Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 123

41

۞ وَقَالَ ٱرْكَبُوا۟ فِيهَا بِسْمِ ٱللَّهِ مَجْر۪ىٰهَا وَمُرْسَىٰهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لے کر (کہ اسی کے ہاتھ میں اس کا) چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا کا مفہوم یہ ہے کہ اب یہ کشتی اللہ کی مشیت کے حوالے ہے۔ اس کا چلنا پانی کے اوپر اور پھر کسی مقام پر ٹھہرنا اللہ کے قوانین مشیت کے مطابق ہے۔ جب ناقابل کنٹرول لہریں اٹھتی ہیں تو ان میں انسان کی قوت کے حدود ختم ہوجاتے ہیں اور انسان اور کشتی طوفان کے حوالے ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ غفور و رحیم ہی فیصلے کرتا ہے۔

اب (اگلی آیات میں) جو منظر آ رہا ہے وہ نہایت ہی خوفناک ہے یعنی طوفان اور کافروں کا غرق ہونا۔

42

وَهِىَ تَجْرِى بِهِمْ فِى مَوْجٍۢ كَٱلْجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبْنَهُۥ وَكَانَ فِى مَعْزِلٍۢ يَٰبُنَىَّ ٱرْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو

یہاں دو خوف باہم ملتے ہیں : ایک خاموش طبیعت کا خوف اور ایک نفس بشری کا خوف۔

وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ " کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی "

ایسے خوفناک حالات حضرت نوح دیکھتے ہیں کہ ان کے بچوں میں سے ایک ان سے دور بھاگا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار نہیں ہو رہا۔ یہاں باپ کی خوبیدہ پدری شفقت جاگ اٹھتی ہے اور اس گمراہ بیٹے کو وہ پکار اٹھتے ہیں۔

وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ وَكَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : " نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ "۔

لیکن یہ نافرمان بیٹا اپنے شفیق باپ کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ یہ نوجوان اور مغرور ہے ، یہ اندازہ نہیں کرپاتا کہ طوفان کس قدر شدید ہے اور کہتا ہے :

قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ : " اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ "

لیکن شفیق باپ تو جانتے ہیں کہ یہ عذاب کس قدر ہولناک ہے اور وہ آخری اپیل کرتے ہیں : قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ : " نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ "

اللہ کے عذاب کو نہ پہاڑ ٹال سکتے ہیں اور نہ غاروں میں کوئی اس سے چھپ سکتا ہے۔ نہ اس کے مقابلے میں کوئی حامی ہے اور نہ کوئی بچا سکتا ہے۔ صرف وہی بچ سکتا ہے جس پر اللہ کا رحم ہوجائے۔

وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ : " اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا "۔ ہزارہا سال گزر چکے ہیں ، آج بھی جب ہم اس ہولناک صورت حالات کا تصور کرتے ہیں۔ تو ہماری سانس رک جاتی ہے اور ہم پر اس قدر ہیبت طاری ہوجاتی ہے کہ گویا یہ منظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان ڈول رہی ہے۔ حضرت نوح بار بار اپنے بیٹے کو پکارتے ہیں اور ان کا مغرور بیٹا انکار کرتا جاتا ہے اور پہاڑ پر چڑھتا جاتا ہے۔ اچانک ایک عظیم پہاڑ جیسی موج آتی ہے اور چشم زدن میں قسہ تمام ہوجاتا ہے۔ سب کام ختم ہوجاتا ہے اب نہ پکار ہے اور نہ انکار ہے۔

اس خوفناک فضا کا تصور دو پہلوؤں سے کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو یہ پہلو ہے کہ والد اور بیٹے کے درمیان ایک حقیقی اور زندہ تعلق ہوتا ہے۔ اور دوسرا پہلو انسان کا طبعی مزاج ہے کہ طوفان پہاڑوں اور وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد اب خود انسان کے بچوں کو لپیٹ میں لے رہا ہے۔ یہ دونوں قسم کے جذبات انسان کی شخصیت کے اندر موجود ہوتے ہیں اور قرآن کریم نے ان کی خوب تصویر کشی کی ہے۔

43

قَالَ سَـَٔاوِىٓ إِلَىٰ جَبَلٍۢ يَعْصِمُنِى مِنَ ٱلْمَآءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا ٱلْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُغْرَقِينَ

اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا، وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا

یہاں دو خوف باہم ملتے ہیں : ایک خاموش طبیعت کا خوف اور ایک نفس بشری کا خوف۔

وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ " کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی "

ایسے خوفناک حالات حضرت نوح دیکھتے ہیں کہ ان کے بچوں میں سے ایک ان سے دور بھاگا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار نہیں ہو رہا۔ یہاں باپ کی خوبیدہ پدری شفقت جاگ اٹھتی ہے اور اس گمراہ بیٹے کو وہ پکار اٹھتے ہیں۔

وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ وَكَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : " نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ "۔

