Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 1–10 of 123

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ كِتَٰبٌ أُحْكِمَتْ ءَايَٰتُهُۥ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ

الٓرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہے

درس نمبر 99 ایک نظر میں

یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات اس کائنات میں کس قدر موثر ہیں۔ نیز اس سبق میں ذات باری کی حقیقت اور اس کی حکمرانی ، انسان کی جانب سے اس کی بندگی اور اطاعت اور اس کے تقاضوں سے مومنین کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور انسان کی بندگی کے تقاضے یہ ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسان اس کا بندہ ہوگا۔ اسی طرح آخرت میں بھی انسان اس کا بندہ ہوگا۔

اس مقدمے میں قیام رسالت اور حقیقت رسول پر بھی بحث ہے۔ اور رسول کو مخاطب کرکے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی دعوت کے مقابلے میں منکرین جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، چیلنج دے رہے ہیں اور بلا وجہ عناد کر رہے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا مکہ میں پوری دعوتی تاریخ میں نبی اکرم کے لیے یہ مشکل ترین دور تھا اور مشرکین قرآن کو کلام الہی تسلیم نہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں مشرکین سے کہا گیا کہ اگر وہ اس قرآن کو کلام الہی تسلیم نہیں کرتے تو وہ اس جیسی دس سورتیں تو پیش کردیں ، جیسا کہ ان کا زعم تھا۔ اس طرح حضور کو تسلی دی گئی کہ وہ ہرگز اس قرآن جیسا کلام نہیں پیش کرسکتے۔ اس طرح ان لوگوں کے لیے یہ چیلنج باعث تسلی تھا ، جو ایمان لا چکے تھے۔

اس تسلی کے ساتھ منکرین حق کو دو ٹوک دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ جس عذاب کے آجانے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں وہ بہت ہی دردناک ہے اور ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب دنیا میں ان پر کوئی معمولی تکلیف آجاتی ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ہر تکلیف معمولی ہے۔

اس دھمکی کو مناظر قیامت کے ایک منظر کی صورت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مشرکین اور مکذبین اور ان کے شرکاء اور سفارشی قیامت کے دن ان کو کسی طرح بھی عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ جبکہ اہل ایمان جنتوں میں ہوں گے اور انعامات و اکرامات ان کا حصہ ہوگا۔ یہ منطر قرآن کے مخصوص انداز کے مطابق نہایت ہی مجسم اور مصور ہے اور چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور قرآن کہتا ہے :

) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24): (اور ان دو فریقوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اندھا اور بہرا ہوا۔ دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو ، کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اس بات سے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ "

درس نمبر 99 تشریح آیات 1 تا 24:

تفسیر آیات 1 تا 4:

ان آیات میں درج ذیل حقائق بیان ہوئے جو دین اسلام کے بنیادی حقائق ہیں :

٭۔ وحی اور رسالت کا ثبوت

٭۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کا اثبات

٭۔ جو لوگ اس وحی اور ہدایت کی اتباع کریں گے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے انعام ہوگا بشرطیکہ وہ اس ہدایت کو بطور نظام زندگی اپنائی۔

٭۔ وہ لوگ جو اسے جھٹلائیں گے وہ مستوجب سزا ہوں گے۔ چاہے کوئی مطیع فرمان ہو یا منکر ہو ، اسے ایک دن اللہ کے سامن کھڑا ہونا ہوگا۔

٭۔ اللہ کی قدرت اور سلطنت غیر محدود ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ال ر ، یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر آگے پورا جملہ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے ہی حروف سے بنی ہے جو لوگوں کی …

2

أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ ۚ إِنَّنِى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ

(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں

درس نمبر 99 ایک نظر میں

یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات اس کائنات میں کس قدر موثر ہیں۔ نیز اس سبق میں ذات باری کی حقیقت اور اس کی حکمرانی ، انسان کی جانب سے اس کی بندگی اور اطاعت اور اس کے تقاضوں سے مومنین کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور انسان کی بندگی کے تقاضے یہ ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسان اس کا بندہ ہوگا۔ اسی طرح آخرت میں بھی انسان اس کا بندہ ہوگا۔

اس مقدمے میں قیام رسالت اور حقیقت رسول پر بھی بحث ہے۔ اور رسول کو مخاطب کرکے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی دعوت کے مقابلے میں منکرین جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، چیلنج دے رہے ہیں اور بلا وجہ عناد کر رہے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا مکہ میں پوری دعوتی تاریخ میں نبی اکرم کے لیے یہ مشکل ترین دور تھا اور مشرکین قرآن کو کلام الہی تسلیم نہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں مشرکین سے کہا گیا کہ اگر وہ اس قرآن کو کلام الہی تسلیم نہیں کرتے تو وہ اس جیسی دس سورتیں تو پیش کردیں ، جیسا کہ ان کا زعم تھا۔ اس طرح حضور کو تسلی دی گئی کہ وہ ہرگز اس قرآن جیسا کلام نہیں پیش کرسکتے۔ اس طرح ان لوگوں کے لیے یہ چیلنج باعث تسلی تھا ، جو ایمان لا چکے تھے۔

