Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 81–90 of 123

81

قَالُوا۟ يَٰلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوٓا۟ إِلَيْكَ ۖ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍۢ مِّنَ ٱلَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ ۖ إِنَّهُۥ مُصِيبُهَا مَآ أَصَابَهُمْ ۚ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ ٱلصُّبْحُ ۚ أَلَيْسَ ٱلصُّبْحُ بِقَرِيبٍۢ

فرشتوں نے کہا کہ لوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے؟

چناچہ انہوں نے اپنے مشن کی بابت بتادیا اور حکم دیا کہ وہ اپنے پاکیزہ خاندان کے ساتھ نکل جائیں۔ ہاں تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں ہے۔ یہ فاسقین کی جماعت میں شامل ہے۔

اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍِ (81 : 11) “ کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے۔ ” یہ فقرہ اس لیے آیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی روح خوش ہوجائے کیونکہ انہوں نے گزشتہ محفل بڑی اذیت کے ساتھ گزاری تھی۔

مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کا انجام بہت ہی قریب ہے۔ صبح ہوتے ہی یہ لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ اب وہ خواہش اللہ پوری فرمائیں گے جو خواہش حضرت لوط اپنی کم قوت کی بناء پر پوری نہ کرسکتے تھے۔

82

فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةًۭ مِّن سِجِّيلٍۢ مَّنضُودٍۢ

تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (اُلٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہہ بہ تہہ (یعنی پےدرپے) کنکریاں برسائیں

یعنی جب ان پر عذاب نافذ کرنے کا وقت آیا تو ہم نے ان کی بستی کو اوپر نیچے کردیا۔ یعنی یہ سزا ان کے لیے اس لیے تجویز ہوئی کہ انہوں نے بھی اپنے آپ کو مقام انسانیت سے گرا کر مقام حیوانیت تک لے آئے تھے۔ بلکہ وہ حیوانات سے بھی نیچے گر گئے تھے کیونکہ حیوانات بہرحال حیوانی فطرت کے اصولوں کے تابع ہوتے ہیں اور اپنی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ لیکن انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فطرت کی حدود کو بھی پار کرلیتا ہے۔

أَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ (83 : 11) اور ہم نے ان پر مٹی آلود پتھر برسائے۔ ” یعنی ایسے پتھر جن کے ساتھ مٹی لگی ہوئی تھی۔ اس مقام پر ان کے لیے خاک آلود پتھر ان کے حال اور مقام سے زیادہ مناسب تھے۔ منضود کے معنی ہیں اوپر تلے آنے والے پتھر اور یہ پتھر

مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ (83 : 11) “ تمہارے رب کے ہاں نشان زدہ تھے۔ ” جس طرح مویشیوں پر نشان لگا کر چھوڑ دیا جاتا ہے تا کہ پڑھے جاسکیں۔ گویا ان پتھروں کو اللہ نے اس طرح چھوڑا کہ وہ خود کار عمل سے پڑتے تھے اور ضرورت کے وقت اپنا کام کرتے تھے۔ یہ ایک عجیب تصویر کشی ہے۔ ذہن پر اس کے بےپناہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس تصویر کشی سے ذہن پر جو اثر مرتب ہوتا ہے وہ لمبی لمبی تشریحات سے نہیں پڑتا۔

وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ (11 : 83) “ ظالموں سے یہ سزا کوئی دور نہیں ہے۔ ” یہ سزا قریب ہے ، تیار ہے اور اللہ کسی بھی وقت نازل کرسکتا ہے۔

یہاں آل لوط (علیہ السلام) کی اس سزا کو جن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ، اس کی تصویربعض آتش فشاں پہاڑوں کے بالکل مشابہ ہے۔ کیونکہ آتش فشانی کے عمل میں پتھر اور غبار آلود پتھر برستے ہیں اور ظالم اقوام کو اللہ ان کے ظلم کی سزا دیتے ہیں۔

