی تکمیل ہو اور تمھاری معاشی بدحالی اور رزق کی تنگی دور ہو۔

[94]﴿ وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ ﴾ ’’اور جب قافلہ جدا ہوا‘‘ یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوبu نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی۔ کہنے لگے: ﴿ اِنِّيۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ﴾ ’’میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں ، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ‘‘ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے کیونکہ یعقوبu نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔

[95] پس وہی کچھ ہوا جو حضرت یعقوبu سمجھتے تھے۔ کہنے لگے: ﴿ قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ﴾ ’’اللہ کی قسم آپ تو اسی پرانی غلطی میں ہیں ‘‘ یعنی آپ تو ہمیشہ محبت کے سمندر میں سرگرداں رہیں گے، آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔

[96]﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ ﴾ ’’پس جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔‘‘ یعنی جب ایلچی حضرت یوسفu، ان کے بھائیوں اور ان کے باپ کے اجتماع کی خوشخبری لے کر آیا ﴿ اَلۡقٰىهُ ﴾ ’’تو ڈال دیا اس کو‘‘ یعنی قمیص کو ﴿ عَلٰى وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًا﴾ ’’ان کے چہرے پر، جس سے وہ دوبارہ دیکھنے والے ہو گئے‘‘ یعنی یعقوبu اپنی پہلی سی بصارت والی حالت میں آگئے حالانکہ غم و اندوہ کی و جہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں ۔ یعقوبu نے ان لوگوں سے… جو وہاں موجود تھے اور جو ان کی رائے کو جھٹلاتے رہے تھے اور ان پر تعجب کررہے تھے… اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہو کر فاتحانہ انداز میں کہا:﴿ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ١ۙۚ اِنِّيۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘‘ کیونکہ میں یوسفu کے ملنے کی امید رکھتا تھا اور حزن و غم کے ختم ہونے کا منتظر تھا۔

[97] جب یعقوبu کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ …

95

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ

وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں

لے جاؤ تم قمیص میری یہ پس ڈال دو اسے اوپر چہرے میرے باپ کے، ہو جائے گا وہ دیکھنے والا اور لے آؤ تم میرے پاس اپنے اہل و عیال کو سب کو (93) اور جب نکلا قافلہ (مصر سے) تو کہا ان کے باپ نے، بے شک میں پاتا ہوں مہک یوسف کی، اگر نہ بہکا ہوا کہو تم مجھے (94) انھوں نے کہا! قسم اللہ کی، بے شک تو البتہ اپنی پرانی غلطی میں ہے (95) پس جب آیا خوشخبری دینے والا تو ڈالی اس نے وہ قمیص اوپر اس کے چہرے کے تو پھر سے ہو گیا وہ دیکھنے والا، یعقوب نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے بے شک میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ جو نہیں جانتے تم (96) انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! مغفرت طلب کر ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بے شک ہم ہی تھے خطا کار (97) اس نے کہا، عنقریب میں مغفرت طلب کرو ں گا تمھارے لیے اپنے رب سے بے شک وہی غفور ہے رحیم ہے (98)

[93] یوسفu نے اپنے بھائیوں سے کہا: ﴿ اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِيۡ هٰؔذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِيۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا﴾ ’’تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا‘‘ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسفu کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کر دیا تھا… جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… حضرت یوسفu چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسفu کو مطلع کیا گیا۔ ﴿ وَاۡتُوۡنِيۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور میرے پاس اپنا سارا گھر لے آؤ‘‘ یعنی اپنے بال بچوں ، قبیلے والوں اور دیگر تمام متعلقہ لوگوں کو میرے پاس لاؤ تاکہ ملاقات کی تکمیل ہو اور تمھاری معاشی بدحالی اور رزق کی تنگی دور ہو۔

[94]﴿ وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ ﴾ ’’اور جب قافلہ جدا ہوا‘‘ یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوبu نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی۔ کہنے لگے: ﴿ اِنِّيۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ﴾ ’’میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں ، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ‘‘ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے کیونکہ یعقوبu نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔

[95] پس وہی کچھ ہوا جو حضرت یعقوبu سمجھتے تھے۔ کہنے لگے: ﴿ قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ﴾ ’’اللہ کی قسم آپ تو اسی پرانی غلطی میں ہیں ‘‘ یعنی آپ تو ہمیشہ محبت کے سمندر میں سرگرداں رہیں گے، آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔

[96]﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ ﴾ ’’پس جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔‘‘ یعنی جب ایلچی حضرت یوسفu، ان کے بھائیوں اور ان کے باپ کے اجتماع کی خوشخبری لے کر آیا ﴿ اَلۡقٰىهُ ﴾ ’’تو ڈال دیا اس کو‘‘ یعنی قمیص کو ﴿ عَلٰى وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًا﴾ ’’ان کے چہرے پر، جس سے وہ دوبارہ دیکھنے والے ہو گئے‘‘ یعنی یعقوبu اپنی پہلی سی بصارت والی حالت میں آگئے حالانکہ غم و اندوہ کی و جہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں ۔ یعقوبu نے ان لوگوں سے… جو وہاں موجود تھے اور جو ان کی رائے کو جھٹلاتے رہے تھے اور ان پر تعجب کررہے تھے… اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہو کر فاتحانہ انداز میں کہا:﴿ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ١ۙۚ اِنِّيۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘‘ کیونکہ میں یوسفu کے ملنے کی امید رکھتا تھا اور حزن و غم کے ختم ہونے کا منتظر تھا۔

[97] جب یعقوبu کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ …

96

فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًۭا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

لے جاؤ تم قمیص میری یہ پس ڈال دو اسے اوپر چہرے میرے باپ کے، ہو جائے گا وہ دیکھنے والا اور لے آؤ تم میرے پاس اپنے اہل و عیال کو سب کو (93) اور جب نکلا قافلہ (مصر سے) تو کہا ان کے باپ نے، بے شک میں پاتا ہوں مہک یوسف کی، اگر نہ بہکا ہوا کہو تم مجھے (94) انھوں نے کہا! قسم اللہ کی، بے شک تو البتہ اپنی پرانی غلطی میں ہے (95) پس جب آیا خوشخبری دینے والا تو ڈالی اس نے وہ قمیص اوپر اس کے چہرے کے تو پھر سے ہو گیا وہ دیکھنے والا، یعقوب نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے بے شک میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ جو نہیں جانتے تم (96) انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! مغفرت طلب کر ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بے شک ہم ہی تھے خطا کار (97) اس نے کہا، عنقریب میں مغفرت طلب کرو ں گا تمھارے لیے اپنے رب سے بے شک وہی غفور ہے رحیم ہے (98)

[93] یوسفu نے اپنے بھائیوں سے کہا: ﴿ اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِيۡ هٰؔذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِيۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا﴾ ’’تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا‘‘ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسفu کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کر دیا تھا… جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… حضرت یوسفu چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسفu کو مطلع کیا گیا۔ ﴿ وَاۡتُوۡنِيۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور میرے پاس اپنا سارا گھر لے آؤ‘‘ یعنی اپنے بال بچوں ، قبیلے والوں اور دیگر تمام متعلقہ لوگوں کو میرے پاس لاؤ تاکہ ملاقات کی تکمیل ہو اور تمھاری معاشی بدحالی اور رزق کی تنگی دور ہو۔

[94]﴿ وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ ﴾ ’’اور جب قافلہ جدا ہوا‘‘ یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوبu نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی۔ کہنے لگے: ﴿ اِنِّيۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ﴾ ’’میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں ، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ‘‘ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے کیونکہ یعقوبu نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔

[95] پس وہی کچھ ہوا جو حضرت یعقوبu سمجھتے تھے۔ کہنے لگے: ﴿ قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ﴾ ’’اللہ کی قسم آپ تو اسی پرانی غلطی میں ہیں ‘‘ یعنی آپ تو ہمیشہ محبت کے سمندر میں سرگرداں رہیں گے، آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔

[96]﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ ﴾ ’’پس جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔‘‘ یعنی جب ایلچی حضرت یوسفu، ان کے بھائیوں اور ان کے باپ کے اجتماع کی خوشخبری لے کر آیا ﴿ اَلۡقٰىهُ ﴾ ’’تو ڈال دیا اس کو‘‘ یعنی قمیص کو ﴿ عَلٰى وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًا﴾ ’’ان کے چہرے پر، جس سے وہ دوبارہ دیکھنے والے ہو گئے‘‘ یعنی یعقوبu اپنی پہلی سی بصارت والی حالت میں آگئے حالانکہ غم و اندوہ کی و جہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں ۔ یعقوبu نے ان لوگوں سے… جو وہاں موجود تھے اور جو ان کی رائے کو جھٹلاتے رہے تھے اور ان پر تعجب کررہے تھے… اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہو کر فاتحانہ انداز میں کہا:﴿ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ١ۙۚ اِنِّيۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘‘ کیونکہ میں یوسفu کے ملنے کی امید رکھتا تھا اور حزن و غم کے ختم ہونے کا منتظر تھا۔