لیکن یہ نافرمان بیٹا اپنے شفیق باپ کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ یہ نوجوان اور مغرور ہے ، یہ اندازہ نہیں کرپاتا کہ طوفان کس قدر شدید ہے اور کہتا ہے :

قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ : " اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ "

لیکن شفیق باپ تو جانتے ہیں کہ یہ عذاب کس قدر ہولناک ہے اور وہ آخری اپیل کرتے ہیں : قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ : " نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ "

اللہ کے عذاب کو نہ پہاڑ ٹال سکتے ہیں اور نہ غاروں میں کوئی اس سے چھپ سکتا ہے۔ نہ اس کے مقابلے میں کوئی حامی ہے اور نہ کوئی بچا سکتا ہے۔ صرف وہی بچ سکتا ہے جس پر اللہ کا رحم ہوجائے۔

وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ : " اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا "۔ ہزارہا سال گزر چکے ہیں ، آج بھی جب ہم اس ہولناک صورت حالات کا تصور کرتے ہیں۔ تو ہماری سانس رک جاتی ہے اور ہم پر اس قدر ہیبت طاری ہوجاتی ہے کہ گویا یہ منظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان ڈول رہی ہے۔ حضرت نوح بار بار اپنے بیٹے کو پکارتے ہیں اور ان کا مغرور بیٹا انکار کرتا جاتا ہے اور پہاڑ پر چڑھتا جاتا ہے۔ اچانک ایک عظیم پہاڑ جیسی موج آتی ہے اور چشم زدن میں قسہ تمام ہوجاتا ہے۔ سب کام ختم ہوجاتا ہے اب نہ پکار ہے اور نہ انکار ہے۔

اس خوفناک فضا کا تصور دو پہلوؤں سے کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو یہ پہلو ہے کہ والد اور بیٹے کے درمیان ایک حقیقی اور زندہ تعلق ہوتا ہے۔ اور دوسرا پہلو انسان کا طبعی مزاج ہے کہ طوفان پہاڑوں اور وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد اب خود انسان کے بچوں کو لپیٹ میں لے رہا ہے۔ یہ دونوں قسم کے جذبات انسان کی شخصیت کے اندر موجود ہوتے ہیں اور قرآن کریم نے ان کی خوب تصویر کشی کی ہے۔

44

وَقِيلَ يَٰٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيَٰسَمَآءُ أَقْلِعِى وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَى ٱلْجُودِىِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًۭا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت

اب خطاب زمین و اسمان سے ہے۔ گویا وہ سمجھتے ہیں۔ دونوں تعمیل کرتے ہیں۔ زمین نے پانی کو چوسنا اور نگلنا شروع کردیا اور آسمان نے برسانا چھوڑ دیا۔ پانی زمین کے پیٹ میں چلا گیا اور سطح زمین معمول پر آگئی۔ اللہ نے جو کرنا تھا وہ انجام کو پہنچا اور یہ کشتی جودی پہاڑ پر آ کر رک گئی۔ " اور یہ کہہ دیا گیا کہ دوری ہو ظالموں کی قوم کے لیے " یہ ایک مختصر سا جملہ ہے لیکن نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن انجام کا اظہار کرتا ہے۔ جس کے اندر بہت بڑی گہرائی ہے اور یہ اسلوب اظہار " کہہ دیا گیا " کہنے والے کا نام نہ لیا گیا۔ مطلب یہ کہ اس باب کو اب بند کردیا گیا ہے اور بُعْدًا لِّلْقَوْمِ یعنی اب یہ نیست و نابود ہوگئے ، زندگی سے دور ہوگئے ، اللہ کی رحمت سے بہت دور جا پڑے اور اب وہ عوام کی یاد سے دور ہوگئے اور اقوام کی تاریخ سے ان کو حذف کردیا گیا۔

45

وَنَادَىٰ نُوحٌۭ رَّبَّهُۥ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبْنِى مِنْ أَهْلِى وَإِنَّ وَعْدَكَ ٱلْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ ٱلْحَٰكِمِينَ

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے

جب یہ مصیبت دور ہوجاتی ہے ، خوف کی حالت جاتی رہتی ہے اور کشتی جودی پہاڑ پر آ کر رک جاتی ہے تو اب ایک حقیقی والد کے دل میں درد اٹھتا ہے اور وہ غم زیادہ ہوجاتا ہے۔ اور وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں کہ میرا بیٹا میرے خاندان میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے کہ میرے خاندان والوں کو بچایا جائے گا اور تو بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔ تیرے فیصلے حکمت اور تدبیر پر مبنی ہوتے ہیں۔

حضرت نوح یہ بات اس لیے فرما رہے تھے کہ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے اور یہ وعدہ آپ کے اہل خاندان کی نجات کی بابت تھا۔ نیز حضرت نوح (علیہ السلام) یہ بھی چاہتے تھے کہ وہ وعدے اور فیصلے کی بابت حکمت دریافت کریں۔