ہم اس مشابہت کا ذکر کر کے یہ کہنا نہیں چاہتے کہ یہ سزا کوئی آتش فشانی تھی اور کسی مخصوص وقت میں عمل واقع ہوگیا۔ نہ ہم اس کی نفی کرتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں ان لوگوں کے لیے آتش فشانی کی سزا مقرر کی ہو۔ یہ بھی سزا کا ایک طریقہ ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس قوم کو اللہ نے ایک عام اور معمولی آتش فشانی کے ذریعے سے سزا دی ہو۔ اور روز ازل سے ان کے لیے یہ عمل تجویز ہوا ہو۔ اور یہ بھی اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے اس مجرم قوم کے لیے اپنے تصرفات قدرت میں سے ایک عمل کو مخصوص کر یدا ہو۔ اور یہ بھی درست ہو سکتا ہے کہ یہ آتش فشانی عام طبیعی عمل کا حصہ نہ ہو اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے خارق عادت طریقے سے کوئی سنگ باری کی ہو اور اس کا تعلق طبیعی آتش فشانی سے بالکل نہ ہو۔ یہ عمل اسی طرح خارق عادت ہو جس طرح حضرت ابراہیم کے ہاں بچے کی ولادت کا عمل معتاد طریقے کے بالکل برعکس ہوگیا تھا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ جس طرح چاہے ، کرسکتا ہے۔ اس کی مشیت بےقید ہے اور انسان کے لیے اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔

83

مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِىَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ بِبَعِيدٍۢ

جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں

یعنی جب ان پر عذاب نافذ کرنے کا وقت آیا تو ہم نے ان کی بستی کو اوپر نیچے کردیا۔ یعنی یہ سزا ان کے لیے اس لیے تجویز ہوئی کہ انہوں نے بھی اپنے آپ کو مقام انسانیت سے گرا کر مقام حیوانیت تک لے آئے تھے۔ بلکہ وہ حیوانات سے بھی نیچے گر گئے تھے کیونکہ حیوانات بہرحال حیوانی فطرت کے اصولوں کے تابع ہوتے ہیں اور اپنی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ لیکن انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فطرت کی حدود کو بھی پار کرلیتا ہے۔

أَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ (83 : 11) اور ہم نے ان پر مٹی آلود پتھر برسائے۔ ” یعنی ایسے پتھر جن کے ساتھ مٹی لگی ہوئی تھی۔ اس مقام پر ان کے لیے خاک آلود پتھر ان کے حال اور مقام سے زیادہ مناسب تھے۔ منضود کے معنی ہیں اوپر تلے آنے والے پتھر اور یہ پتھر

مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ (83 : 11) “ تمہارے رب کے ہاں نشان زدہ تھے۔ ” جس طرح مویشیوں پر نشان لگا کر چھوڑ دیا جاتا ہے تا کہ پڑھے جاسکیں۔ گویا ان پتھروں کو اللہ نے اس طرح چھوڑا کہ وہ خود کار عمل سے پڑتے تھے اور ضرورت کے وقت اپنا کام کرتے تھے۔ یہ ایک عجیب تصویر کشی ہے۔ ذہن پر اس کے بےپناہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس تصویر کشی سے ذہن پر جو اثر مرتب ہوتا ہے وہ لمبی لمبی تشریحات سے نہیں پڑتا۔

وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ (11 : 83) “ ظالموں سے یہ سزا کوئی دور نہیں ہے۔ ” یہ سزا قریب ہے ، تیار ہے اور اللہ کسی بھی وقت نازل کرسکتا ہے۔

یہاں آل لوط (علیہ السلام) کی اس سزا کو جن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ، اس کی تصویربعض آتش فشاں پہاڑوں کے بالکل مشابہ ہے۔ کیونکہ آتش فشانی کے عمل میں پتھر اور غبار آلود پتھر برستے ہیں اور ظالم اقوام کو اللہ ان کے ظلم کی سزا دیتے ہیں۔