[97] جب یعقوبu کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ …

97

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ

بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے

لے جاؤ تم قمیص میری یہ پس ڈال دو اسے اوپر چہرے میرے باپ کے، ہو جائے گا وہ دیکھنے والا اور لے آؤ تم میرے پاس اپنے اہل و عیال کو سب کو (93) اور جب نکلا قافلہ (مصر سے) تو کہا ان کے باپ نے، بے شک میں پاتا ہوں مہک یوسف کی، اگر نہ بہکا ہوا کہو تم مجھے (94) انھوں نے کہا! قسم اللہ کی، بے شک تو البتہ اپنی پرانی غلطی میں ہے (95) پس جب آیا خوشخبری دینے والا تو ڈالی اس نے وہ قمیص اوپر اس کے چہرے کے تو پھر سے ہو گیا وہ دیکھنے والا، یعقوب نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے بے شک میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ جو نہیں جانتے تم (96) انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! مغفرت طلب کر ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بے شک ہم ہی تھے خطا کار (97) اس نے کہا، عنقریب میں مغفرت طلب کرو ں گا تمھارے لیے اپنے رب سے بے شک وہی غفور ہے رحیم ہے (98)

[93] یوسفu نے اپنے بھائیوں سے کہا: ﴿ اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِيۡ هٰؔذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِيۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا﴾ ’’تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا‘‘ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسفu کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کر دیا تھا… جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… حضرت یوسفu چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسفu کو مطلع کیا گیا۔ ﴿ وَاۡتُوۡنِيۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور میرے پاس اپنا سارا گھر لے آؤ‘‘ یعنی اپنے بال بچوں ، قبیلے والوں اور دیگر تمام متعلقہ لوگوں کو میرے پاس لاؤ تاکہ ملاقات کی تکمیل ہو اور تمھاری معاشی بدحالی اور رزق کی تنگی دور ہو۔

[94]﴿ وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ ﴾ ’’اور جب قافلہ جدا ہوا‘‘ یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوبu نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی۔ کہنے لگے: ﴿ اِنِّيۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ﴾ ’’میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں ، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ‘‘ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے کیونکہ یعقوبu نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔

[95] پس وہی کچھ ہوا جو حضرت یعقوبu سمجھتے تھے۔ کہنے لگے: ﴿ قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ﴾ ’’اللہ کی قسم آپ تو اسی پرانی غلطی میں ہیں ‘‘ یعنی آپ تو ہمیشہ محبت کے سمندر میں سرگرداں رہیں گے، آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔

[96]﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ ﴾ ’’پس جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔‘‘ یعنی جب ایلچی حضرت یوسفu، ان کے بھائیوں اور ان کے باپ کے اجتماع کی خوشخبری لے کر آیا ﴿ اَلۡقٰىهُ ﴾ ’’تو ڈال دیا اس کو‘‘ یعنی قمیص کو ﴿ عَلٰى وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًا﴾ ’’ان کے چہرے پر، جس سے وہ دوبارہ دیکھنے والے ہو گئے‘‘ یعنی یعقوبu اپنی پہلی سی بصارت والی حالت میں آگئے حالانکہ غم و اندوہ کی و جہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں ۔ یعقوبu نے ان لوگوں سے… جو وہاں موجود تھے اور جو ان کی رائے کو جھٹلاتے رہے تھے اور ان پر تعجب کررہے تھے… اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہو کر فاتحانہ انداز میں کہا:﴿ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ١ۙۚ اِنِّيۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘‘ کیونکہ میں یوسفu کے ملنے کی امید رکھتا تھا اور حزن و غم کے ختم ہونے کا منتظر تھا۔