اس تسلی کے ساتھ منکرین حق کو دو ٹوک دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ جس عذاب کے آجانے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں وہ بہت ہی دردناک ہے اور ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب دنیا میں ان پر کوئی معمولی تکلیف آجاتی ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ہر تکلیف معمولی ہے۔

اس دھمکی کو مناظر قیامت کے ایک منظر کی صورت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مشرکین اور مکذبین اور ان کے شرکاء اور سفارشی قیامت کے دن ان کو کسی طرح بھی عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ جبکہ اہل ایمان جنتوں میں ہوں گے اور انعامات و اکرامات ان کا حصہ ہوگا۔ یہ منطر قرآن کے مخصوص انداز کے مطابق نہایت ہی مجسم اور مصور ہے اور چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور قرآن کہتا ہے :

) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24): (اور ان دو فریقوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اندھا اور بہرا ہوا۔ دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو ، کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اس بات سے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ "

درس نمبر 99 تشریح آیات 1 تا 24:

تفسیر آیات 1 تا 4:

ان آیات میں درج ذیل حقائق بیان ہوئے جو دین اسلام کے بنیادی حقائق ہیں :

٭۔ وحی اور رسالت کا ثبوت

٭۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کا اثبات

٭۔ جو لوگ اس وحی اور ہدایت کی اتباع کریں گے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے انعام ہوگا بشرطیکہ وہ اس ہدایت کو بطور نظام زندگی اپنائی۔

٭۔ وہ لوگ جو اسے جھٹلائیں گے وہ مستوجب سزا ہوں گے۔ چاہے کوئی مطیع فرمان ہو یا منکر ہو ، اسے ایک دن اللہ کے سامن کھڑا ہونا ہوگا۔

٭۔ اللہ کی قدرت اور سلطنت غیر محدود ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ال ر ، یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر آگے پورا جملہ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے ہی حروف سے بنی ہے جو لوگوں کی …

3

وَأَنِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَٰعًا حَسَنًا إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِى فَضْلٍۢ فَضْلَهُۥ ۖ وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍۢ كَبِيرٍ

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو وہ تو تم کو ایک وقت مقررہ تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا۔ اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے

درس نمبر 99 ایک نظر میں

یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات اس کائنات میں کس قدر موثر ہیں۔ نیز اس سبق میں ذات باری کی حقیقت اور اس کی حکمرانی ، انسان کی جانب سے اس کی بندگی اور اطاعت اور اس کے تقاضوں سے مومنین کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور انسان کی بندگی کے تقاضے یہ ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسان اس کا بندہ ہوگا۔ اسی طرح آخرت میں بھی انسان اس کا بندہ ہوگا۔

اس مقدمے میں قیام رسالت اور حقیقت رسول پر بھی بحث ہے۔ اور رسول کو مخاطب کرکے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی دعوت کے مقابلے میں منکرین جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، چیلنج دے رہے ہیں اور بلا وجہ عناد کر رہے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا مکہ میں پوری دعوتی تاریخ میں نبی اکرم کے لیے یہ مشکل ترین دور تھا اور مشرکین قرآن کو کلام الہی تسلیم نہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں مشرکین سے کہا گیا کہ اگر وہ اس قرآن کو کلام الہی تسلیم نہیں کرتے تو وہ اس جیسی دس سورتیں تو پیش کردیں ، جیسا کہ ان کا زعم تھا۔ اس طرح حضور کو تسلی دی گئی کہ وہ ہرگز اس قرآن جیسا کلام نہیں پیش کرسکتے۔ اس طرح ان لوگوں کے لیے یہ چیلنج باعث تسلی تھا ، جو ایمان لا چکے تھے۔

اس تسلی کے ساتھ منکرین حق کو دو ٹوک دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ جس عذاب کے آجانے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں وہ بہت ہی دردناک ہے اور ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب دنیا میں ان پر کوئی معمولی تکلیف آجاتی ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ہر تکلیف معمولی ہے۔

اس دھمکی کو مناظر قیامت کے ایک منظر کی صورت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مشرکین اور مکذبین اور ان کے شرکاء اور سفارشی قیامت کے دن ان کو کسی طرح بھی عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ جبکہ اہل ایمان جنتوں میں ہوں گے اور انعامات و اکرامات ان کا حصہ ہوگا۔ یہ منطر قرآن کے مخصوص انداز کے مطابق نہایت ہی مجسم اور مصور ہے اور چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور قرآن کہتا ہے :

) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24): (اور ان دو فریقوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اندھا اور بہرا ہوا۔ دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو ، کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اس بات سے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ "

درس نمبر 99 تشریح آیات 1 تا 24:

تفسیر آیات 1 تا 4:

ان آیات میں درج ذیل حقائق بیان ہوئے جو دین اسلام کے بنیادی حقائق ہیں :

٭۔ وحی اور رسالت کا ثبوت

٭۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کا اثبات

٭۔ جو لوگ اس وحی اور ہدایت کی اتباع کریں گے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے انعام ہوگا بشرطیکہ وہ اس ہدایت کو بطور نظام زندگی اپنائی۔

٭۔ وہ لوگ جو اسے جھٹلائیں گے وہ مستوجب سزا ہوں گے۔ چاہے کوئی مطیع فرمان ہو یا منکر ہو ، اسے ایک دن اللہ کے سامن کھڑا ہونا ہوگا۔