ہم اس مشابہت کا ذکر کر کے یہ کہنا نہیں چاہتے کہ یہ سزا کوئی آتش فشانی تھی اور کسی مخصوص وقت میں عمل واقع ہوگیا۔ نہ ہم اس کی نفی کرتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں ان لوگوں کے لیے آتش فشانی کی سزا مقرر کی ہو۔ یہ بھی سزا کا ایک طریقہ ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس قوم کو اللہ نے ایک عام اور معمولی آتش فشانی کے ذریعے سے سزا دی ہو۔ اور روز ازل سے ان کے لیے یہ عمل تجویز ہوا ہو۔ اور یہ بھی اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے اس مجرم قوم کے لیے اپنے تصرفات قدرت میں سے ایک عمل کو مخصوص کر یدا ہو۔ اور یہ بھی درست ہو سکتا ہے کہ یہ آتش فشانی عام طبیعی عمل کا حصہ نہ ہو اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے خارق عادت طریقے سے کوئی سنگ باری کی ہو اور اس کا تعلق طبیعی آتش فشانی سے بالکل نہ ہو۔ یہ عمل اسی طرح خارق عادت ہو جس طرح حضرت ابراہیم کے ہاں بچے کی ولادت کا عمل معتاد طریقے کے بالکل برعکس ہوگیا تھا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ جس طرح چاہے ، کرسکتا ہے۔ اس کی مشیت بےقید ہے اور انسان کے لیے اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔

84

۞ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ وَلَا تَنقُصُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ ۚ إِنِّىٓ أَرَىٰكُم بِخَيْرٍۢ وَإِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍۢ مُّحِيطٍۢ

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا

درس نمبر 103 ایک نظر میں

اسلامی نظریہ حیات انسانی تاریخ میں واحد ، دائمی اور مسلسل نظریہ ہے ، اب ہم حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دور میں پہنچ گئے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم اہل مدین میں اس کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ لیکن ان کی دعوت میں اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کا ایک دوسرا اہم مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ سوسائٹی میں امانت عدل اور حسن معاملہ کے اصول نافذ کرو ، ان معاملات کا تعلق بھی اسلامی عقائد سے ہے۔ کیونکہ اللہ وحدہ کے دین میں داخل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ کی شریعت کا اتباع کیا جائے۔ لیکن اہل مدین کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی یہ دعوت سن کر بڑا تعجب ہوا اور یہ بات ان کو انوکھی لگی۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ دین کے ساتھ ناپ تول جیسے دنیاوی معاملات کا تعلق کیا ہے ؟ نماز اور ترازو کے درمیان کیا نسبت ؟ عبادت اور مالی معاملات بالکل الگ الگ نوعیت کے حامل ہیں۔

یہ قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کے قصے اور حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کے قصے کے بعد آتا ہے۔ لیکن اس قصے کا انجام اور اس کا اسلوب بیان اور عذاب کی نوعیت قصہ صالح کے ساتھ زیادہ مماثلت رکھتی ہے۔ ان کا عذاب بھی ایک جیسا ہے اور اس عذاب کا اسلوب تعبیر بھی یکساں ہے۔

درس نمبر 103 تشریح آیات

84۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 95

صرف اللہ کی بندگی کرنا دین اسلام کی خشت اول ہے۔ اور اسلامی نظام زندگی کی اساس ہے۔ اسلامی شریعت کا بھی یہ قاعدہ اول ہے۔ اسلامی سوسائٹی کا نظام عمل سب کا سب اسی قاعدے پر مبنی ہے۔ یہ وہ عقیدہ ہے جس کے بعیر کوئی عقیدہ ، کوئی پرستش ، کو سی طرز عمل مکمل اور اسلامی نہیں کہلا سکتی۔

ان آیات میں جو اہم معاملہ اٹھایا گیا ہے وہ عدل و انصاف اور امانت و دیانت کا اور معاشی ضابطہ بندی کا مسئلہ ہے۔ اس سے قبل کی آیات میں اسلام کی نظریاتی اساس کا تعین تھا۔ لیکن یہاں جو مالی ہدایات دی گئی ہیں وہ اس نظریہ حیات کا فطری نتیجہ ہیں۔ اہل مدین کا علاقہ حجاز سے شام تک جانے والے تجارتی راستے پر تھا۔ اور ان میں یہ کمزوری پائی جاتی تھی کہ وہ ناپ تول میں لوگوں کا حق مارتے تھے۔ لوگوں کی چیزوں کی قیمت کم دیتے۔ یہ وہ کمزوری ہے جو انسان کے قلب و عمل ، دونوں کو گندہ کردیتی ہے اور انسان سے مروت اور عزت نفس کے بلند اوصاف جاتے رہتے ہیں۔ اس رزالت کے علاوہ یہ لوگ شمالی عرب میں شام کی طرف آنے جانے والے قافلوں کو بھی لوٹ لیتے تھے اور آنے جانے والوں پر ناجائزراہداری عائد کرکے ظلم کرتے تھے۔ اس صورت میں ان کے اس عیب کی تفصیلات دی گئی ہیں۔

اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی نظام حیات میں نظریات ، عقائد کا تعق براہ راست امانت ، دیانت ، عدذل و انصاف اور لین دین میں اصول انصاف کے قیام اور سوسائٹی سے چوری ، ڈکیتی اور تمام دور سے معاشری جرائم کے ، خاتمے سے ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ کسی معاشرے میں عدل و انصاف تب قائم ہو سکتا ہے جب اس کے افراد کے اندر خدا خوفی اور آخرت کی جواب دہی کا احساس ہو۔ صرف ایسے عقائد اور ایسے اخلاق کے ذریعے سوسائٹی میں عدل و انصاف اور منصفانہ معاشی نظام اور معاشی روابط قائم ہو سکتے ہیں اور ایک ٹھوس انسانی معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

کسی بھی صحت مند معاشرے میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ باہم معاملات کا نظام اور معاشرہ کا اخلاقی نظام ایک مستحکم نظریاتی اساس پر مبنی ہوں اور معاملات اور اخلاق ایسے اصولوں اور تصورات پر مبنی نہ ہوں جو آئے دن بدلنے والے ہوں۔ اسلامی نظریہ حیات میں یہی خوبی ہے۔ اسلامی نظام تمام دوسرے نظاموں اور اسلامی سوسائٹی تمام دوسری سوسائیٹوں سے اس پہلو میں منفرد ہے کہ اس میں افراد کی پوری زندگی اسلامی عقائد و تصورات پر استوار ہوتی ہے اس میں محض عارضی اور ظاہری مظاہر و مطالب ہی پش نظر نہیں ہوتے۔

جب اسلامی سوسائٹی اپنے اخلاق و معاملات ان اصولوں اور مستحکم …

85

وَيَٰقَوْمِ أَوْفُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

اور قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو

وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ (85 : 11) “ اور اے برادران قوم ، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پوارا ناپو اور تولو ”۔ یہاں یہ کہا کہ ناپ اور تول پورا پورا کرو ، یعنی کم ناپ تول کے مقابلے میں پورا ناپنے اور تولنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ پورے سے بھی دقرے زیادہ ہو۔ چناچہ اس انداز تعبیر یعنی

أَوْفُوا الْمِكْيَالَ (85 : 11) کے اندر وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ (84 : 11) کے مقابلے میں زیادہ خوبصورتی ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ زیادتی کی طرف مائل ناپ و تول کی راہ لو۔

وَلا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ (85 : 11) “ اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو۔ ” یہ فقرہ ناپ تول کی اشیاء تک محدود نہیں ہے۔ یہ عام ہے یعنی تمام قیمتی اشیاء خواہ ناپ سے متعلق ہوں ، یا تول سے ، قیمت سے ہوں یا ویلیو سے۔ کیونکہ “ شیئٌ” کے لفظ کا اطلاق بہت عام ہے۔ اس کا اطلاق محسوسات اور غیر محسوسات دونوں پر ہوتا ہے۔

لوگوں کی چیزوں کو گھٹانا ایک پہلو سے تو ظلم ہے لیکن اس کے بعض دوسرے مفاسد بھی ہیں۔ لوگوں کے اندر اس کی وجہ سے نفرت اور دوسرے برے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کو کوفت ہوتی ہے اور معاشرے کے اندر ایک دور سے کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے اور جب عدل و انصاف کے اداروں پر لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے تو معاشرے کے اندر اجتماعی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور لوگوں کے دل ایک دوسرے کے خلاف بھر جاتے ہیں اور اجتماعی زندگی سے اصلاح اور نیکی کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔

وَلا تَعْثَوْا فِي الأرْضِ مُفْسِدِينَ (11 : 85) “ اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ ” عثو کے معنی بگاڑ پیدا کرنے کے ہیں۔ یعنی فساد پھیلانے کے منصوبے نہ بناتے پھرو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے اندر موجود بھلائی کے میلانات کو ابھارتے ہیں کہ اللہ نے ان کو جائز ذرائع سے جو دولت دی ہے وہ اس ناپاک دولت سے بہت ہی بہتر ہے جو ناپ تول میں کمی بیشی کر کے وہ کماتے ہیں اور لوگوں کے حقوق مار کر جمع کرتے ہیں۔

