الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ
الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
No commentary on this ayah in this edition.
سُورَةُ يُوسُفَ
Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani
Ayahs 1–10 of 111
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ
الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
No commentary on this ayah in this edition.
إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّۭا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو
No commentary on this ayah in this edition.
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَٰفِلِينَ
(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے
No commentary on this ayah in this edition.
إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَٰجِدِينَ
جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں
No commentary on this ayah in this edition.
قَالَ يَٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ
انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
1: حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ یوسف (علیہ السلام) نے جو خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اتنا اونچا مقام ملنے والا ہے کہ ان کے گیارہ بھائی اور ماں باپ کسی وقت ان کے مطیع اور فرماں بردار ہوجائیں گے، دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے کل بارہ بیٹے تھے، ان میں سے دوبیٹے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین ایک والدہ سے تھے اور باقی صاحب زادے ان کی دوسری اہلیہ سے تھے، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اندیشہ ہوا کہ دوسرے سوتیلے بھائیوں کو اس خواب کی وجہ سے حسد نہ ہو، اور شیطان کے بہکائے میں آکر یوسف (علیہ السلام) کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر بیٹھیں۔
وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ
اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
2: یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس خواب کے ذریعے یہ بشارت دی ہے کہ سب تمہارے فرماں بردار بنیں گے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں نبوت سے سرفراز کرکے تمہیں بہت سے مزید نعمتوں سے نوازے گا۔
۞ لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَٰتٌۭ لِّلسَّآئِلِينَ
ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں
3: یہ بظاہر ان کافروں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال پوچھا تھا کہ بنو اسرائیل کس وجہ سے فلسطین چھوڑ کر مصر میں آباد ہوئے تھے؟ یعنی اگرچہ ان کے پوچھنے کا اصل مقصد تو اپنے خیال کے مطابق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بے بس کرنا ہے، لیکن اگر ان میں ذرا بھی عقل ہو تو اس واقعے میں ان کے لیے بہت سی عبرتیں ہیں۔ اول تو یہ سبق ہی کیا کم ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک پر اس واقعے کا جاری ہونا آپ کی نبوت کی کھلی دلیل ہے۔ دوسرے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خلاف جتنی ساشیں کی گئیں، چاہے وہ ان کے بھائیوں نے کی ہوں، یا زلیخا اور اس کی سہیلیوں نے، آخر کار ان ساری سازشوں کا پول کھل گیا، اور عزت اور فتح تمام تر حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی کے حصے میں آئی۔
إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ
جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں
4: مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ عمر اور طاقت میں بھی زیادہ ہیں اور تعداد میں بھی، چنانچہ ہم اپنے باپ کی قوت بازو ہیں۔ جب کبھی انہیں کسی مدد کی ضرورت پڑے، ہم ہی ان کی مدد کرنے کے لائق ہیں۔ اس لیے ہم سے محبت زیادہ ہونی چاہیے۔
ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًۭا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًۭا صَٰلِحِينَ
تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے
5: یہ ترجمہ اس آیت کی ایک تفسیر کے مطابق ہے گویا اُن کا خیال یہ تھا کہ یہ زیادہ سے زیادہ ایک گناہ ہوگا، اور ہر گناہ کی معافی توبہ سے ہو سکتی ہے، چنانچہ توبہ مانگ کر پھر ساری عمر نیکی کرتے رہنا۔ حالانکہ کسی بندے پر اگر ظلم کیا جائے تو اُس کی معافی صرف توبہ سے نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ مظلوم معاف نہ کرے۔ اس جملے کی ایک اور تفسیر بھی ممکن ہے، اور وہ یہ کہ ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم بعد میں نیک بن جائیں گے، بلکہ ان الفاظ کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’یہ سب کرنے کے بعد تمہارے سارے کام درست ہوجائیں گے‘‘ یعنی والد کی طرف سے کسی امتیازی سلوک کا اندیشہ نہیں رہے گا۔ قرآنِ کریم کے الفاظ میں اس معنیٰ کی بھی گنجائش موجود ہے۔
قَالَ قَآئِلٌۭ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)
Explained together with ayah 9
Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.