Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 71–80 of 123

71

وَٱمْرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٌۭ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَٰهَا بِإِسْحَٰقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَٰقَ يَعْقُوبَ

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی، ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کیوں ہنس پڑی۔ اس لیے کہ اسے بھی معلوم تھا کہ حضرت لوط کس برائی اور غلاظت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔

اور وہ چونکہ بانجھ تھی اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اور اس طرح وہ معمر ہوگئی تھی اس لیے اس کے لیے یہ خوشخبری ایک عجوبہ تھی اور یہ خوشی اس وقت دوگنی ہوگئی جب ان کو خوشخبری دی گئی کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوں گے۔ عورت اور پھر بانجھ باعورت کو اگر اس قسم کی خوشخبری ملے تو لازمی ہے کہ وہ غیر معمولی اور اچانک خوشی کا مظاہرہ کرے گی۔

72

قَالَتْ يَٰوَيْلَتَىٰٓ ءَأَلِدُ وَأَنَا۠ عَجُوزٌۭ وَهَٰذَا بَعْلِى شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌۭ

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

فی الواقعہ یہ ایک عجیب بات تھی ، ایک معین مدت کے بعد عورت کا حیض ختم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد اس کا حمل رک جاتا ہے لیکن اللہ کی قدرت اپنے قوانین کی پابند نہیں ہے۔

73

قَالُوٓا۟ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۖ رَحْمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَٰتُهُۥ عَلَيْكُمْ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ ۚ إِنَّهُۥ حَمِيدٌۭ مَّجِيدٌۭ

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے

بیشک امر الٰہی میں تعجب کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اگر ایک روٹین کسی حکم کے مطابق چل رہی ہو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس عادت اور حکم کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن جب اللہ کی حکمت چاہے تو یہ روٹین بدل بھی سکتی ہے۔ یہاں اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانے پر رحم کرتے ہوئے اس کو بدلا لیکن جب ہمیں بظاہر نظر آتا ہے کہ واقعات کی روٹین بدل گئی ہے اور کوئی واقعہ خلاف عادت ہے تو بھی دراصل وہ ایک گہری عادت کے مطابق ہوتا ہے۔

کیونکہ ہمیں سنن الہیہ کا بالاستیعاب علم حاصل نہیں ہے۔ اس کی حدود بہت ہی وسیع ہیں۔ ہم تو ایک حد تک حقائق کو دیکھ سکتے ہیں اور یہ حد بہت ہی مختصر اور محدود ہوتی ہے جبکہ ہم واقعات کی حقیقت کا استقراء اور استیعاب کرنے سے قاصر ہیں۔

جو لوگ ذات باری کی قدرت و حکمت کو اپنے علم کے محدود پیمانے سے ناپتے ہیں۔ حتی کہ وہ لوگ جو اللہ کی مشیت کو خود اللہ کے بنائے ہوئے قواعد میں محدود کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ذات باری کی ماہیت اور حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ کیونکہ اللہ کی مشیت خود اللہ کے بنائے ہوئے قواعد سے بھی آزاد ہے ، اللہ کی مشیت خود اللہ کے بنائے ہوئے نوامیس قدرت کی پابند بھی نہیں ہے۔

یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کو ان قوانین قدرت کے مطابق چلاتا ہے جو اس نے اس جہاں کے لیے تیار کیے ہیں لکین یہ ایک علیحدہ بات ہے اور یہ کہنا کہ اللہ کی مشیت قوانین طبیعہ کی پابند ہے تو یہ ایک دوسری بات ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قوانین طبیعہ ٹھیک ٹھیک چلتے ہیں اورو لیکن ہر مرتبہ ان کا جزئی عمل جو اثرات مرتب کرتا ہے وہ اللہ کے حکم سے کرتا ہے۔ یہ اثرات خود کار طور پر نہیں ہوتے تو اگر کسی موقعہ پر اللہ تعالیٰ یہ حکم کر دے کہ کوئی جزوی طبیعی عمل وہ اثرات نہیں ظاہر کرے گا تو ایسا نہ ہوگا اور پھر ہم یہ نہ کہیں گے کہ اللہ کا قانون قدرت بدل گیا ہے بلکہ درست یہ ہوگا کہ قانون قدرت اب یہ ہے کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ لہذا نوامیس قدرت اور قوانین طبیعت دراصل اللہ کے ارادے کا مظہر ہوتے ہیں جب اللہ کا ارادہ کچھ اور چاہتا ہے تو وہ اور قانون قدرت بن جاتا ہے۔ اصل قانون قدرت اللہ کا بےقید ارادہ ہے۔

چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مطمئن ہوگئے کہ یہ اللہ کے نمائندگان قدرت ہیں اور پھر وہ اس پر بھی مطمئن ہوگئے کہ ان کے لیے یہ لوگ جو خوشخبری لائے ہیں وہ بھی لازماً متحقق ہونے والی ہے۔ لیکن وہ ان حالات میں بھی حضرت لوط اور ان کی قوم کو نہ بھولے کیونکہ وہ ان کے بھائی تازح کے بیٹے تھے اور ان کے قریب ہی رہائش پذیر تھے۔ اب چونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ اللہ نے جن لوگوں کو بھیجا ہے وہ تو قوم لوط (علیہ السلام) کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں گے اور حضرت ابراہیم نہایت ہی مشفق اور رحم دل تھے۔ چناچہ قوم لوط (علیہ السلام) کے بارے میں فرشتوں سے یہ مکالمہ شروع کردیا۔

74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَٰهِيمَ ٱلرَّوْعُ وَجَآءَتْهُ ٱلْبُشْرَىٰ يُجَٰدِلُنَا فِى قَوْمِ لُوطٍ

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسے حلیم الطبع تھے کہ وہ موجبات غیظ و غضب کو برداشت کرلیتے تھے ، صبر کرتے تھے اور جوش میں نہ آتے تھے۔ اور اواہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا خوفی کی وجہ سے وہ ہر وقت آہ وزاری فرماتے تھے اور منیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہر معاملے میں جلدی سے اپنے رب کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ ان تمام صفات کے باعث حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کے ساتھ قوم لوط (علیہ السلام) کے حوالے سے جھگڑنا شروع کردیا۔ اب یہ کہ حضرت نے کیا جھگڑا فرمایا ؟ قرآن کریم نے اس کی کوئی تشریح نہیں کی ہے لیکن عین اس وقت اللہ کا حکم آگیا اور فرمایا گیا کہ اس معاملے میں نہ جھگڑو ، لہذا جھگڑا ختم ہوگیا۔

75

إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّٰهٌۭ مُّنِيبٌۭ

بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسے حلیم الطبع تھے کہ وہ موجبات غیظ و غضب کو برداشت کرلیتے تھے ، صبر کرتے تھے اور جوش میں نہ آتے تھے۔ اور اواہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا خوفی کی وجہ سے وہ ہر وقت آہ وزاری فرماتے تھے اور منیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہر معاملے میں جلدی سے اپنے رب کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ ان تمام صفات کے باعث حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کے ساتھ قوم لوط (علیہ السلام) کے حوالے سے جھگڑنا شروع کردیا۔ اب یہ کہ حضرت نے کیا جھگڑا فرمایا ؟ قرآن کریم نے اس کی کوئی تشریح نہیں کی ہے لیکن عین اس وقت اللہ کا حکم آگیا اور فرمایا گیا کہ اس معاملے میں نہ جھگڑو ، لہذا جھگڑا ختم ہوگیا۔

76

يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَآ ۖ إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ ءَاتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍۢ

اے ابراہیم اس بات کو جانے دو۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے کا

پردہ گرتا ہے اور یہ خوش کن اور دلربا منظر آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ سیاق کلام پر خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔ لازمی ہے کہ حکم باری کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی خاموش ہوگئے ہوں گے۔ لیکن اچانک آنکھوں کے سامنے ایک دوسرا منظر آجاتا ہے جو ہاو و ہو سے پر ہے۔ اردن کے ایک شہر میں قوم لوط (علیہ السلام) سامنے آتی ہے۔ یہ شہر عموریہ اور صدوم ہیں :

77

وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًۭا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًۭا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌۭ

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

آپ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ، ان کی فطرت کے اندر جو بگاڑ اور گندگی پیدا ہوگئی تھی وہ ناقابل تصور اور بےمثل تھی۔ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوانی تعلقات قائم کرتے تھے۔ اور یہ حرکت اس نظام فطرت کے خلاف تھی جس کے مطابق اللہ نے تمام مخلوقات کو نر اور مادہ کی شکل میں پیدا کیا ، تا کہ تمام انواع کی بقا اور تسلسل قائم رہ سکے اور جس کے ذریعے نوامیس فطرت نے انسان کے لیے جو لذت اور خوشی ودیعت کی ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔

یہ راہ فطرت انسان خود اپنے غور و فکر اور اپنی تدابیر اور محنت سے حاصل نہیں کرسکتا ، صرف راہ راست پر استقامت اور ہدایت ربانی سے یہ لذت مل سکتی ہے۔ جنسی بےراہ روی کے سلسلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کے اندر اس قسم کی شاذ ونادر بےراہ روی تو انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ بعض انسان بیمار ہوتے ہیں لیکن قوم لوط (علیہ السلام) کی بیماری ایک عجیب اور ہمہ گیر بیماری تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفسیاتی بیماریاں بھی اسی طرح پیھل جاتی ہیں جس طرح جسمانی بیماریاں پھیل جاتی ہیں اور اگر کسی سوسائٹی کا معیار حسن و قبح بدل جائے تو اس کے اندر ایسی بیماریاں بھی پھیل جاتی ہیں اور قوم پوری کی پو ری اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوجاتی ہے اور یہ بگاڑ سوسائٹی کے بگڑے ہوئے تصورات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ بگاڑ انسانی فطرت سلیمہ کے ساتھ متصادم ہوتا ہے ، کیونکہ فطرت سلیمہ تو کائنات کے نوامیس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے اور وہ موجبات حیات کی ممد ہوتی ہے ، متصادم نہیں ہوتی جبکہ یہ جنسی بےراہ روی امتداد حیات کے نظام کے ساتھ متصادم ہوتی ہے۔ انسان تخم حیات کو ایسی سرزمین میں بوتا ہے جہاں سے زندگی کی نشوونما نہیں ہو سکتی ، یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی جنسی بےراہ روی سے انسانی فطرت نہ صرف یہ کہ اخلاقی طور پر متصادم ہوتی ہے بلکہ قوانین فطرت بھی اس سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ عمل قوم لوط نہ صرف یہ کہ فطرت کے خلاف ہے بلکہ نظام امتداد حیات اور حقیقی لذت کے بھی خلاف ہے۔

بعض اوقات انسان موت میں وہ لذت محسوس کرتا ہے جو حیات میں نہیں ہوتی لیکن یہ لذت اعلیٰ اقدار اور بلند مقاصد کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔ یہ حسی اور جسمانی لذت نہیں ہوتی اور جہاد میں سر قربان کرنا نظام بقائے حیات کے ساتھ متصادم نہیں ہے بلکہ اس طرح زندگی کو کم کرنا دوسرے پہلو سے زندگی کو بلند کرنا ہے۔ اللہ کی راہ میں شہادت سے زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ زندگی ایک دوسرا انداز اختیار کرتی ہے۔

تو حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کو دیکھ کر بہت ہی کبیدہ خاطر ہوئے ، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کی قوم ان خوبصورت مہمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی اور اس طرح انہیں بہت ہی شرمندہ ہونا پڑے گا۔ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ “ آج بڑی مصیبت کا دن ہے

78

وَجَآءَهُۥ قَوْمُهُۥ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِى هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِى ضَيْفِىٓ ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌۭ رَّشِيدٌۭ

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم! یہ (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے (جائز اور) پاک ہیں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں

(يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ ) یعنی اس طرح دوڑے جس طرح بخار میں مبتلا شخص کانپتے ہوئے دوڑتا ہے۔ بےچینی سے ، ہرع بخار کی حالت میں کانپنا۔

اس سے قبل ان کے ہاں مہمانوں کے ساتھ بد سلوکی عام تھی۔ اس لیے حضرت لوط (علیہ السلام) ان فرشتوں کے بارے میں سخت دل تنگ ہوئے اور اس دن کو مصیبت کے دن سے تعبیر کیا۔

حضرت لوط (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ لوگ بدکاری کے لیے اس طرح بےاختیار دوڑے چلے آتے ہیں جس طرح بخار میں مبتلا شخص بےاختیار کانپتا ہے اور ان کے مہمانوں کی توہین پر تلے ہوئے ہیں تو انہوں نے ان کی ذات کے اندرموجود فطرت سلیمہ کو اپیل کی۔ ان کو متوجہ کیا کہ دیکھو عورتیں موجود ہیں جن کو اللہ نے اسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ خود حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں لڑکیاں موجود تھیں اور وہ اسی وقت جائز طریقوں سے ان کے جوش لذت کو تسکین دے سکتی تھیں۔ جن کو اسی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔ وہ اسی وقت ان کو نکاح کر کے ان کے حوالے کرنے کے لیے تیار تھے تا کہ وہ ان کی جنونی شہوت رانی کے لیے سکون کا سامان فراہم کریں۔

قَالَ يَا قَوْمِ هَؤُلاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخْزُونِي فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ (11 : 78) ۔ لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا ، “ بھائیو ، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں ، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں۔ کچھ خدا کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں ؟ ”

هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ (78 : 11) “ وہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں ”۔ یعنی وہ ہر لحاظ سے پاکیزہ ہیں۔ نفسیاتی اعتبار سے پاکیزہ ، حسی اعتبار سے پاکیزہ اور اخلاقی اعتبار سے پاکیزہ ہیں۔ وہ پاک فطرت ہیں اور پاک جذبات کی تسکین کے لیے تیار ہیں۔ ان کے اخلاق اور ان کا دین پاکیزہ ہے اور قدرت نے بھی انہیں اس پاک اور عظیم مقصد کے لیے تیار کیا ہے اور یہ راستہ بھی بمقابلہ اس راہ کے جو وہ اختیار کر رہے ہیں پاکیزہ ہے۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ (87 : 11) “ پس اللہ سے ڈرو ” پہلے فقرے میں ان کو سمجھایا گیا کہ فطری طور پر پاکیزہ راہ اختیار کرو ، یہاں کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور اس غلط روش سے باز آجاؤ ”

وَلا تُخْزُونِي فِي ضَيْفِي (87 : 11) “ اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ ” یہ فقرہ ان کے جذبہ انسانی غیرت کو بیدار کرنے کے لیے کہا گیا اور دیہاتی لوگ مہمان کا عموماً خیال رکھتے ہیں اور مہمانوں کی توہین کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔

أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ (11 : 78) “ کیا تم میں سے کوئی بھلا آدمی نہیں ہے۔ ” یہ معاملہ بھی ہدایت ، نیکی اور بھلائی کا ہے۔ نیز فطرت اور مروت اور اخلاق کا بھی یہی تقاضا ہے۔ لیکن یہ تمام اپیلیں بد فطرت لوگوں پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔ اس لیے کہ ان لوگوں کے دل منحرف ہوگئے تھے۔ ان کی عقل ماؤف ہوگئی تھی اور ان کا ناقابل مثال شہوانی جوش ان پر غالب تھا۔

79

قَالُوا۟ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّۢ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو

انہوں نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اگر ہم تمہاری بیٹیوں کا رشتہ چاہتے تو تم ضرور نکاح کر کے ہمارے حوالے کردیتے اور تم جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟ یہ ان کی جانب سے ان کے خبیث اور گندے ارادے کی طرف نہایت ہی خبیثانہ اشارہ ہے۔

اس موقعہ پر حضرت لوط (علیہ السلام) نڈھال ہوگئے۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ وہ اب ان کے مقابلے میں بالکل بےبس ہیں ، وہ اس قوم میں اس طرح ہیں جس طرح ایک مسافر ہوتا ہے۔ گویا یہاں ان کا کوئی خاندان اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ اور اس مصیبت کے وقت کوئی نہیں ہے جو ان کی دستگیری کرے۔ ایسے حالات میں وہ جس پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں ، وہ یہ ہے :

80

قَالَ لَوْ أَنَّ لِى بِكُمْ قُوَّةً أَوْ ءَاوِىٓ إِلَىٰ رُكْنٍۢ شَدِيدٍۢ

لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا

جب حضرت لوط (علیہ السلام) یہ کلمات کہہ رہے تھے تو روئے سخن ان نوجوانوں کی طرف تھا۔ یعنی فرشتوں کی طرف جو خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں موجود تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی نظر میں یہ نوجوان اس قدر مضبوط نہ تھے کہ اپنا دفاع کرسکیں۔ چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) یہ اشارہ دینا چاہتے تھے کہ اگر تم لوگ مضبوط ہوتے تو بھی ان ظالموں کا مقابلہ کیا جا سکتا تھا یا یہ کہ اور کوئی ان کا حامی و مدد گار ہوتا تو وہ اس کی مدد اور معاونت طلب کرلیتے لیکن کوئی نہیں ہے۔

حضرت لوط جن مشکلات سے دو چار تھے اور جس پریشانی میں مبتلا تھے۔ اس میں ان کی نظروں سے وقتی طور پر یہ حقیقت اوجھل ہوگئی کہ وہ تو ایک مضبوط سہارے کی پناہ میں ہیں۔ حضور ﷺ نے جب یہ آیت پڑھی ، ایک حدیث میں فرمایا ، “ اللہ حضرت لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے وہ تو اس وقت بھی ایک مضبوط سارے کی پناہ میں تھے۔ ”

غرض جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی پریشانی انتہاؤں کو چھونے لگی اور مصیبت کا دائرہ ان پر تنگ ہوگیا ، تو اس وقت اللہ کے رسولوں نے اپنا تعارف کرا دیا اور بتا دیا کہ وہ تو ایک نہایت ہی مضبوط سہارے کی پناہ میں ہیں۔ خدائی قوت آپ کی پشت پر ہے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.