[97] جب یعقوبu کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ …

98

قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

لے جاؤ تم قمیص میری یہ پس ڈال دو اسے اوپر چہرے میرے باپ کے، ہو جائے گا وہ دیکھنے والا اور لے آؤ تم میرے پاس اپنے اہل و عیال کو سب کو (93) اور جب نکلا قافلہ (مصر سے) تو کہا ان کے باپ نے، بے شک میں پاتا ہوں مہک یوسف کی، اگر نہ بہکا ہوا کہو تم مجھے (94) انھوں نے کہا! قسم اللہ کی، بے شک تو البتہ اپنی پرانی غلطی میں ہے (95) پس جب آیا خوشخبری دینے والا تو ڈالی اس نے وہ قمیص اوپر اس کے چہرے کے تو پھر سے ہو گیا وہ دیکھنے والا، یعقوب نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے بے شک میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ جو نہیں جانتے تم (96) انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! مغفرت طلب کر ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بے شک ہم ہی تھے خطا کار (97) اس نے کہا، عنقریب میں مغفرت طلب کرو ں گا تمھارے لیے اپنے رب سے بے شک وہی غفور ہے رحیم ہے (98)

[93] یوسفu نے اپنے بھائیوں سے کہا: ﴿ اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِيۡ هٰؔذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِيۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا﴾ ’’تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا‘‘ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسفu کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کر دیا تھا… جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… حضرت یوسفu چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسفu کو مطلع کیا گیا۔ ﴿ وَاۡتُوۡنِيۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور میرے پاس اپنا سارا گھر لے آؤ‘‘ یعنی اپنے بال بچوں ، قبیلے والوں اور دیگر تمام متعلقہ لوگوں کو میرے پاس لاؤ تاکہ ملاقات کی تکمیل ہو اور تمھاری معاشی بدحالی اور رزق کی تنگی دور ہو۔

[94]﴿ وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ ﴾ ’’اور جب قافلہ جدا ہوا‘‘ یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوبu نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی۔ کہنے لگے: ﴿ اِنِّيۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ﴾ ’’میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں ، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ‘‘ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے کیونکہ یعقوبu نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔

[95] پس وہی کچھ ہوا جو حضرت یعقوبu سمجھتے تھے۔ کہنے لگے: ﴿ قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ﴾ ’’اللہ کی قسم آپ تو اسی پرانی غلطی میں ہیں ‘‘ یعنی آپ تو ہمیشہ محبت کے سمندر میں سرگرداں رہیں گے، آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔

[96]﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ ﴾ ’’پس جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔‘‘ یعنی جب ایلچی حضرت یوسفu، ان کے بھائیوں اور ان کے باپ کے اجتماع کی خوشخبری لے کر آیا ﴿ اَلۡقٰىهُ ﴾ ’’تو ڈال دیا اس کو‘‘ یعنی قمیص کو ﴿ عَلٰى وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًا﴾ ’’ان کے چہرے پر، جس سے وہ دوبارہ دیکھنے والے ہو گئے‘‘ یعنی یعقوبu اپنی پہلی سی بصارت والی حالت میں آگئے حالانکہ غم و اندوہ کی و جہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں ۔ یعقوبu نے ان لوگوں سے… جو وہاں موجود تھے اور جو ان کی رائے کو جھٹلاتے رہے تھے اور ان پر تعجب کررہے تھے… اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہو کر فاتحانہ انداز میں کہا:﴿ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ١ۙۚ اِنِّيۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘‘ کیونکہ میں یوسفu کے ملنے کی امید رکھتا تھا اور حزن و غم کے ختم ہونے کا منتظر تھا۔

[97] جب یعقوبu کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ …

99

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ

جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا

پس جب داخل ہوئے وہ اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے ماں باپ کو اور کہا، داخل ہو تم مصر میں اگر چاہا اللہ نے امن سے (99) اور اس نے اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو اوپر تخت کےاورگر پڑے وہ سب واسطے اس کے سجدہ کرتے ہوئےاور یوسف نے کہا، اے میرے باپ! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے (دیکھا) تھا، تحقیق کر دیا ہے اسے میرے رب نے سچااور تحقیق احسان کیا اس نے میرے ساتھ جب اس نے نکالا مجھے قید خانے سے اور لے آیا تمھیں (یہاں ) صحرا سے، بعد اس کے کہ اختلاف ڈال دیا تھا شیطان نے درمیان میرے اور درمیان بھائیوں کے، بے شک میرا رب خوب تدبیر کرنے والا ہے واسطے اس کے جو وہ چاہتا ہے، بے شک وہی ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(100)