86

بَقِيَّتُ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍۢ

اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں

بَقِيَّةُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (11 : 85) “ اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ ” کیونکہ اللہ کے ہاں جو اجر ہے یا اللہ کی شریعت کے مطابق جائز ذرائع سے آنے والی کمائی زیادہ قیمتی اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔ اس سے قبل اللہ نے بتایا تھا کہ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرو اور اللہ کے دین میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔ اور اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس دین کے مطابق جو منافع وہ کمائیں گے وہ زیادہ نفع بخش کام ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور معاشی سرگرمیوں میں پاکیزہ راہ اختیار کرنا اس ایمان اور نظریہ کا لازمی تقاضا بھی ہے۔

اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو اور ان کے سامنے پیش کی گئی دعوت کو ایک طرف چھوڑتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ بذات خود کسی تصرف کے مالک نہیں ہیں ، کوئی گارنٹی تمہیں نہیں دے سکتے اور وہ عملا شر اور عذاب اور فساد سے تمہیں روک دینے پر قدرت نہیں رکھتے ۔ اور وہ اس بات کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ وہ ہر حال میں تمہیں ہدایت پر لے آئیں اور اگر تم لوگ ضلالت پر اصرار کرتے ہو تو اس بات کی عند اللہ کوئی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔ میرا فرض تو صرف ابلاغ مبین ہے اور تبلیغ دین کا فریضہ ظاہر ہے کہ میں نے ادا کردیا ہے۔

وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ (11 : 86) “ اور بہرحال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں۔ ” یہ انداز کلام ایک سننے والے کو اس بات پر مجبور کردیتا ہے کہ معاملہ بڑا سنگین ہے۔ اس کے نتائج خطرناک ہوں گے اور اگر وہ غور نہ کریں گے تو برے انجام سے خود وہ دو چار ہوں گے اور کوئی وہاں نہ رکاوٹ ڈال سکتے گا اور نہ کوئٍ بچانے والا ہوگا۔

لیکن قوم بگڑی ہوئی تھی اور وہ فساد اور بےراہ روی کے عادی ہوگئے تھے اور وہ لوگوں کا استحصال صدیوں سے کرتے چلے آئے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں :

87

قَالُوا۟ يَٰشُعَيْبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِىٓ أَمْوَٰلِنَا مَا نَشَٰٓؤُا۟ ۖ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلْحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ

انہوں نے کہا شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو

یہ جواب نہایت ہی توہین آمیز اور خود سری پر مبنی ہے۔ ایک جاہل اور بگاڑ میں مبتلا اور مسخ شدہ فطرت پر مبنی جاہل شخص کا جواب ہے اور جواب دینے والا مخاطب کے ساتھ سخت عناد اور دشمنی رکھتا ہے ، ذرا غور کیجئے۔

قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ (87 : 11) “ انہوں نے جواب دیا ، “ اے شعیب (علیہ السلام) کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟ ”

وہ اس بات کو نہیں سمجھتے یا اس بات کو وہ سمجھنا نہیں چاہتے کہ نماز اسلامی نظریہ حیات اور ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اور اللہ کی پرستش اور بندگی کا متعین طریقہ ہے۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ کوئی عقیدہ و نظریہ ، عقیدہ توحید کے بغیر حق نہیں ہو سکتا اور کوئی نظام اس کے سوا درست نہیں ہو سکتا کہ آباؤ اجداد کے تمام غلط طریقوں کی کلی نفی کردی جائے۔ نیز اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک اسلامی شریعت قائم نہ کردی جائے اور اسلامی شریعت بھی زندگی کے تمام شعبوں میں نہ نافذ کردی جائے۔ تجارت اور مالی معاملات میں زندگی کے انفرادی معاملات میں اور زندگی کے اجتمائی معاملات میں۔ کیونکہ عقیدہ و عمل اسلامی نظامی میں ایک ہی مجموعہ ہیں۔ ان میں تفریق نہیں ہو سکتی اور نہ عمل کے بغیر محض خالی خولی نعرے کی اسلام میں کوئی اہمیت ہے۔