٭۔ اللہ کی قدرت اور سلطنت غیر محدود ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ال ر ، یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر آگے پورا جملہ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے ہی حروف سے بنی ہے جو لوگوں کی …

4

إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

درس نمبر 99 ایک نظر میں

یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات اس کائنات میں کس قدر موثر ہیں۔ نیز اس سبق میں ذات باری کی حقیقت اور اس کی حکمرانی ، انسان کی جانب سے اس کی بندگی اور اطاعت اور اس کے تقاضوں سے مومنین کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور انسان کی بندگی کے تقاضے یہ ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسان اس کا بندہ ہوگا۔ اسی طرح آخرت میں بھی انسان اس کا بندہ ہوگا۔

اس مقدمے میں قیام رسالت اور حقیقت رسول پر بھی بحث ہے۔ اور رسول کو مخاطب کرکے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی دعوت کے مقابلے میں منکرین جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، چیلنج دے رہے ہیں اور بلا وجہ عناد کر رہے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا مکہ میں پوری دعوتی تاریخ میں نبی اکرم کے لیے یہ مشکل ترین دور تھا اور مشرکین قرآن کو کلام الہی تسلیم نہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں مشرکین سے کہا گیا کہ اگر وہ اس قرآن کو کلام الہی تسلیم نہیں کرتے تو وہ اس جیسی دس سورتیں تو پیش کردیں ، جیسا کہ ان کا زعم تھا۔ اس طرح حضور کو تسلی دی گئی کہ وہ ہرگز اس قرآن جیسا کلام نہیں پیش کرسکتے۔ اس طرح ان لوگوں کے لیے یہ چیلنج باعث تسلی تھا ، جو ایمان لا چکے تھے۔

اس تسلی کے ساتھ منکرین حق کو دو ٹوک دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ جس عذاب کے آجانے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں وہ بہت ہی دردناک ہے اور ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب دنیا میں ان پر کوئی معمولی تکلیف آجاتی ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ہر تکلیف معمولی ہے۔

اس دھمکی کو مناظر قیامت کے ایک منظر کی صورت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مشرکین اور مکذبین اور ان کے شرکاء اور سفارشی قیامت کے دن ان کو کسی طرح بھی عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ جبکہ اہل ایمان جنتوں میں ہوں گے اور انعامات و اکرامات ان کا حصہ ہوگا۔ یہ منطر قرآن کے مخصوص انداز کے مطابق نہایت ہی مجسم اور مصور ہے اور چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور قرآن کہتا ہے :

) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24): (اور ان دو فریقوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اندھا اور بہرا ہوا۔ دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو ، کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اس بات سے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ "

درس نمبر 99 تشریح آیات 1 تا 24:

تفسیر آیات 1 تا 4:

ان آیات میں درج ذیل حقائق بیان ہوئے جو دین اسلام کے بنیادی حقائق ہیں :

٭۔ وحی اور رسالت کا ثبوت

٭۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کا اثبات

٭۔ جو لوگ اس وحی اور ہدایت کی اتباع کریں گے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے انعام ہوگا بشرطیکہ وہ اس ہدایت کو بطور نظام زندگی اپنائی۔

٭۔ وہ لوگ جو اسے جھٹلائیں گے وہ مستوجب سزا ہوں گے۔ چاہے کوئی مطیع فرمان ہو یا منکر ہو ، اسے ایک دن اللہ کے سامن کھڑا ہونا ہوگا۔

٭۔ اللہ کی قدرت اور سلطنت غیر محدود ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ال ر ، یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر آگے پورا جملہ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے ہی حروف سے بنی ہے جو لوگوں کی …

5

أَلَآ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا۟ مِنْهُ ۚ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوھرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے

اس اعلان کے بعد کہ یہ کتاب ایک فرمان الہی ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ہیں۔ اور ایک دانا اور باخبر خدا کی طرف سے ہیں۔ یہ بتایا جتا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود جب ڈرانے والے اور بشارت دینے والے نبی ان کو سناتے ہیں تو ان آیات کے حوالے سے بعض لوگوں کا رد عمل کس قدر غلط ہے۔ قرآن کریم ان کے رد عمل اور ان کی جسمانی حرکت کو یکجا کرکے پیش کرتا ہے کہ یہ لوگ سر جھکا لیتے ہیں اور اپنے سینوں کو ایک طرف موڑ لیتے ہیں تاکہ چھپ جائیں اور پہلو تہی کر جائیں۔ کیا خدا سے یہ چھپ سکتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش کس قدر عبث ہے۔ خدا تو اس وقت بھی سب کچھ جانتا ہے جب یہ بزعم خود کپڑے اوڑھ کر چھپے ہوتے ہیں بلکہ اللہ تو اس کرہ ارض پر ہر چلنے اور ینگنے والی چیز کو بھی جانتا ہے۔ وہ تو لطیف وخبیر ہے۔