[99]﴿فَلَمَّا ﴾ جب یعقوبu، ان کے بیٹے اور تمام گھر والے تیار ہو کر اپنے ملک فلسطین سے روانہ ہوئے، ان کا مقصد مصر میں حضرت یوسفu کے پاس پہنچ کر وہاں آباد ہونا تھا۔ پس جب وہ مصر پہنچ گئے ﴿دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَبَوَيۡهِ ﴾ ’’وہ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یعنی حضرت یوسفu نے اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ بٹھایا ان کو اپنا قرب عطا کیا اور ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک اور نہایت تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ ﴿وَقَالَ ﴾ اور اپنے تمام گھر والوں سے کہا: ﴿ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو مصر میں ، اگر اللہ نے چاہا، بے خوف ہو کر‘‘ ہر قسم کے خطرناک حالات اور سختیوں سے محفوظ ہو۔ وہ اسی حالت میں مصر میں داخل ہوئے ان سے تمام سختی اور معاشی تنگی دور ہوگئی اور بہجت و سرور حاصل ہوگیا۔

[100]﴿وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر‘‘ یعنی انھیں شاہی تخت اور مقام عزت پر بٹھایا ﴿ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًا﴾ ’’اور سب اس کے آگے سجدے میں گرپڑے۔‘‘ یعنی یوسفu کے والدین اور ان کے بھائی ان کی تعظیم اور عزت و اکرام کے لیے ان کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ ﴿وَقَالَ﴾ جب یوسفu نے انھیں اس حالت میں دیکھا کہ وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں تو کہنے لگے: ﴿ يٰۤاَ بَتِ هٰؔذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَايَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ابا جان! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے دیکھا تھا‘‘ یعنی جب یوسفu نے خواب میں دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انھیں سجدہ کر رہے ہیں ۔ یہ تھی اس خواب کی تعبیر، جو اس مقام پر پہنچ کر پوری ہوئی۔ ﴿ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّيۡ حَقًّا ﴾ ’’میرے رب نے اسے سچ کردیا۔‘‘ یعنی میرے رب نے اس خواب کو حقیقت بنا دکھایا اور اسے خواب پریشان نہ بنایا۔ ﴿ وَقَدۡ اَحۡسَنَ بِيۡۤ ﴾ ’’اور اس نے مجھ پر بڑا احسان کیا‘‘ ﴿ اِذۡ اَخۡرَجَنِيۡ مِنَ السِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ ﴾ ’’جب اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور تم کو گاؤں سے (یہاں )لے آیا‘‘ یہ یوسفu کی مہربانی اور حسن تخاطب ہے کہ انھوں نے اپنے بھائیوں کے لیے اتمام عفو کی خاطر اپنی حالت قید کا تو ذکر کیا مگر اندھے کنوئیں میں ان پر جو کچھ گزری، اس کا ذکر نہیں کیا اور نہ انھوں نے اپنے بھائیوں کے قصور کا ذکر کیا نیز ان کو صحرا سے مصر لانے میں اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر کیا۔یوسفu نے یہ پیرایہ بھی اختیار نہیں کیا کہ ’’تمھیں بھوک اور بدحالی سے نکال کر یہاں لایا‘‘ نہ یہ کہا ’’اس نے تم پر احسان کیا‘‘ بلکہ کہا ’’اس نے مجھ پر احسان فرمایا‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو اپنی طرف لوٹایا۔ نہایت بابرکت ہے وہ ذات جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنی رحمت کے لیے مختص کر لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی طرف سے بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے وہ بہت زیادہ نوازشات کرنے والا ہے۔﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّيۡطٰنُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَ اِخۡوَتِيۡ﴾ ’’بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا‘‘ اور …

100

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّوا۟ لَهُۥ سُجَّدًۭا ۖ وَقَالَ يَٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّۭا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌۭ لِّمَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