اس سوال کا جواب بہت ہی اہم۔ یہ حقیقت حضرت نوح کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی کہ اللہ کے ہاں نیک و بد کا جو معیار ہے اس میں خون اور رشتہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہاں نظریاتی قرابت داری کی اہمیت ہے۔ آپ کا یہ لڑکا مومن نہ تھا لہذا یہ آپ کے خاندان کا فرد نہ رہا۔ آپ تو نبی اور مومن اول ہیں اور یہ جواب نہایت ہی فیصلہ کن اور دو ٹوک انداز میں دیا گیا اور سخت تنبیہی اور باز پرسی کے انداز میں دیا گیا۔

جواب میں ارشاد ہوا : قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ڶ فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : جواب میں ارشاد ہوا " اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔

دین اسلام کا یہ ایک عظیم اصول ہے۔ وہ سر رشتہ جس تک تمام تاریں پہنچتی ہیں وہ عقیدے کا سر رشتہ ہے۔ اسلام میں ایک فرد اور فرد کے درمیان اصل تعلق عقیدے کا ہے۔ یہاں نسب اور قرابت داری کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

46

قَالَ يَٰنُوحُ إِنَّهُۥ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيْرُ صَٰلِحٍۢ ۖ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۖ إِنِّىٓ أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ : " اے وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے " وہ آپ سے کٹ چکا ہے اور آپ اس سے کٹ چکے ہیں ، اگرچہ وہ تمہارا حقیقی بیٹا ہے کیونکہ اسلام میں اصل تعلق اور رابطہ نظریاتی رابطہ ہے ، اس کے علاوہ کوئی رابطہ اور قوت جامعہ اسلام میں معتبر نہیں ہے۔

حضرت نوح نے جن حالات میں دعا کی تھی وہ ایسے تھے کہ ان کی دعا منظور نہ ہوئی اس لیے اس کا جو جواب انہیں دیا گیا اس میں قدرے تہدید اور تنبیہ بھی ہے۔

فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : " لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو میں نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے " میں اس بات سے ڈر کر تمہیں تاکیدی نصیحت کرتا ہوں کہیں تم اسلامی روابط کی حقیقت اور اسلامی اخوت کی ماہیت کے سمجھنے میں غلطی نہ کرجاؤ یا اللہ نے جو وعدہ کیا تھا اس کے سمجھنے میں غلطی نہ کر بیٹھو۔ اللہ کا وعدہ تو پورا ہوچکا ہے اور جو تمہارے اہالی و موالی تھے وہ سب نجات پا چکے ہیں اور یہ حقیقت ہے۔

اس تنبیہ آمیز جواب کو سنتے ہی حضرت نوح کانپ اٹھتے ہیں جس طرح ایک حقیقی مومن اس وقت کانپ اٹھتا ہے جب اسے یہ سوچ آتی ہے کہ بارگاہ الہی میں اس سے کہیں غلطی اور گستاخی نہ ہوجائے۔ چناچہ حضرت نوح فوراً توبہ و استغفار فرماتے ہیں۔

47

قَالَ رَبِّ إِنِّىٓ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْـَٔلَكَ مَا لَيْسَ لِى بِهِۦ عِلْمٌۭ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِى وَتَرْحَمْنِىٓ أَكُن مِّنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا

اللہ کی رحمت نے حضرت نوح کو ڈھانپ لیا ، آپ کا دل مطمئن ہوگیا۔ آپ اور آپ کی نسل اور آپ کے ساتھی نجات پا گئے اور دوسرے لوگ نذر طوفان ہوگئے۔

48

قِيلَ يَٰنُوحُ ٱهْبِطْ بِسَلَٰمٍۢ مِّنَّا وَبَرَكَٰتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّمَّن مَّعَكَ ۚ وَأُمَمٌۭ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا

معاملہ یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ حضرت نوح کو خوشخبری ملتی ہے۔ آپ کے ساتھی مومن نجات پاتے ہیں ، اب ان سے ایک مومن نسل چلتی ہے۔ اور ان میں سے جو لوگ صرف بنیادی ترقی اور دنیاوی سازوسامان چاہتے تھے ان کو عذاب الیم کی خوشخبری دی جاتی ہے اور سورت کے ابتداء میں بھی یہی خوشخبری اور یہی ڈراوا تھا جو لوگوں کو بتایا گیا تھا۔ اور اسی مقصد کے لیے یہ قصص یہاں لائے گئے تھے تاکہ مثالوں اور مناظر پیش کرکے لوگوں کو سمجھایا جائے۔

49

تِلْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهَآ إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَآ أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَٰذَا ۖ فَٱصْبِرْ ۖ إِنَّ ٱلْعَٰقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں۔ اور اس سے پہلے نہ تم ہی ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

50

وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۖ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ

اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (کو بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم! خدا ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔

یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :

٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔

٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔

٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔

٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔

٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔

٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔

۔۔۔۔

اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔

البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔

یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.