یہ دو آیتیں (آیت 5 تا 6) وہ منظر پیش کرتی ہیں کہ اگر اسے اچھی طرح ذہن میں لایا جائے اور اس پر غور کیا جائے تو انسان مارے خوف کے کانپ اٹھے۔ یہ منظر کس قدر خوفناک ہے اور لرزا دینے والا ہے ، ذرا سوچو تو سہی کہ بندہ ضعیف اللہ سے چھپنا چاہتا ہے جبکہ اللہ کا علم اسے گھیرے ہوئے ہے۔ جب ان کو اللہ کی آیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ چھپتے ہیں لیکن کب چھپ سکتے ہیں ؟

اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ ۭ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ

دیکھو ، یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں۔ خبردار ، جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی ، وہ تو ان بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں۔

شاید اس آیت میں بعض واقعات کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ نبی ﷺ ان لوگوں کو کلام الہی سنان چاہ رہے ہیں اور یہ لوگ روگردانی کرکے اس سے چھپنا چاہتے ہیں اور اپنے سر لٹکائے گزرنا چاہتے ہیں اور اپنی طرف سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ گویا وہ چھپ گئے ہیں اور انہوں نے نظر بچا کر اپنے آپ کو گزار لیا۔ ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات انہوں نے ایسی حرکت کی ہو۔

ایک مختصر فقرے میں بتا دیا جاتا ہے کہ ان کی یہ حرکت کس قدر بھونڈی ہے۔ اللہ جس نے یہ آیات نازل کی ہیں ہر حال میں ان کے ساتھ ہے ، یہ ظاہر ہوں یا چھپے ہوں۔ قرآن کریم ایسے مخصوص انداز میں یہاں ان کی اس حرکت کو ان کی خفیہ ترین حسی صورت کو سامنے لا کر غلط بتاتا ہے کہ جب وہ رات کے وقت اپنے گھروں کے اندر ، رات کی تاریکی میں اپنے بستروں پر لیٹے ہوتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ نہیں چھپ سکتے۔ وہ تو حاضر و ناظر اور قاہر ہے۔ ہر ظاہر اور چھپی بات کو جانتا ہے۔

اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ( خبردار ، جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی ، ) ۔ بلکہ اللہ اس سے بھی زیادہ خفی باتوں سے واقف ہے۔ ان کے پردے علم الہی کے سامنے کیا رکاوٹ بنیں گے ؟ البتہ ایسے حالات میں صرف انسان خود یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہے اور اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ یہ انداز تعبیر انسان کے وجدان کو چھوتا ہے ، اسے جگاتا ہے اور اسے جھنجھوڑتا ہے کہ وہ ذات باری کے بارے میں ذرا غور کرے اور سمجھے کہ ایک آنکھ ہر وقت اسے دیکھتی رہتی ہے۔

اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (وہ تو ان بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں) جو راز دلوں میں چھپے ہیں ان کا بھی اسے علم ہے۔ حالانکہ یہ راز ابھی دل میں ہوتے اور دل کے ساتھ اس طرح جڑے ہوتے ہیں۔ جس طرح مالک اپنی ملک سے جڑا ہوتا ہے یا دوست ، دوست کے ساتھ ، یعنی انتہائی رازداری کی وجہ سے ان کو ذات الصدور کہا گیا۔ جب اللہ ایسے دلی بھیدوں سے بھی واقف ہے ، تو پھر اور کیا ہے جو اس سے مخفی رہ سکتا ہے۔ غرض …

6

۞ وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّۭ فِى كِتَٰبٍۢ مُّبِينٍۢ

اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے، اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے

اللہ کے علم محیط کی یہ ایک دوسری شکل ہے۔ نہایت ہولناک ، ذرا زمین پر چلنے والے حیوانات اور رینگنے والے کیڑے مکوڑوں پر غور کریں ، ہر وہ چیز جو زمین پر حرکت کرتی ہے وہ دابہ ہے

زمین پر حرکت کرنے والے لاتعداد اور بیشمار دواب (جانداروں) میں سے جو کچھ بھی ہے ، زمین کے اطراف و اکناف میں سے جہاں بھی ہے ، اوپر ہے یا اندر ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ صرف علم بھی نہیں بلکہ اللہ ان کو رزق بھی فراہم کرتا ہے اور اللہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کہاں قرار و سکون حاصل کرتے ہیں اور کہاں سونپے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ سب دواب اللہ کے علم محیط کے ضبط اور کنٹرول میں ہیں۔

یہ اللہ کے علم الہی کی نہایت ہی واضح مثال ہے۔ یہ علم ہر وقت مخلوقات کے ساتھ وابستہ رہتا ہے۔ جب انسان اس وسیع علم کے بارے میں سوچتا ہے اور اسے اپنے محدود تصور میں لانا چاہتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے اور اس کے تصور ہی سے عاجز آجاتا ہے۔

اب صرف علم کی بات نہیں ہے۔ دواب ارض کی اس ناقابل تصور تعداد کے ہر فرد کے لیے اللہ نے رزق کی کفالت بھی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اس زمین میں ہر مخلوق کے لیے وسائل رزق پیدا کیے ہیں اور ہر چیز کو یہ قوت دی ہے کہ وہ بقدر ضرورت رزق حاصل کرے۔ بعض کا رزق بہت سادہ ہے۔ بعض اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں بعض مصنوعات اور مرکبات اپنے لیے تیار کرتے ہیں اور اب دور جدید میں تو ذرائع رزق بہت ہی پھیلے ہوئے اور متنوع ہیں۔ بعض مخلوق ایسی ہے کہ وہ زندہ مخلوق کے خون پر پلتی ہے مثلا مچھر اور پسو وغیرہ۔

اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح پیدا کیا اور جس طرح اس کے اوپر منوع مخلوقات کو وجود بخشا ، اسی طرح ان کے وسائل رزق بھی مہیا کیے۔ اور ہر ایک مخلوق کو اس کی تکنیک تخلیق کے مطابق استعداد اور وسائل بھی فراہم کیے۔ خصوصاً دواب ارض میں سے انسان ہماری توجہ اور مطالعہ کا زیادہ مستحق ہے جو خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔ جسے تحلیل و تجزیہ اور ترکیب اور صنعت کی استعداد بھی دی گئی ہے۔ وہ ترقی اور پیداوار میں بھی آگے جاسکتا ہے۔ وہ اس کرہ ارض کے چہرے کو بھی بدل سکتا ہے۔ زندگی کے رنگ ڈھنگ بدلتا رہتا ہے۔ وہ اپنے لیے متنوع وسائل رزق مہیا کرتا ہے لیکن وہ کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتا۔ اللہ نے اس زمین کے اندر جو وسائل ودیعت کردیے صرف انہی میں ردو بدل کرتا ہے اور یہ ردو بدل اور تحلیل و ترکیب بھی وہ ان قوانین فطرت کے مطابق کرتا ہے جو اللہ نے اس کائنات کے اندر وضع کیے ہیں اس طرح یہ زمین اپنے زندہ دواب کے لیے ہر قسم کی ضروریات فراہم کرتی ہے۔

اللہ کے ذمے رزق ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سعی کے بغیر کسی کس کوئی رزق مل سکتا ہے یا اگر کوئی بیٹھ جائے تو بھی اسے ضرور ملے گا یا سسی اور منفی رویے سے وہ ضائع نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے غلط طور پر سمجھا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر اسباب اور وسائل اللہ نے کیوں مقرر فرمائے۔ اور یہ کیوں لازم کیا کہ اسباب کو اختیار کیا جائے اور اسباب وسائل کو قوانین قدرت کا حصہ پھر کیوں بنایا اور پھر اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے مختلف لوگوں کو مختلف صلاحیتیں کیوں دیں اور ان وسائل و اسباب کے کام میں لانے کے سوا دنیا کی تعمیر و ترقی کیسے ممکن ہوگئی حالانکہ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں تھا اور اللہ نے اس غرض کے لیے انسان کو اس کرہ ارض پر خلیفہ بنایا تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔

ہر مخلوق کے لیے رزق مقرر ہے ، یہ حق ہے۔ لیکن یہ رزق اس کائنات کے اندر ودیعت شدہ ہے اور اللہ کی سنت کے مطابق ہر مخلوق کے لیے مقدر اور متعین ہے۔ اور سنت الہی یہی ہے کہ ہر شخص اپنے مقد رکے لیے جدوجہد کرے گا۔ لہذا سعی و جدوجہد کو کوئی شخص ترک نہ کرے جبکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ آسمانوں سے سونے اور چاندی کی بارش نہیں ہوا کرتی بلکہ پانی کی بارش ہوتی ہے اور ہر قسم کا رزق زمین کے اندر پوشیدہ ہے۔ اور تمام مخلوقات کے لیے یہ کافی ہے۔ بشرطیکہ یہ مخلوق …

7

وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ وَكَانَ عَرْشُهُۥ عَلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًۭا ۗ وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِنۢ بَعْدِ ٱلْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے

اب اس سے آگے رب کریم کی شان کا ایک دوسرا رخ پیش کیا جاتا ہے۔ رب کریم کی قدرت کے بعض و آثار اور مظاہر پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کی حکمت اور کارکردگیوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ دیکھو ، اللہ نے زمین اور آسمانوں کو کس قدر حکیمانہ انداز دیا ہے۔ یہاں اس کائنات کے ان پہلوؤں کو سامنے لایا جاتا ہے جو عمل ، حساب و کتاب ، اور بعث بعد الموت کے عقائد کے ساتھ متناسب ہوں بلکہ یہ تصور دیتے ہوں :

وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭ وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْن : اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ جب کہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اب اگر اے نبی ، تم کہتے ہو کہ لوگو ! مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے ، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔

اللہ نے زمین و آسمان کو چھو دنوں میں پیدا کیا ، اس موضوع پر ہم سورت یونس میں بات کر آئے ہیں۔ وہاں یہ بات سیاق وسباق میں آئی تھی۔ وہ یہ تھا کہ اس کائنات کے قوانین فطرت جن کے مطابق زمین و آسمان چلتے ہیں اور اس نظام کے درمیان جن کے مطابق لوگوں کی زندگی چلتی ہے ، ربط اور مطابقت ہے۔

لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (تاکہ تم کو آزما کر دیکھے کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے) یہاں جو نئی بات ہے وہ یہ ہے ، خلق آسمان و زمین کے بیان کے بعد ایک جملہ معترضہ ہے۔