پس جب داخل ہوئے وہ اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے ماں باپ کو اور کہا، داخل ہو تم مصر میں اگر چاہا اللہ نے امن سے (99) اور اس نے اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو اوپر تخت کےاورگر پڑے وہ سب واسطے اس کے سجدہ کرتے ہوئےاور یوسف نے کہا، اے میرے باپ! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے (دیکھا) تھا، تحقیق کر دیا ہے اسے میرے رب نے سچااور تحقیق احسان کیا اس نے میرے ساتھ جب اس نے نکالا مجھے قید خانے سے اور لے آیا تمھیں (یہاں ) صحرا سے، بعد اس کے کہ اختلاف ڈال دیا تھا شیطان نے درمیان میرے اور درمیان بھائیوں کے، بے شک میرا رب خوب تدبیر کرنے والا ہے واسطے اس کے جو وہ چاہتا ہے، بے شک وہی ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(100)

[99]﴿فَلَمَّا ﴾ جب یعقوبu، ان کے بیٹے اور تمام گھر والے تیار ہو کر اپنے ملک فلسطین سے روانہ ہوئے، ان کا مقصد مصر میں حضرت یوسفu کے پاس پہنچ کر وہاں آباد ہونا تھا۔ پس جب وہ مصر پہنچ گئے ﴿دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَبَوَيۡهِ ﴾ ’’وہ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یعنی حضرت یوسفu نے اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ بٹھایا ان کو اپنا قرب عطا کیا اور ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک اور نہایت تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ ﴿وَقَالَ ﴾ اور اپنے تمام گھر والوں سے کہا: ﴿ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو مصر میں ، اگر اللہ نے چاہا، بے خوف ہو کر‘‘ ہر قسم کے خطرناک حالات اور سختیوں سے محفوظ ہو۔ وہ اسی حالت میں مصر میں داخل ہوئے ان سے تمام سختی اور معاشی تنگی دور ہوگئی اور بہجت و سرور حاصل ہوگیا۔

[100]﴿وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر‘‘ یعنی انھیں شاہی تخت اور مقام عزت پر بٹھایا ﴿ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًا﴾ ’’اور سب اس کے آگے سجدے میں گرپڑے۔‘‘ یعنی یوسفu کے والدین اور ان کے بھائی ان کی تعظیم اور عزت و اکرام کے لیے ان کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ ﴿وَقَالَ﴾ جب یوسفu نے انھیں اس حالت میں دیکھا کہ وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں تو کہنے لگے: ﴿ يٰۤاَ بَتِ هٰؔذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَايَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ابا جان! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے دیکھا تھا‘‘ یعنی جب یوسفu نے خواب میں دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انھیں سجدہ کر رہے ہیں ۔ یہ تھی اس خواب کی تعبیر، جو اس مقام پر پہنچ کر پوری ہوئی۔ ﴿ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّيۡ حَقًّا ﴾ ’’میرے رب نے اسے سچ کردیا۔‘‘ یعنی میرے رب نے اس خواب کو حقیقت بنا دکھایا اور اسے خواب پریشان نہ بنایا۔ ﴿ وَقَدۡ اَحۡسَنَ بِيۡۤ ﴾ ’’اور اس نے مجھ پر بڑا احسان کیا‘‘ ﴿ اِذۡ اَخۡرَجَنِيۡ مِنَ السِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ ﴾ ’’جب اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور تم کو گاؤں سے (یہاں )لے آیا‘‘ یہ یوسفu کی مہربانی اور حسن تخاطب ہے کہ انھوں نے اپنے بھائیوں کے لیے اتمام عفو کی خاطر اپنی حالت قید کا تو ذکر کیا مگر اندھے کنوئیں میں ان پر جو کچھ گزری، اس کا ذکر نہیں کیا اور نہ انھوں نے اپنے بھائیوں کے قصور کا ذکر کیا نیز ان کو صحرا سے مصر لانے میں اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر کیا۔یوسفu نے یہ پیرایہ بھی اختیار نہیں کیا کہ ’’تمھیں بھوک اور بدحالی سے نکال کر یہاں لایا‘‘ نہ یہ کہا ’’اس نے تم پر احسان کیا‘‘ بلکہ کہا ’’اس نے مجھ پر احسان فرمایا‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو اپنی طرف لوٹایا۔ نہایت بابرکت ہے وہ ذات جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنی رحمت کے لیے مختص کر لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی طرف سے بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے وہ بہت زیادہ نوازشات کرنے والا ہے۔﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّيۡطٰنُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَ اِخۡوَتِيۡ﴾ ’’بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا‘‘ اور …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.