اس سے قبل کہ ہم دین و معاملات کے درمیان افتراق کے اس احمقانہ تصور کی تردید میں مزید بحث کریں۔ یہاں اس بات کو نوٹ کرنا ضروری ہے کہ آج کی جاہلیت کے عمل برادار اس سلسلے میں وہی کچھ سوچتے ہیں جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی سوچ تھی۔ اور دور جدید کی جاہلیت نے اس غلط سوچ کے لیے قوم شعیب (علیہ السلام) سے برھ کر آگے کوئی دلائل فراہم نہیں کیے۔ جس طرح اس معاملے میں قوم شعیب مشرک تھی ، جدید جاہلیت کے پیروکار بھی اس شرک میں مبتلا ہیں۔ چاہے وہ یہودی ہوں ، چاہے عیسائی ، چاہے وہ آج کے نام نہاد مسلمان ہوں کیونکہ یہ سب لوگ دور جدید میں امیان و عقیدے اور اعمال وشعائر کے درمیان افتراق کرتے ہیں ، شریعت اور عمل کو جدا کرتے ہیں ، یہ لوگ عقائد و عبادات کو اللہ کے لیے مخصوص کرتے ہیں اور معاملات اور دنیاوی امور اپنے دوسرے مبعودوں اور لیڈروں کے احکام کے مطابق سر انجام دیتے ہیں اور یہی ہے حقیقی اور اصلی شرک۔

ہاں ، اس بات کا اعتراف کرنا بےجا نہ ہوگا کہ جو لوگ یہودی عقائد کے پیروکار ہیں اور ان کے عقائد بار ہا کی تحر یفات کے عمل سے بھی گزرے ہیں ، لیکن اس کے باوجود ان کی اسمبلی میں جب یہ مسئلہ پیش ہوا کہ ان کے بحری جہاز بعض مسافروں کو غیر شرعی حرام کھانا پیش کرتے ہیں تو ان کی اسمبلی نے ایسے جہازوں کو حکم دے دیا کہ جس قدر خسارہ بھی ہو ، ان کو چاہیے کہ ہر مسافر کو اسرائیلی شریعت کے مطابق صرف حلال کھانا پیش کیا جائے۔ اب ذرا ان لوگوں کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جو دعوائے مسلمانی کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ کرتے ہیں۔

آن ہم میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں ، جو مسلمانی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ اخلاقی نیز معاشی اور معاملات کے میدان میں شریعت کی پابندی نہیں کرتے۔

اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹیوں کی ڈگریاں ہیں ، یہ لوگ نہایت ہی تعجب سے پوچھتے ہیں اسلام کو ہمارے ذاتی اور انفرادی معاملات سے کیا تعلق ہے۔ اسلام کو اس بات سے کیا تعلق ہے کہ کوئی ساحلوں پر ننگا پھرتا ہے یا باپردہ۔ اسلام کو اس سے کیا تعلق ہے کہ کوئی عورت گلیوں میں پھرتے ہوئے کیسا لباس زیب تن کرتی ہے۔ پھر اسلام کو اس سے کیا واسطہ کہ کوئی اپنی جنسی قوت کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ پھر اگر کوئی …

88

قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَرَزَقَنِى مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًۭا ۚ وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَآ أَنْهَىٰكُمْ عَنْهُ ۚ إِنْ أُرِيدُ إِلَّا ٱلْإِصْلَٰحَ مَا ٱسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِىٓ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مجھے نیک روزی دی ہو (تو کیا میں ان کے خلاف کروں گا؟) اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں۔ میں تو جہاں تک مجھ سے ہوسکے (تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں اور (اس بارے میں) مجھے توفیق کا ملنا خدا ہی (کے فضل) سے ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں

حضرت اپنی تقریر میں نہایت ہی ہمدردی ، محبت اور برادرانہ جذبات کا خیال رکھتے ہوئے خطاب کرتے ہیں۔

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي (88 : 11) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا۔ ” میرے نفس کے اندر ایک حقیقت موجود ہے اور میں اسے سچ سمجھتا ہوں ، پھر میری طرف وحی آتی ہے اور مجھے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تبلیغ کرو اور ان واضح شہادتوں کے بعد میں تمہارے سامنے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ دعوت پیش کرتا ہوں۔

وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا (88 : 11) “ پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق بھی عطا کیا ہے۔ ” میں خود بھی مالدار ہوں اور اپنی دولت میں تمہاری طرف تصرفات کرتا ہوں۔

وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ (88 : 11) “ اور میں یہ ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں۔ ” یعنی میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں اس بری حرکت سے تمہیں تو روک دوں اور دکان میں جا کر خود یہ کام کروں اور دولت کماؤں ، ہر گز نہیں بلکہ

إِنْ أُرِيدُ إِلا الإصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ “ میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تم بھی میرا بس چلے۔ ”

اصلاح سے مراد عام اصلاح ہے جس میں پورے معاشرے کی بھلائی ہو ، معاشرے کے تمام افراد اور تمام جماعتوں کی بھلائی ہو۔ اگرچہ بعض لوگ اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات اپنانے سے مادی لحاظ سے نقصان پہنچتا ہے اور انسان سے نفع اندوزی کے مواقع جاتے رہتے ہیں ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان نہ صرف حرام اور خبیث اور ناپاک دولت کے سمیٹنے سے بچ نکلتا ہے۔ بلکہ حرام اور ناپاک کمائی کی جگہ رزق حلال اسے ملتا ہے اور اسلامی نظریہ حیات کے نتیجے میں ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں تمام لوگوں کی ضروریات کی ضمانت ہوتی ہے اور جس کے اندر کوئی تعصب نہیں ہوتا اور نہ کوئی جنگ وجدال ہوتا ہے۔

وَمَا تَوْفِيقِي إِلا بِاللَّهِ (88 : 11) “ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ ” وہی ہے جو میرے اصلاحی کام کو کامیابی تک پہنچا سکتا ہے ، کیونکہ اسے خوب علم ہے کہ میری نیت اور میرا ارادہ کیا ہے اور وہی ہے جو اس جدوجہد پر مجھے جزاء دے سکتا ہے۔

عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ (88 : 11) “ اسی پر میں نے بھروسہ کیا۔ ” یعنی میرا اعتماد صرف پر ہے اور اس کے سوا کسی اور پر میں کوئی بھروسہ نہیں کرتا۔

وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (88 : 11) “ اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ ” میرا رخ اسی کی طرف ہے اور تمام امور میں میرا رجوع اسی کی صرف ہے۔ میری نیت ، میرا ارادہ اور میرا عمل اسی کی طرف متوجہ ہے۔ اور تمام جدوجہد اس کے لیے ہے۔

اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو ایک دوسرے میدان میں فہمائش کرتے ہیں۔ ان کو بتاتے ہیں کہ ذرا قوم نوح۔ قوم ہود ، قوم صالح اور قوم لوط کے انجام پر غور کرو۔ تاریخی واقعات کند ذہن افراد پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ جامد اور سنگدل لوگوں پر عقلی دلائل کے مقابلے میں واقعات کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔

89

وَيَٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِىٓ أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَآ أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَٰلِحٍۢ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍۢ مِّنكُم بِبَعِيدٍۢ

اور اے قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں

یعنی میری مخالفت اور دشمنی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کر دے کہ تم مخالف اور تکذیب میں بہت آگے چلے جاؤ

90

وَٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّى رَحِيمٌۭ وَدُودٌۭ

اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار رحم والا (اور) محبت والا ہے

حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو وعظ و نصیحت یاد دہانی اور تخویف اور اچھے انجام کی یقین دہانی اور تمام دوسرے ذرائع سے راہ راست پر لانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر حربہ استعمال کرتے ہیں کہ ان کے دل نرم ہوجائیں۔ ان کے اندر خدا خوفی پیدا ہوجائے۔ لیکن ان لوگوں کے دل انتہائی درجے تک بگاڑ اور فساد میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ان کا تصور حیات ہی غلط تھا ، اس لیے ان کی روش بھی غلط تھی۔ چناچہ وہ ان کی پرسوز گفتگو کے نتیجے میں سرکشی کی راہ میں مزید آگے بڑھ جاتے ہیں۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.