وکان عشہ علی الماء (جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا) اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق کے عمل میں وہ جس طرح کہ موجودہ شکل میں ہیں اس تک پہنچنے سے پہلے یہاں پانی تھا اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔

یہ پانی کیسے تھا ، یہ پانی کہاں تھا اور اس کی حالت کیا تھی ، اور اس کے بعد عرش الہی کس طرح تھا ، اس آیت میں ان امور کی کوئی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ جن مفسرین کو اپنے مبلغ علم کی حدود کا علم ہے۔ وہ اس سے زیادہ بہرحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ غیبی امور ہیں اور ان کے بارے میں اللہ نے ہمیں فقط یہی معلومات دی ہیں جو اس آیت میں ہیں اور محدود ہیں۔

ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ ہم قرآنی نصوص کی تائید میں سائنسی نظریات پیش کریں۔ خواہ کوئی نص کسی سائنسی نظریے کے ساتھ منطبق کیوں نہ ہو اس لیے کہ سائنسی نظریات بار بار بدلتے ہیں بلکہ الٹتے رہتے ہیں علماء طبیعیات جب کوئی نظریہ پیش کرتے اور سائنسی تجربات کرکے اسے ثابت کرتے ہیں تو وہ اس جدید نظریے کو سابقہ نظریات کے مقابلے میں تکوینی مظاہر سے زیادہ قریب پاتے ہیں جبکہ نص قرآنی بذات خود صادق اور حق ہے۔ چاہے سائنس اس حق اور حقیقت تک پہنچ سکی ہو یا نہیں۔ پھر سائنسی حقیقت اور سائنسی نظریات کے درمیان فرق بھی ہے۔ سائنسی حقیقت وہ ہوتی ہے جو تجربے میں آجائے۔ اگرچہ تجربات بھی ہمیشہ احتمالی رہتے ہیں ، قطعی نہیں ہوتے۔ رہے سائنسی نظریات تو وہ مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں اور یہ مفروضے بعض کائنات مظاہر یا چند مظاہر کے مجموعے کی بنا پر قائم کیے جاتے ہیں اور ان میں ہر وقت تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اس لیے نہ ہم ان نظریات سے قرآن کی تائید کرسکتے ہیں اور نہ ان نظریات پر قرآن سے استدلال کرسکتے ہیں۔ کیونکہ قرآن کا طریقہ کار اور ہے اور سائنس کا اور۔ اس طرح قرآن اور سائنس کے موضوعات کار بھی مختلف ہیں۔

ہمارے دور میں قرآن کریم میں بعض سائنسی نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں یہ طرز فکر نصوص قرآن پر ہمارے ایمان کے منافی ہے۔ قرآن کریم حکیم اور خبیر کی طرف سے ہے ، یہ غلطی اس لیے کی جاتی ہے کہ ہم سائنس کو اپنے دائرہ کار کے اندر محدود نہیں …

8

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ ٱلْعَذَابَ إِلَىٰٓ أُمَّةٍۢ مَّعْدُودَةٍۢ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُۥٓ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز وہ ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی

قرون اولیٰ کی اقوام پر ایسے ایسے عذاب نازل ہوئے ، جن کی وجہ سے ان اقوام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا لیکن تباہ اور فنا کردینے والے یہ عذاب اس وقت آئے جب رسول اپنی قوم کے سامنے معجزات پیش کرچکے اور انہوں نے معجزات کے باوجود تکذیب جاری رکھی۔ یہ ہمہ گیر تباہی اس لیے آتی رہی کہ اس وقت کی رسالتیں وقتی رسالتیں تھیں ، ایک محدود پیریڈ کے لیے تھیں اور بسا اوقات وہ ایک نسل کے لیے تھیں اور ان معجزات کا مشاہدہ بھی وہی لوگ کرسکتے تھے جو موجود تھے۔ یہ معجزات مسلسل اور جاری اور باقی نہ ہوتے تھے تاکہ بعد میں آنے والی نسلیں بھی انہیں دیکھ سکیں جیسا کہ پہلی نسل نے دیکھا تھا۔

رسالت محمدی کی نوعیت سابقہ رسالتوں سے ذرا مختلف ہے۔ آپ خاتم الرسل ہیں۔ تمام نسلوں کے لیے رسول ہیں اور آپ کو جو معجزہ دیا گیا وہ مادی معجزہ نہیں ہے۔ یہ ایسا معجزہ ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ آنے والی نسلیں بھی اسے دیکھ سکتی ہیں اور اس پر تدبر کرسکتی ہیں اور نسلاً بعد نسل اس پر ایمان لا سکتی ہیں۔ اس لیے اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ آپ کی امت پر ایسا عذاب نازل نہ ہو جس کے ذریعے اسے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جائے بلکہ یہ عذاب افراد پر نازل ہو اور یہی صورت اللہ نے ان اقوام کے لیے اختیار کی جن کو کتاب دی گئی تھی۔ کس کتابی قوم کو جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا گیا

لیکن مشرکین مکہ کی حالت یہ تھی کہ وہ نہ تو اس کائنات کے نظام تخلیق اور اس کے لیے اللہ کے تجویز کردہ قانون قدرت کو سمجھتے تھے اور یہ بات سمجھتے تھے کہ اس کائنات کے اندر اللہ نے انسان کو آزادی اور اختیار کے ساتھ کام کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں اور اسے نیک و بد اختیار کرنے کی آزادی ہے اور زمین کی تخلیق اس طرح ہے کہ وہ انسان کی آزادی و ارادہ کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اپنے اس جہل کی وجہ سے وہ بعث بعد الموت کا انکار کرتے تھے اور اپنی اس جہالت ہی کی وجہ سے وہ پوچھتے تھے کہ اللہ نے ان کی تکذیب اور انکار کے باوجود ابھی تک انہیں ہلاک کیوں نہیں کیا۔ وہ نہ جانتے تھے کہ موجودہ رسالت اور سابقہ رسالتوں کے لیے اللہ نے کیا اصول طے کر رکھے ہیں چناچہ وہ پوچھتے تھے کہ کئی سال گزر گئے اور عذاب نہیں آ رہا ہے۔ یہ لوگ نہ تو اللہ کی حکمت سے واقف تھے اور نہ ہی اللہ کی رحمت سے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ جب یہ عذاب آئے گا تو اسے پھر کوئی بھی پھیر نہ سکے گا بلکہ وہ پوری طرح انہیں گھیر لے گا اور یہ ان کے استہزاء اور بدعملی کی سزا ہوگی ، اور وہ نہایت ہی خود سری کی صورت میں سوالات کر رہے تھے۔

اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ۔ سنو ! جس روز اس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی سنجیدہ فرد اور صاحب ایمان شخص عذاب الہی کے نزول کے مطالبہ میں جلدی نہیں کرتا۔ اگر عذاب الہی نہیں آتا تو اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی اور اللہ کی رحمت اس میں مانع ہوگی تاکہ جو لوگ ایمان کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ ایمان لے آئیں۔

مثلاً قریش پر اللہ نے عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کی۔ ان کو مہلت دی جاتی رہی۔ اس عرصے میں بیشمار لوگ ایمان لائے۔ ایمان لا کر پھر انہوں نے اسلام کے لیے کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔ اور کفار کے ہاں بھی کئی ایسے بچے پیدا ہوئے جنہوں نے بعد کے ادوار میں اسلام کی خدمات سر انجام دیں۔ یہ اور ایسی ہی دیگر معلوم اور نامعلوم حکمتیں ہوسکتی ہیں ، جو جلد باز لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتیں۔

9

وَلَئِنْ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِنَّا رَحْمَةًۭ ثُمَّ نَزَعْنَٰهَا مِنْهُ إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٌۭ كَفُورٌۭ

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اس کو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا) ہے

تفسیر آیات 9 تا 11:۔ یہ لوگ مطالبہ نزول عذاب میں بےصبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، انسانی مزاج کے اس پہلو پر یہاں مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ انسان کسی حالت پر بھی ثابت قدم اور صحیح رائے قائم کرنے میں صحیح الفکر نہیں ہوتا۔ اس کی نفسیات یہ ہیں :

اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ، ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے سارے دلدر پار ہوگئے ، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔

انسان فطرتاً جلد باز اور پر تقصیرات ہے اور ان آیات (آیات 9 تا 11) میں اس کی کیا ہی اچھی تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ اس قدر کوتاہ نظر ہے کہ صرف حاضر حالات ہی کو دیکھ سکتا ہے اور اپنے اوپر وہی حالات طاری کردیتا ہے جو اس کے ماحول پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ نہ ماضی پر غور کرنے کی تکلیف کرتا ہے اور نہ مستقبل کی فکر کرتا ہے۔ کبھی وہ اس قدر مایوس ہوجاتا ہے کہ اسے کسی بھلائی کی اور اچھے حالات کی امید نہیں رہتی۔ اور اگر اچھے دن گزرتے ہیں تو وہ تمام گزشتہ نعمتوں کا انکار کردیتا ہے۔ حالانکہ یہ تو اللہ کی جانب سے ایک انعام و اکرام تھا۔ اس کا کوئی استحقاق نہ تھا اور مشکلات کے بعد اگر اس کے اچھے دن آجائیں تو وہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے ، غرور کرتا ہے۔ نہ وہ مشکلات بردشت کرکے اللہ کے رحم و کرم کا امیدوار ہوتا ہے اور نہ اپنی خوشی میں اعتدال اختیار کرتا ہے اور خوشیوں اور نعمتوں کے زوال کے لیے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔

اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ یعنی انہوں نے انعامات و اکرامات پر بھی صبر کیا اور مشکلات پر بھی صبر کیا۔ مشکلات میں تو بیشتر لوگ صبر کرتے ہیں اپنی خود داری اور سفید پوشی کی وجہ سے اور اس لیے کہ ان کی کمزوری اور مشکلات کا لوگوں کو پتہ نہ لگ جائے۔ لیکن کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشحالی اور مالداری میں اپنے آپ کو سنبھال سکتے ہیں اور غرور اور سرکشی سے اپنے آپو کو بچا سکتے ہیں۔ تاہم جو لوگ اچھی روش بحال رکھتے ہیں ، مشکلات میں بھی اور خوشحالی میں بھی اچھے کام کرتے ہیں اور نعمتوں کا شکر کا دا کرتے ہیں یعنی وعملوا الصلحات کے پیکر ہوتے ہیں ان کے متعلق ارشاد ہے۔

اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ اس لیے کہ انہوں نے مشکلات میں صبر کیا اور خوشحالی میں انہوں نے سنجیدگی اور اعتدال سے کام لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سنجیدہ اور مخلص اور سچا ایمان ہی انسان کو نہایت ہی مشکل حالات میں کافرانہ مایوسی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح سچا ایمان باللہ ہی انسان کو اس کی خوشحالی اور فراوانی میں کبر و غرور سے بچاتا ہے۔ غرض قلب انسانی کو یہ سچا ایمان ہی اچھے اور برے دونوں حالات میں متوازن اور مستقیم رکھتا ہے۔ اور قلب مومن اچھی طرح بندھا ہوا ہوتا ہے۔ مشکلات اور مصائب ڈانواں ڈول نہیں ہوتا اور خوشحالی اور مالداری میں پھولتا نہیں اور یوں اہل ایمان کی دونوں حالات اچھے رہتے ہیں اور اہم مقام صرف مومنین کو ملتا ہے جس طرح حضور نے فرمایا۔

10

وَلَئِنْ أَذَقْنَٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّىٓ ۚ إِنَّهُۥ لَفَرِحٌۭ فَخُورٌ

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بےشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنے والا ہے

تفسیر آیات 9 تا 11:۔ یہ لوگ مطالبہ نزول عذاب میں بےصبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، انسانی مزاج کے اس پہلو پر یہاں مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ انسان کسی حالت پر بھی ثابت قدم اور صحیح رائے قائم کرنے میں صحیح الفکر نہیں ہوتا۔ اس کی نفسیات یہ ہیں :

اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ، ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے سارے دلدر پار ہوگئے ، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔

انسان فطرتاً جلد باز اور پر تقصیرات ہے اور ان آیات (آیات 9 تا 11) میں اس کی کیا ہی اچھی تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ اس قدر کوتاہ نظر ہے کہ صرف حاضر حالات ہی کو دیکھ سکتا ہے اور اپنے اوپر وہی حالات طاری کردیتا ہے جو اس کے ماحول پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ نہ ماضی پر غور کرنے کی تکلیف کرتا ہے اور نہ مستقبل کی فکر کرتا ہے۔ کبھی وہ اس قدر مایوس ہوجاتا ہے کہ اسے کسی بھلائی کی اور اچھے حالات کی امید نہیں رہتی۔ اور اگر اچھے دن گزرتے ہیں تو وہ تمام گزشتہ نعمتوں کا انکار کردیتا ہے۔ حالانکہ یہ تو اللہ کی جانب سے ایک انعام و اکرام تھا۔ اس کا کوئی استحقاق نہ تھا اور مشکلات کے بعد اگر اس کے اچھے دن آجائیں تو وہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے ، غرور کرتا ہے۔ نہ وہ مشکلات بردشت کرکے اللہ کے رحم و کرم کا امیدوار ہوتا ہے اور نہ اپنی خوشی میں اعتدال اختیار کرتا ہے اور خوشیوں اور نعمتوں کے زوال کے لیے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔

اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ یعنی انہوں نے انعامات و اکرامات پر بھی صبر کیا اور مشکلات پر بھی صبر کیا۔ مشکلات میں تو بیشتر لوگ صبر کرتے ہیں اپنی خود داری اور سفید پوشی کی وجہ سے اور اس لیے کہ ان کی کمزوری اور مشکلات کا لوگوں کو پتہ نہ لگ جائے۔ لیکن کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشحالی اور مالداری میں اپنے آپ کو سنبھال سکتے ہیں اور غرور اور سرکشی سے اپنے آپو کو بچا سکتے ہیں۔ تاہم جو لوگ اچھی روش بحال رکھتے ہیں ، مشکلات میں بھی اور خوشحالی میں بھی اچھے کام کرتے ہیں اور نعمتوں کا شکر کا دا کرتے ہیں یعنی وعملوا الصلحات کے پیکر ہوتے ہیں ان کے متعلق ارشاد ہے۔

اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ اس لیے کہ انہوں نے مشکلات میں صبر کیا اور خوشحالی میں انہوں نے سنجیدگی اور اعتدال سے کام لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سنجیدہ اور مخلص اور سچا ایمان ہی انسان کو نہایت ہی مشکل حالات میں کافرانہ مایوسی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح سچا ایمان باللہ ہی انسان کو اس کی خوشحالی اور فراوانی میں کبر و غرور سے بچاتا ہے۔ غرض قلب انسانی کو یہ سچا ایمان ہی اچھے اور برے دونوں حالات میں متوازن اور مستقیم رکھتا ہے۔ اور قلب مومن اچھی طرح بندھا ہوا ہوتا ہے۔ مشکلات اور مصائب ڈانواں ڈول نہیں ہوتا اور خوشحالی اور مالداری میں پھولتا نہیں اور یوں اہل ایمان کی دونوں حالات اچھے رہتے ہیں اور اہم مقام صرف مومنین کو ملتا ہے جس طرح حضور نے فرمایا۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.